حالاتِ حاضرہ

خبرنامہ(اہم عالمی خبروں کا خلاصہ)

٭…امریکی پابندیوں کے باعث ایرانی ریال کی قدر میں ریکارڈ کمی ہوئی ہے اور ایک امریکی ڈالر کی قیمت ۲۰؍لاکھ ایرانی ریال سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔ اس شدید گراوٹ کے نتیجے میں ایرانی عوام کی قوتِ خرید مزید متاثر ہوئی ہے۔ جنگ سے قبل ۲۰؍لاکھ ریال میں تقریباً چار کلو ٹماٹر، آدھا کلو مرغی اور ایک لیٹر سے کچھ کم کھانے کا تیل خریدا جا سکتا تھا، لیکن اب اتنی رقم میں اس کا نصف بھی خریدنا مشکل ہے۔ ٹماٹر کی قیمت میں ۷۱؍ فیصد، مرغی میں ۷۴؍فیصد جبکہ کھانے کے تیل کی قیمت میں ۱۷۷؍فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔

٭…اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کی نومولود بچوں کی نرسری میں خوفناک آتشزدگی کے نتیجے میں چودہ بچے جاں بحق ہوگئے، جس سے سرکاری ہسپتالوں کے حفاظتی اور فائر سیفٹی انتظامات پر سنگین سوالات اٹھ گئے ہیں۔ واقعے کے وقت نرسری میں پندرہ نومولود موجود تھے، جن میں سے صرف ایک کو بچایا جا سکا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق آکسیجن کے نظام کے باعث آگ تیزی سے پھیلی۔ حکومت نے واقعے کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے جبکہ وفاقی سیکرٹری صحت اسلم غوری کو معطل کردیا گیا ہے۔ آگ کی وجوہات، انتظامیہ کے ردعمل اور امدادی کارروائیوں کی تفصیلات تاحال زیرِ تحقیق ہیں۔

٭…نیپال کے ضلع راسووا میں اچانک آنے والے شدید سیلابی ریلے نے کئی دیہات، سڑکوں اور بجلی کے منصوبوں کو نقصان پہنچایا۔ مختلف رپورٹس کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد ۱۶۲؍تک پہنچ گئی جبکہ سینکڑوں افراد، جن میں چار سو سے زائد غیرملکی سیاح بھی شامل ہیں، لاپتہ ہیں۔ لاپتہ غیرملکیوں میں بھارتی، امریکی، آسٹریلوی، برطانوی، کینیڈین، ملائیشین اور یوکرینی شہری شامل ہیں۔ جنوبی کوریا سمیت دیگر ممالک کے شہری بھی متاثر ہوئے ہیں۔ سرحد پار چین کے تبت علاقے گیرونگ میں بھی مٹی کے تودے گرنے سے سینکڑوں افراد لاپتہ ہوئے۔ متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں جبکہ گھروں، سڑکوں اور بجلی کے منصوبوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

٭…امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کو مذاکرات کی میز پر واپس آنے کے لیے امریکہ نے کوئی ڈیڈ لائن مقرر نہیں کی اور واشنگٹن کو کوئی جلدی نہیں۔ ان کے مطابق ایران پر اقتصادی پابندیاں اور فوجی دباؤ مؤثر ثابت ہو رہے ہیں، جبکہ ایرانی معیشت مشکلات اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کا شکار ہے۔ امریکہ نے ایران اور اس کے ساتھ کاروبار کرنے والے درجنوں اداروں پر مزید پابندیاں عائد کی ہیں، جنہیں ایران نے بین الاقوامی قانون کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ جنگ اور پابندیوں کے نتیجے میں ایرانی ریال کی قدر ریکارڈ حد تک گر گئی ہے اور خوراک و دیگر ضروری اشیاء کی قیمتیں نمایاں طور پر بڑھ گئی ہیں۔

٭…ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے نئی امریکی پابندیوں کو ریاستی اور معاشی دہشتگردی قرار دیتے ہوئے ان کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل، سلامتی کونسل اور رکن ممالک کو خط لکھ کر امریکی اقدامات کی مذمت اور انہیں مسترد کرنے کا مطالبہ کیا۔ عراقچی کے مطابق امریکہ ایران کے دیگر ممالک کے ساتھ جائز اقتصادی تعلقات محدود کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پابندیوں سے خوراک، ادویات، طبی آلات، توانائی اور دیگر بنیادی ضروریات تک شہریوں کی رسائی متاثر ہوتی ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے امریکی پابندیوں کو تسلیم نہ کرنے اور تیسرے ممالک پر امریکی دباؤ روکنے کا مطالبہ کیا۔

٭…چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے چین اور امریکہ پر زور دیا ہے کہ دونوں ممالک اپنے اختلافات مناسب طریقے سے حل کریں اور اعلیٰ سطح کے رابطوں میں موجود رکاوٹیں دور کریں۔ بیجنگ میں امریکی سفیر ڈیوڈ پرڈیو سے ملاقات کے دوران وانگ یی نے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات کو مختلف خطرات اور چیلنجز کا سامنا ہے، اس لیے مثبت امور پر توجہ دیتے ہوئے دوطرفہ تعلقات کو مستحکم، صحت مند اور پائیدار بنانا ضروری ہے۔ یہ ملاقات متوقع طور پر اگلے ماہ ہونے والی چینی صدر شی جن پنگ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ملاقات کی تیاریوں کے تناظر میں ہوئی۔

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button