متفرق

صنعت وتجارت

ارشاد حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: ’’پس مومن ہونے کے لیے صرف منہ سے یہ کہہ دینا کافی نہیں کہ ہم ایمان لائے یا ہم مسلمان ہیں یا یہ کہہ دینا کافی نہیں کہ ہم ایک خدا کو مانتے ہیں، جو رزّاق ہے۔ ایمان کے اعلان اور صفت رزّاق پر یقین کے لیے عملی نمونے دکھانے کی ضرورت ہے۔ اگر اللہ تعالی رزّاق ہے تو جو کامل ایمان والا ہے، وہ کبھی رزق کی کمی سے نہیں ڈرتا۔ اس کو پتہ ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے رزق مہیا کرنے کے سامان پیدا فرما دے گا اور پھر وہ اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے رزق کو اس کے حکم کے مطابق خرچ کرتا ہے۔ بہتر رزق پانے والا جس کے حالات بہتر ہیں، مالی حالات بہتر ہیں، معاشی حالات بہتر ہیں دوسرے کو بھی اپنے مال میں حصہ دار بناتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ زیادہ آمدنی والا ضرورت مند کی ضرورت پوری کرتا ہے۔ جس میں اپنے قریبی بھی ہیں، رشتہ دار بھی ہیں، ہمسائے بھی ہیں بلکہ مسلمان مسلمان کا جو بھائی ہے تو تمام اُمّت کو اس کا حق ادا کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘(خطبہ جمعہ فرمودہ ۳۱؍اکتوبر ۲۰۰۸ء، مطبوعہ خطبات مسرور جلد ۶صفحہ ۴۴۸)

(مرسلہ: وکالت صنعت و تجارت)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button