خاموش مبلغ: جلسہ سالانہ پر احمدی بچوں کا نمونہ
جلسہ سالانہ میں احمدی بچوں کا نمونہ انتہائی فعال، منظم اور تربیتی لحاظ سے بنیادی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ یہ بچے خاموشی کے ساتھ جلسہ کے ماحول کو پُراَمن بنانے میں مددگار ہوتے ہیں۔ مختلف شعبہ جات میں یہ ننھے بچے رضاکارانہ طور پر خدمات بڑی ہی ذمہ داری سے اور خوشی سے ادا کرتے ہیں ۔ کہیں یہ بچے شعبہ آب رسانی، یعنی پانی پلانے کی ڈیوٹی دیتے نظر آتے ہیں تو کہیں شعبہ نظافت کے تحت وقارِ عمل کرتے ہوئے یہ بچے جلسہ گاہ میں صفائی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
جلسہ سالانہ بچوں کے لیے صرف ڈیوٹیوں کا نام نہیں ہے بلکہ یہ ان کی عملی اور اخلاقی تربیت کا بھی بڑا ذریعہ ہے۔ ایک عام مددگار/ معاون کارکن چاہے وہ چھوٹا سا پانی پلانے والا بچہ ہی ہو اس کا رویہ اور لگن سے ،بے نفس ہو کر کام کرنا جہاں اسے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے والا بنا رہا ہوتا ہے وہاں غیروں کو بھی متاثر کر رہا ہوتا ہے ۔ جس کا جلسہ سالانہ میں شامل ہونے والے مہمان بھی اظہار کرتے ہیں اور حیران ہو کر پوچھتے ہیں کہ کیسے تم لوگ ان بچوں میں خدمت کا جذبہ پیدا کردیتے ہو؟
خطبہ جمعہ یکم اگست 2008ء کو حضورِانورایدہ اللہ تعالیٰ نے جلسہ سالانہ کے ذکر میں فرمایا کہ ایک مہمان نے اطاعت اورڈسپلن کی یہ مثال دی کہ ایک موقع پر جب نعرے لگ رہے تھے تو حضورایدہ اللہ نے کہا، خاموش ہوجاؤ، تو ایک دم ہرطرف سناٹا چھا گیا ۔ تو کہنے لگے یہ نظارہ تو نہ پہلے کبھی دیکھا تھا اور نہ سنا تھا ۔ یہ نظارے یقیناً آج کہیں اوردیکھےاور سنے جا بھی نہیں سکتے ۔
خطبہ جمعہ 6؍ اگست 2004ء میں پیارے آقاایدہ اللہ تعالیٰ نے ان ننھے خاموش مبلغ بچوں کو اوران کی ڈیوٹی کوسراہتے ہوئے فرمایا کہ حضرت اقدس مسیح موعود ؑ کے مہمانوں کی خدمت کرنے والوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں ۔ ہر کارکن چاہے وہ لنگر خانے میں کام کرنے والا کارکن تھا یا صفائی کے شعبے کا تھا یا آب رسانی یعنی پانی پلانے کی ڈیوٹی میں، کیونکہ ان جلسہ کے دنوں میں گرمی بھی ہوجاتی ہے اور پانی کی ضرورت زیادہ محسوس ہوتی ہے ، تو ہمارے یہ ننھے بچے جلسے میں اپنا خاص نمونہ پانی کی ڈیوٹی دیتے ہوئے پیش کرتے نظرآتے ہیں ۔ اوراس ڈیوٹی کو خوب نبھاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی نیکیوں کواوربڑھاتا چلا جائے۔
حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تمام شعبہ جات کا نام لینا تو ممکن نہیں ۔ بہرحال سب کا شکریہ اور جیسا کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ سب سے بہتر الفاظ جن سے شکریہ ادا ہو جائے اور دعا بھی مل جائے وہ یہ ہیں کہ ’’ جَزاکَ اللّٰہُ خَیْراً ‘‘ اللہ تعالیٰ سب کو بہترین جزا دے ۔آمین
پھر حضور انور اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ’’بچے شوق سے اپنی ڈیوٹیاں دیتے ہیں۔ بچے جب جلسہ گاہ میں مہمانوں کو خاموشی اور ایک شوق سے پانی پلا رہے ہوتے ہیں تو غیر مہمان متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتے۔ حیران ہو کر پوچھتے ہیں کہ کیسے تم لوگ ان بچوں میں یہ خدمت کا جذبہ پیدا کر دیتے ہو۔ دنیا کے ان حالات میں جب مسلمان دینی گروپ مدرسوں میں جانے والے بچوں اور نوجوانوں کو جہاد کے نام پر غلط کاموں اور ظلموں کی تربیت دے رہے ہیں، ظالمانہ طور پر انسانی جانوں کے خاتمہ کی کوشش کی جا رہی ہے، زندگیوں کو ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جماعت احمدیہ کے بچے اور نوجوان زندگی بخش کام کر رہے ہیں۔ جب روحانی پانی پلانے اور روحانی مائدہ کھلانے کی مجلسیں لگی ہوتی ہیں تو ساتھ ساتھ بچے، نوجوان لڑکیاں، لڑکے مادی پانی پلانے اور کھانا کھلانے کے فرض کو بھی سرانجام دے رہے ہوتے ہیں اور اس حقیقی جہاد میں شامل ہو رہے ہوتے ہیں جو زندگیاں لینے کے لئے نہیں بلکہ زندگیاں دینے کے لئے کیا جاتا ہے۔ چنانچہ اس بات کا اظہار بھی بعض لوگ کر دیتے ہیں کہ جب چھوٹے بچے بڑی خوشی اور ذمہ داری سے پانی پلا رہے ہوتے ہیں تو بے اختیار ان پر پیار آتا ہے۔ پس جہاں ہم اس بات پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں وہاں تمام شامل ہونے والوں کو، جلسہ میں بیٹھ کر سننے والوں کو ان کارکنوں کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہئے۔
پس جہاں میں جلسہ میں شامل ہونے والوں سے کہتا ہوں، اس سے پہلے تو میں خود تمام کارکنوں، بچوں، مہمانوں، لڑکیوں، لڑکوں، عورتوں، مردوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے رضا کارانہ طور پر اپنے آپ کو پیش کیا اور ایک خدمت کے جذبہ سے ادنیٰ سے ادنیٰ کام بھی خوشی سے اور بڑی ذمہ داری سے سرانجام دیا۔ یہ کام حقیقت میں ایک خاموش تبلیغ ہوتی ہے۔ بظاہر تو یہ کارکن کام کر رہے ہوتے ہیں لیکن جو غیر آتے ہیں ان کے لئے بھی یہ تبلیغ کا ذریعہ بن جاتی ہے، کئی لوگوں کی ہدایت کا باعث بن جاتی ہے‘‘۔(خطبہ جمعہ 14؍اکتوبر 2016ء)
پس مبارکباد کی مستحق ہیں وہ مائیں جن کی گودوں سے ایسے بچے اور بچیاں نکل رہی ہیں جو عشقِ رسولِ عربی ﷺ اوراحمدِؑ ہندی کی وفا کی وجہ سے آپ علیہ السلام کے مہمانوں کی خدمت کر کے دلی سرورحاصل کر رہے ہوتے ہیں۔ ان کا عملی نمونہ بڑا اثرڈال رہا ہوتا ہے اورغیروں کوبھی متاثرکررہا ہوتا ہے۔
تو بچّو! کیا آپ سب جلسہ سالانہ پر اپنی ڈیوٹی کے لیے تیار ہیں؟
یاد رکھیں! ہر چھوٹی سی چھوٹی بات نیکی ہے۔ اس لیے بچّو! جلسہ سالانہ پر چھوٹوں اور بڑوں کو سلام کرنا بھی نیکی ہے۔ اچھی بات کہنا بھی صدقہ ہے۔ ذکرِالٰہی کرنا بھی نیکی ہے ۔ راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹانا بھی نیکی ہے اورحدیث میں آتا ہے کہ پانی پلانا تو ایسا صدقہ ہے جو سب سے زیادہ فضیلت رکھتا ہے ۔ اللہ کرے کہ آپ کو اس سال بھی جلسہ سالانہ پراپنا مثالی نمونہ پیش کرنے کی توفیق ملےاورخدا تعالیٰ اوراس کے پیارے خلیفہ کی پیار کی نگاہ آپ پر ہمیشہ ہو۔ آمین
(نبیل احمد کاشف۔ جرمنی)
