متفرق

نیکی کے اجر کی توقع کسی انسان سے نہ رکھنا

اسلامی تعلیم کے مطابق دوسرے سے اچھے اخلاق سے پیش آناتہذیبی اقدار کے زیر اثر اختیار کی ہوئی ایک سطحی عادت کے رنگ میں نہیں ہونا چاہیے بلکہ تمام اخلاق کی جڑیں ایمان باللہ میں پیوست ہونی چاہئیں ۔ محتاجوں کو صدقہ و خیرات اس گھٹیا نیت سے نہیں دینا چاہیے کہ اس کے بدلے میں ان سے بھی کوئی فائدہ حاصل کریں گے۔ وَلَا تَمۡنُنۡ تَسۡتَکۡثِرُ(المدثر: ۷) ترجمہ۔ اور زیادہ لینے کی خاطر احسان نہ کیا کر۔

اسلام کی تعلیم یہ ہےکہ اگر آپ نے کسی پر احسان کیا ہےتو اسے یوں بھول جائیں جیسے کچھ بھی نہیں کیا۔ احسان جتانا اور نیکی پر فخر کرنا اور اسے بڑھا چڑھا کر بیان کرنا نیکی کو برباد کردیتا ہے۔ ایک حقیقی مومن ہرگز ایسا نہیں کرتا ۔ اس کاطرزعمل درج ذیل آیات میں بیان کیا گیا ہے۔ یہ آیات غلط اور صحیح طرز عمل میں بڑا جامع موازنہ پیش کرتی ہیں۔

مَثَلُ الَّذِیۡنَ یُنۡفِقُوۡنَ اَمۡوَالَہُمۡ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ کَمَثَلِ حَبَّۃٍ اَنۡۢبَتَتۡ سَبۡعَ سَنَابِلَ فِیۡ کُلِّ سُنۡۢبُلَۃٍ مِّائَۃُ حَبَّۃٍ ؕ وَاللّٰہُ یُضٰعِفُ لِمَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَاللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیۡمٌ۔ اَلَّذِیۡنَ یُنۡفِقُوۡنَ اَمۡوَالَہُمۡ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ثُمَّ لَا یُتۡبِعُوۡنَ مَاۤ اَنۡفَقُوۡا مَنًّا وَّلَاۤ اَذًی ۙ لَّہُمۡ اَجۡرُہُمۡ عِنۡدَ رَبِّہِمۡ ۚ وَلَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَلَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ۔ قَوۡلٌ مَّعۡرُوۡفٌ وَّمَغۡفِرَۃٌ خَیۡرٌ مِّنۡ صَدَقَۃٍ یَّتۡبَعُہَاۤ اَذًی ؕ وَاللّٰہُ غَنِیٌّ حَلِیۡمٌ۔ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تُبۡطِلُوۡا صَدَقٰتِکُمۡ بِالۡمَنِّ وَالۡاَذٰی ۙ کَالَّذِیۡ یُنۡفِقُ مَالَہٗ رِئَآءَ النَّاسِ وَلَا یُؤۡمِنُ بِاللّٰہِ وَالۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ ؕ فَمَثَلُہٗ کَمَثَلِ صَفۡوَانٍ عَلَیۡہِ تُرَابٌ فَاَصَابَہٗ وَابِلٌ فَتَرَکَہٗ صَلۡدًا ؕ لَا یَقۡدِرُوۡنَ عَلٰی شَیۡءٍ مِّمَّا کَسَبُوۡا ؕ وَاللّٰہُ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الۡکٰفِرِیۡنَ۔(سورۃ البقرہ آیات ۲۶۲تا۲۶۵) ترجمہ۔ ان لوگوں کی مثال جو اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ایسے بیج کی طرح ہے جو سات بالیں اگاتا ہو۔ ہر بالی میں سَو دانے ہوں۔ اور اللہ جسے چاہے(اس سے بھی) بہت بڑھا کر دیتا ہے۔ اور اللہ وسعت عطا کرنے والا اور دائمی علم رکھنے والا ہے۔ وہ لوگ جو اپنے اموال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں پھر جو وہ خرچ کرتے ہیں اس کا احسان جتاتے ہوئے یا تکلیف دیتے ہوئے پیچھا نہیں کرتے ۔ ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے اور ان پر کوئی خوف نہیں ہوگا اور نہ وہ غم کریں گے۔ اچھی بات کہنا اور معاف کردینا زیادہ بہتر ہے ایسے صدقہ سے کہ کوئی آزار اس کے پیچھے آرہاہو۔ اور اللہ بے نیاز (اور) بردبار ہے۔ اے لوگوجو ایمان لائے ہو!اپنے صدقات کو احسان جتاکر یا اذیت دے کر ضائع نہ کیا کرو اس شخص کی طرح جو اپنا مال لوگوں کے دکھانے کی خاطر خرچ کرتا ہےاور نہ تو اللہ پر ایمان رکھتا ہے اور نہ یوم آخر پر۔پس اس کی مثال ایسی چٹان کی طرح ہے جس پر مٹی(کی تہ) ہو پھر اس پر موسلا دھار بارش برسے تو اسے چٹیل چھوڑ جائے۔ جو کچھ وہ کماتے ہیں اس میں سے کسی چیز پر وہ کوئی اختیار نہیں رکھتے۔اور اللہ کافر قوم کو ہدایت نہیں دیتا۔ اسی طرح قرآن کریم فرماتا ہے: وَاَمَّا السَّآئِلَ فَلَا تَنۡہَرۡ (سورۃالضحیٰ آیت ۱۱) ترجمہ۔ اور جہاں تک سوالی کا تعلق ہے تو اسے مت جھڑک۔(ماخوذ از کتاب اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل صفحہ ۱۷۱-۱۷۲) (مرسلہ تابندہ بشریٰ ۔ آئیوری کوسٹ)

مزید پڑھیں: ہم زمین غزلوں کی تلاش اور کمپیوٹر پر بیٹھنا

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button