الفضل ڈائجسٹ
اس کالم میں ان اخبارات و رسائل سے اہم و دلچسپ مضامین کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے جو دنیا کے کسی بھی حصے میں جماعت احمدیہ یا ذیلی تنظیموں کے زیرانتظام شائع کیے جاتے ہیں۔
آنحضور ﷺ امن کے پیکر
آنحضرت ﷺ سلامتی کے شہزادے تھے۔ یہ خطاب آپؐ کو صدیوں قبل یسعیاہ نبی نے دیا تھا۔ اپنی پیشگوئی میں انہوں نے فرمایا: ’’ہم کو ایک بیٹا بخشا گیا اور سلطنت اس کے کاندھے پر ہوگی اور وہ اس نام سے کہلاتا ہے: عجیب، مشیر، خدائے قادر، ابدیت کا باپ، سلامتی کا شہزادہ۔ اس کی سلطنت کے اقبال اور سلامتی کی کچھ انتہا نہ ہوگی۔‘‘ (یسعیاہ باب۹)
عیسائی اس پیشگوئی کا اطلاق حضرت عیسیٰؑ پر کرتے ہیں لیکن تاریخی حقائق شاہد ہیں کہ یہ علامات آنحضرت ﷺ کی ذات مبارک میں پوری ہوئیں۔ اس حوالے سے ماہنامہ ’’خالد‘‘ ربوہ کے ’’سیرت خیرالوریٰؐ نمبر‘‘ برائے نومبرودسمبر ۲۰۱۲ء میں ایک مضمون مکرم محمد محمود طاہر صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔
آنحضرت ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے سلطنت بھی عطا فرمائی اور شان و شوکت بھی۔ کتنے ہی قبائل اور اقوام سرنگوں ہوکر آپؐ کے جھنڈے تلے آگئے۔ انسانی خون کی ہولی کھیلے بغیر ہونے والی بےشمار فتوحات کی وجہ آپؐ کی طرف سے دیا جانے والا امن و سلامتی کا پیغام اور ایک ایسی سلطنت کا قیام تھا جو عافیت کا حصار تھی۔ آنحضرت ﷺ نے تو مسلمان کی تعریف ہی یوں کی کہ حقیقی مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ یعنی قول اور فعل سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ نیز ارشاد فرمایا کہ آپس میں السلام علیکم کہنے کو رواج دو۔ یعنی ایک دوسرے کو سلامتی کا پیغام دو۔ حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ بےشک سلام اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے زمین میں رکھا ہے اس لیے تم آپس میں سلام کو پھیلاؤ۔ آنحضورﷺ نے سلام کرنے کے آداب بھی سکھائے۔ فرمایا کہ چھوٹا بڑے کو، چلنے والا کھڑے کو اور سوار قا ئم کو سلام کہے۔
حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے آنحضورﷺ سے پوچھا کہ کونسا اسلام بہتر ہے تو آپؐ نے فرمایا: بہترین اسلام یہ ہے کہ تم کھانا کھلاؤ اور ہر شخص کو سلام کرو خواہ تم اُسے جانتے ہو یا نہیں جانتے۔
اسلام نے دین میں جبر سے منع فرمایا ہے۔ (البقرۃ:۲۵۷) نیز انسان کو آزادی دی کہ اگرچہ حق وہی ہے جو تمہارے ربّ کی طرف سے ہو پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے سو انکار کردے۔ (الکہف:۳۰)۔ پھر اسلام چونکہ ایک آفاقی دین ہے اس لیے دوسرے مذاہب کی مقدّس ہستیوں کے احترام کی تعلیم بھی دی بلکہ قرآن کریم نے تو جھوٹے معبودوں کو بھی بُرابھلا کہنے سے منع فرمادیا مبادا ظالم سچے خدا کو بھی بُرا بھلا کہیں۔ (الانعام:۱۰۹)۔ چنانچہ ایک یہودی کے ساتھ جب ایک مسلمان کا انبیاء کی فضیلت کے حوالے سے تنازعہ کھڑا ہوا اور مسلمان نے یہودی کو ضرب لگائی تو وہ یہودی آپؐ کے حضور شکایت لے کر حاضر ہوا۔ آپؐ نے کمال درجہ کی اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرمایاکہ مجھے دوسرے انبیاء پر فضیلت نہ دیا کرو۔ ایک دوسری روایت کے مطابق فرمایا کہ تم مجھے موسیٰ اور یونس بن متٰی پر بھی فضیلت نہ دیا کرو۔
دوسروں کے جذبات اور شرف انسانی کی سربلندی کے لیے آپؐ کا نمونہ یہ تھا کہ ایک یہودی کے جنازے کو دیکھ کر کھڑے ہوگئے۔ کسی نے اظہار کیا تو فرمایا: کیا یہودی میں جان نہیں ہوتی؟
عدل کے ذریعے عالمگیر امن کی تعلیم دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ارشاد فرمایا کہ کسی قوم کی دشمنی تمہیں ہرگز اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف نہ کرو۔ (المائدہ:۹)
آنحضورﷺ نے صرف عدل کی تعلیم ہی نہیں دی بلکہ اپنے قول وعمل سے احسان کرنے کی نصیحت بھی فرمائی۔ آپؐ کا اُسوہ یہ تھا کہ یہودی قبیلہ بنونضیر کو جب اُن کی بدعہدی کی وجہ سے مدینہ بدر کیا گیا تو اُن میں ایسے نوجوان اور بچے بھی موجود تھے جنہیں اسلام سے قبل اہل مدینہ نے منّت مانتے ہوئے یہودی بنانے کے لیے یہود کے سپرد کردیا ہوا تھا۔ جب بنوقریضہ کو مدینہ بدر کیا جانے لگا تو انصار نے اپنے بچوں کی واپسی کا مطالبہ کیا لیکن آنحضورﷺ نے اُن کو اُن کا عہد یاد دلایا اورفرمایا کہ اب یہ بچے یہودی ہوچکے ہیں اس لیے یہود کے ساتھ ہی جائیں گے۔
اللہ تعالیٰ نے مکّہ مکرمہ کو بلد امین (امن کا شہر) قرار دیا اور آنحضورﷺ کو رسول امین کا خطاب دیا ہے۔ آپؐ کو جب ہجرت کرنی پڑی تو مدینہ میں بنائی جانے والی مسجد نبوی کو بھی آپؐ نے امن کا مقام بنائے رکھا۔ چنانچہ نجران سے آنے والے عیسائیوں کو اس میں عبادت کرنے کی اجازت مرحمت فرمائی ۔ طائف سے بنوثقیف کے مشرکین کا وفد آیا تو اُن کے خیمے بھی مسجد نبوی میں لگوائے۔ صحابہؓ نے عرض کیا کہ مشرکین تو نجس یعنی پلید ہیں۔ اس پر آپؐ نے فرمایا: اس سے دل کی ناپاکی اور پلیدی مراد ہے۔
آنحضور ﷺ نے تلوار صرف اپنے دفاع میں اٹھائی۔ لیکن قیام امن کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا اور متعدد معاہدے فرمائے۔ ان معاہدات کی خلاف ورزیاں ہمیشہ مخالفین کی طرف سے ہوئیں خواہ وہ مشرکینِ مکّہ تھے، مدینہ کے یہود تھے یا دیگر حلیف گروہ۔ ان میں دو اہم معاہدے بھی شامل ہیں۔ پہلا میثاق مدینہ جو ہجرت کے فوراً بعد مدینہ کے انصار قبائل، مہاجرین مکّہ اور یہود کے درمیان ہوا جس میں مذہبی آزادی کی ضمانت دی گئی اور حملے کی صورت میں مدینہ کا دفاع باہم مل کر کرنا شامل تھا۔ اس کے مطابق کوئی فریق کسی بیرونی گروہ کے ساتھ صلح کا علیحدہ سے معاہدہ نہیں کرسکے گا بلکہ یہ معاہدات مل کر طے ہوں گے۔ لیکن یہود نے اس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مشرکین مکّہ کے ساتھ درپردہ مل کر مسلمانوں پر کاری ضرب لگائی اور نہایت خوفناک حالات پیدا کردیے چنانچہ سزا کے مستحق ٹھہرے۔
اسی طرح صلح حدیبیہ کا معاہدہ جو مشرکین نے نہایت ڈھٹائی سے اپنے مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے کیا تھا لیکن خداتعالیٰ نے اسے فتح مبین قرار دیا۔ امن کے پیکر حضرت محمدﷺ نے ہر قسم کے جذبات اور احساسات کی قربانی دی۔ لیکن یہ معاہدہ بھی مشرکین نے خود توڑ دیا جس کے بعد آنحضورﷺ اپنی رؤیا کے مطابق حالتِ امن میں مسجد حرام میں داخل ہوئے اور بغیر کسی خونریزی کے مکّہ فتح ہوگیا۔ (سورۃالفتح:۲۸)
حالتِ جنگ میں بھی آپؐ نے معذوروں، عورتوں اور بچوں کے قتل کی ممانعت فرمائی، عبادت گاہوں اور اُن کے نقیبوں پر حملوں سے بھی منع فرمایا۔
………٭………٭………٭………
آنحضورﷺ کی سادگی و قناعت
آنحضورﷺ کی طبیعت ہر قسم کے تصنّع سے پاک تھی چنانچہ آپؐ کی بےساختہ سادگی نہ صرف ملنے والوں کے دلوں پر گہرا اثر کرتی تھی بلکہ آپؐ کی اُمّت کے ہر طبقے کے لیے آپؐ کے اُسوۂ مبارک پر عمل کرنا نہایت درجہ آسان ہوگیا۔ اس حوالے سے ماہنامہ ’’خالد‘‘ ربوہ کے ’’سیرت خیرالوریٰؐ نمبر‘‘ برائے نومبرودسمبر ۲۰۱۲ء میں ایک مضمون مکرم ثاقب کامران صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔
آنحضورﷺ کی زندگی نہایت سادہ تھی۔ خوراک، لباس، طرز رہائش، طرز کلام، معاشرت وغیرہ تمام امور میں اس صفت کا نمایاں اظہار ہوتا تھا۔ آپؐ کے اخلاق کریمانہ کی وجہ سے ہر نادار انسان بھی بِلاجھجک حاضر ہوکر اظہارِ مدعا کرسکتا تھا۔ مفلس سے مفلس اگر آپؐ کو مدعو کرتا تو آپؐ بڑی خوشی سے اُس کی دعوت قبول فرمالیتے اور پیش کیے جانے والے ماحضر کو خوش دلی سے تناول فرمالیتے۔
حضرت عمرؓ سے روایت ہے کہ ایک بار مَیں آنحضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپؐ اپنے حجرے میں ایک چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے۔ آپؐ کے جسم مبارک پر چٹائی کے نشان پڑگئے تھے۔ یہ دیکھ کر میری آنکھوں میں بےاختیار آنسو آگئے۔ آپؐ کے پوچھنے پر مَیں نے عرض کیا کہ اس چٹائی کو بستر بنانے سے آپؐ کے جسم پر نشان پڑگئے ہیں اور دوسری طرف قیصر و کسریٰ ہیں کہ دولت، نازونعم میں زندگی گزار رہے ہیں۔ اس پر آنحضورﷺ نے فرمایا: اے عمر! کیا تجھے یہ بات پسند نہیں کہ قیصر و کسریٰ کو اس دنیا کی دولتیں دے دی جائیں اور ہمیں آخرت کی نعمتوں سے مالامال کردیا جائے۔
آنحضورﷺ ایسی قوم میں مبعوث ہوئے جو تفاخر میں بہت مشہور تھی۔ خصوصاً ان کے سرداروں میں یہ مرض انتہا تک پہنچا ہوا تھا۔ اُن کے گھرانوں میں غلاموں اور لونڈیوں سے کام لیا جاتا اور اسے شان و شوکت کا ذریعہ سمجھا جاتا۔ لیکن آنحضور ﷺ اپنے کام اپنے ہاتھ سے کرنے کے عادی تھے۔ حضرت عائشہؓ نے کسی کے پوچھنے پر بتایا کہ آپؐ گھر میں عام انسانوں کی طرح رہتے تھے، اپنے کام خود کرلیتے اور گھریلو کاموں میں اہل خانہ کی مدد فرماتے تھے۔
آنحضور ﷺ کی خوراک میں سادگی کے حوالے سے حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ دو دو ماہ گزر جاتے مگر ہمارے گھر میں آگ نہ جلتی تھی۔ ہم کھجور اور پانی پر گزاہ کرلیتے یا پھر دودھ پر جو کبھی کبھار بعض صحابہؓ آپؐ کی خدمت میں پیش کرتے تھے۔ اسی طرح فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے کبھی پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھایا۔ اپنے گھرمیں کھانا کبھی خود سے نہیں مانگتے تھے، نہ ہی اس کی خواہش کرتے تھے۔ اگر گھر والے کھانا دے دیتے تو آپؐ تناول فرمالیتے اور جو کھانے پینے کی چیز پیش کی جاتی قبول فرمالیتے۔
آنحضورﷺ کا لباس بھی نہایت سادہ تھا۔ حتٰی کہ بوقتِ وفات بھی آپؐ کے جسم پر محض کرتہ اور پیوند لگی ایک چادر تھی۔ حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ اُون کے موٹے کپڑے پہنتے، چمڑے کے سادہ جوتے استعمال کرتے اور جَو کا دلیہ کھاتے تھے جو کہ پانی کے بغیر حلق سے نہ اترتا تھا۔
آنحضورﷺ کا بستر یا گدا چمڑے کا تھا جس میں کھجور کے پتے اور ریشے بھرے ہوتے تھے۔ بعض اوقات آپؐ صرف کھجور کی ایک چٹائی کو ہی بطور بستر استعمال فرماتے جس کے نشانات آپؐ کے جسم مبارک پر نظر آتے۔
حضرت عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا: میری تعریف میں مبالغہ سے کام نہ لو جیسے نصاریٰ نے عیسیٰ بن مریمؑ کی تعریف میں مبالغے سے کام لیا۔ مَیں تو اللہ کا ایک بندہ ہوں اس لیے مجھے اللہ کا بندہ اور اس کا رسول کہو۔
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ایک پرانے پالان پر سوار ہوکر حج کیا جس پر معمولی سی چادر تھی جو چار درہم کی بھی نہیں تھی۔ آپؐ کہہ رہے تھے کہ اے میرے اللہ! اسے ایسا حج بنادے جس میں کوئی ریا ہو، نہ کسی شہرت کی طلب ہو۔
آنحضور ﷺ اپنے گھریلو کاموں کے علاوہ قومی معرکوں میں بھی اپنے صحابہؓ کے شانہ بشانہ رہتے۔ چنانچہ ابوسعیدؓ بیان کرتے ہیں کہ مسجد نبوی کی تعمیر میں رسول کریمﷺ بھی پتھر ڈھوتے اور یہ شعر پڑھتے۔ (ترجمہ): یہ بوجھ خیبر کے تجارتی مال کا بوجھ نہیں ہے جو جانوروں پر لد کر آیا کرتا تھا۔ بلکہ اے میرے مولیٰ! یہ تقویٰ اور طہارت کا بوجھ ہے جو ہم تیری رضا کے لیے اٹھاتے ہیں۔
حضرت علیؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضورﷺ نے حضرت فاطمہؓ کی شادی پر اُن کو بنیادی ضرورت کا یہ سامان دیا تھا: ریشمی چادر، چمڑے کا گدیلہ جس میں کھجور کے ریشے تھے، آٹا پیسنے کی چکّی، مشکیزہ اور دو گھڑے۔
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے جو پیشے کے لحاظ سے درزی تھا، رسول اللہﷺ کی دعوت کی۔ اُس نے ثرید کا کھانا پیش کیا جس میں کدو بھی تھا۔ آپؐ بڑے شوق سے کدو کھانے لگے کیونکہ آپؐ کو کدو پسند تھے۔
حضرت انسؓ کا ہی بیان ہے کہ آنحضورﷺ نے فرمایا: اگر مجھے بکری کا ایک پایہ بھی تحفہ دیا جائے یا مجھے اس کی دعوت دی جائے تو مَیں قبول کرلوں گا۔
………٭………٭………٭………
مزید پڑھیں: جھنگ میں احمدیت ۔ تبصرہ




