جلسہ سالانہیورپ (رپورٹس)

تازہ ترین: جماعت جرمنی کے پچاسویں جلسہ سالانہ کا پہلا روز

(عرفان احمد خان۔ نمائندہ الفضل انٹرنیشنل جرمنی)

حضور انورایدہ اللہ کے خطبہ جمعہ سے جلسہ کا آغاز

(جلسہ گاہ مینڈِک، جرمنی ۴؍ستمبر ۲۰۲۶ء، نمائندہ الفضل انٹرنیشل) آج جماعت احمدیہ جرمنی کے پچاسویں جلسہ سالانہ کا پہلا روز تھا۔ رات بھر مہمانوں کی آمد کا سلسلہ وقفہ وقفہ سے جاری رہا جن کی مہمان نوازی کے لیے شعبہ ضیافت نے ایک خیمہ میں لنگر کا انتظام کر رکھا تھا۔ دن کا آغاز صبح چار بج کر پینتالیس منٹ پر نماز تہجد سے ہوا، جو مکرم محمد عمران بشارت صاحب مربی سلسلہ شعبہ تربیت نے پڑھائی۔ ساڑھے پانچ بجے عزیزم فاتح عزیز متعلم جامعہ احمدیہ نے فجر کی اذان دی اور پانچ بج کر پینتالیس منٹ پر مکرم مبارک احمد تنویر صاحب مبلغ انچارج جرمنی کی اقتدا میں نماز فجرادا کی گئی۔ نماز کے بعد مکرم سجیل احمد صاحب مربی سلسلہ نے ’دکھ اور تکالیف کے دوران صبر و صلاۃ کی اہمیت‘ کے موضوع پر درس دیا۔

 ناشتہ اور دوپہر کے کھانے کے دوران گھروں سے اپنی کاروں پر جلسہ گاہ پہنچنے والوں کا رش لگا رہا۔ جوں جوں جمعہ کا وقت قریب آرہا تھا، چاروں پارکنگ ایریاز میں کاروں کی تعداد بڑھ رہی تھی۔ بارہ بجے دوپہر شعبہ ضیافت کی طرف سے دوپہر کا کھانا شروع کر دیا گیا۔ جو نمازِ جمعہ کی اذان تک اور پھر دوبارہ حضورِانورایدہ اللہ کے خطبہ جمعہ کے بعد مہمانوں کو پیش کیا گیا۔ ایک بجے جمعہ کی پہلی اذان مکرم جری اللہ راجپوت متعلّم جامعہ احمدیہ نے دی۔ عزیزم نے دوسری اذان ایک بج کر پچیس منٹ پردی۔ جس کے بعد مکرم مبلغ انچارج صاحب نے خطبہ جمعہ دیا جس میں آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات کی روشنی میں آنحضرت ﷺ کے اخلاق فاضلہ کا ذکرکرکے جلسہ پر آنے والے مہمانوں کی چند ذمہ داریوں کا ذکرکیا۔

نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد شرکائے جلسہ نے حضرت امیرالمومنین ایدہ اللہ کا خطبہ جمعہ ایم ٹی اے پرلائیو سنا۔ خطبہ سے قبل مکرم نیشنل امیر صاحب جرمنی نے اعلان کیا کہ حضورایدہ اللہ کے خطبہ جمعہ کے ساتھ ہی جماعت جرمنی کے پچاسویں جلسہ سالانہ کی کارروائی شروع ہو جائے گی۔

 اجلاسِ اوّل کے لیے پانچ بجے شام کا وقت مقرر تھا۔ جس سے قبل پرچم کشائی کی تقریب منعقد ہوئی۔ مکرم نیشنل امیرصاحب نے جرمنی کا قومی پرچم اور مکرم مبلغ انچارج صاحب نے لوائے احمدیت لہرایا۔ اس موقع پر بڑی دیر تک اسلامی نعرے بلند کیے جاتے رہے۔ پرچم کشائی کے مناظر حاضرینِ جلسہ نے بڑی سکرینوں پر لائیو دیکھے اور نعروں میں شریک ہوئے۔ اس موقع پر اجتماعی دعا بھی کی گئی۔

اجلاس اول: ٹھیک پانچ بجے افسر جلسہ گاہ مکرم حافظ فرید احمد خالد صاحب نے ڈائس پر آکر مکرم نصیر احمد قمر صاحب ایڈیشنل وکیل الاشاعت لندن کو اجلاس کی صدارت کرنے کی دعوت دی۔ آپ کے کرسیِ صدارت پر تشریف لانے کے بعد اجلاس کا آغاز تلاوتِ قرآنِ کریم سے ہوا، جو مکرم فیصل محمود صاحب نے کی۔ جرمن ترجمہ مکرم مسرور احمد صاحب اور اردو ترجمہ مکرم سید ابرار شاہ صاحب مربی سلسلہ نے پیش کیا۔ اس کے بعد جرمن مہمان مقررین کو مختصر تقریر کا موقع فراہم کیا گیا۔ جس میں انہوں نے جماعت کے ساتھ اپنے تعلق کا اظہار کیا۔ صوبہ کے وزیرِ اعلیٰ کا پیغام اہلِ جلسہ کے نام پہنچایا۔ اس کے بعد مکرم رانا شیراز احمد صاحب مربی سلسلہ نے در ثمین میں سے مسیحِ پاک کا شیریں کلام خوش الہانی سے پڑھا۔

 آج کی پہلی تقریر اردو میں مکرم مبلغ انچارج صاحب نے ’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قناعت اورشکرگزاری‘‘ کے موضوع پر کی۔ آپ کی تقریرکے بعد تین نوجوانوں مرزا رضوان احمد، نعمان احمد داؤد اور مصباح الرحمٰن ثاقب نے کورس کی صورت میں نظم پڑھی۔ دوسرے مقرر مکرم فرہاد احمد ملک صاحب مربی سلسلہ تھے۔ آپ نے جرمن زبان میں ’’قرآنِ کریم روزمرہ زندگی کے لیے ہدایت و رہنمائی‘‘ کے موضوع پر تقریرکی۔ شام سات بج کر دس منٹ پر پہلے اجلاس کی کارروائی ختم ہوئی۔ اس کے بعد کھانے کا وقفہ تھا۔

شام کو مہمانوں کی تعداد اندازے سے زیادہ ہو گئی اور تازہ آلو گوشت کے ساتھ ساتھ دوپہر کی پکی ہوئی دال بھی انہیں پیش کی گئی جسے مسیح کے مہمانوں نے خوش دلی کے ساتھ تناول کیا۔

 پونے نو بجے عشاء کی اذان مکرم باسط احمد چودھری صاحب مربی سلسلہ نے دی اور نمازِ مغرب و عشاء مکرم مبلغ انچارج صاحب نے پڑھائی۔ اس طرح جلسہ سالانہ جرمنی کا پہلا روز اختتام پذیر ہوا۔

 ناظم رپورٹنگ نورالدین صاحب مربی سلسلہ کے کہنے کے مطابق جمعہ میں ۲۲ ہزار افراد شامل ہوئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button