اختتامی خطاب جلسہ سالانہ یوکے۲۰۲۶ء(حصہ دوم)
اللہ تعالیٰ کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام سے تو وعدہ ہے کہ وہ آپؑ کو فتوحات دے گا اورانشاء اللہ تعالیٰ ضرور دے گا ۔لیکن اگر ہم نے اس کا حصہ بننا ہے تو ہمیں بھی چاہیے کہ ہم بھی خالص ہو کر اللہ تعالیٰ کی توحید کا اعلان کرنے والے بنیں اور اس پر عمل کرنے والے بنیں اور اپنی عبادتوں کی بھی حفاظت کرنے والے ہوں اور اپنی ظاہری حالت کو بھی اسی طرح ڈھالنے والے ہوں کہ اس سے ہلکا سا بھی شرک کا شائبہ تک نظر نہ آئے
آپؑ نے ہمیں فرمایا کہ میری بیعت میں اگر داخل ہوئے ہو تو ہر قسم کے فسادوں سے بچو اور جھوٹ سے بچو
ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ خدا ہمیں کیا کہتا ہے۔ اگر یہ نہیں تو پھر ہمارا ایمان بھی مکمل نہیں۔ پھر ہمارا یہ دعویٰ غلط ہے کہ ہم ایمان لے آئے اور ہم نے اپنی اصلاح کی خاطر بیعت کی۔ ہم نے اپنی اصلاح کی خاطر بیعت نہیں کی۔ اگر ہم اصلاح کی طرف قدم نہیں بڑھا رہے تو ہم نے شاید کسی اَور مقصد کے لیے بیعت کی
ایک احمدی کے لیے ہر قسم کے فتنہ و فساد سے بچنا اور جھوٹ سے بچنا ضروری ہے۔ اگر یہ نہیں تو پھر ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کی بیعت اس لیے کی ہے کہ ہم اپنی بھی اصلاح کریں اور دنیا کی بھی اصلاح کریں اورایک پاک جماعت کا قیام کرنے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کے معاون اور مددگار ثابت ہوں
آج کل جو دنیا کے حالات ہیں وہ تو کھل کر یہ بتا رہے ہیں کہ ہر معاملے میں صرف اور صرف جھوٹ ہی بنیاد ہے اور جو سچ بولنے والا ہے جو حقیقت بیان کرنے والا ہے اس کو سزا دی جاتی ہے۔ تمام ملک اکٹھے ہو کے اس کے خلاف بیان دے دیتے ہیں۔ اس کے خلاف مقدمے کھڑے کر دیے جاتے ہیں۔ اس کے خلاف شور مچایا جاتا ہے۔تو جب ایسے حالات دنیا میں پیدا ہو جائیں تو آپ دیکھ لیں کہ اس وقت احمدیوں کی کتنی بڑی ذمہ داری ہے کہ وہ جھوٹ کے خلاف ایک جہاد کریں اور اس لیے جہاد کریں کہ ہم نے توحید کو قائم کرنا ہے۔ شرک کو دنیا سے مٹانا ہے
یاد رکھو! جو شخص آزادی سے نامحرم عورتوں کو دیکھتا رہے گا آخر ایک دن بد نیتی سے بھی دیکھے گا کیونکہ نفس کے جذبات ہر ایک طبیعت کے ساتھ لگے ہوئے ہیں اور تجربہ بلند آواز سے بلکہ چیخیں مار کر ہمیں بتلا رہا ہے کہ بیگانہ عورتوں کو دیکھنے سے ہرگز انجام بخیر نہیں ہوتا (حضرت مسیح موعودؑ)
درود شریف کی طرف بھی بہت توجہ دینے کی ضرورت ہے اور جب ہم یہ کریں گے تب ہی ہم اپنا حقِ بیعت بھی ادا کرنے والے ہوں گے
توبہ اور استغفار کی طرف بھی بہت توجہ کی ضرورت ہے
بہت سارے لوگ اپنے مسائل کے حل کے لیے پوچھتے ہیں تو مَیں ان کو یہی جواب دیتا ہوں کہ استغفار کی طرف بہت زیادہ توجہ دو
ہمیں اپنی نمازوں کی بھی حفاظت کرنی پڑے گی۔ مرد کوشش کریں کہ پانچ وقت نمازوں کی نماز سینٹر یا مسجد میں جا کر ادائیگی کو رواج دیں تا کہ ہماری مسجدیں آباد ہوں۔ ہماری نسلوں کو عبادتوں کا ایک شعور حاصل ہو۔ ان میں ایک شوق اور جذبہ پیدا ہو اور انہیں یہ پتہ لگے کہ نمازیں کیوں ضروری ہیں لیکن نمازیں ایسی ہونی چاہئیں جن کا حق ادا کیا جائے
میری یہی نصیحت ہے کہ دلوں کو صاف کرو اور تمام بنی انسان کی ہمدردی اختیار کرو(حضرت مسیح موعودؑ)
اگر ہم اپنے اندر پاک تبدیلی کرتے ہوئے، بیعت کا حق ادا کرتے ہوئے ان شرائط بیعت پر مکمل عمل کریں تو نہ صرف ہم اپنے اندر ایک پاک معاشرہ پیدا کرنے والے ہوں گے بلکہ اسلام کے حقیقی پیغام کو دنیا میں پھیلانے والے بن کر مسلمانوں اور غیر مسلموں، اسلام مخالف لوگوں بلکہ دہریوں میں بھی ایک ایسی تعلیم کے پھیلانے والے ہوں گے جو ایک دن انہیں بہرحال یہ سوچنے پر مجبور کرے گی کہ احمدی ہی وہ لوگ ہیں جو دنیا میں خدائے واحد کی حکومت قائم کرنے کے ساتھ اعلیٰ اخلاقی قدروں کو بھی قائم کرنا چاہتے ہیں تاکہ دنیا دارالفساد نہ بنے بلکہ امن اور سلامتی کی آماجگاہ بن جائے
آج کل دجالی طاقتیں اپنے پورے زور پر اس بات کو پھیلانے کی کوشش کر رہی ہیں کہ دنیا سے خدا تعالیٰ کے نام کو مٹایا جائے۔
دنیا میں فساد پیدا کیا جائے۔ ایسے میں ہماری بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ حق بیعت ادا کرتے ہوئے، ان دجالی قوتوں کے خلاف جہاد کرتے ہوئے،
اللہ تعالیٰ سے فضل مانگتے ہوئے، ان کی چالوں کو ناکام و نا مراد کرتے ہوئے اپنی بھرپور کوشش کریں
دعاؤں میں ساری دنیا کے امن و سلامتی کی دعائیں کریں ۔اور مسلمانوں کی بقا اور سلامتی کے لیے بھی دعا کریں۔ اللہ تعالیٰ کرے کہ ہر احمدی دنیا میں خدائے واحد کی حکومت قائم کرنے اور دنیا میں امن و سلامتی پھیلانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنے والا بن جائے
امام الزمان حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پُر معارف ارشادات کی روشنی میں شرائط بیعت اور احمدیوں کی ذمہ داریوں کا بیان
امیر المومنین سیدنا حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکا جلسہ سالانہ جماعت احمدیہ برطانیہ 2026ء کے اختتامی اجلاس سے بصیرت افروز خطاب (حصہ دوم)
(فرمودہ 26؍ جولائی 2026ء بروز اتوار بمقام حدیقۃ المہدی (جلسہ گاہ) آلٹن ہمپشئر۔ یوکے)
(خطاب کا یہ متن ادارہ الفضل اپنی ذمہ داری پر شائع کر رہا ہے)
پھر آپؑ نے ہمیں فرمایا کہ
میری بیعت میں اگر داخل ہوئے ہو تو ہر قسم کےفسادوں سے بچو اور جھوٹ سے بچو۔
جھوٹ بھی ایک بہت بڑا جرم ہے۔ اس لیے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ذکر کیا ہے اور کئی جگہ یہ واقعہ بھی بیان ہوا ہے کہ آپؑ نے فرمایا کہ لوگ کہتے ہیں کہ جھوٹ سے نہیں بچ سکتے لیکن میرے پر ڈاکخانے کا جو مقدمہ ہوا اور ڈاک کے افسر نے میرے خلاف مقدمہ کر دیا لیکن جج کے سامنے میں نے سچ بولا اور مَیں نے کہا کہ ہاں! یہ میں نے کام کیا تھا۔ لیکن محکمے کو نقصان پہنچانے کے لیے نہیں کیا تھا بلکہ مجھے اس کا علم نہیں تھا اس لیے مَیں نے یہ کیا اور اللہ تعالیٰ نے میرے سچ کی وجہ سے مجھے باعزّت بری کروا دیا ۔اور کئی ایسے اَور مواقع پیش آئے جہاں مَیں لوگوں کے شر سے سچائی کی وجہ سے بچا رہا۔
(ماخوذ از ملفوظات جلد 8 صفحہ 181-183، ایڈیشن 2022ء)
آج کل دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ صرف جھوٹ کی حکمرانی نظر آتی ہے۔ بین الاقوامی سیاست میں دیکھ لیں ۔ملکی سیاست میںدیکھ لیں ۔لوگوں کے آپس کے معاشرتی تعلقات میں دیکھ لیں ۔لوگ سمجھتے ہیں کہ جھوٹ کا سہارا نہ لیا تو کام نہیں ہوگا۔ جج ہیں، وکیل ہیں وہ بھی جھوٹ بولتے ہیں اور جھوٹے فیصلے کرتے ہیں اور لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ کوئی شخص سو فیصد سچ بولتا ہو اور اگر سچ بولے تو وہ سمجھتے ہیں کہ اس نے بھی ضرور جھوٹ بولا ہو گا۔ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ اس میں جھوٹ شامل نہ ہو۔
حضرت مصلح موعودؓ نے اس کے بارے میں بھی ایک جگہ بہت خوبصورت طور پر اس بات کو پیش کیا کہ ایسی صورتحال میں جب جھوٹ کا رواج زیادہ ہو جائے تو پھر جو سچ بولنے والا ہے وہ گھبرا جاتا ہے کہ لوگ مجھے جھوٹا سمجھیں گے تو وہ خود بھی جھوٹ بولنے لگ جاتا ہے ۔لیکن مومن کو یہ دیکھنا چاہیے کہ حقیقت کیا ہے۔ سچ کیا ہے ۔اسے یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ گِرد و پیش کے لوگ کیا کہتے ہیں۔
(ماخوذ از خطبات محمود جلد 35 صفحہ 186)
ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ خدا ہمیں کیا کہتا ہے۔ اگر یہ نہیں تو پھر ہمارا ایمان بھی مکمل نہیں۔ پھر ہمارا یہ دعویٰ غلط ہے کہ ہم ایمان لے آئے اور ہم نے اپنی اصلاح کی خاطر بیعت کی۔ ہم نے اپنی اصلاح کی خاطر بیعت نہیں کی۔ اگر ہم اصلاح کی طرف قدم نہیں بڑھا رہے تو ہم نے شاید کسی اَور مقصد کے لیے بیعت کی۔
پس
ایک احمدی کے لیے ہر قسم کے فتنہ و فساد سے بچنا اور جھوٹ سے بچنا ضروری ہے۔ اگر یہ نہیں تو پھر ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کی بیعت اس لیے کی ہے کہ ہم اپنی بھی اصلاح کریں اور دنیا کی بھی اصلاح کریں اور ایک پاک جماعت کا قیام کرنے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کے معاون اور مددگار ثابت ہوں۔
حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک اَور جگہ ایک بڑی خوبصورت بات لکھی ہے۔ پہلے تو ایک دو فقرے مَیں نے ایک جگہ بتائے تھے۔ آپؓ نے خطبے میں بڑی تفصیل سے بیان کیا کہ خدا کی بادشاہت تو اسی صورت میں قائم ہو سکتی ہے جب سچی گواہی دیتے وقت انسان نہ اپنے باپ سے ڈرے، نہ اپنے بیٹے سے ڈرے، نہ ماں سے ڈرے، نہ بیوی سے ڈرے، نہ بھائی سے ڈرے، نہ دوست سے ڈرے اور نہ کسی اَور رشتہ دار سے ڈرے۔ اگر ایک باپ جھوٹ بولتا ہے، جرم کرتا ہے تو اس لیے کہ وہ سمجھتا ہے کہ وہ میرا بیٹا میری تائید کرے گا یا میری بیوی میری تائید کرے گی ۔لیکن اگر عدالت میں پیش ہو اور بیٹا کہے کہ نہیں! میرا باپ غلط کہتا ہے اور اصل بات یہ ہے تو وہ کبھی جھوٹ نہیں بولے گا۔ نہ خاوند جھوٹ بولے گا ۔نہ بیٹا جھوٹ بولے گا۔نہ بیوی جھوٹ بولے گی ۔نہ کوئی اَور رشتہ دار جھوٹ بولے گا۔نہ بھائی جھوٹ بولے گا ۔
(ماخوذ از خطبات محمود جلد35صفحہ187تا189)
اور جب یہ صورتحال ہوگی تو تبھی ایک ایسا معاشرہ قائم ہوگا جو سچائی پر مبنی معاشرہ ہوگا جو صرف اور صرف خدا تعالیٰ کی حکومت قائم کرنے والا معاشرہ ہوگا اور ہمارے اندر وہ معاشرہ ہوگا جس کے قائم کرنے کے لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام تشریف لائے تھے اور جس کی خاطر ہم نے بیعت کی ہے۔
آج کل بہت سے معاملات ایسے آتے ہیں جہاں مقدمے جیتنے کے لیے جھوٹ پہ بنیاد کی جاتی ہے تو اس چیز کو ہمیں بہرحال چھوڑنا پڑے گا کیونکہ جھوٹ بھی شرک کی طرف لے کے جاتا ہے۔ شرک سے بچنے کے لیے جھوٹ سے بچنا بہت ضروری ہے اور سچائی کو قائم کرنا ضروری ہے۔ جب ہر ایک کو یہ پتہ لگ جائے کہ میرا جھوٹ مجھے کوئی فائدہ نہیں دے گا تو وہ جھوٹ نہیں بولے گا اور یوں پھر سچائی کی حکومت دنیا میں قائم ہوگی۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے بھی کئی جگہ بیان کیا ہے کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم جھوٹ بولیں گے تو ہم بچ جائیں گے۔
(ماخوذ از احمدی اور غیر احمدی میں کیا فرق ہے؟ ،روحانی خزائن جلد 20 صفحہ479)
لیکن اگر یہ پتہ ہو کہ ہم جھوٹ بولنے سے بچیں گے نہیں بلکہ سزا ملے گی کیونکہ میری تائید کرنے والا کوئی نہیں ہوگا۔ میرے عزیزوں اور رشتہ داروں میں سے کوئی نہیں ہوگا تو پھر وہ یقینا ًسچ بولے گا۔
انبیاء نے ہمیشہ اس بات پر خاص زور دیا ہے کہ اپنے اندر اخلاقی اچھائیاں پیدا کرو کیونکہ سچائی بھی اخلاقی اقدار کا ایک بہت بڑا حصہ ہے۔ اسی لیے یہ پیدا کرنا بھی ہمارے لیے بہت ضروری ہے اور خاص طور پر اس زمانے میں جبکہ ہر طرف جھوٹ ہی جھوٹ رائج ہے ۔اور آج کل تو ہم دیکھتے ہیں جو پہلے بھی میں نے کہا کہ سیاسی اور قومی مفاد کی خاطر جھوٹ کو جھوٹ سمجھا ہی نہیں جاتا بلکہ اسے ایک نہایت ضروری چیز قرار دیا جاتا ہے حالانکہ اگر دیکھا جائے تو جھوٹ فطرت کے خلاف ہے۔ اب آج دنیا میں دیکھ لیں، کوئی بھی سیاستدان دیکھ لیں یا دنیاوی لیڈر دیکھ لیں وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ سو فیصد سچ پر اپنی بات کی بنیاد رکھتا ہے۔
آج کل جو دنیا کے حالات ہیں وہ تو کھل کر یہ بتا رہے ہیں کہ ہر معاملے میں صرف اور صرف جھوٹ ہی بنیاد ہے اور جو سچ بولنے والا ہے جو حقیقت بیان کرنے والا ہے اس کو سزا دی جاتی ہے۔ تمام ملک اکٹھے ہو کے اس کے خلاف بیان دے دیتے ہیں۔ اس کے خلاف مقدمے کھڑے کر دیے جاتے ہیں۔ اس کے خلاف شور مچایا جاتا ہے۔تو جب ایسے حالات دنیا میں پیدا ہو جائیں تو آپ دیکھ لیں کہ اس وقت احمدیوں کی کتنی بڑی ذمہ داری ہے کہ وہ جھوٹ کے خلاف ایک جہاد کریں اور اس لیے جہاد کریں کہ ہم نے توحید کو قائم کرنا ہے۔ شرک کو دنیا سے مٹانا ہے۔
جھوٹ اس لیے بولا جاتا ہے کیونکہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی ذات پر ایمان نہیں ہوتا اور وہ سمجھتے ہیں کہ ہماری بقاء جھوٹ ہے اور جھوٹ کو اللہ تعالیٰ کے مقابلے پر لے کر آتے ہیں اور اسی طرح شرک کرنے والے ہوتے ہیں۔پس
آج اگر دنیا میں ہم نے انقلاب لانا ہے اور اپنی بیعت کا حق ادا کرنا ہےتو ہمیں جھوٹ کے خلاف جیسا کہ میں نے کہا ایک جہاد کرنا ہو گا۔
اسی طرح ایک برائی یہ بھی ہے جو آپؑ نے بیان کی کہ میری بیعت کی ہے تو
کسی کو غلط نظر سے نہ دیکھو۔ بدنظری نہ کرو۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام فرماتے ہیں کہ قرآن کریم عیسائیوں کی تعلیم کی طرح یہ نہیں کہتا کہ بدنظر سے عورت کو نہ دیکھو بلکہ قرآن کریم تو یہ کہتا ہے کہ نہ تو شہوت کی نظر سے اور نہ بغیر شہوت کے بیگانہ عورت کے منہ پر نظر ڈال اور ان کی ایسی باتیں جو نرم مزاجی کی باتیں ہیں جو خیالات کو غلط طرف لے جانے والی باتیں ہیں ایسی باتیں نہ سنو۔ ان کے حسن کے قصّے مت سنو کیونکہ اگر پرہیز کرو گے تبھی تم ٹھوکر سے بچ سکو گے۔

اب آج کل کے معاشرے میں یہی برائیاں ہیں جس کی وجہ سے بہت سارے لوگ برائیوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ گھر بھی ٹوٹتے ہیں اس لیے کہ یہ برائی انسان میں پیدا ہو گئی ہے۔ آپؑ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :قُلْ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ يَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِہِمْ وَيَحْفَظُوْا فُرُوْجَہُمْ ذٰلِكَ اَزْكٰى لَہُمْ۔(النور: 31)یعنی مومنوں کو کہہ دے کہ نامحرم کو دیکھنے سے اپنی آنکھوں کو بند رکھیں اور اپنے کانوں اور ستر گاہوں کی حفاظت کریں یعنی کان کو بھی ان کی نرم باتوں اور ان کی خوبصورتی کے قصّوں سے بچاویں کہ یہ سب طریق ٹھوکر کھانے کے ہیں۔ فرماتے ہیں کہ یہی وجہ ہے کہ کوئی حیا نہیں رہی اور بے شرمی کی انتہا ہو چکی ہے۔ اس لیے بہت ساری برائیاں نام نہاد ترقی یافتہ ممالک میں رائج ہو چکی ہیں۔ آپؑ نے فرمایا کہ
یاد رکھو! جو شخص آزادی سے نامحرم عورتوں کو دیکھتا رہے گا آخر ایک دن بدنیتی سے بھی دیکھے گا کیونکہ نفس کے جذبات ہر ایک طبیعت کے ساتھ لگے ہوئے ہیں اور تجربہ بلند آواز سے بلکہ چیخیں مار کر ہمیں بتلا رہا ہے کہ بیگانہ عورتوں کو دیکھنے سے ہرگز انجام بخیر نہیں ہوتا۔
آپؑ نے فرمایا کہ
بدکاری کا ایسا دریا بہ رہا ہے نہ تو کانوں کو بچا سکتے ہیں، نہ آنکھوں کو، نہ ہاتھ کو، نہ منہ کو۔
(ماخوذ از مکتوبات احمد جلد1صفحہ204-205)
اور اس زمانے میں ہم یہی دیکھ رہے ہیں کہ ایک طرف ٹی وی ہے، انٹرنیٹ ہے ،سوشل میڈیا ہے، پرنٹ میڈیا ہے، اخبارات ہیں، ہر جگہ یہ چیز عام ہو گئی ہے کہ جب تک بدکاری کا اظہار نہ کیا جائے اور اسے سامنے نہ لایا جائے بلکہ سمجھتے ہیں کہ نہ ہمارے پرنٹ میڈیا کو پذیرائی ملے گی ،نہ ہمارے اخبار بکیں گے، نہ سوشل میڈیا پر ہماری مشہوری ہوگی اور نہ ہم لوگوں کی توجہ اپنی طرف کھینچ سکتے ہیں کہ جب تک ہم عورتوں کی غلط قسم کی تصویریں شائع نہ کریں لیکن احمدی کی سوچ مختلف ہونی چاہیے۔ اس لیے
یہ ساری برائیاں جو پیدا ہو رہی ہیں ان سے ہم نے بچنا ہے اور نہ صرف بچنا ہے بلکہ ان کے خلاف جہاد کرنا ہے۔
آج کل اتنی برائیاں پیدا ہو چکی ہیں کہ اب تو یہاں کی بعض ترقی یافتہ عورتوں میں بھی یہ شعور پیدا ہونے لگ گیا ہے اور وہ شور مچانے لگ گئی ہیں کہ ہماری عزّت کے لیے کوئی قانون بننا چاہیے اور عورتوں کے خلاف جو زیادتیاں ہوتی ہیں ان کے خلاف قانون بننا چاہیے۔ یہ چیزیں اس لیے ہیں کہ آزادی کے نام پر ہم بے حیائی میں چلے گئے ہیں اور جب تک یہ چیزیں ہوں گی اس وقت تک اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ پیدا نہیں ہو سکتی۔ پس
ان حالات میں ایک احمدی کو تو بہت زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے اور بہت احساس کرتے ہوئے اپنی اصلاح کرنے کی طرف توجہ کرنی چاہیے۔
بہرحال مضمون بھی لمبا ہو رہا ہے اس لیے مَیں مختصراً چند باتیں اَور بھی کر دیتا ہوں۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام فرماتے ہیں کہ
پاک دامن رہنے کے لیے پانچ باتیں ہیں۔
پانچ علاج ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں اسلام میں بتلائے ہیں۔ نمبر ایک
اپنی آنکھوں کو نامحرم پر نظر ڈالنے سے بچاؤ۔
نمبر دو
کانوں کو نامحرموں کی آواز سننے سے بچاؤ۔
نرم قسم کی غلط قسم کی نرم آوازیں سننے سے بچاؤ۔ نمبر تین
نامحرموں کے قصّے نہ سنو۔
ایسے قصّے جو تمہارے جذبات کو ابھارنے والے ہوں ۔اور نمبر چار
ایسی تمام تقریبیں اور ایسے مواقع جہاں بد فعل کے پیدا ہونے کا اندیشہ ہے ان سے اپنے آپ کو بچاؤ
اور پانچویں بات جوانوں کے لیے یہ ہے ۔نوجوانوں کو یہ بات چاہیے کہ
اگر نکاح اور شادی میں کوئی دقّت ہے تو پھر روزہ رکھیں تاکہ غلط جذبات کو غلط جگہ استعمال نہ کر سکیں۔
بعض دفعہ یہ بیماری بھی آ جاتی ہے کہ شادیاں بھی ہو جاتی ہیں لیکن پھر بھی غلط قسم کی سوسائٹی میں پڑ کر بعض نوجوان غلط کام کرنے لگ جاتے ہیں۔ گھروں میں بیویوں سے پوچھنے کی بجائے اِدھر اُدھر پھر رہے ہوتے ہیں۔ دوستیاں لگا رہے ہوتے ہیں ۔ یہ بھی غلط ہے اور یہ کسی احمدی کا شیوہ نہیںہے۔ آج اگر یہ چیزیں ہم میں پیدا ہو جائیںتو یہ جو اصلاح کے طریقے آپؑ نے بتائے ہیں ان سے ہم سب بد عادتوں سے بچ سکیں گے جو اخلاقی طور پر ہمیں گراوٹ اور تباہی کے کنویں کی طرف لے جا رہی ہوتی ہیں۔
اس کی مزید وضاحت کرتے ہوئے آپؑ فرماتے ہیں کہ
ہم بڑے دعوے کے ساتھ کہتے ہیں کہ یہ اعلیٰ تعلیم ان سب تدبیروں کے ساتھ جو قرآن شریف نے بیان فرمائی ہے صرف اسلام سے ہی خاص ہے۔
اور اس جگہ ایک نقطہ یاد رکھنے کے لائق ہے اور وہ یہ ہے کہ چونکہ انسان کی وہ طبعی حالت جو شہوات کا منبع ہے جس سے انسان بغیر کسی کامل تغیر کے الگ نہیں ہو سکتا یہی ہے کہ اس کے جذباتِ شہوات محل اور موقع پا کر جوش مارنے سے رہ نہیں سکتے یا یوں کہو کہ سخت خطرے میں پڑ جاتے ہیں ۔اس لیے خدا تعالیٰ نے ہمیں یہ تعلیم نہیں دی کہ ہم نامحرم عورتوں کو بلا تکلّف دیکھ تو لیا کریں اور ان کی تمام تر زینتوں پر نظر ڈالیں اور ان کے تمام انداز ناچنا وغیرہ مشاہدہ کر لیں لیکن پاک نظر سے دیکھیں۔اور نہ یہ تعلیم ہمیں دی ہے کہ ہم ان بیگانہ جوان عورتوں کا گانا بجانا سن لیں اور ان کے حسن کے قصّے بھی سنا کریں لیکن پاک خیال سے۔ بلکہ ہمیں تاکید ہے کہ ہم نامحرم عورتوں کو اور ان کی زینت کی جگہ کو ہرگز نہ دیکھیں۔ نہ پاک نظر سے اور نہ ناپاک نظر سے اور ان کی خوش الحانی کی آوازیں اور ان کے حسن کے قصّے نہ سنیں ۔نہ پاک خیال سے اور نہ ناپاک خیال سے تاکہ ٹھوکر نہ کھائیں۔
یہاں اعتراض کرنے والے نام نہاد لوگ جو عورتوں کے حق میں یہ آواز اٹھاتے ہیں کہ اسلام کی تعلیم نے عورتوں کو بند کر کے رکھ دیا ہے اور اسی وجہ سے کہہ دیا کہ عورتیں اپنے آپ کو بند کریں۔ یہاں تو مردوں کو حکم ہے کہ اس طرف عورتوں پر پابندیاں لگا دی ہیں کہ جب انہوں نے دکھانا نہیں تو تم نے باہر بھی نہیں نکلنا۔ اس کے جواب میں آپؑ فرماتے ہیں کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ اسلامی پردہ عورتوں پر ایک ظلم ہے تو آپؑ نے فرمایا کہ اسلامی پردے کی یہی فلاسفی ہے اور یہی ہدایت شرعی ہے ۔خدا کی کتاب میں پردے سے مراد یہ نہیں ہے کہ فقط عورتوں کو قیدیوں کی طرح حراست میں رکھا جائے۔ یہ ان نادانوں کا خیال ہے جن کو اسلامی طریقوں کی خبر نہیں بلکہ مقصد یہ ہے کہ عورت مرد دونوں کو آزاد نظر اندازی اور اپنی زینتوں کے دکھانے سے روکا جائے کیونکہ اس میں دونوں مرد اور عورت کی بھلائی ہے۔ دونوں کو روکا گیا ہے کہ اپنی زینتوں کو نہ دکھاؤ۔ بالآخر یاد رہے کہ خوابیدہ نگاہ سے غیر محل پر نظر ڈالنے سے اپنے تئیں بچا لینا اور دوسری جائزالنظر چیزوں کو دیکھنا اس طریق کو عربی میں غضِّ بصر کہتے ہیں۔ جہاں ضرورت ہو وہاں نظر ڈال دی جاتی ہے لیکن خوابیدہ نظر سے بالکل آنکھیں پھاڑ پھاڑ کے نہیں۔ فرماتے ہیں عربی زبان میں اس کو غضِّ بصر کہتے ہیں۔ اور ہر ایک پرہیزگار جو اپنے دل کو پاک رکھنا چاہتا ہے اس کو نہیں چاہیے کہ حیوانوں کی طرح جس طرح چاہے جس طرف چاہے بے محابہ نظر اٹھا کر دیکھ لیا کرے بلکہ اس کے لیے اس تمدّنی زندگی میں غضِّ بصر کی عادت ڈالنا ضروری ہے اور یہ وہ مبارک عادت ہے جس سے اس کی یہ طبعی حالت ایک بھاری خلق کے رنگ میں آ جائے گی اور اس کی تمدّنی ضرورت میں بھی فرق نہیں پڑے گا۔ یہی وہ خلق ہے جس کو اِحصان اور عفت کہتے ہیں۔
(ماخوذ ازاسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 343-344)
پھر
ایک برائی فسق و فجور اور فساد کی ہے ۔
اس سے بچنے کی طرف بھی آپؑ نے توجہ دلاتے ہوئے فرمایا جہاں تم ایسی مجالس دیکھو جہاں فسق و فجور کی مجالس ہوں وہاں سے اٹھ جایا کرو۔ حکومت کے خلاف جو بغاوت ہو اس سے بھی آپؑ نے منع فرمایا۔ یہ بھی فرمایا کہ میری بیعت کا ایک حصہ ہے۔
(ماخوذ از کشف الغطاء، روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 188)
اسی طرح ظلم کے خلاف آپؑ نے فرمایا کہ
ظلم سے ہمیشہ بچو ۔
اس بارے میں ایک حدیث ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہمانے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :مسلمان مسلمان کا بھائی ہے۔نہ خود اس پر ظلم کرے اور نہ اسے ظالم کے سپرد کرے۔ جو شخص اپنے بھائی کے کام میں مشغول ہوگا اللہ بھی اس کے کام میں مشغول رہے گا۔
(صحیح البخاری کتاب المظالم باب لا یظلم المسلم المسلم ولا یسلمہ ، حدیث 2442)
مسلمان پہ نہ خود ظلم کرنا ہے نہ کسی ظالم کے سپرد کرنا ہے لیکن بدقسمتی سے آج جو دنیا دار لوگ ہیں بڑے بڑے ملک وہ یہی کچھ کر رہے ہیں ۔اور جس نے کسی مسلمان سے کوئی تکلیف دور کی اللہ یوم قیامت کی تکالیف میں سے ایک تکلیف اس کی دور کرے گا ۔اور جس نے ایک مسلمان کی پردہ پوشی کی اللہ بھی قیامت کے روز اس کی پردہ پوشی کرے گا ۔اور ایک جگہ اَور بھی فرمایا کہ انسانوں سے ظلم نہ کرو صرف مسلمانوں کی حد تک نہیں بلکہ کُل انسانیت سے آپؐ نے فرمایا کہ ظلم نہ کرو۔ ان کا بھی خیال رکھو ۔
(سنن الترمذی ابواب البر و الصلۃ باب ما جاء فی الاحسان و العفو، حدیث 2007)
اور ہمیشہ آپؑ نے اس بات پر بیعت بھی لی کہ ظلم نہیں کروں گا ،خیانت نہیں کروں گا، بغاوت اور فساد نہیں کروں گا۔
پھر فتنہ و فساد سے بچنے کے لیے حضرت مسیح موعود الصلوٰة والسلام نے فرمایا کہ میری بیعت میں آئے ہو تو
فتنہ و فساد سے بھی بچنا ہوگا ۔اگر تم اس سے نہیں بچتے تو بیعت کا حق بھی ادا نہیں کرتے۔
اسی طرح فرائض نمازوں کے علاوہ آپؑ نے فرمایا کہ
تہجد کی طرف بھی توجہ کرو۔ نوافل کی طرف بھی توجہ کرو ۔
کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ رات کو تہجد کے لیے اٹھنا تمہارے لیے ایک بہت بڑا جہاد ہے ۔اس کا ثواب تمہیں ملے گا۔ حدیث میں آتا ہے حضرت ابو ہریرہ ؓنے بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس نے میرے کسی ولی سے دشمنی کی تو مَیں اس سے جنگ کا اعلان کرتا ہوں ۔اور میرا بندہ کسی چیز کے ذریعے میرے قریب نہیں ہوتا جو مجھے سب سے زیادہ پسند ہو اس میں سے جو مَیں نے اس پر فرض کیا ہے اور میرا بندہ نوافل کے ذریعے مجھ سے قریب ہو جاتا ہے اور یہاں تک کہ مَیں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں اور جب مَیں اس سے محبت کرتا ہوں تو مَیں اس کا کان ہو جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھ جس سے وہ دیکھتا ہے، اس کا ہاتھ جس سے وہ پکڑتا ہے، اس کا پاؤں جس سے وہ چلتا ہے۔ اگر وہ مجھ سے مانگے تو مَیں اس کو ضرور دیتا ہوں ۔اگر وہ مجھ سے پناہ مانگے تو مَیں اس کو ضرور پناہ دیتا ہوں۔اور مجھے کسی چیز کے متعلق جو مَیں کرنے والا ہوتا ہوں تردّد نہیں ہوتا۔ مَیں اس کی تکلیف کو ناپسند کرتا ہوں۔
(صحیح البخاری کتاب الرقاق باب التواضع حدیث 6502)
پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو نوافل کے ذریعے سے میرے قریب آتے ہیں وہ اس لیے آتے ہیں کہ ان کو مجھ سے محبت ہے اور جب وہ مجھ سے محبت کرتے ہیں تو پھر میں ان کو بچانے کا اور ان کو اپنے انعامات سے نوازنے کا ہر طریقہ اختیار کرتا ہوں۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام فرماتے ہیں: ’’بدیوں کاچھوڑ دینا کسی کے اپنے اختیار میں نہیں اس واسطے راتوں کو اٹھ اٹھ کر تہجد میں خدا کے حضور دعائیں کرو۔‘‘ بدیاں چھوڑنا آسان کام نہیں ہے اس کے لیے راتوں کو اٹھوتہجد پڑھو اور اس میں دعائیں کرو’’ وہی تمہارا پیدا کرنے والا ہے۔ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُوْنَ (الصّٰفّٰت:97) ۔ ‘‘کہ تمہیں بھی اس نے پیدا کیا ہے اور اسے بھی جسے تم بناتے ہو جو تمہارے عمل ہیں۔’’ پس اَور کون ہے جو ان بدیوں کو دور کر کے نیکیوں کی توفیق تم کو دے۔‘‘
(ملفوظات جلد 9 صفحہ 36 حاشیہ، ایڈیشن 2022ء)
اسی طرح
تسبیح و تحمید
کے بارے میں آپؑ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے: وَسَبِّحُــوْہُ بُكْرَۃً وَّاَصِيْلًا۔ (الاحزاب:43) اور اس کی تسبیح صبح بھی کرواور شام کو بھی کرو۔ یہ مسلمانوں کو حکم ہے اور یہ وہ باتیں ہیں جن کو پیدا کرنے کے لیے اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام مبعوث ہوئے تھے۔ ایک حدیث میں آتا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
ہر اہم کام جس کو حمد کے بغیر شروع کیا جائے بے برکت ہوتا ہے۔
(صحیح ابن حبان صفحہ 135، باب ما جاء فی الابتداء بحمد اللہ تعالیٰ ذکر الاخبار عما یجب علی المرء …حدیث 1، دار المعارف مصر)
اس لیے ہمیشہ ہر کام شروع کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کی حمد کرنی چاہیے تبھی اس میں برکت پڑے گی۔ اسی طرح آپؐ نے تلقین فرمائی کہ ہر نماز کے بعد اللہ تعالیٰ کی حمد اور شکر ادا کیا کرو۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ کَلِمَتَانِ خَفِیْفَتَانِ عَلَی اللِّسَانِ ۔ دو کلمے ایسے ہیں جو زبان پر تو بڑے ہلکے معلوم ہوتے ہیں۔ ایک منٹ میں انسان کہہ جاتا ہے لیکن ثَقِیْلَتَانِ فِی الْمِیْزَانِ ۔ جب خدا تعالیٰ انہیں ترازو میں رکھے گا تو بڑے بوجھل ہوں گے۔ یعنی اعمال کا پلڑا ان کے بوجھ سے جھک جائے گاکیونکہ وہ حَبِیْبَتَانِ اِلَی الرَّحْمٰنِ ۔ اللہ کو بہت ہی محبوب ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو سن کر بہت خوش ہوتا ہے اور وہ یہ ہیں کہ سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْمِ ۔ پاک ہے اللہ تعالیٰ اپنی تمام تعریفوں کے ساتھ پاک ہے خدا تعالیٰ اپنی تمام عظمتوں کے ساتھ۔
(صحیح البخاری کتاب الدعوات باب فضل التسبیح ، حدیث 6406)
پس انسان کو نیکیوں کی طرف لے جانے اور اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی حمد کرنا بھی بہت ضروری ہے۔ اسی طرف بھی ہمیں زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
اسی طرح
درود شریف پڑھنے کی طرف بھی خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
ان دنوں میں اکثر خاص طور پر آپ درود شریف پڑھتے رہے ہیں ۔مَیں نے کہا تھا اور امید ہے پڑھتے رہیں ہوں گے لیکن اسے اپنی زندگیوں کا حصہ بنا لیں۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم کسی مؤذن کی اذان دیتے ہوئے آواز سنو تو وہی الفاظ کہو جو موذن کہتا ہے۔ پھر مجھ پر درود بھیجو کیونکہ یقیناً جس نے ایک مرتبہ مجھ پر درود بھیجا اللہ تعالیٰ اس پر دس مرتبہ رحمت بھیجے گا۔ پھر اللہ سے دعامیں میرے لیے وسیلہ طلب کرو کیونکہ یہ جنت میں ایک مقام ہے جو اللہ کے بندوں میں سے صرف ایک بندے کے لیے ہی شایانِ شان ہے اور مجھے امید ہے کہ وہ مَیں ہوں۔ پس جس نے میرے لیے وسیلہ طلب کیا تو اس کے لیے شفاعت ہو گئی ۔
(الترغیب و الترھیب للمنذری جلد 1 صفحہ 159، الترغیب فی اجابۃ المؤذن … حدیث 377 ، مکتبۃ المعارف ریاض 1424ھ)
پس
درود شریف کی طرف بھی بہت توجہ دینے کی ضرورت ہے اور جب ہم یہ کریں گے تب ہی ہم اپنا حقِ بیعت بھی ادا کرنے والے ہوں گے۔
اسی طرح
توبہ اور استغفار کی طرف بھی بہت توجہ کی ضرورت ہے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو استغفار کرنے کو لازم کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے ہر تنگی سے نکلنے کا راستہ بتا دے گا اور ہر غم سے کشائش دے گا اور ایسی جگہ سے رزق عطا فرمائے گا جہاں سے اس کو گمان بھی نہیں ہوگا۔
(سنن ابی داؤد کتاب الوتر باب فی الاستغفار، حدیث 1518)
پس استغفار کی طرف بھی بہت توجہ کی ضرورت ہے۔
بہت سارے لوگ اپنے مسائل کے حل کے لیے پوچھتے ہیں تو مَیں ان کو یہی جواب دیتا ہوں کہ استغفار کی طرف بہت زیادہ توجہ دو۔
آپؐ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تو توبہ قبول کر لیتا ہے جب تک انسان آخری حالت میں مرنے کے قریب نہ ہو اس وقت تک جو بھی دعا اللہ تعالیٰ سے کرو، استغفار کرو اللہ تعالیٰ قبول کرتا ہے۔
(سنن ابن ماجہ کتاب الزھد باب ذکر التوبۃ حدیث 4253)
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کا بھی یہی اصول تھا کہ
بعض دفعہ لوگ اپنے قرض کے لیے قرض کے اترنے کے لیے دعا کی درخواست کرتے تھے تو آپؑ فرمایا کرتے تھے کہ استغفار کرو۔
(ماخوذ از ملفوظات جلد 2 صفحہ 96، ایڈیشن 2022ء)
ایک دفعہ کسی نے کہا مجھے اولاد نہیں ہو رہی تو آپؑ نے کہا استغفار زیادہ کرو ۔اور استغفار پڑھنے کے بارے میں آپؑ نے فرمایا اولاد کے لیے بھی استغفار کرو۔ استغفار بہت پڑھا کرو۔
(ماخوذ از ملفوظات جلد 2 صفحہ 89، ایڈیشن 2022ء)
کیونکہ’’ انسان کی دو ہی حالتیں ہیں یا تو وہ گناہ نہ کرے یا اللہ تعالیٰ اس گناہ کے بد انجام سے بچا لے۔‘‘ یہی چیزیں ہیں انسان کو بچانے کے لیے کہ انسان سے گناہ نہ ہو اور جو گناہ ہو گئے ہیں ان سے اللہ تعالیٰ بچا لے۔ ’’سو استغفار پڑھنے کے وقت دونوں معنوں کا لحاظ رکھنا چاہیے۔ ایک تو یہ کہ اللہ تعالیٰ سے گذشتہ گناہوں کی پردہ پوشی چاہے اور دوسرا یہ کہ خدا سے توفیق چاہے کہ آئندہ گناہوں سے بچا ئے۔ مگر استغفار صرف زبان سے پورا نہیں ہوتا بلکہ دل سے چاہیے‘‘ استغفار کیا جائے۔
(ملفوظات جلد 1صفحہ 525، ایڈیشن1988ء)
ایسا ہو گا تبھی ہماری استغفار بھی قبول ہو گی۔
اسی طرح پہلے تہجد کا بھی ذکر آیا تھا تو انسان تہجد اسی وقت پڑھ سکتا ہے جب وہ عام
نمازیں بھی پڑھ رہا ہو ۔
اور جب نمازوں کی طرف توجہ ہو گی تو پھر تہجد کی طر ف بھی توجہ ہو گی۔ ایک حدیث میں آتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
یقیناًآدمی اور شرک و کفر کے درمیان فرق نماز ترک کرنا ہے۔
(صحیح مسلم کتاب الایمان باب اطلاق اسم الکفر علی من ترک الصلاۃ، حدیث 109)
ایک مسلمان ہے ایک مومن ہے ایک مشرک ہے اور کافر ہے جس کے درمیان فرق یہی ہے کہ مومن حقیقی مومن جو ہے وہ نماز پڑھنے والا ہے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والا ہے ۔اور اگر ایک مومن مسلمان کہلا کے بھی نماز ترک کرتا ہے تو وہ شرک اور کفر کے قریب پہنچ جاتا ہے۔ اب ہم نے اس کے خلاف بیعت کی ہے اور جہاد کرنے کا عہد کیا ہے ۔شرک کے خلاف ہم نے بیعت کی ہے اور جہاد کرنے کا عہد کیا ہے تو اس کے لیے
ہمیں اپنی نمازوں کی بھی حفاظت کرنی پڑے گی۔ مرد کوشش کریں کہ پانچ وقت نمازوں کی نماز سینٹر یا مسجد میں جا کر ادائیگی کو رواج دیں تا کہ ہماری مسجدیں آباد ہوں۔ ہماری نسلوں کو عبادتوں کا ایک شعور حاصل ہو۔ ان میں ایک شوق اور جذبہ پیدا ہو اور انہیں یہ پتہ لگے کہ نمازیں کیوں ضروری ہیں لیکن نمازیں ایسی ہونی چاہئیں جن کا حق ادا کیا جائے۔
اس کے لیے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام فرماتے ہیں کہ نماز کی ظاہری صورت پر اکتفا کرنا نادانی ہے۔ اکثر لوگ رسمی نمازیں ادا کرتے ہیں اور بہت جلدی کرتے ہیں جیسے ایک ناواجب ٹیکس لگا ہوا ہے۔ جلدی گلے سے اتر جائے۔ بعض لوگ نمازیں تو جلدی پڑھ لیتے ہیں لیکن اس کے بعد دعا اس قدر لمبی مانگتے ہیں کہ نماز کے وقت سے دوگنا تین گنا وقت لے لیتے ہیں حالانکہ نماز تو خود دعا ہے جس کو یہ نصیب نہیں کہ نماز میں دعا کرے اس کی نماز ہی نہیں ہے۔ چاہیے کہ اپنی نماز کو دعا سے مثل کھانے اور سرد پانی کے لذیذ اور مزیدار کر لو۔ تمہیں نماز میں کھانے اور پانی سے زیادہ مزہ آئے۔ ایسا نہ ہو کہ اس پر ویل ہو۔ نماز خدا کا حق ہے ایسا نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ اسے ردّ فرما دے۔ یہ نہ ہو بلکہ نماز کا حق ادا کرو اور اچھی طرح ادا کروتبھی تم اپنی زندگی کو سنوار سکتے ہو۔
اسی طرح آپؑ نے فرمایا کہ
خلق اللہ کے ساتھ عموماً حسن سلوک کرو۔
(ماخوذ ازملفوظات جلد 6 صفحہ 90-91، ایڈیشن 2022ء)
پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ دیکھو وہ جماعت جماعت نہیں ہو سکتی جو ایک دوسرے کو کھائے اور جب چار مل کر بیٹھیں تو اپنے غریب بھائی کا گلہ کریں اور نکتہ چینیاں کریں اور کمزوروں اور غریبوں کو حقارت اور نفرت سے دیکھیں۔ ایسا ہرگز نہیں چاہیے بلکہ اجماع میں چاہیے کہ قوّت آجاوے اور وحدت پیدا ہو جائے جس سے محبت آتی ہے اور برکات پیدا ہوتی ہیں۔ آپؑ نے فرمایا کہ مَیں دیکھتا ہوں کہ ذرا ذرا سی بات پر اختلاف پیدا ہو جاتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مخالف لوگ جو ہماری ذرا ذرا سی بات پر نظر رکھتے ہیں معمولی باتوں کو بعد میں بہت بڑی بنا کر پیش کر دیتے ہیں اور خلق کو گمراہ کرتے ہیں لیکن آپؑ نے فرمایا کہ اگر اندرونی کمزوریاں نہ ہوں تو کیوں کسی کو جرأت ہو کہ اس قسم کے مضامین شائع کرے جو ہمارے خلاف جائیں۔ آپؑ نے فرمایا کیوں نہیں کیا جاتا کہ اخلاقی قوّتوں کو وسیع کیا جائے اور یہ تب ہوتا ہے کہ جب ہمدردی، محبت اور عفو اور کرم کو عام کیا جائے اور تمام عادتوں پر رحم، ہمدردی اور پردہ پوشی کو مقدم کر لیا جائے۔
(ماخوذ ازملفوظات جلد 3 صفحہ 143، ایڈیشن 2022ء)
آپؑ نے فرمایا کہ مَیں کہتا ہوں کہ ہرگز کوئی آج بھی مسلمان نہیں بنتاجب تک کہ دوسروں کی ایسی ہمدردی نہیں کرتا جیسا کہ اپنے نفس کے لیے اور
میری یہی نصیحت ہے کہ دلوں کو صاف کرو اور تمام بنی انسان کی ہمدردی اختیار کرو۔
تمام بنی نوع انسان کی ہمدردی اختیار کرو اور کسی کی بدی مت چاہو کہ اعلیٰ تہذیب یہی ہے۔ افسوس کہ یہ لوگ دوسری قوموں سے انتقام لینے کے لیے سخت حریص ہیں مگر مَیں کہتا ہوں کہ عفو اور درگزر کرو اور کینہ ور اور منافق طبع مت بنو۔ زمین پر رحم کرو تا آسمان سے تم پر رحم ہو اور مَیں نے نہ صرف کہا بلکہ عملی طور پر دکھلایا اور مَیں نے ہرگز پسند نہیں کیا کہ جو شخص شر کا ارادہ کرتا ہے اس کے لیے مَیں بھی شر کا ارادہ کروں ۔اور پھر آپ نے مثال دی کہ ڈاکٹر کلارک کے اقدامِ قتل کے مقدمے میں جو میرے پر الزام لگایا گیا وہ غلط ثابت ہوا اور مجھے عدالت کی طرف سے مقدمہ کی اجازت بھی مل گئی لیکن مَیں نے مقدمہ نہیں کیا اس لیے کہ میں ان سے ہمدردی چاہتا تھا۔ اسی طرح اَور بہت سارے مواقع پیدا ہوئے لیکن میں نے ہمیشہ ہمدردی کی۔
(ماخوذ از کشف الغطاء، روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 194)
اس لیے تم لوگ بھی اگر دنیا میں امن قائم کرنا چاہتے ہو تو ہمدردی کی فضا پیدا کرو اور آپس میں محبت اور پیار سے رہو اور نہ صرف آپس میں بلکہ ہر انسان سے محبت کرو۔
پس یہ چند باتیں ہیں جو مَیں نے بیان کی ہیں۔
اگر ہم اپنے اندر پاک تبدیلی کرتے ہوئے، بیعت کا حق ادا کرتے ہوئے ان شرائطِ بیعت پر مکمل عمل کریں تو نہ صرف ہم اپنے اندر ایک پاک معاشرہ پیدا کرنے والے ہوں گے بلکہ اسلام کے حقیقی پیغام کو دنیا میں پھیلانے والے بن کر مسلمانوں اور غیر مسلموں، اسلام مخالف لوگوں بلکہ دہریوں میں بھی ایک ایسی تعلیم کے پھیلانے والے ہوں گے جو ایک دن انہیں بہرحال یہ سوچنے پر مجبور کرے گی کہ احمدی ہی وہ لوگ ہیں جو دنیا میں خدائے واحد کی حکومت قائم کرنے کے ساتھ اعلیٰ اخلاقی قدروں کو بھی قائم کرنا چاہتے ہیں تاکہ دنیا دارالفساد نہ بنے بلکہ امن اور سلامتی کی آماجگاہ بن جائے۔
آج کل دجالی طاقتیں اپنے پورے زور پر اس بات کو پھیلانے کی کوشش کررہی ہیں کہ دنیا سے خدا تعالیٰ کے نام کو مٹایا جائے۔ دنیا میں فساد پیدا کیا جائے۔ ایسے میں ہماری بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ حقِ بیعت ادا کرتے ہوئے، ان دجالی قوتوں کے خلاف جہاد کرتے ہوئے، اللہ تعالیٰ سے فضل مانگتے ہوئے، ان کی چالوں کو ناکام و نا مراد کرتے ہوئے اپنی بھرپور کوشش کریں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے عہدِ بیعت نبھانے کی توفیق عطا فرمائے۔
دعاؤں میں ساری دنیا کے امن و سلامتی کی دعائیں کریں ۔اور مسلمانوں کی بقا اور سلامتی کے لیے بھی دعا کریں۔ اللہ تعالیٰ کرے کہ ہر احمدی دنیا میں خدائے واحد کی حکومت قائم کرنے اور دنیا میں امن و سلامتی پھیلانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنے والا بن جائے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔اب ہم دعا کریں گے۔ دعا کر لیں۔
٭…٭…٭
دعا کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:
اس وقت جو حاضری کی رپورٹ ہے اس کے مطابق
اللہ تعالیٰ کے فضل سے 51,181؍لوگ ہیں جو یہاں جلسے میں حاضر ہو کے جلسہ سن رہے ہیں ۔الحمدللہ۔ اس جلسے میں117؍ممالک کی شمولیت بھی ہے۔ وہاں کے لوگ شامل ہیں۔ نمائندے ہیں۔
مردوں کی تعداد scan کے حساب سے 24,671؍ہے اور عورتوں کی تعداد 23,611؍ہے۔اور جو دوسرے بچے وغیرہ unscanned ہیں ان کو بھی انہوں نے شامل کیا ہے جو 2,895بنتے ہیں، وہ ملا کے 51،181؍ تعداد بنتی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ پچھلے سال سے تو کافی زیادہ ہے۔
اور اسی طرح
ایم ٹی اے کے ذریعے سے دنیا کے مختلف سینٹرز میں بھی جلسہ سنا جا رہا ہے جو 62؍ممالک میں 95؍سینٹر قائم ہیں جہاں16,211؍لوگ مختلف وقتوں میں بیٹھ کے سنتے رہے
اور آخری سیشن میں بھی 16،211؍ہیں ۔میرا خیال ہے اس سے بھی زیادہ تعداد ہوگی۔ انفرادی طور پر بھی بہت لوگ سن رہے ہوتے ہیں۔ بہرحال اللہ تعالیٰ اس جلسے کی برکات سے ہر ایک کو فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرمائے۔ اب ترانے کرنے ہیں۔ جلدی جلدی کریں ۔
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: اختتامی خطاب جلسہ سالانہ یوکے۲۰۲۶ء(حصہ اوّل)




