اَحْسِنُوْا اَدَبَھُمْ
اپنے بچوں کونماز اور دعاؤں کی اہمیت بتائیں
ہمارے پیارے آقا سیدنا حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ ا للہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:اس لئے تربیت کے لئے سب سے پہلے اپنی دعاؤں کو انتہا تک پہنچائیں اور پھر اپنے بچوں کو دعاؤں کی اہمیت بتائیں اور یہ بتا کر اللہ تعالیٰ سے جوڑنے والا بنائیں۔ یہی ہماری نسلوں کی شیطان کے حملوں سے بچنے کی ضمانت ہے۔ نماز پڑھنے کی تلقین کرنا اور نماز پڑھنے کا صحیح طریق سکھانا یہ ماں باپ کا اولین فرض ہے۔ کس طرح کھڑے ہونا ہے کس طرح نماز میں بیٹھنا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ بچوں کی انتہائی بچپن میں تربیت کیا کرتے تھے۔ اس بارے میں آجکل ماں باپ سمجھتے ہیں کہ جو ذیلی تنظیمیں ہیں خدام، اطفال، لجنہ یا ناصرات کی یہ ان کا کام ہے کہ ہمارے بچوں کی تربیت کریں اور انہیں نماز سکھائیں۔ انہیں نماز کے طریق سکھائیں یا انہیں اور دینی معلومات سکھائیں۔ بیشک یہ ذیلی تنظیمیں تربیت کرنے اور اکائی پیدا کرنے کے لئے بنائی گئی ہیں لیکن اس سے ماں باپ کی ذمہ داریاں کم نہیں ہو گئیں۔ بعض مائیں بچوں کو انتہائی بچپن میں دعائیں سکھا دیتی ہیں اور اپنی توتلی زبان میں وہ دعائیں پڑھتے ہوئے بڑے پیارے لگتے ہیں۔ لیکن اکثر جو ہیں اس توجہ سے تربیت نہیں کرتیں اور اس تربیت کو جو ان دعاؤں کو جو انہوں نے سکھائی ہیں وہ اس وقت تک قائم رکھ سکتی ہیں جب تک ساتھ اللہ تعالیٰ سے بھی ان کے لئے دعائیں مانگیں۔ اس تربیت کو جو بچوں کی مائیں کر رہی ہیں نمازوں اور دعاؤں کی اہمیت جو ان کو بتا رہی ہیں اس کو جوانی تک مسلسل جاری رکھنے اور سمجھانے کی ضرورت ہے تا کہ بڑے ہو کر بھی بچے اس اہمیت کو سمجھ سکیں اور جو ماں باپ یہ کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کے بچے دین سے جڑے رہتے ہیں دنیاوی چیزیں اور دنیاوی خواہشات ان کے لئے ثانوی حیثیت رکھتی ہیں۔ (جلسہ سالانہ برطانیہ ۲۰۱۸ء کے موقع پر حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کا مستورات سے خطاب)
(مرسلہ:قدسیہ محمود سردار۔ کینیڈا)




