تاریخ احمدیت

جماعت احمدیہ کے صد سالہ جوبلی جشنِ تشکر کے موقع پر ڈاک ٹکٹ جاری کرنے والا پہلا ملک حکومتِ سیرالیون کی جانب سے یادگاری ڈاک ٹکٹ کا اجراء ، سڑک موسوم اور اعلیٰ ترین سول ایوارڈ

(ذیشان محمود۔ مربی سلسلہ سیرالیون)

آج کئی ممالک نے جماعت احمدیہ کی مساعی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ڈاک ٹکٹس جاری کیے ہیں اور سڑکوں کے نام جماعت یا جماعتی شخصیات سے موسوم کیے ہیں۔ لیکن اس ضمن میں الاَوَّل فالاَوَّل کا سہرا حکومتِ سیرالیون کو جاتا ہے

۱۹۸۹ء کا سال جماعت احمدیہ کی تاریخ کا اہم سنگ میل ہے جب ایک عالَم کی مخالفت کے باوجود الٰہی جماعت کا تن آور درخت اپنی سوِیں بہاریں دیکھ رہا تھا۔ دل شاداں اور روحیں فرحاں تھیں۔ ہر احمدی ایک لَے میں جھوم رہا تھا۔ خدا تعالیٰ کے حضور مالی، جانی قربانی کے عوض اس الٰہی جماعت کے متبعین اپنے امام کی ہدایات کے ماتحت دنیا بھر میں صد سالہ جوبلی جشنِ تشکر منا رہے تھے۔

ہرجماعت اپنی استطاعت کے مطابق اس جشن میں حصہ ڈال رہی تھی۔ کہیں مختلف چھوٹے بڑے یادگاری سوونیئرز تقسیم ہورہے تھے تو کہیں کتابی سوونیئرز کی اشاعت ہو رہی تھی۔ ا س موقع پر دنیا کے تاریک براعظم کے مغربی ملک کی ایک حکومت بھی جماعت احمدیہ کے اس جشن میں شامل ہوئی اور تاریخ نے نہ صرف اس کاوش کو امر کر دیا بلکہ خدا تعالیٰ کی جانب سے مسندِ خلافت پر بیٹھے خلیفۂ وقت نے بھی اس ملک کو خراجِ تحسین پیش فرمایا۔

جماعت احمدیہ کی تاریخ میں سیرالیون وہ پہلا ملک ہے جس کے حصےمیں یہ اعزاز آیا کہ وہ جماعت احمدیہ کے صدسالہ جوبلی جشنِ تشکر کے موقع پر ڈاک ٹکٹ جاری کرے۔ قابلِ ذکر امر یہ ہے کہ یہ ڈاک ٹکٹ صرف یوں ہی جاری نہیں کیا گیا بلکہ اسے حکومتِ وقت نے سرکاری اعزاز کے ساتھ جاری کیا۔

ٹکٹ کے عکس کی تفصیل

سیرالیون پوسٹل میوزیم کی ویب سائٹ کے مطابق یہ ٹکٹ ۸؍جون ۱۹۸۹ء کو جاری کیا گیا۔ (https://postalmuseum.si.edu/object/npm_1990.0517.10467)

اس ٹکٹ کا نام Ahmadiyya Muslim Centenary Thanksgiving Celebrations ہے۔ اس میں کالی اور آسمانی نیلے رنگ کی روشنائی کا استعمال کیا گیا تھا۔ اس کا سیریل نمبر 1990.0517.10467 ہے۔اس کی پیشانی پر انگریزی جلی حروف میں سیرالیون لکھا ہے اس کے نیچے دائیں طرف اس کی قیمت Le 3 (تین لیونز) لکھی ہے۔ نیچے دو تہائی ٹکٹ پر ستاروں سے بنے دو دائرے ہیں جن کے اندر تین موٹی لکیروں سے بنے دائرے ہیں۔ درمیانی دائر ے میں مینارة المسیح کا عکس ہےجس کے پیچھے دنیا کا گلوب ہے یہاں نیلے رنگ سے سمندر اور سفید رنگ سے خشکی دکھائی گئی ہے۔اس دائرے کے اطراف، دائرے کی صورت میں سورة الصف کی آیت۱۰: ہُوَ الَّذِیۡۤ اَرۡسَلَ رَسُوۡلَہٗ بِالۡہُدٰی وَدِیۡنِ الۡحَقِّ لِیُظۡہِرَہٗ عَلَی الدِّیۡنِ کُلِّہٖ خوبصورت خط میں مع الاعراب نقش ہے ۔ اور آیت کے گرد دائرے کے باہر AHMADIYYA MUSLIM CENTENARY THANKSGIVING CELEBRATIONS بڑے انگریزی حروف میں درج ہے۔اسی دائرے کی مینارے سے ایک لکیر اوپر کی طرف آتی ہے جس کے آخر پر کلمہ طبیہ مع اعراب درج ہے اور کلمے کے بائیں جانب 1889 جبکہ دائیں جانب 1989 لکھا گیا ہے۔ جو صد سالہ دورانیے کی تعیین کرتے ہیں۔

تاریخِ تقریبِ رونمائی

اس ٹکٹ کی تاریخی تقریب رونمائی کا روح پروراحوال مکرم حنیف احمد محمود صاحب سابق مبلغ سیرالیون (حال نائب مدیر روزنامہ الفضل انٹرنیشنل)کی مرتب کردہ رپورٹ سے اختصاراً پیش ہے، جو الفضل ربوہ میں شائع ہوئی ۔ وہ لکھتے ہیں کہ ۸؍جون۱۹۸۹ء کا دن تاریخ احمدیت میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا جب گورنمنٹ سیرالیون نے صد سالہ جشن تشکر کے تاریخی موقع پر یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔ تاریخ احمدیت میں یہ پہلا موقعہ تھا کہ کسی ملک کے محکمہ ڈاک نے احمدیت کی کسی تقریب کی یاد میں یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا ۔ محض خدا تعالیٰ کے فضل سے یہ سعادت احمد یہ جماعت سیرالیون کے حصہ میں آئی ۔ اس رنگ برنگ تاریخی تقریب کا اہتمام مین پوسٹ آفس فری ٹاؤن کے ہال میں کیا گیا تھا جہاں پولیس کا بینڈ صبح آٹھ بجے سے ہی اپنی سریلی دھنوں سے عوام کی کشش کا موجب بنا رہا اور ہر گزرنے والے کو تقریب کے انعقاد سے متعلق استفسار کی دعوت دیتا رہا ۔ سیرالیون پوسٹ آفس فری ٹاؤن کی سب سے پُررونق سٹرک سیاکا سٹیون روڈ (Siaka Steaven Road) پر واقع ہے یہ سڑک پہلے صدرِ مملکت کے نام سے موسوم ہے۔ یہاں ہمہ وقت گہماگہمی رہتی ہے۔ اس طرح یہ تقریب ہزارہا لوگوں تک پیغام احمدیت پہنچانے کا موجب بھی بنی۔ اس تقریب کی اہم بات یہ تھی کہ گورنمنٹ نے اس کو اپنی تقریب قرار دے دیا تھا اور اس تقریب میں استعمال ہونے والا فرنیچر اسٹیٹ ہاؤس سے مہیا کیا گیا تھا۔

احمد یہ سیکنڈری سکول فری ٹاؤن کے طلبہ نے دوران تقریب ان ممالک کے جھنڈوں کو تھام رکھا تھا جہاں جماعت قائم ہو چکی تھی ۔ ۸۰۰ طلبہ بار بار احمد یہ مسلم سکول کا گیت

Ahmadiyya Came To Serve,

To Serve Forever, To Shine Forever

سریلی آواز میں پڑھ کہ حاضرین کو محظوظ کرتے رہے ۔ جس نے جماعت احمدیہ کے نام کو ایک نئی شان اور رعب و دبدبہ عطا کیا اور احمدیت کے نام کی پوسٹ آفس کے اندر اور باہر خوب تشہیر ہوئی۔

تقریب کے دوران پوسٹ آفس کا عملہ حسب معمول کام کرتا رہا۔ جہاں اس دوران ہزاروں افراد نے اندر داخل ہو کر ٹکٹوں کی خرید و فروخت کی۔اندر آتے اور باہر جاتے ہماری تقریب کو غور سے دیکھا اور سنا۔اس تقریب میں پارلیمینٹیرینز، سفراء ، مختلف محکموں کے آفیسرز اور سرکردہ افراد شامل تھے جن میں الحاج محمد سنوسی مصطفیٰ (Muhammad Sanusi Mustapha) سابق نائب وزیر اعظم حال صدر مسلم کانگرس شامل تھے۔پوسٹ آفس کے عملے کا بیان ہے کہ پوسٹ آفس میں ڈاک ٹکٹ کے اجراء پر ہونے والی گذشتہ تمام تقاریب میں سے یہ تقریب اپنی شان میں اپنی مثال آپ ہے۔

تقریب کا آغاز : تقریب میں صدارت کے فرائض مسٹر ماطوری چیف سیکرٹری وزارت مواصلات(Senior Permanent Sect. Ministry Of Transport and Communication) نے ادا کیے ۔ تقریب کا آغاز محترم عبد السلام ظافر صاحب نے تلاوت قرآن مجید سے کیا۔ تلاوت کے بعد پوسٹل سروسز ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر K. K .MR Daramy جن کے سر اس ٹکٹ کے اجراء کی کامیابی کا سہرا ہے ، نے مہمان خصوصی کا حاضرین سے تعارف کروایا ۔ بعدہٗ مہمان خصوصی چیف سیکرٹری نے اپنے ریمارکس میں تقریب کی اہمیت بیان کرتے ہوئے جماعت احمدیہ کے طبی و تعلیمی اداروں کا ذکر کیا اور خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ آج سو سال پورا ہونے پر گورنمنٹ کی طرف سے یادگاری ٹکٹ اس بات کی علامت ہے کہ گورنمنٹ جماعت احمدیہ کو قدر کی نگاہوں سے دیکھتی ہے اور یہ ٹکٹ جماعت احمدیہ کی ۵۲ سالہ خدمات کا صلہ ہے اور اس صورت میں ہم مشن کی خوشی میں شامل ہو رہے ہیں۔ آپ نے مزید کہا کہ جماعت احمد یہ جب دوسری جوبلی منارہی ہوگی اس وقت نہ معلوم کتنے ممالک جماعت کی خدمات کو قدر کی نگاہوں سے دیکھتے ہوئے یادگاری ٹکٹیں جاری کریں گے ۔

چیف سیکرٹری کی تقریر کے بعد محترم امیر صاحب نے اپنے خطاب میں جماعت احمدیہ کی صد سالہ جوبلی کا پسِ منظر بیان کیا اور احمدیت کی تاریخ کا اجمالی خاکہ پیش کرتے ہوئے سیرا لیون کی علمی اور طبی میدانوں میں احمدیت کی کوششوں اور کامیابیوں کا تفصیل سے ذکر کیا اور بتایا کہ اس سال ہم جماعتی ترقی کے حسین اور سنہری دور سے گزرتے ہوئے صد سالہ جشن تشکر منانے کی توفیق پار ہے ہیں ۔

مولانا خلیل احمدمبشر صاحب امیر جماعت سیرالیون نے واشگاف الفاظ میں اعلان کیا کہ حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ سے کئے گئے تمام خدائی وعدے آج ہم اپنی آنکھوں سے پورا ہوتے دیکھ رہے ہیں۔ آپ نے خصوصاً ’’میں تیری تبلیغ کو زمین کےکناروں تک پہنچاؤں گا‘‘ کا ذکر کرتے ہوئے ان ملکوں کی تعداد بتلائی جہاں احمدیت کا پودا لگ چکا ہے۔ آخر میں آنمحترم نے وزیر مملکت وزارت مواصلات، ڈائریکٹر اور صدر مملکت کا خصوصی شکریہ ادا کیا جنہوں نے ہمارے ساتھ پورا تعاون کیا اور اس تاریخی کامیابی کو ممکن بنایا۔

تقریب کے آخر میں ایم پی، بائیو سیکرٹری جنرل احمدیہ مشن نے مہمان خصوصی اور حاضرین کا شکریہ ادا کیا کہ مسٹر درامی ڈائریکٹر محکمہ ڈاک ہمارے بہت ہی شکریہ کے مستحق ہیں جنہوں نے ہمارے ساتھ بہت تعاون کیا۔ تقریب کو کامیاب بنانے میں گائیڈ لائن دی۔

تقریب کے آخر میں مہمان خصوصی مسٹر ماطوری نے سب سے پہلی ٹکٹ خرید کر ٹکٹ کی خریداری کا افتتاح کیا۔ جس کے بعد ایک انبوہ کثیر نے قطار میں کھڑے ہو کر ٹکٹیں خریدیں۔ تمام مہمانوں کی ٹھنڈے مشروبات اور کیک وغیرہ سے تواضع کی گئی اور ساتھ ساتھ انگریزی زبان میں طبع شدہ لٹریچر مہمانوں میں تقسیم کیا گیا۔ اور ان کو کتب اور جماعت احمدیہ کا تعارف بھی کروایا گیا۔ (ماخوذ الفضل ربوہ ۲۳؍نومبر ۱۹۸۹ء)

حضرت خلیفةالمسیح الرابعؒ نے جلسہ سالانہ برطانیہ ۱۸۸۹ء کے دوسرے روز کے خطاب میں صد سالہ جوبلی جشن تشکر کی تقریبات کے ذکر میں ڈاک ٹکٹ کے اجراکا خصوصیت سے ذکر فرمایا۔ آپؒ نے فرمایا کہ سیرالیون نے تو اس موقعہ پر ڈاک کا ایک یادگاری ٹکٹ بھی جاری کیا ہے اور یوں یہ تاریخی یادگار ٹکٹوں کی صورت میں محفوظ ہوئی ہے۔ یہ ٹکٹ آج تو چند پیسوں یا رپوؤوں کا ہوگا لیکن آئندہ زمانے میں اس کی قیمت لاکھوں تک پہنچنے والی ہے۔ اور آپ کی نسلیں بڑے فخر کے ساتھ یہ ٹکٹ پیش کریں گی کہ ایک زمانہ تھا کہ جب دنیا میں ایک ہی حکومت تھی جس نے احمدیت کےجشنِ تشکر کے موقعہ پر اس حسنِ خلق کامظاہرہ کیا۔ (الفضل ربوہ: ۱۹؍اگست ۱۹۸۹ء )

اس کے ساتھ ہی جلسے کے سٹیج سے ہی حضرت خلیفةالمسیح الرابع ؒنے امیر صاحب سیرالیون کی جانب سے اس ٹکٹ کو خریدنے کا طریقہ کار بھی بیان فرمایا۔(بحوالہ ویڈیو خطاب یوٹیوب)

خاکسار نے بارہا ڈاک خانے سے رابطہ کیا اور اعلیٰ عہدیداران سے ملاقات بھی کی۔ تاہم یہ ڈاک ٹکٹ نہیں مل سکا۔ کیونکہ نوے کی دہائی کی خانہ جنگی کے باعث سیرالیون میں جانی ومالی نقصانات کے ساتھ ساتھ علمی و تاریخی نقصان بھی پہنچا جس کی ایک مثال اس ٹکٹ کا ناپید ہونا ہے۔

پس آج سیرالیون اپنی خوش قسمتی پر نازاں و فرحاں ہے اور احمدیت کی اگلی نسل اس بات پر فخر محسوس کرتی ہے کہ یہ بر اعظم افریقہ کا وہ مغربی ملک ہے جہاں مغرب سے اسلام احمدیت کا سورج طلوع ہوا اوراس سر زمین نےسب سے پہلے مبلغِ اسلام احمدیت کی قدم بوسی کا شرف حاصل کیا۔ اسی ملک کو یہ اعزاز حاصل ہوا کہ اس تاریخی سنگِ میل پر ڈاک ٹکٹ جاری کرے۔ ذالک فضل اللّٰہ یوتیہ من یّشاء

سڑک اور چوک کے نام تبدیل

صد سالہ جشنِ تشکر کے موقع پر ایک اور اعزاز بھی جماعت احمدیہ سیرالیون کو ہی حاصل ہوا۔ مبارک احمد طاہر صاحب سیکرٹری مجلس نصرت جہاں اس وقت احمدیہ مسلم سیکنڈری سکول روکوپر کے پرنسپل اور مبلغ روکوپر ریجن بھی تھے۔ آپ تحریر کرتے ہیں کہ ۲۳ مارچ ۱۹۸۹ء کے حوالہ سے ایک تجویز اور خواہش میرے دل میں یہ پیدا ہوئی کہ فری ٹاؤن کے بعد روکوپر میں جماعت احمدیہ کی بنیاد پڑی اور یہ لوگ خوش نصیب ہیں کہ انہیں قبولیت کی توفیق ملی اس لیے کیا ہی اچھا ہو کہ حضرت مولانا نذیر احمد علی صاحب کے نام پر روکوپر کی ایک گلی یا سڑک کا نام رکھ دیا جائے۔ یہ تجویز لے کر خاکسار اس وقت کے Paramount Chief کے پاس گیا اور درخواست کی کہ ہمیں ہمارے اوّلین مربی سلسلہ کے نام پر روکوپر میں ایک سڑک دے دیں۔ اس پیراماؤنٹ چیف کا سرکاری عہدہ P.C. Bai Farma Tass Bubu Angbak III ہے۔ بڑے پرہیزگار، نیک اور نمازی چیف ہیں۔ انہوں نے میری تجویز پر عمل کرنے کی حامی بھرلی اور وعدہ کیا کہ وہ روکوپر آکر یہاں کی Tribal Authority کو اس مقصد کے لئے کوئی سڑک دیئے جانے کی تحریک کریں گے۔ چنانچہ چند دنوں بعد وہ روکوپر تشریف لائے۔ Tribal Authority کا اجلاس بلایا اور ان سے ایک سڑک مانگ لی۔ خدا کا شکر کہ سب نے بخوشی اس تجویز سے اتفاق کیا اور ایک سڑک ہمیں مل گئی جس کا نام Alhaj Nazir Ali Street رکھا گیا۔ اس کے لئے ایک تقریب بھی منعقد کی گئی۔ پیراماؤنٹ چیف نے خود تشریف لاکر ربن کاٹا اور اعلان کیا کہ آج سے اس سڑک کا نام جماعت احمدیہ سیرالیون کے سب سے پہلے مبلغ سلسلہ کے نام پر Alhaj Nazir Ahmad Ali Street ہے۔روکوپر شہر کی Main Road سے یہ سڑک روکوپر کی ’’ مسجد احمد‘‘ کی طرف جاتی ہے اور حضرت مولانا صاحب کا نام اس خطۂ زمین پر ہمیشہ کے لئے اَنمٹ ہو چکا ہے۔(ماخوذازالفضل ربوہ ۱۸ستمبر۲۰۱۳ء)

آج اس سڑک سے ملحقہ سڑک کا نام بھی نذیر احمد علی سٹریٹ ٹو پڑ گیا ہے۔

سیرالیون میں جماعت احمدیہ کی ناقابلِ فراموش عزت افزائی

صد سالہ جوبلی کے موقع پر حکومتِ سیرالیون نے جماعت احمدیہ کے جشنِ تشکر میں خوب حصہ لیا۔ اس بارے میں حضرت خلیفةالمسیح الرابعؒ فرماتے ہیں:’’سیرالیون میں ہی ایک جگہ ہمارے مربی کو فوجی دستے نے سلامی دی ہے اور اس کے علاوہ جماعت کے جوسکول کے بچے تھے انہوں نے ان کے بڑے لوگوں کو سلامیاں دیں اور بڑی محبت اور پیار کے ماحول میں یہ ایک دوسرے کے ساتھ عزت افزائی کا سلوک کیا گیا۔جو تقریریں اس موقع پر ہوئی ہیں وہ حیرت انگیز ہیں۔اتنی باریکی سے ان حالات کو وہ لوگ سمجھ رہے ہیں کہ یہ خیال نہ کریں کہ وہ سادہ لوگ ہیں ان کو پتا ہی کچھ نہیں کیا ہو رہا ہے۔تمام مخالفت کے حالات کو سمجھتے ہیں تمام عناصر کو جانتے ہیں جو مخالفت پر تلے ہوئے ہیں۔اس کے باوجود انہوں نے اپنی تقاریر میں یہ اعلان کئے ہیں کہ وہ لوگ جو احمدیت کا تعاقب کرنے کے لئے یہاں پہنچتے ہیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مولویوں کی زبان ان تک پہنچی ہے کیونکہ یہ خاص ان کا محاورہ ہے ان کی دلچسپی کا کہ ہم احمدیت کا ہر جگہ تعاقب کریں گے۔تو ایک بہت بڑے پولیس افسر نے جسے ہمارے سکول کی سلامی دی تھی ایک موقع پر انہوں نے اس کے بعد اپنی تقریر میں کہا کہ جو لوگ احمدیت کے تعاقب کے نام پر یہاں پہنچ رہے ہیں میں ان کو بھی خبر دار کرتا ہوں اور سیرالیون کے بسنے والے باشندوں کو بھی خبر دار کرتا ہوں کہ وہ احمدیت کا تعاقب نہیں بلکہ ہر سیرالیونی کا تعاقب کرنے یہاں پہنچ رہے ہیں اور ہم انہیں نا کام کردیں گے۔ایسے ایسے عظیم الشان خراج تحسین جماعت کو دئے گئے ہیں کہ حیرت ہوتی ہے۔بڑے کھل کے حکومت کے نمائندوں اور افسران نے کہا کہ یہ وہ جماعت ہے جس نے ہمیں آکے بچایا۔جس نے ہم پر احسانات کئے۔اب ہم آج کے آنے والوں کی خاطر ان کو کیسے چھوڑ سکتے ہیں۔اس موقع پر جو ایک خبر سے مجھے بہت ہی خوشی ہوئی وہ یہ ہے کہ روکوپر (Rokupr) میں جہاں حضرت الحاج نذیر احمد صاحب علی نے احمدیت کا پیغام پہنچایا تھا اور بڑی قربانیاں دی تھیں سب سے پہلے جس مکان میں وہ آ کے اترے تھے جو سڑک اس مکان کے پاس سے گزرتی ہے وہاں کے پیرا ماؤنٹ چیف نے سوسال پورے ہونے کی خوشی میں اس سڑک کا نام الحاج نذیر احمد علی سٹریٹ رکھ دیا ہے اور وہ سڑک آگے جا کر دو بڑی سڑکوں سے ملتی ہے۔تو اس جنکشن کا نام بھی کچھ اور تھا انہوں نے اب اس جنکشن کا نام بھی الحاج نذیر احمد علی جنکشن رکھ دیا ہے۔ہر جگہ خدا تعالیٰ غیر معمولی عزت افزائیاں فرما رہا ہے جماعت کی اور مبلغ وغیرہ سب لکھتے ہیں کہ ہمیں تو نہیں کچھ سمجھ آتی کہ ہو کیا رہا ہے ہماری تو عقل سے بالا ہیں یہ باتیں۔‘‘ (خطبہ جمعہ ۸ ۔ا گست ۱۹۸۹ء خطبات طاہر جلد ۸ صفحہ ۵۵۵ و ۵۵۶)

بو شہر میں احمدیہ روڈ

سیرالیون میں جماعت احمدیہ کے ۳۱۷؍سکولز اور سینکڑوں مساجد کے ساتھ ملحقہ سڑک اور جس جنکشن سے وہ سڑک نکلتی ہے احمدیہ روڈ اور احمدیہ جنکشن کہلاتی ہے لیکن بو شہر کے وسط میں ناصر مسجد سے احمدیہ کمپاؤنڈ تک جانے والی سڑک باقاعدہ احمدیہ روڈ کہلاتی ہے۔

سڑک کے موڑ پر لگا یہ بورڈ چھ احمدیہ سکولز، جامعةالمبشرین، جلسہ گاہ اور ریجنل و ضلعی مشن ہاؤس (ہیڈکوارٹرز) کا پتہ بتاتا ہے۔ مرورِ زمانہ سے بو شہر وسعت پذیر ہے۔ لیکن ہر آنے والی نسل احمدیہ روڈ سے خوب آگاہ ہے۔ کیونکہ ہر سال بیس ہزار سے زا ئد افراد اس سڑک سے ہوتے ہوئے جلسہ گاہ تک جاتے ہیں۔

صدارتی گولڈ میڈل ایوارڈ

۲۰۱۴ء میں اس وقت کی حکومت نے جماعت احمدیہ کو تعلیم، صحت اور زراعت کے شعبوں میں قوم کے لیے طویل اور شاندار خدمات کے اعتراف میں نیشنل صدارتی گولڈمیڈل ایوارڈ (Presidential Gold Medal Award)سے نوازا ۔اس وقت کے صدرِ مملکت عزت مآب ارنسٹ بائی کوروما (Ernest Bai Koroma) سے احمدیہ مسلم جماعت کی طرف سے مولانا سعید الرحمٰن صاحب سابق امیر ومبلغ انچارچ(حال مبلغ کینیڈا) نے یہ اعزاز وصول کیا۔ (الفضل انٹرنیشنل ۱۲؍ مئی ۲۰۲۱ء)

اعلیٰ ترین سول اعزاز

حکومتِ سیرالیون کی طرف سے احمدیہ مسلم جماعت کو ملک میں سو سالہ خدمات پر سیرالیون کے سب سے بڑے سِول اعزاز سے نوازا گیا۔۲۷؍اپریل ۱۹۶۱ء کو مغربی افریقہ کے ملک سیرالیون کو برطانیہ کے قبضہ سے آزادی حاصل ہوئی اور یہ ایک مکمل خود مختار ریاست بن گیا۔ چنانچہ ہر سال سیرالیون میں ۲۷؍اپریل یوم ِآزادی کے طور پر منا یا جاتا ہے اور سرکاری، نیم سرکاری اور نجی طور پر ملک بھر میں جشنِ آزادی کی تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے۔

جشنِ آزادی کی وفاقی تقریبات کے انعقاد کے ساتھ حکومتِ سیرالیون اس دن ملک و قوم کی خاطر نمایاں خدمات سر انجام دینے والے افراد، محکموں، تنظیموں اور جماعتوں کو اعزازات سے نوازتی ہے۔

۲۰۲۱ء کا سال سیرالیون کی آزادی کا ۶۰ واں سال تھا اور اسی سال جماعتِ احمدیہ کو سیرالیون میں ۱۰۰سال مکمل ہوئے تھے۔ حکومت سیرالیون اور صدر مملکت عزت مآب ریٹائرڈ بریگیڈیر جولیئس مادا بیئو (H.E. Rtd. Brg. Julius Maada Bio) نے جماعت کی سو سالہ خدمات کے اعتراف میں اس سال نوازے گئے اعزازات میں احمدیہ مسلم جماعت سیرالیون کو ملک کے سب سے بڑے سِول اعزاز Commander of the Order of the Rokel سے نوازا۔ ۲۷؍اپریل ۲۰۲۱ء کو ایوانِ صدر میں ہونے والی اس تقریب میں اس وقت کے امیر و مشنری انچارج سیرالیون مولانا سعیدالرحمٰن صاحب نے احمدیہ مسلم جماعت سیرالیون کی طرف سے یہ اعزاز وصول کیا۔ (الفضل انٹرنیشنل ۱۲؍ مئی ۲۰۲۱ء)

پس آج کئی ممالک نے جماعت احمدیہ کی مساعی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ڈاک ٹکٹس جاری کیے ہیں اور سڑکوں کے نام جماعت یا جماعتی شخصیات سے موسوم کیے ہیں۔ لیکن اس ضمن میں الاَوَّل فالاَوَّل کا سہرا حکومتِ سیرالیون کو جاتا ہے۔ اسی ملک نے جماعت احمدیہ سیرالیون کے سو سال مکمل ہونے پر ۲۰۲۱ء میں اعلیٰ ترین سول اعزازکمانڈر آف دی آرڈر آف دی روکیل ( Commander of the Order of the Rokel) سے نوازا۔

اس طرح یہ سہرا بھی حکومتِ سیرالیون کے پاس ہے کہ یہ دنیا کی واحد حکومت ہے جس نے جماعت احمدیہ کو تعلیمی و فلاحی میدان میں ملک کی خدمت پر اپنے اعلیٰ ترین سول اعزاز سے نوازا ہے۔

ہم اس امن پسند ملک کی حکومت کے ماتحت رہ کر اسے سراہتے ہیں اور اس کی درازی کے لیے دعا گو ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کی خلافتِ احمدیہ کی اس ملک کے حق میں کی گئی دعائیں ہمیشہ پوری ہوتی چلی جائیں۔ اور اس ملک میں جماعت احمدیہ اپنی ترقیات کی منازل طے کرتی چلی جائے۔

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: یہود کو دوبارہ فلسطین میں آباد کرنے کا نظریہ پہلے کس نے پیش کیا تھا؟

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button