خطبہ جمعہ بطرز سوال و جواب
(خطبہ جمعہ فرمودہ ۳۱؍جنوری ۲۰۲۵ء بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد، ٹلفورڈ(سرے) یوکے)
سوال نمبر۱: حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے خطبہ کے عنوان کی بابت کیابیان فرمایا؟
جواب:فرمایا: گذشتہ جمعہ غزوۂ ذِی قَرَدْ کا ذکر ہورہا تھا۔
سوال نمبر۲:حضورانورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے غزوہ ذی قردمیں آنحضرتﷺکےحضرت ابوقتادہؓ کو دعا دینے کی بابت کیابیان فرمایا ؟
جواب: فرمایا: آنحضرتﷺ نے اپنے اس غزوہ میں جانے سے پہلے چند صحابہؓ کو دشمن کی طرف روانہ فرمایا تھا اور آپؐ پھر ان کے پیچھے اپنا لشکر لے کر روانہ ہوئے۔ اس ضمن میں مزید لکھا ہے کہ جب آنحضرتﷺ اور صحابہؓ آئے تو دشمن کے لشکر نے انہیں دیکھا اور وہ بھاگ گئے۔ جب مسلمان دشمن کے پڑاؤ کی جگہ پہنچے تو حضرت ابوقتادہؓ کا گھوڑا وہاں موجود تھا جس کی کونچیں کٹی ہوئی تھیں۔ ایک صحابی نے کہا یا رسول اللہﷺ!ابوقتادہ کے گھوڑے کی تو کونچیں کٹی ہوئی ہیں۔ آنحضورﷺ اس کے پاس کھڑے ہوئے اور دو مرتبہ فرمایا۔ تیرا بھلا ہو، جنگ میں تیرے کتنے دشمن ہیں۔ پھر رسول اللہﷺ اور صحابہ آگے چل دیے یہاں تک کہ اس جگہ پہنچے جہاں حضرت ابوقتادہؓ اور مَسْعَدَہ نے کشتی کی تھی، گذشتہ جمعہ اس کے بارے میں بیان ہوا تھا۔ تو انہوں نے سمجھا کہ حضرت ابوقتادہؓ چادر میں لپٹے پڑے ہیں۔ ایک صحابی نے عرض کی یا رسول اللہﷺ! لگتاہے کہ ابوقتادہؓ شہید ہو گئے۔ آپﷺ نے فرمایا: اللہ ابوقتادہ پر رحم کرے۔ اس ذات کی قسم! جس نے مجھے عزت بخشی ہے ابو قتادہ تو دشمن کے پیچھے ہے اور رجز پڑھ رہا ہے۔ حضرت ابوقتادہؓ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے یعنی آنحضرتﷺ کے قافلے نے، لشکر نے جب میرے گھوڑے کو دیکھا کہ اس کی کونچیں کٹی ہوئی ہیں اور مقتول کو میری چادر میں لپٹے ہوئے دیکھا تو انہوں نے سمجھا کہ شاید میں شہید ہو گیا ہوں۔ حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ جلدی سے آگے بڑھے اور چادر ہٹائی تو مَسْعَدَہ کا چہرہ دیکھا۔ ان دونوں نے کہا اللہ اکبر! اللہ اور اس کے رسولؐ نے سچ کہا۔ یارسول اللہ! یہ مَسْعَدَہ ہے۔ اس پر صحابہؓ نے بھی تکبیر کہی اور پھر تھوڑی دیر بعد ہی حضرت ابوقتادہ اونٹنیاں ہانکتے ہوئے آنحضرتﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوگئے۔ آپﷺ نے فرمایا: اے ابوقتادہؓ! تمہارا چہرہ کامیاب ہو گیا۔ ابوقتادہؓ گھڑ سواروں کے سردار ہیں۔ اے ابوقتادہؓ! اللہ تم میں برکت رکھ دے۔ دوسری روایت میں ہے کہ آپﷺ نے فرمایا تمہاری اولاد اور اولاد کی اولاد میں برکت رکھ دے۔
سوال نمبر۳:حضورانورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے غزوہ ذی قردمیں آنحضرتﷺکی حضرت سلمہ بن اکوعؓ سے شفقت کی بابت کیابیان فرمایا ؟
جواب: فرمایا: اس جنگ کے واقعات میں حضرت سَلَمَہؓ ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ صبح کے وقت آپﷺ نے فرمایا آج کے بہترین گھڑ سوار ابو قتادہؓ اور بہترین پیادہ سَلَمَہ بِنْ اَكْوَع ہیں۔حضرت سَلَمَہؓ کہتے ہیں کہ آپ نے مجھے سوار اور پیادہ دونوں کا حصہ عطا فرمایا۔ پھر مجھے اپنی اونٹنی پر اپنے پیچھے سوار کیا۔ اس سفر میں حضرت سَلَمَہؓ کی ایک اور روایت ملتی ہے۔ حضرت سَلَمَہؓ کہتے ہیں کہ مدینہ واپسی کے وقت جب ہم مدینہ کے قریب پہنچے تو ایک انصاری صحابی جو دوڑنے میں بہت تیز تھے اعلان کر کے کہنے لگے کہ کوئی ہے جو میرے ساتھ دوڑ میں مقابلہ کرے۔ یعنی مدینہ طیبہ تک میرے ساتھ دوڑ لگائے۔ انہوں نے چند مرتبہ یہی الفاظ دہرائے۔ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہﷺ کے پیچھے ہی اونٹنی پر سوار تھا۔ مَیں آنحضرتﷺ کی اونٹنی پر سوار تھا۔ میں نے ان انصاری صحابی سے کہا کہ کیا تم کسی معزز کی عزت نہیں کرتے۔ تمہیں کسی شریف آدمی کا ڈر نہیں ہے جو یہ اعلان کرتے پھر رہے ہو۔ اس نے کہا نہیں سوائے رسول اللہﷺ کے اَور مجھے کسی سے کوئی نہیں ڈر۔ تو میں نے رسول اللہﷺ کو عرض کیا کہ یارسول اللہ!میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں مجھے اس آدمی سے دوڑ لگانے کی اجازت دیں۔ آپؐ نے فرمایا ٹھیک ہے اگر تم چاہتے ہو تو لگاؤ۔ میں نے اس شخص سے کہا کہ چلو۔ پھر کہتے ہیں کہ میں نے اپنے پاؤں موڑے اور چھلانگ ماری اور دوڑ پڑا اور مَیں ایک یا دو گھاٹیاں اس کے پیچھے دوڑا یعنی وہ آگے اور میں پیچھے تھا اور اپنی طاقت بچاتا رہا۔ پھر میں تیز ہوا اور اسے جا لیا۔ مَیں نے اسے کندھے کے درمیان ہاتھ مارا اور کہا اللہ کی قسم!میں تم پر سبقت لے گیا۔ وہ مسکرانے لگا اور کہا میرا بھی یہی خیال ہے اور یوں مَیں اس دوڑ میں آگے نکل گیا یہاں تک کہ ہم مدینہ پہنچ گئے۔
سوال نمبر۴: حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے غزوہ ذی قردمیں شہیدہونےوالےاصحابؓ اورحضرت ابوذرؓ کی بیوی کےنذرماننےکی بابت کیابیان فرمایا؟
جواب: فرمایا: مسلمانوں میں سے حضرت مُحْرِزْ بن نَضْلَہؓ شہیدہوئے۔ ابنِ ہشام کے مطابق ابنِ وَقَّاص بن مُجَزِّزْ بھی شہید ہوئے تھے۔ ان کے علاوہ حضرت ابوذرؓ کے بیٹے جنگ سے پہلے ہی اونٹوں کے باڑہ میں شہید کر دیے گئے تھے۔ کفار کے بارے میں لکھا ہے کہ کفار میں سے عبدالرحمٰن بن عُیینَہ،حُبَیب بن عُیینَہ، مَسْعَدَہ بن حَکَمَہ فَزَارِی، اَوْبَار اور اس کا بیٹا عَمرو قتل ہوئے۔ حضرت ابوذرؓ کی بیوی کو دشمن قید کرکے لے گئے تھے۔ اس کا ذکر پہلے ہوا تھا۔ حملہ آور حضرت ابوذر کی بیوی کو پکڑ کر ساتھ لے گئے تھے اور انہوں نے اس کو باندھ کر رکھا ہوا تھا اور وہ لوگ اپنے مویشی اپنے گھروں کے سامنے رات کو رکھتے تھے۔ ایک رات وہ عورت بندھنوں سے چھٹ گئی اور قریب ہی بندھے ہوئے اونٹوں کے پاس آئی۔ جب بھی وہ کسی اونٹ کے قریب آتی تو وہ بلبلاتا۔ اسے چھوڑ دیتی وہ شور مچاتا یہاں تک کہ عَضْبَاء یہ آنحضرتﷺ کی وہ اونٹنی تھی جسے دشمن لُوٹ کر ساتھ لے آئے تھے اس کے پاس پہنچی تو وہ نہیں بلبلائی۔ بولی کوئی نہیں۔ بڑے آرام سے رہی۔ وہ سدھائی ہوئی اونٹنی تھی۔ وہ عورت اس کی پشت پر سوار ہو گئی اور اسے ایڑھ لگا دی اور وہ چل پڑی۔ ان لوگوں کو اس کے بھاگنے کا علم ہو گیا تو انہوں نے اسے پکڑنا چاہا لیکن وہ پکڑی نہ گئی۔ راوی کہتے ہیں کہ اس عورت نے اللہ کی خاطر نذر مانی کہ اگر اللہ اسے اس اونٹنی کے ذریعہ نجات دے گا تو وہ ضرور اس کو ذبح کر دے گی۔ جب وہ مدینہ آئی اور لوگوں نے دیکھا تو کہنے لگے یہ تو رسول اللہﷺ کی اونٹنی عَضْبَاء ہے۔ وہ عورت کہنے لگی میں نے تو نذر مانی ہے کہ اگر اللہ اس اونٹنی کے ذریعہ نجات دے گا تو وہ اس کی قربانی کرے گی۔ اس بحث مباحثہ پر لوگ رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے یہ ساری بات بیان کی۔ آپﷺ نے فرمایا سبحان اللہ! اس عورت نے اس اونٹنی کو کتنا بُرا بدلہ دیا ہے۔ یہ اس کو بچا کے لائی ہے اور یہ اس کو یہ نذر مان کر یہ بدلہ دے رہی ہے کہ اگر اللہ نے اس اونٹنی کے ذریعہ اسے بچایا تو وہ اسے ذبح کر ڈالے گی۔ یہ تو اچھا بدلہ نہیں ہے۔ پھر فرمایا کوئی نذر خدا کی نافرمانی میں پوری نہ کی جائے اور نہ ہی اُس میں نذر جائز ہے جس کا بندہ مالک نہیں۔ فرمایا: تم اس کی مالک ہی نہیں ہو۔ یہ میری اونٹنی ہے۔ تم اللہ کا نام لے کر خیرو برکت کے ساتھ اپنے گھر جاؤ۔
سوال نمبر۵:حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے غزوہ خیبرکےپس منظرکی بابت کیابیان فرمایا؟
جواب: فرمایا: خیبر ایک وسیع سبزہ زار ہے جو چشموں اور بکثرت پانیوں سے شاداب ہے اور جزیرۂ عرب میں کھجوروں کے سب سے بڑے نخلستان میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس کی زرخیزی کا اندازہ اسی سے کیا جا سکتا ہے کہ خیبر کی صرف ایک وادی جو کَتِیبَہ کے نام سے موسوم ہے اس میں چالیس ہزار کھجوروں کے درخت تھے۔ خیبر کی وادی مدینہ سے شمال کی جانب اندازا ًچھیانوے میل کی دوری پر تھی۔ یہاں یہود بہت قدیم سے آباد تھے۔…مدینہ کے یہود ہوں یا خیبر کے یہود آنحضرتﷺ اور اسلام کے متعلق ان کی سازشیں اور ریشہ دوانیاں باغیانہ حد تک بڑھی ہوئی تھیں۔ بغض و عداوت میں بڑھتی ہی چلی جانے والی اس قوم نے اسلام اور نبی اکرمﷺ کی ذات مبارک کو بھی ختم کرنے میں اپنی تمام تر قوتوں کو بروئے کار لانے میں کوئی کمی نہیں کی جبکہ اس کے برعکس آنحضرتﷺ نے مدینہ کے یہود کے ساتھ ہمیشہ نرمی کا برتاؤ کیا۔ ان کے ساتھ صلح کے معاہدے کیے اور جب کبھی بھی وہ معاہدے کو توڑ دیتے یا خلاف ورزی کرتے تو آپﷺ کی پہلی کوشش درگزر اور عفو کی ہوتی تھی یہاں تک کہ ان لوگوں نے نبی اکرمﷺ کو قتل کرنے کی متعدد مرتبہ کوشش کی۔ معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بیرونی طاقتوں کو مدینہ پر حملہ کرنے میں تعاون کیا جس کے بدلے میں سزا کے طور پر ان تمام یہود کو سخت سے سخت سزا بھی دی جاتی تو وہ عدل و انصاف کے عین مطابق ہوتی لیکن آنحضرتﷺ کا حد درجہ کا عفو اور رحمت کا یہ عالم تھا کہ پھر بھی ان کی جان و مال کو یوں امان دی اور مدینہ سے یوں جلا وطن کر دیا کہ جو کچھ ساتھ لے کر جا سکتے ہو لے جاؤ۔ نبی اکرمﷺ کا مقصد نعوذباللہ جبر و اکراہ ہوتا تو مدینہ کے یہود کی بار بار عہد شکنی پر ان کو کبھی معاف نہ فرماتے۔ نبی اکرمﷺ کا مقصد اگر خون بہانا ہوتا تو بنو قَینُقَاع اور بَنُو نَضِیر کو کبھی جان کی امان دے کر بحفاظت مدینہ سے نہ جانے دیتے۔ نبی اکرمﷺ کا مقصد اگر مال و دولت کا حصول ہوتا تو بنو نضیر جو کہ جزیرۂ عرب میں سب سے بڑا سرمایہ دار گروہ خیال کیا جاتا تھا کبھی سونے چاندی کو مشکوں اور بڑے بڑے تھیلوں میں بھر کر اہالیانِ مدینہ کے سامنے ان کو دکھا دکھا کر نہ لے جاسکتا اور جو حسن و احسان اور عفو و درگزر کا سلوک آنحضرتﷺ نے ان یہودِ مدینہ کے ساتھ کیا تھاہونا تو یہ چاہیےتھا کہ خیبر میں آباد ہو جانے کے بعد یہ لوگ اسلام اور بانی اسلام کے حق میں صلح جوئی اور امن و سلامتی کے ماحول میں رہتے۔ لیکن مدینہ سے جلاوطنی کے بعد مدینہ کے یہود کی ایک تعداد خیبر میں جا کر آباد ہو گئی تھی اور خیبر جو کہ پہلے ہی ایک بہت بڑی حربی طاقت تھی اب مسلمانوں کے خلاف خطرناک منصوبہ سازیوں کا مرکز بن گئی۔ یہ خیبر کے یہود ہی تھے کہ ایک بڑا وفد لے کر جس میں خیبر کے بڑے بڑے یہودی سردار تھے مشرکینِ مکہ کو ملنے مکہ پہنچے اور آنحضرتﷺ کی ذات مبارک اور اسلام کو ختم کرنے کا ایک منصوبہ تیار کیا اور ان کو رضا مند کرنے کے بعد ارد گرد کے متفرق قبائل میں ان کا وفد گیا اور ایک ایک قبیلے کو تیار کر کے اور اس وقت کی تاریخ کا پندرہ ہزار کا ایک بہت بڑا لشکر تیار کرکے مدینہ پر چڑھائی کر دی جو تاریخ اسلام میں غزوۂ احزاب یا جنگ خندق کے نام سے مشہور ہے، اس کا پہلے ذکر ہوچکا ہے، اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر اسلام کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی خاص تائید اور نصرت نہ ہوتی تو مسلمانوں کے ساتھ شاید مدینہ کا بھی نام و نشان مٹ چکا ہوتا اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس خطرناک منصوبے کے سرغنہ خیبر کے یہود ہی تھے جو اب ہر وقت مسلمانوں کو ختم کرنے میں مصروف تھے۔ مدینہ میں موجود بنوقُرَیظَہ کو ان کی عہد شکنی کی پہلی مرتبہ سخت سزا بھی یہود خیبر کو اپنے رویوں میں تبدیلی پیدا کرنے کا باعث نہ بن سکی اس لیے اب بہت ضروری تھا کہ اس عہد شکنی اور سازشی کردار ادا کرنے والی قوم کے خلاف براہ راست کوئی قدم اٹھایا جائے تاکہ خطے کا امن بحال ہو سکے اور ہر کوئی اپنی اپنی جگہ امن و سکون سے بے خوف و خطر اپنے اپنے مذہب و مسلک پر اس طرح عمل پیرا ہو سکے کہ یَکُوْنَ الدِّینُ لِلّٰہِ کہ دین صرف اللہ کے لیےہو جائے۔ دین میں کسی قسم کا کوئی جبر نہ ہو کیونکہ یہ اللہ اور اس کے بندے کا معاملہ ہے… تو یہ وہ خاص پس منظر تھا کہ نبی اکرمﷺ نے خدائی اشاروں کے تابع یہ فیصلہ کیا کہ خیبر کی طرف پیش قدمی کی جائے۔ علامہ ابن سعد نے لکھا ہے کہ غزوہ خیبر جُمَادَی الاولیٰ سات ہجری میں ہوا۔ جبکہ ابنِ عُقْبہ اور علامہ ابن اسحاق کے نزدیک رسول اللہﷺ ذُوالحِجَّہ میں حدیبیہ سے مدینہ واپس تشریف لائے تو آپ مدینہ میں تقریباً بیس راتیں رہے۔پھر خیبر کی طرف تشریف لے گئے اور یہ محرم کا مہینہ تھا۔
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی مصروفیات




