حضرت مصلح موعودؓ کا آنحضورﷺ سے عشق
حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں:’’نادان انسان ہم پر الزام لگاتا ہے کہ مسیح موعودؑ کو نبی مان کر گویا ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی ہتک کرتے ہیں۔ اسے کسی کے دل کا حال کیا معلوم، اسے اس محبت اور پیار اور عشق کا علم کس طرح ہو جو میرے دل کے ہر گوشہ میں محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے لئے ہے۔ وہ کیا جانے کہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی محبت میرے اندر کس طرح سرایت کر گئی ہے۔ وہ میری جان ہے، میرا دل ہے، میری مراد ہے، میرا مطلوب ہے۔ اس کی غلامی میرے لئے عزت کا باعث ہے اور اس کی کفش برداری مجھے تخت شاہی سے بڑھ کر معلوم دیتی ہے۔ اس کے گھر کی جاروب کشی کے مقابلہ میں بادشاہت ہفت اقلیم ہیچ ہے۔ وہ خدا تعالیٰ کا پیارا ہے۔ پھر میں کیوں اس سے پیار نہ کروں۔ وہ اللہ تعالیٰ کا محبوب ہے۔ پھر میں اس سے کیوں محبت نہ کروں۔ وہ خدا تعالیٰ کا مقرب ہے۔ پھر میں کیوں اس کا قرب نہ تلاش کروں۔ میرا حال مسیح موعود کے اس شعر کے مطابق ہے کہ ؎
بعد از خدا بعشق محمدؐ مخمّرم گر کفر ایں بود بخدا سخت کافرم‘‘
(حقیقۃ النبوۃ، انوار العلوم جلد ۲ صفحہ ۵۰۳)




