توکّل علیٰ اللہ کے حوالے سے سیر ت النبیﷺ کا ایمان افروز تذکرہ۔ خلاصہ خطبہ جمعہ ۱۸؍ستمبر ۲۰۲۶ء
٭… وہ کون سی چیز تھی جس نے آپؐ کے دل کو ایسا مضبوط کردیا؟ کون سی طاقت تھی جس نے آپؐ کے حوصلے کوایسا بلند کردیا؟ کون سی روح تھی جس نے آپؐ کے اندر ایسی غیر معمولی زندگی پیدا کردی؟ یہ خداپر توکّل کے کرشمے تھے، اس پر بھروسے کے نتائج تھے (حضرت مصلح موعودؓ)
٭… آنحضرتﷺ نے وہ اخلاق جو مصیبت کے وقت کامل راستباز کو دکھانے چاہئیں یعنی خدا پر توکّل رکھنا اور جزع فزع سے کنارہ کرنا اور اپنے کام میں سُست نہ ہونا اور کسی کے رعب سے نہ ڈرنا ایسے طور سے دکھلا دیے کہ کُفّار ایسی استقامت کو دیکھ کر ایمان لائے اور شہادت دی کہ جب تک کسی کو پورا بھروسہ خدا پر نہ ہو ایسی استقامت اور اس طور سے دکھوں کو برداشت نہیں کرسکتا (حضرت مسیح موعودؑ)
٭… جب رسول کریمﷺ نے مختلف بادشاہوں کو تبلیغی خطوط ارسال فرمائے تو شہنشاہِ فارس کسریٰ نے بڑے تکبرسے آپؐ کاخط ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔ جب آنحضورﷺ کو علم ہوا تو آپؐ نےکامل توکّل کے نتیجے میں فرمایا کہ خدا خود ان لوگوں کو پارہ پارہ کرے گا
٭… جنگِ احزاب کےموقعے پر جب سارے عرب نے مل کر مدینے پر حملہ کیا تو باوجود بےسروسامانی ،مسلمانوں نے نہایت بہادری کے ساتھ کفار کے مقابلے کا فیصلہ کیا کیونکہ آنحضورﷺ کے توکّل کی وجہ سے مسلمانوں میں بھی خدا پر توکّل اور بھروسہ انتہا کو پہنچ چکا تھا
خلاصہ خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ ۱۸؍ستمبر ۲۰۲۶ء بمطابق ۱۸؍تبوک ۱۴۰۵؍ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد،ٹلفورڈ(سرے)، یوکے
اميرالمومنين حضرت خليفةالمسيح الخامس ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز نے مورخہ ۱۸؍ستمبر۲۰۲۶ء کو مسجد مبارک، اسلام آباد، ٹلفورڈ، يوکے ميں خطبہ جمعہ ارشاد فرمايا جو مسلم ٹيلي وژن احمديہ کے توسّط سے پوري دنيا ميں نشرکيا گيا۔ جمعہ کي اذان دينےکي سعادت صہیب احمد صاحب (مربی سلسلہ) کے حصے ميں آئي۔
تشہد،تعوذ اورسورة الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضورِانور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا:
آنحضرتﷺ کےاللہ تعالیٰ پر توکّل کا ذکرکرتے ہوئے گذشتہ خطبے میں مَیں نے آپؐ کی مکّےسے ہجرت کے واقعات بیان کیے تھے۔ اس سفر کی کچھ مزید تفصیل بھی ہے جس کا ذکر تاریخ میں ملتا ہے، اور اس سے آپؐ کے توکّل کی شان مزید نمایاں ہوتی ہے۔
اس ہجرت کے موقعے پر سُراقہ بن مالک نےانعام کے لالچ میں نبی کریمﷺ کا پیچھاکرنےکا ارادہ کیا۔ یہ بعد میں مسلمان ہوگئے تھے۔انہوں نے خود یہ واقعہ بیان کیا ہے۔ حضورِانور نے تفصیل سے یہ واقعہ بیان فرمایا۔قریش نے سَو اونٹنیوں کے انعام کا اعلان کر رکھا تھا۔ سراقہ پیچھا کرتے کرتے آنحضورﷺ کے بالکل قریب پہنچ گئے یہاں تک کہ آنحضرتﷺ کےتلاوتِ قرآن کریم کرنے کی آواز سنائی دینے لگی۔سراقہ کہتے ہیں کہ آنحضورﷺ پیچھے مڑکر نہیں دیکھتے تھے تاہم حضرت ابوبکرؓ بکثرت پیچھے مُڑ مُڑ کر دیکھتے تھے۔ اس موقعے پر یکے بعد دیگرے ایسے واقعات رونما ہوئے کہ سُراقہ نے انعام کا لالچ ترک کردیا ۔پہلے تو سراقہ نے فال نکالا جو اس فعل کے خلاف نکلا، سراقہ نے اُسےدرخورِاعتنا نہ جانا اور پیچھا جاری رکھا۔پھر سراقہ کی اونٹنی ٹھوکر کھاکر گِر پڑی اور اس کی ٹانگیں ریت میں دھنس گئیں۔ سراقہ نے پھر فال نکالا جو پھر اس فعل کے خلاف نکلا۔ اس کے بعد سُراقہ نے امان کی آواز لگائی اور آنحضورﷺ سے عرض کیا کہ مجھے یقین ہے کہ آپؐ ایک روز بادشاہ بن جائیں گے۔ پس اس روز کے لیے مجھے تحریر لکھ دیں کہ مجھ سے رحم اور نرمی کا سلوک کیا جائے گا۔ نبی ﷺ کے ارشاد پر اسے یہ تحریر لکھ کر دے دی گئی۔
سراقہ کے واپس لوٹتے ہوئے آپؐ نے ارشاد فرمایا کہ اے سراقہ! اُس روز تیرا کیا حال ہوگا جب کسریٰ کے کنگن تیرے ہاتھوں میں ہوں گے۔ سراقہ یہ سُن حیران و ششدر رہ گیا، یہ پیشگوئی حضرت عمر فاروقؓ کے عہدِ خلافت میں پوری ہوئی۔
حضرت مصلح موعودؓ اس واقعے کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ
وہ کون سی چیز تھی جس نے آپؐ کے دل کو ایسا مضبوط کردیا؟کون سی طاقت تھی جس نے آپؐ کے حوصلے کوایسا بلند کردیا؟ کون سی روح تھی جس نے آپؐ کے اندر ایسی غیر معمولی زندگی پیدا کردی؟ یہ خداپر توکّل کے کرشمے تھے، اس پر بھروسے کے نتائج تھے۔
حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ کی ذات پر یقین ہو اور ساتھ ہی اُسے یہ بھی یقین ہو کہ مجھے اُس نے ایک خاص مقصد کے لیے پیدا کیا ہے وہ ترکِ عمل کب کرسکتا ہے۔ وہ تو سب سے زیادہ عمل کرنے والا ہوتا ہے۔ محمدرسول اللہﷺ کے اعمال آپؐ کے ایمان کی وجہ سے تھے۔ محمد رسول اللہﷺ جہاں ایمان کا اظہار کرتے ہیں، جہاں غارِ ثور میں بیٹھے ہوئے حضرت ابوبکرؓ سے کہتے ہیں کہ ابوبکر!مت گھبراؤ! خدا ہمارے ساتھ ہے۔ وہی ہمارا محافظ ہے۔ وہاں آپؐ دین کے دوسرے کاموں میں رات اور دن اس طرح مشغول رہتے ہیں کہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ ساری خدائی کے کام آپ کے ہی سپرد کیے جاچکے ہیں۔
حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ
آنحضرتﷺ نے وہ اخلاق جو مصیبت کے وقت کامل راستباز کو دکھانے چاہئیں یعنی خدا پر توکّل رکھنا اور جزع فزع سے کنارہ کرنا اور اپنے کام میں سُست نہ ہونا اور کسی کے رعب سے نہ ڈرنا ایسے طور سے دکھلا دیے کہ کُفّار ایسی استقامت کو دیکھ کر ایمان لائے اور شہادت دی کہ جب تک کسی کو پورا بھروسہ خدا پر نہ ہو ایسی استقامت اور اس طور سے دکھوں کو برداشت نہیں کرسکتا۔
جب رسول اللہﷺ اور آپؐ کے صحابہؓ مدینہ تشریف لائے اور انصار نے آپؐ اور آپؐ کے ساتھیوں کو اپنے پاس پناہ دی تو تمام عرب اُن کے مقابلے کے لیے ایک ہوگئے۔ مسلمانوں کی حالت یہ تھی کہ ہر وقت ہتھیار ان کے پاس ہوتے تھے۔ اللہ تعالیٰ پر توکّل بھی تھا مگر ساتھ یہ بھی تھا کہ حملے کا خطرہ ہے تو اپنی حفاظت کے سامان بھی کرنے ہیں۔
اس کی مزید تائید اُس روایت سے ہوتی ہے جس میں ایک ایسی ہی خطرے کی رات میں آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ کاش! میرے صحابہ میں سے کوئی پہرہ دیتا تومَیں کچھ دیر آرام کرلیتا۔ پس تھوڑی ہی دیر میں حضرت سعد بن ابی وقاصؓ ہتھیار لےکر حاضرہوگئے اور ساری رات آنحضورﷺ کا پہرہ دیا۔
جب رسول کریمﷺ نے مختلف بادشاہوں کو تبلیغی خطوط ارسال فرمائے تو شہنشاہِ فارس کسریٰ نے بڑے تکبرسے آپؐ کاخط ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔ جب آنحضورﷺ کو علم ہوا تو آپؐ نےکامل توکّل کے نتیجے میں فرمایا کہ خدا خود ان لوگوں کو پارہ پارہ کرے گا۔
کسریٰ نے آپؐ کو گرفتار کرنے کے لیے پہلے ہی یمن کے گورنر کے ذریعے سپاہیوں کو بھجوایا ہوا تھا۔ جب یہ سپاہی آپؐ کے پاس پہنچے تو آپؐ نے فرمایا کہ آج رات یہاں ٹھہرو کل تمہیں جواب دوں گا۔ اگلی صبح آپؐ نے ان نمائندوں کو فرمایا کہ تم واپس چلے جاؤ اور اپنے آقایعنی والی یمن کو کہہ دو کہ میرے ربّ نے آج رات تیرے ربّ یعنی کسریٰ کو قتل کردیا ہے۔ وہ واپس چلے گئے بعد میں انہیں معلوم ہوا کہ عین اسی رات کسریٰ کو اس کے اپنے ہی بیٹے نے قتل کردیا تھا۔
نبی کریمﷺ جب غزوات کے لیے نکلتے تو یہ دعا پڑھتے:
اے اللہ! تُو میرا بازو ہے اور تُو میرا مددگار ہے اور مَیں تیرے ذریعے ہی لڑائی کرتا ہوں۔
حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ
انسان کو مشکلات کےوقت اگرچہ اضطراب تو ہوتا ہے مگر چاہیے کہ توکّل کو کبھی ہاتھ سے نہ دے۔
آنحضرتﷺ کو بھی بدر کے موقعے پر سخت اضطراب ہوا۔چنانچہ عرض کرتے تھے کہ اے میرے ربّ!اگر تُو نے اس جماعت کو ہلاک کردیا تو زمین میں تیری عبادت پھر کبھی نہیں کی جائے گی۔ مگر آپؐ کا یہ اضطراب صرف بشری تقاضے سے تھا کیونکہ دوسری طرف آپؐ نے توکّل کو بالکل ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔ آسمان کی طرف نظریں تھیں اور یقین تھا کہ خدا تعالیٰ مجھے کبھی ضائع نہیں کرے گا۔
جنگِ احزاب کےموقعے پر جب سارے عرب نے مل کر مدینے پر حملہ کیا تو باوجود بےسروسامانی ،مسلمانوں نے نہایت بہادری کے ساتھ کفار کے مقابلے کا فیصلہ کیا کیونکہ آنحضورﷺ کے توکّل کی وجہ سے مسلمانوں میں بھی خدا پر توکّل اور بھروسہ انتہا کو پہنچ چکا تھا۔
پھر مسلمانوں کی ثابت قدمی اور توکّل کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے بھی کیسا انتظام کیا کہ آندھی اور طوفان نے کفار کو خوف زدہ کردیا اور وہ بھاگ گئے اور بھاگے بھی ایسی حالت میں کہ بہت سارا سامان اور ہتھیار چھوڑ گئے جو بعد میں مسلمانوں کے کام آیا۔
جنگِ بدر کے موقعے پر مدینے میں خُبیب بن اِساف نامی ایک نہایت بہادر شخص تھا۔ یہ شخص قبیلہ خزرج سے تعلق رکھتا تھا ، اور غزوہ بدر کےموقعے تک ابھی مسلمان نہیں ہوا تھا۔ یہ بھی اپنی قوم کے ساتھ جنگ کے لیے روانہ ہوا۔ مسلمان اسے اپنے ساتھ پاکر بہت خوش ہوئے۔ مگر رسول اللہﷺ نے اسے فرمایا کہ ہمارے ساتھ صرف وہی جنگ میں جائے گا جو ہمارے دین پر ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ آنحضورﷺ نے فرمایا کہ تم واپس جاؤ ،ہم مشرک کی مدد نہیں لینا چاہتے۔ وہ دوسری مرتبہ بھی آیا مگر آپؐ نے اسے واپس بھیج دیا۔ آخر تیسری مرتبہ جب وہ آیا تو آپؐ نے فرمایا کیا تم اللہ اور اُس کے رسول پر ایما لاتے ہو؟ اس نے کہا ہاں! اور اس کے بعد وہ مسلمان ہوگیا اور نہایت بہادری کے ساتھ اس نے جنگ لڑی۔
حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ آج کل کے عقل مندوں کے نزدیک تو کسی کو اپنا دشمن بنانا غلطی ہے، مگر سچ پوچھو تو یہ بھی حقّانیت کی ایک دلیل ہے۔ آنحضرتﷺ نے کسی ایک سے بھی نہ رکھی، سب سے بگاڑ لی۔ اُن لوگوں کے نزدیک تو نعوذ باللہ آپؐ نے غلطی کی ہے۔ حالانکہ محض خدا کے لیے سب سے بگاڑ لینا آپؐ کی صداقت کا بیّن ثبوت ہے جس سے آپؐ کی قوّتِ ایمانی کا حال معلوم ہوتا ہے۔
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ وَّ بَارِكْ وَسَلِّمْ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: توکّل علیٰ اللہ کے حوالے سے سیرت النبیﷺ کا ایمان افروز تذکرہ۔ خلاصہ خطبہ جمعہ ۱۱؍ستمبر ۲۰۲۶ء




