از مرکزخلاصہ خطبہ جمعہ

جلسہ سالانہ برطانیہ ۲۰۲۶ء کے حوالے سے افضالِ الٰہیہ اور غیر از جماعت مہمانوں کے تاثرات کا تذکرہ۔ خلاصہ خطبہ جمعہ ۳۱؍جولائی ۲۰۲۶ء

٭… اللہ تعالیٰ کے فضل سے گذشتہ اتوار کو جماعت احمدیہ برطانیہ کا تین دن کا جلسہ سالانہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو سمیٹتے ہوئے اپنے اختتام کو پہنچا

٭… مَیں خود بھی تمام کارکنان اور کارکنات کا شکریہ ادا کرتا ہوں، مگر ساتھ ہی انہیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ انہیں خود بھی خدا تعالیٰ کا شکرگزار ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سب کارکنان کو توفیق دی کہ وہ حضرت مسیح موعودؑ کے مہمانوں کی خدمت کریں۔ لوگوں کے شکرگزاری کے اظہار سے آپ لوگوں کو مزید خدا کے آگے جھکنا چاہیے، مزید عاجز بننا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ اس کی آپ کو توفیق دے

٭… کام کرنے والوں کے عزم اور جذبے سے اسلام اور احمدیت کی تبلیغ بھی ہوتی ہے

٭… جلسے کے تین دن میری زندگی کے اہم ترین تین دن بن گئے ہیں۔ مَیں نے اپنی زندگی میں پہلی بار اتنا بڑا، منظّم اسلامی اجتماع دیکھا ہے۔ عالمی بیعت کا روح پرور نظارہ میرے لیے ناقابلِ فراموش تھا۔ امام جماعت سے میری ملاقات ہوئی۔ گوکہ ملاقات سے پہلے مجھے گھبراہٹ تھی، مگر اُن سے ملتے ہی گھبراہٹ دُور ہوگئی(ایک مہمان کا تاثر)

٭… مجھے دنیا بھر میں کنوینشنز اور کانفرنسوں میں شامل ہونے کا موقع ملا ہے مگر جلسہ سالانہ یوکے کا تجربہ ان سب سے منفرد رہا ہے (ایک مہمان کا تاثر)

٭… لفظی اسلام سے بڑھ کر یہاں مَیں نے حقیقی خدمت والا اسلام دیکھا۔ ایسے ہاتھ دیکھے جو دینے والے ہیں، ایسے دل دیکھے جو معاف کرنے والے ہیں، ایسے دروازے دیکھے جو دوسروں کے لیے ہمیشہ کھلے رہتے ہیں (ایک مہمان کا تاثر)

٭… پریس اینڈ میڈیا کی رپورٹ کے مطابق جلسے کی مجموعی کوریج پانچ کروڑ ۲۸؍لاکھ افراد تک ہوئی ہے۔ ۱۲؍مختلف اخبارات اور ٹی وی چینلز نے جلسے کی کوریج کی ہے

خلاصہ خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ ۳۱؍جولائی ۲۰۲۶ء بمطابق ۳۱؍وفا ۱۴۰۵؍ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد،ٹلفورڈ(سرے)، یوکے

اميرالمومنين حضرت خليفةالمسيح الخامس ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز نے مورخہ۳۱؍جولائی ۲۰۲۶ء کو مسجد مبارک، اسلام آباد، ٹلفورڈ، يوکے ميں خطبہ جمعہ ارشاد فرمايا جو مسلم ٹيلي وژن احمديہ کے توسّط سے پوري دنيا ميں نشرکيا گيا۔ جمعہ کي اذان دينےکي سعادت مولانا فیروز عالم صاحب کے حصے ميں آئي۔

تشہد،تعوذ اورسورة الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضورِانور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا:

اللہ تعالیٰ کے فضل سے گذشتہ اتوار کو جماعت احمدیہ برطانیہ کا

تین دن کا جلسہ سالانہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو سمیٹتے ہوئے اپنے اختتام کو پہنچا۔

جلسے کی تیاری میں مہینوں لگتے ہیں۔ ایک جلسے کےبعد ہی اگلےجلسے کی تیاری شروع ہوجاتی ہے۔ اس کا زور جلسے سے چند ہفتے پہلے شروع ہوجاتا ہے اور پھر جلسے سے ایک دو ہفتے پہلے تو یہ انتہائی بڑھ جاتا ہے اور جلسے کے دنوں میں ہزاروں رضاکار مردو زن ،بوڑھے ،جوان، اپنی تمام تر صلاحیتوں اور اخلاص کے ساتھ ہمہ وقت خدمت کر رہے ہوتے ہیں۔

پس اس لحاظ سے

تمام کارکنان جو جلسےکے کسی بھی شعبےمیں کام کرتے رہے ہیں وہ شکریہ کے مستحق ہیں۔اللہ تعالیٰ انہیں اس خدمت کی بہترین جزا دے۔

اسی طرح

ایم ٹی اے کے کارکنان ہیں جن میں اکثریت رضاکاروں کی ہے۔ پھر پریس اینڈ میڈیا کی ٹیم ہے۔خدام الاحمدیہ کینیڈا کے خدام ہر سال کی طرح بڑی تعداد میں یہاں آئے اور وائنڈ اَپ میں خدمت کی۔ اب آسٹریلیا والوں نے بھی آنا شروع کیا ہے، یہ سب بہت عمدہ طریق پر کام کر رہے ہیں۔

مَیں خود بھی تمام کارکنان اور کارکنات کا شکریہ ادا کرتا ہوں، مگر ساتھ ہی انہیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ انہیں خود بھی خدا تعالیٰ کا شکرگزار ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سب کارکنان کو توفیق دی کہ وہ حضرت مسیح موعودؑ کے مہمانوں کی خدمت کریں۔ لوگوں کے شکرگزاری کے اظہار سے آپ لوگوں کو مزید خدا کے آگے جھکنا چاہیے، مزید عاجز بننا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ اس کی آپ کو توفیق دے۔

کام کرنے والوں کے عزم اور جذبے سے اسلام اور احمدیت کی تبلیغ بھی ہوتی ہے۔

کئی لوگ اپنے جذبات اور مشاہدات تبصروں کی صورت میں لکھ کر بھیجتے ہیں۔ ان میں سے بعض مَیں ابھی پیش کروں گا۔

گیمبیا کے وزیرِ مواصلات لکھتے ہیں کہ

جلسہ سالانہ کو دیکھ کر،مَیں ایک گہری حقیقت کو دیکھ کر ششدر رہ گیا۔ یہ ایک عظیم عالمی اجتماع ہے جو بےلوث خدمت اور خاموش غیرمتزلزل قربانی کی بنیاد پر قائم ہے۔

نائیجیریا سے ایک بادشاہ ہیں جن کے زیرِ انتظام تقریباً آدھی سٹیٹ ہے ،وہ کہتے ہیں: جب مَیں جلسہ سالانہ یوکے ،کے لیے روانہ ہوا تو مجھے اندازہ نہیں تھا کہ مَیں ایک عظیم الشان منظّم اور روحانی اجتماع کا حصّہ بننے جارہا ہوں جو میری زندگی میں اتنا گہرا اثر چھوڑے گا۔ یہاں پہنچ کر مَیں نے نہ صرف غیرمعمولی نظم و ضبط، اخوّت، اور خدمتِ خلق کا عملی نمونہ دیکھا بلکہ دنیا کے مختلف ممالک اور قومیّتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو محبت، احترام اور بھائی چارے کے رشتے میں بندھا ہوا پایا۔

ان کی اہلیہ نے کہا کہ مجھے سب سے زیادہ حیرت خواتین کے لیے کیے گئے مثالی انتظامات، ان کی عزّت ،آزادی اور ماحول کو دیکھ کر ہوئی۔

ہزاروں خواتین کو انتہائی وقار کے ساتھ منظّم طریق پر جلسے میں آتے جاتے دیکھ کر میرےا سلام کے بارے میں کئی تصوّارات بدل گئے ہیں۔

سینیگال سے سابق گورنر سینٹ لوئس بطور مہمان شریک ہوئے۔وہ کہتے ہیں: مَیں نے ساری تقریروں کو توجہ سے سنا، ترجمے کا انتظام بہت عمدہ تھا جس کی بدولت ہم تمام تقاریر اور پیغامات کو بخوبی سمجھ سکے۔ جلسے کے دوران جو پیغام سب سے زیادہ نمایاں ہوا وہ محبت، امن اور بھائی چارے کا پیغام تھا۔

لگسمبرگ سے ایک بیرسٹر صاحب تشریف لائے تھے۔وہ کہتے ہیں:

جلسے کے تین دن میری زندگی کے اہم ترین تین دن بن گئے ہیں۔ مَیں نے اپنی زندگی میں پہلی بار اتنا بڑا، منظّم اسلامی اجتماع دیکھا ہے۔ عالمی بیعت کا روح پرور نظارہ میرے لیے ناقابلِ فراموش تھا۔ امام جماعت سے میری ملاقات ہوئی۔گوکہ ملاقات سے پہلے مجھے گھبراہٹ تھی، مگر اُن سے ملتے ہی گھبراہٹ دُور ہوگئی۔

ایک نو مبائع کہتے ہیں کہ اسلام قبول کرنے سے قبل میرا تعلق عیسائیت سےتھا ۔ہمیں سکھایا جاتا تھا کہ ایمان کا تعلق موسیقی سے ہےمگر مَیں کبھی بھی اس انداز سے روحانی سکون اور قربِ الٰہی محسوس نہ کرسکا۔ مسلمان ہونےکےبعد بھی مَیں گونمازیں وغیرہ پڑھتا تھا مگر رقّت محسوس نہیں کرپاتا تھا، مگر جلسے میں شامل ہوکر مجھ پر ایسی روحانی کیفیت طاری ہوئی کہ میری آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے، مَیں مسلسل دعائیں مانگتا رہا۔ میرا اللہ تعالیٰ سے اور خلافت سے ایک روحانی تعلق قائم ہوگیا۔

چیک ریپبلک سے دوپروفیسر صاحبان تشریف لائے تھے، وہ کہتے ہیں واپس چیک ریپبلک جاکر ہم اپنے ساتھیوں اور طلبا کو یہ بتائیں گے کہ آپ خود جاکر اس عظیم الشان محفل کا مشاہدہ کریں۔ خلیفہ وقت کے خطاب کے بعد ہمیں اسلام اور تقویٰ کی حقیقی پہچان حاصل ہوئی۔

قازقستان سے ایک خاتون جلسے میں شامل ہوئیں وہ کہتی ہیں کہ امام جماعت اور دیگر مقررین کی تقاریر میں ایمان، اعلیٰ اخلاق اور باہمی ہم آہنگی ، نَو جوانوں کے مسائل اور معاشرے کی تربیت جیسے اہم اُمور پر روشنی ڈالی گئی۔

امریکہ سے ایک قانون کے پروفیسر صاحب نے کہا کہ

مجھے دنیا بھر میں کنوینشنز اور کانفرنسوں میں شامل ہونے کا موقع ملا ہے مگر جلسہ سالانہ یوکے کا تجربہ ان سب سے منفرد رہا ہے۔

سَو سے زیادہ ممالک سے آئے ہوئے لوگ، مختلف مذاہب، قومیّتوں اور شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے ملاقات ہوئی۔ مختلف نمائشوں نے مجھے بہت متاثر کیا۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ ڈاکٹرز، انجینئرز، وکلا اور دیگر علوم کے ماہرین نہایت عاجزی سے خدمات سرانجام دے رہےتھے، اس چیز نے مجھے بےحد متاثر کیا۔

برازیل سے ایک ٹیلی وژن رپورٹر کہتے ہیں کہ مَیں اس تقریب کے عظیم الشان پیمانے اور وسعت کو دیکھ کر حیران رہ گیا ہوں بالخصوص لنگر خانے کا حجم اور وہ تمام جگہیں جہاں کھانا تیار کیا جاتا ہے نہایت وسیع، جدید ، منظّم اور نہایت صاف ستھرا۔

فلپائن سے پروفیسر صاحب اپنی اہلیہ کے ساتھ تشریف لائے جو خود بھی پروفیسر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ رضاکاروں کی محنت دیکھ کر حیرانی ہوئی کہ کس طرح وہ اپنی محنت سے یہ عارضی شہر بساتے ہیں۔

ایلسلواڈور سے ایک مہمان جو سینٹرل امریکن پارلیمان میں ایلسلواڈور کے نمائندے ہیں وہ کہتے ہیں کہ خلیفہ وقت سے ملاقات کے بعد مجھے یقین ہوگیا ہے کہ خلیفہ وقت کو اپنی جماعت کے بارے میں بہت معلومات ہوتی ہیں۔

بیلیز سے ایک نَو مبائع خاتون کہتی ہیں :ہمارا تعلق ایک بہت چھوٹے ملک سے ہے۔مَیں جس شہر میں رہتی ہوں اس کی آبادی پچاس ہزار ہے۔ سَو آدمی بھی اگر کہیں جمع ہوجائیں تو جھگڑے شروع ہوجاتے ہیں، مگر جلسے کے اہتمام میں غیرمعمولی امن تھا۔

بلغاریہ سے ایک صاحبِ اثر شخصیت نے کہا کہ جلسے میں ہونے والی تقاریر بہت معلوماتی، علمی اور اعلیٰ معیار کی حامل تھیں۔ مقررین نے مذہبی اور سائنسی موضوعات کو بہت احسن رنگ میں پیش کیا جس سے حاضرین کے علم و معرفت میں اضافہ ہوا۔

سینیگال سے ایک صاحب جو اپنے علاقے کےمذہبی راہنما ہیں ۔وہ کہتے ہیں :امام جماعت سے میری ملاقات ہوئی اس سے مجھے جماعت کو سمجھنے کا بہت موقع ملا۔ حقیقت یہ ہے کہ مَیں آپ کو دل کی گہرائیوں سے خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔

سینیگال سے ایک ممبر پارلیمان شریک ہوئے وہ کہتے ہیں :

لفظی اسلام سے بڑھ کر یہاں مَیں نے حقیقی خدمت والا اسلام دیکھا۔ ایسے ہاتھ دیکھے جو دینے والے ہیں، ایسے دل دیکھے جو معاف کرنے والے ہیں، ایسے دروازے دیکھے جو دوسروں کے لیے ہمیشہ کھلے رہتے ہیں۔

کوسووو سے ایک نہایت محترم محقق، ماہرِ تعلیم پروفیسرصاحب جلسے میں شریک ہوئے۔وہ کہتے ہیں کہ امام جماعت کی تقاریر سننے کا موقع ملا،ان سے ملاقات بھی ہوئی۔ جس چیز نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ امن، بین المذاہب ہم آہنگی، انسانی مساوات، باہمی احترام اور معاشرے کے ہر فرد کو ساتھ لے کر چلنے پر مسلسل اور غیرمعمولی زور تھا۔

سپین سے پیدروآباد کے میئر تشریف لائے ۔وہ کہتے ہیں: جلسہ سالانہ نے ہمیں یہ دیکھنے کا موقع دیا کہ یہ صرف عقیدے کا جشن نہیں بلکہ یہ مختلف ممالک، ثقا فتوں اور حقائق سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے درمیان بقائے باہمی کا ایک غیرمعمولی مظاہرہ ہے۔

اسی طرح حضورِانور نے بعض دیگر معززمہمانان کے بھی مشاہدات اور تاثرات پیش فرمائے جنہوں نے جلسے کے غیرمعمولی انتظام اور روحانی ماحول کو سراہا تھا۔

یونان سے ایک مہمان خاتون نے جلسے کے جملہ اُمور کی تعریف کرنے کے ساتھ ایک بات کاذکرکرتے ہوئے کہا کہ وہ مجھے پسند نہیں آئی اور وہ یہ کہ بعض خواتین اسلامی ڈریس کوڈ (پردے) کی اچھی طرح پیروی نہیں کر رہی تھیں اور بعض مرد بھی غضِ بصر میں کمزوری دکھا رہے تھے۔

حضورِانور نے فرمایا :حالانکہ مَیں نے اس بارے میں خاص طور پر تلقین کی تھی۔ منفی تبصرے کو بھی اپنی اصلاح کے لیے ہمیں سننا چاہیے۔ پس جو بےاحتیاطی کرتے رہے ہیں انہیں یاد رکھناچاہیے کہ غیر ہمیں بڑی گہری نظر سے دیکھتے ہیں اور ہمیں انہیں کوئی ایسا موقع نہیں دینا چاہیے جس سے اسلام کی حقیقی تصویر پر داغ آئے۔ جلسے کی تقریروں کے دوران مَیں نے حضرت مسیح موعودؑ کا ایک اقتباس بھی پڑھا تھا کہ غیروں کو ایسا موقع نہ دو کہ وہ ہم پر انگلی اٹھائیں۔

حضورِانور نے جلسے کی پریس اور میڈیا میں اچھی کوریج کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ پرنٹ آرٹیکلز کی تعداد ۱۶؍ہے۔ قارئین کی تعداد ایک کروڑ ہے۔ ۳۵؍ریڈیو پروگرامزجبکہ ، ۶؍ٹی وی پروگرامز ہوئے، سوشل میڈیا پر ۵؍ لاکھ ۳۰؍ہزار views ہوئے۔ یوکے سیکشن کی ایک رپورٹ کروڑوں میں بھی ہے۔

پریس اینڈ میڈیا کی رپورٹ کے مطابق جلسے کی مجموعی کوریج پانچ کروڑ ۲۸؍لاکھ افراد تک ہوئی ہے۔ ۱۲؍مختلف اخبارات اور ٹی وی چینلز نے جلسے کی کوریج کی ہے۔

خطبے کے اختتام پر حضورِانور نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس جلسے کے نیک اثرات جہاں جماعت کے افراد پر قائم فرمائے وہیں لوگوں کی راہنمائی بھی فرمائے اور انہیں صحیح اسلام اور احمدیت کی طرف راغب کرے۔ آمین

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: آنحضورﷺ کی بے مثل شکرگزاری۔ خلاصہ خطبہ جمعہ ۱۷؍جولائی ۲۰۲۶ء

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button