تمہارا ربّ اس پرندے سے بھی زیادہ تم پر رحم کرتا ہے
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز غزوۂ ذات الرّقاع کے واقعات میں فرماتے ہیں کہ’’وہیں ایک پرندے کا واقعہ بھی ہوا۔ حضرت جابر سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ صحابہ میں سے ایک شخص پرندے کا بچہ لے کر آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف دیکھ رہے تھے۔ اس پرندے کی ماں یا باپ یا ماں باپ دونوں تھے یا ان میں سے ایک نے اپنے آپ کو اس صحابی کے سامنے گرا دیا جس نے اس کے بچے کو پکڑا تھا۔ پرندے کے بچے کو پکڑا ہوا تھا تو پرندہ آیا، ماں یا باپ میں سے بڑا پرندہ جو تھا اور ان کے سامنے گر گیا۔ وہ گر گیا تو وہ کہتے ہیں کہ میں نے لوگوں کو دیکھا وہ اس سے تعجب کر رہے تھے۔ بڑے حیران تھے کہ یہ کیا ہوا ہے کہ پرندہ آکے خود بیٹھ گیا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ تم اس پرندے پر تعجب کرتے ہو کہ کیوں یہ اپنی جان اپنے بچے کی خاطر پیش کررہا ہے۔ تم نے اس کے بچے کو پکڑ لیا ہے اور اس نے اپنا آپ اپنے بچے کو چھڑانے کے لیے پیش کر دیا ہے۔ آپؐ نے فرمایا کہ اللہ کی قَسم! تمہارا ربّ اس پرندے سے بھی زیادہ تم پر رحم کرتا ہے۔ (امتاع الاسماع جلد5صفحہ275دار الکتب العلمیۃ بیروت)
جس طرح یہ اپنے بچے پر رحم کے لیے آیا ہے اللہ تعالیٰ تم پر اس سے زیادہ رحم کرتا ہے۔ ‘‘
(خطبہ جمعہ 11؍ اپریل 2025ء)