از افاضاتِ خلفائے احمدیت

جو لوگ اپنے اندر صفاتِ الہٰیہ پیدا کرلیتے ہیں اللہ تعالیٰ فرشتوں کو اُن کے تابع کر دیتا ہے

(خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمودہ ۲۵؍نومبر ۱۹۵۵ء)

حضرت مصلح موعودؓ کے بیان فرمودہ اس خطبہ جمعہ میں حضورؓ نے احباب جماعت کو اپنے اندر صفاتِ الہٰیہ پیدا کرنے کی نصیحت فرمائی ہے۔ قارئین کے استفادے کے لیے یہ خطبہ شائع کیا جاتا ہے۔(ادارہ)

جو شخص خدائی صفات کا مظہر ہوگا ملائکہ کی کیا طاقت ہے کہ اُس کے خلاف چلیں۔ ملائکہ کا فرض ہے کہ اُس کے ساتھ چلیں۔ پس یادرکھو کہ تم میں سے ہر شخص کے اندر خداتعالیٰ نے یہ طاقت پیدا کی ہے کہ تم اپنے اندر صفاتِ الہٰیہ پیداکرو اور اگر تم اپنے اندر صفاتِ الٰہیہ پیدا کرلو تو پھر تم میں سے ہرایک کے لیے ملائکہ کو حکم ہوگا کہ وہ تمہاری مدد کریں۔

تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیت قرآنیہ کی تلاوت فرمائی: وَلَقَدۡ خَلَقۡنٰکُمۡ ثُمَّ صَوَّرۡنٰکُمۡ ثُمَّ قُلۡنَا لِلۡمَلٰٓئِکَۃِ اسۡجُدُوۡا لِاٰدَمَ ٭ۖ فَسَجَدُوۡۤا اِلَّاۤ اِبۡلِیۡسَ(الاعراف:۱۲)

اس کے بعد فرمایا:

قرآن کریم کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی دو پیدائشیں ہیں۔ ایک بشری اور ایک انسانی۔

بشری پیدائش کے متعلق اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ وَلَقَدۡ خَلَقۡنٰکُمۡ ہم نے تم کو پیدا کیا ہے۔ یعنی تمہیں ایک ذی حیات وجود بنایا ہے۔ اور انسانی پیدائش کے متعلق فرماتا ہے کہ ثُمَّ صَوَّرۡنٰکُمۡ ہم نے تمہاری ایک روحانی شکل بنائی ہے۔ صورت سے چیز پہچانی جاتی ہے اور انسان کے جو روحانی کمالات ہیں اُنہی کے ذریعہ سے وہ دوسری مخلوقات سے ممتاز طور پر پہچانا جاتا ہے۔ بائیبل سے پتا لگتا ہے کہ صورت سے کیا مراد ہے۔ بائیبل میں آتا ہے۔ ’’اور خدا نے انسان کو اپنی صورت پرپیدا کیا۔‘‘ (پیدائش باب ۱ آیت ۲۷)

پس صَوَّرۡنٰکُمۡ کے معنے ہیں کہ ہم نے اس کے اندر اخلاقِ الہٰیہ اور صفاتِ الہٰیہ پیدا کیں۔ یعنی پہلے تو ہم نے اس کی جسمانی خلق کی۔ اس کے ناک، کان، ہاتھ اور پاؤں بنادیئے،دھڑ بنا دیا۔ اس کے بعد ہم نے اس کے دماغ کی اِس قدر تربیت کرنی شروع کی اور اس کی قوتوں کا اِس طرح ارتقاء شروع کیا کہ وہ صفاتِ الہٰیہ کو اپنے اندر جذب کرنے کے قابل ہوگیا۔ اور اس کے اندر ان کے اظہارکی اہلیت پیدا ہوگئی۔ اس کے بعد ہم نے ملائکہ سے کہا کہ تم اب اس انسان کوسجدہ کرو۔ حقیقت یہ ہے کہ جیسا کہ قرآن کریم میں اس بات پر بار بار زور دیا گیا ہے

سجدہ خدا تعالیٰ کے سوا کسی کے سامنے جائز نہیں۔

اس لیے ہم کہتے ہیں کہ

اس سجدہ سے مراد مجازی سجدہ ہے۔ اور اسکے معنے اطاعت کے ہیں۔

مگر

مجازی سجدہ بھی تو مجازی خدا کے سامنے ہی ہوسکتا ہے۔

اس لیے فرمایا کہ ثُمَّ صَوَّرۡنٰکُمۡ ثُمَّ قُلۡنَا لِلۡمَلٰٓئِکَۃِ اسۡجُدُوۡا لِاٰدَمَ کہ پہلے توہم نے تمہارے اندر خدائی صفات پیدا کیں اور جب تم خدائی صفات کے جذب کرنے اور ان کے اظہار کرنے کے قابل ہوگئے تو ہم نے ملائکہ سے کہا کہ سجدئہ حقیقی تو بہرحال میرے سوا کسی اَور کے سامنے کرنا منع ہے لیکن ہم تم کو ایک مجازی سجدہ کا حکم دینے لگے ہیں اور اس سجدہ کے لیے ایک مجازی خدا کی ضرورت ہے۔ اور وہ

مجازی خدا وہ انسان ہے جس کے اندر الٰہی صفات پائی جائیں۔

پس

اِس آیت میں بتایا گیا ہے کہ یہاں جس آدم کا ذکر کیا گیا ہے اس سے مراد ابوالبشر آدم نہیں بلکہ اِس سے ہر انسانِ کامل مراد ہے۔

کیونکہ یہاں اللہ تعالیٰ نے خَلَقۡنٰکُمۡ فرمایا ہے۔ خَلَقْنٰک نہیں فرمایا۔ اِسی طرح فرمایا

ثُمَّ صَوَّرۡنٰکُمۡ پھر ہم نے تم سب کے اندر یہ مادہ پیدا کیا کہ تم الٰہی صفات کو اپنے اندرجذب کرسکواور ان کا اظہار کرسکو۔ پھر جب تم میں سے بعض نے اپنے اندر خدائی صفات پیدا کرلیں تو ہم نے ملائکہ سے کہا اُسْجُدُوۡا لِاٰدَمَ تم اس آدم کو سجدہ کرو۔ کیونکہ اس کے اندر ہماری صفات آگئی ہیں اور وہ انہیں ظاہر کرنے لگ گیا ہے۔

چنانچہ

مختلف زمانوں میں مختلف آدم تھے۔

کسی زمانہ میں ابوالبشر آدم تھے۔ کسی زمانہ میں نوح علیہ السلام آدم تھے۔ کسی زمانہ میں ابراہیم علیہ السلام آدم تھے۔ کسی زمانہ میں اسحاق علیہ السلام آدم تھے۔ کسی زمانہ میں یعقوب علیہ السلام آدم تھے۔ کسی زمانہ میں یوسف علیہ السلام آدم تھے۔ کسی زمانہ میں موسیٰ علیہ السلام آدم تھے۔ کسی زمانہ میں داؤد علیہ السلام آدم تھے۔ کسی زمانہ میںیر میاہ علیہ السلام آدم تھے۔ کسی زمانہ میں حزقیل علیہ السلام آدم تھے۔ کسی زمانہ میں دانیال علیہ السلام آدم تھے۔ کسی زمانہ میں ملاکی علیہ السلام آدم تھے۔ کسی زمانہ میں یحيٰ علیہ السلام آدم تھے۔ کسی زمانہ میں مسیح علیہ السلام آدم تھے۔ پھر

جس طرح ابوالبشر آدم تھا اسی طرح ابوالانسانیت محمد صلی اللہ علیہ وسلم آدم تھے۔

پس فرماتا ہے کہ ثُمَّ صَوَّرۡنٰکُمۡ ثُمَّ قُلۡنَا لِلۡمَلٰٓئِکَۃِ اسۡجُدُوۡا لِاٰدَمَ پھر ہم نے فرشتوں سے کہا کہ یہ جو صفاتِ الہٰیہ کو ظاہر کرنے والا آدم ہے تم اس کے آگے سجدہ کرو۔ لیکن پھر بھی سجدہ کے معنے مجازی سجدہ کے ہی ہوں گے۔ کیونکہ حقیقی سجدہ سوائے خداتعالیٰ کے اَورکسی کے سامنے جائز نہیں۔ اِسی لیے ہم نے مجازی سجدہ کا حکم بھی ایسے مجازی خدا کے لیے دیا ہے جو صفات الہٰیہ کو ظاہر کرنے والا ہے اور اس سجدہ کے معنے اطاعت کے ہیں۔

پھر ملائکہ کے متعلق خداتعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ کہتا ہے وہ کرتے ہیں وہ اُس کی نافرمانی نہیں کرتے۔ (التحریم : ۷) اب اگر اُسۡجُدُوۡاسے مراد ہر انسان کے آگے سجدہ کرنا ہو تو اِس کے معنے یہ بنیں گے کہ یہ چوری کرے تو تم بھی چوری کرو۔ یہ ڈاکامارے توتم بھی ڈاکا مارو۔ یہ قتل کرے تو تم بھی قتل کرو۔ حالانکہ یہ بالکل غلط بات ہے۔

سجدہ بہرحال اُسی آدم کے آگے ہوسکتا ہے جو کبھی چوری نہیں کرسکتا،جو کبھی جھوٹ نہیں بول سکتا، جو کبھی فریب نہیں کرسکتا، جو کبھی شرک نہیں کر سکتا، جو کبھی بددیانتی نہیں کرسکتا، جو کبھی ظلم نہیں کر سکتا، جو کسی قسم کی خرابی ظاہر نہیں کر سکتا۔

اور چونکہ وہ خود اُن صفات کا حامل ہوگا جو ملائکہ کی صفات سے بڑی ہیںاس لیے اگر ایسے آدم کی اطاعت کی جائے تو درست ہوگا۔

جو شخص خدائی صفات کا مظہر ہوگا ملائکہ کی کیا طاقت ہے کہ اُس کے خلاف چلیں۔ ملائکہ کا فرض ہے کہ اُس کے ساتھ چلیں۔

پس

یادرکھو کہ تم میں سے ہر شخص کے اندر خداتعالیٰ نے یہ طاقت پیدا کی ہے کہ تم اپنے اندر صفاتِ الہٰیہ پیداکرو اور اگر تم اپنے اندر صفاتِ الٰہیہ پیدا کرلو تو پھر تم میں سے ہرایک کے لیے ملائکہ کو حکم ہوگا کہ وہ تمہاری مدد کریں۔

رسول کریمﷺ فرماتے ہیں کہ جب خداتعالیٰ چاہتا ہے کہ اس کے کسی بند ے کی مقبولیت دنیا میں پھیلے تو وہ ملائکہ کو حکم دیتا ہے۔ وہ اُترتے ہیں اور دنیا میں اُس کی مقبولیت کو پھیلادیتے ہیں۔ ( الصحیح البخاری کتاب بدء الخلق باب ذکر الملائکۃ)

پس

ہر انسان کے اندر یہ قابلیت ہے کہ وہ صفاتِ الہٰیہ کو جذب کر سکتا ہے

اور جب وہ اپنے اندر صفاتِ الہٰیہ جذب کرلیتا ہے تو فرشتوں کو خداتعالیٰ کی طرف سے یہ حکم ہوجاتا ہے کہ وہ اُس کے پیچھے پیچھے چلیں۔ چنانچہ جہا ںبھی وہ جاتا ہے فرشتے اُس کے ساتھ ہوتے ہیں۔ اوروہ لوگوں کے دلوں میں اُس کا رُعب ڈالتے ہیں اور اُس کی محبت پیدا کرتے ہیں اور اِس طرح وہ لوگوں میں مقبول ہو جاتا ہے۔ پس

کوشش کرتے رہو کہ تم سے سوائے خدائی صفات کے اور کوئی صفات ظاہر نہ ہوں۔

پھر یاد رکھو ملائکہ تمہارے تابع ہوجائیںگے۔ انہیں حکم ہوگا کہ وہ تمہاری اتباع کریں اور جس طرح تم کہو وہ اُس طرح کریں۔ مجازی سجدہ کے معنے بھی اطاعت اور فرمانبرداری کے ہیں۔ پھر تم کہو گے یوں کہو تو وہ اُسی طرح کہنے لگ جائیں گے۔ تمہارے ساتھ اللہ تعالیٰ کا وہی سلوک ہوگا جو اُس کے خاص بندوں کے ساتھ ہمیشہ سے چلا آیا ہے کہ جس طرح وہ کہتے ہیں اُسی طرح ہو جاتا ہے۔ اوروہ اِس وجہ سے ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے کہہ دیتا ہے کہ میرے اس بندے کے دل میں وہی خواہش پیدا ہوگی جو میری خواہش ہوگی۔ پس جب میرا یہ بندہ کوئی خواہش ظاہر کرے تو اِس کے معنے یہ ہوں گے کہ میں نے وہ خواہش ظاہر کی ہے۔ اس لیے جس طرح تمہارا یہ فرض ہے کہ تم میری خواہش کو پورا کرو اُسی طرح تمہارا یہ فرض بھی ہے کہ تم اس کی خواہش کو بھی پورا کرو۔

پس انسان کا اصل مقام جس کا اس آیت سے پتا لگتا ہے یہ ہے کہ وہ خداتعالیٰ کی صورت کو اختیار کرے۔ یعنی حقیقی پیدائش تو اس کی وہی تھی جو ابوالبشر آدم والی تھی۔ لیکن پھر وہ اپنے اندر ایسی تبدیلی پیدا کرے کہ اس کو دوسری پیدائش نصیب ہوجائے۔ یعنی

وہ خَلَقۡنٰکُمۡ والی حالت سے ترقی کر کے صَوَّرۡنٰکُمۡ والی حالت میں آجائے۔

یہاں تک کہ خداتعالیٰ اپنے فرشتوں کو یہ حکم دے دے کہ اب جو یہ کرے وہی تم کرو اور جو یہ کہے وہی تم کہو۔ کیونکہ یہ ہماری مرضی کے خلاف نہیں کر سکتا اور تم بھی ہماری مرضی کے خلاف نہیں کرسکتے۔ پس جو کچھ یہ کرے گا وہی ہماری مرضی ہوگی۔ اور چونکہ تمہارا یہ فرض ہے کہ تم ہماری مرضی کو چلاؤ اِس لیے تم وہی کرو جو یہ کرتا ہے پس تم اللہ تعالیٰ کی صفات کو ظاہر کرنے والے بنو۔ پھر دیکھو کہ خداتعالیٰ کے فرشتے کس طرح تمہاری مدد کرتے ہیں۔ وہ تمہارے آگے بھی پھریں گے اور تمہارے پیچھے بھی پھریں گے۔ وہ تمہارے دائیں بھی پھریں گے اور تمہارے بائیں بھی پھریں گے۔ جیسے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ رسول کریمﷺ کے آگے اور پیچھے فرشتوں کا ایک لشکر ہوتا تھا۔ (الرعد : ۱۲) اور فرشتوں کے آپؐ کے آگے پیچھے ہونے کے یہی معنے ہیں کہ محمد رسول اللہﷺ خداتعالیٰ کی صفات کو ظاہر کرنے والے ہوگئے تھے۔ اور فرشتے چونکہ خداتعالیٰ کی اطاعت کرنے والے وجود ہیں اس لیے وہ رسول کریمﷺ کے ساتھ ساتھ رہتے تھے تا دیکھیں کہ خداتعالیٰ کا منشاء کیا ہے۔ جب محمد رسول اللہﷺ کوئی کام کرتے تو وہ سمجھتے کہ یہی خدا تعالیٰ کا منشا ہے اور وہ بھی وہی کام کرنے لگ جاتے۔ اورجب محمدرسول اللہﷺ کسی کام سے رُک جاتے تو فرشتے سمجھتے کہ خدا تعالیٰ کا یہ منشاء نہیں کہ یہ کام کیا جائے اس لیے وہ بھی اُس کام سے رُک جاتے۔ یہی وجہ ہے کہ خداتعالیٰ فرماتا ہے وَمَا رَمَیۡتَ اِذۡ رَمَیۡتَ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ رَمٰی ( الانفال :۱۸) جب محمد رسول اللہﷺ نے کنکریوں کی ایک مُٹھی بھر کے پھینکی تو فرشتوں نے آپ کو دیکھ کرکہا۔ اب خداتعالیٰ کنکریاں پھینک رہا ہے ہمیں بھی کنکریاں پھینکنی چاہئیں چنانچہ وہ سب کنکریاں پھینکنے لگ گئے۔ا ب وہ کنکریاں صرف ایک مُٹھی بھر نہیں تھیں جو رسول اللہﷺ نے پھینکی تھیں بلکہ فرشتوں کی مُٹھیاں آپ کے ساتھ چل پڑیں۔ ایک مُٹھی میں آخر زیادہ سے زیادہ ہزار کنکرہوںگے پھر ان کنکروں نے آگے پھیلنا بھی تھا اس لیے ممکن تھا کہ وہ کنکر کسی شخص کو لگتے اور کسی کو نہ لگتے۔ پس وہ پتھر سب مشرکین کو نہیں لگ سکتے تھے۔ مگر جب فرشتے بھی آپ کے ساتھ کنکر پھینکنے لگ گئے تو اس کا یہ نتیجہ ہوا کہ سارے دشمن زخمی ہوگئے اور وہ مرعوب ہو کر میدان سے بھاگ گئے۔

پس

تم اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ کرو اور اُسی سے دعا کرو کہ وہ تمہارے اخلاق کو اس طرح درست کردے کہ فرشتے تمہارے ساتھ چل پڑیں۔

یہ ایک بہت بڑی چیز ہے۔ جس کو یہ چیز نصیب ہو جائے وہ کامیاب ہوگیا۔ قرآن کریم میں فرشتوں کے متعلق آتاہے کہ وہ اپنے رب کے حکم سے اُترتے ہیں۔ اور رب کا حکم اُسی شخص کے لیے نازل ہوتا ہے جو رب کا ہو جاتا ہے۔ اور جب کوئی شخص رب کا ہو جاتا ہے تو پھر خدا تعالیٰ کہہ دیتا ہے کہ اس نے تو اپنے آپ کو میرے ہاتھ میں دے دیاہے اور چونکہ اس نے اپنے آپ کو میرے ہاتھ میں دے دیا ہے اس لیے مجازی طور پر وہ مَیں بن گیا ہوں۔ اس لیے تم بھی مجازی طور پر اس کو سجدہ کرو یعنی اس کی اطاعت کرو۔ جووہ کرتا ہے وہی تم کرو۔ جس سے وہ تمہیں روکتا ہے اُس سے رُک جاؤ۔ ہوتے ہوتے ایسا انسان اپنے دشمنوں پرغالب آجاتا ہے اور اللہ تعالیٰ اُس کی تائید اور نصرت کے سامان پیدا کردیتا ہے اور وہ دنیا میں خداتعالیٰ کے نام کو پھیلا دیتا ہے۔ اُس کی محبت کو لوگوں کے دلوں پر غالب کر دیتا ہے اور وہ باتیں جو بظاہر ناممکن نظر آتی ہیں اُس کے ہاتھوں سے وہ ممکن ہو جاتی ہیں۔ اور وہ لوگ جو خداتعالیٰ کے دین کو مٹانا چاہتے ہیں اُس سے ٹکرا کر خود مٹ جاتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کے فرشتے لوگوں کے دلوں میں تحریک کرتے ہیں کہ جاؤ اور اس کے ساتھ مل جاؤ۔

چنانچہ دیکھ لو ہماری جماعت میں سینکڑوں نہیں ہزاروں ایسے لوگ موجود ہیں جنہوں نے خوابیں دیکھیں اور جماعت میں داخل ہوگئے۔ قرآن کریم میں فرشتوں کے متعلق جو یہ آتا ہے کہ وہ خداتعالیٰ کے حکم کے بغیر نہیں اُترتے (القدر :۵) اس کا بھی یہی مطلب ہے کہ

تم مجازی خدا بن جاؤ کیونکہ جب تم مجازی خدا بن جاؤ گے تو فرشتے تمہاری مدد کے لیے اُتر آئیں گے۔ اور جب کسی کی مدد کے لیے خداتعالیٰ کے فرشتے اُتر آئیں تو اُس کی کامیابی میں شبہ ہی کیا ہوسکتا ہے۔

(الفضل ۲۲؍ دسمبر ۱۹۵۵ء)

مزید پڑھیں: اگر تم چاہتے ہو کہ خداتعالیٰ تمہارے حق میں بھی وہی نشانات دکھائے جو اُس نے انبیاء اور بزرگان کے حق میں دکھائے تھے تو ان کے واقعات کو باربار دہراؤ

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button