متفرق مضامین

ہم زمین غزلوں کی تلاش اور کمپیوٹر پر بیٹھنا

(امۃ الباری ناصر)

کمپیوٹر پر لکھنے کا آغاز حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ کے ان گنت احسانات میں سے ایک احسان ہے

کمپیوٹر پر کام کرنے کو عام محاورے میں کمپیوٹر پر بیٹھنا کہا جاتا ہے سب جانتے ہیں کہ کوئی اس کے اوپر چڑھ کر نہیں بیٹھتا۔ میرے کمپیوٹر پر بیٹھنے یعنی کام شروع کرنے کی کہانی بہت دلچسپ ہے۔ آج یہ ارادہ ہے کہ کھول کر بتا دوں کہ کمپیوٹر پر کیوں،کب اور کیسے بیٹھی تھی۔

میرے ساتھ اکثر یہ ہوتا ہے کہ مضمون لکھ کر ایڈیٹر صاحب کو بھیجتی ہوں تو وہ بڑے ملائم لہجے میں میری تحریروں میں کمپوزنگ کی کمزوریوں کی طرف توجہ دلاتے ہیں۔ اور کبھی کبھار بھاری معذرت کے ساتھ اپنی مجبوریاں بیان کرتے ہیں۔ اخبار کی تیاری میں سب کام رضاکارانہ طور پر ہوتے ہیں اگر مضمون کی نوک پلک سنوارنےکے ساتھ علامات ترقیم ( پنکچوایشن) کی بھی اصلاح کرنی پڑے تو بہت زیادہ وقت لگتا ہے۔ میں سمجھ تو گئی ہوں ،کوشش بھی کرتی ہوں۔ ان کی بات بالکل ٹھیک ہے۔ سچ بتاؤں مجھے اس کا احساس ہے کہ میری کوتاہی کی وجہ سے انہیں زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے۔ مجھےسالہا سال کا ذاتی تجربہ ہے کہ تحریروں کی اصلاح اور حرف بینی عرق ریزی کا کام ہے اسی دشت کی سیاحی میں عمر گزری ہے۔ میرے مضمون کے سارے سُقم دور کرنے میں ضرور مشکل پیش آتی ہوگی مگر معذرت کے سوا میرے پاس کوئی حل نہیں ہے۔

میرے پاس ایک تیار بہانہ ہے کہ عمر کا تقاضا ہے۔ سب کچھ اس عمر میں نہیں سیکھ سکتی بعض چیزیں میرے قابو میں نہیں آتیں۔ کمپیوٹر پر ٹائپنگ، کمپوزنگ کی سہولت عمر عزیز کی نصف صدی سے زائد گزرنے کے بعد میسر آئی جوسہولت تو ہے مگر دردسربھی ہے۔ تحریر کو کاٹنا چھانٹنا تو آسان ہو گیا ہے مگر بعض دفعہ کامے اور ہندسے سیٹ کرنے میں وقت لگتا ہے جس سے جھنجھلاہٹ ہوتی ہے۔ یہ میرے عمر رسیدہ ہونے کا لحاظ نہیں رکھتے۔ ان کے ضابطۂ اخلاق میں سینئر سیٹیزن سے کوئی رعایت نہیں۔ اور کہنا ماننے کا تو دستور ہی نہیں۔ جہاں لگانا چاہتی ہوں وہاں نہ لگنے کی ضد ہے جگہ بدلنے کا بڑا شوق ہے۔ ایک دفعہ کھسک جائیں تو ہٹ دھرمی پر اُتر آتے ہیں۔ واپس جگہ پر آنا توہین سمجھتے ہیں بس ضد پکڑ لیتے ہیں کہ ہمارا جسم ہماری مرضی۔ بریکٹ میں لکھنا ہو تو یکدم بریکٹ کے باہر کھڑے ہوجاتے ہیں واپس بلانے کی کوئی صورت کامیاب نہیں ہونے دیتے۔ اردو کے ہندسوں میں پھر بھی کچھ پاسِ ادب ہے۔ کبھی کبھی ٹھیک لکھ لیتی ہوں لیکن جب اردو لکھتے لکھتے انگریزی ہندسے لکھنے لگوں تو وہ میری تجویز کردہ جگہ کو چھوڑ کر اپنی مرضی کی جگہ پر جم کے بیٹھ جاتے ہیں۔ اور پھر حضرت داغ کو بھی پیچھے چھوڑ دیتے ہیں؎

جہاں بیٹھ گئے بیٹھ گئے

ان میں شرارت کا شوق بھی پایا گیا ہے۔ ایک محترمہ کی یاد میں مضمون لکھا کہ وہ ۱۹۳۹ء میں پیدا ہوئی تھیں چھَپ کر آیا کہ وہ ۹۳۹۱ءمیں پیدا ہوئی تھیں۔ وہ تھیں بھی میری سسرالی رشتہ دار، شکر ہے نظر ہی نہیں پڑی۔ اسی طرح سطر کے شروع میں لکھا ہوا سن سطر کے آخر میں چلا جاتا ہے پھر ڈھونڈ کے لاتی ہوں اور جگہ پر رہنے کی عاجزانہ درخواست کرتی ہوں۔ آج تک سمجھ نہیں سکی کہ اسے جہاں میں نے بٹھایا تھا وہیں بیٹھے رہنے میں کیا تکلیف تھی۔ اس عمر میں مجھے کیسے کیسے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں کچھ نہ پوچھئے۔ الفاظ کے اتنے نخرے اٹھانے کا دماغ نہیں ہے۔ پھر تحریر محفوظ نہ کرنے کی سزا بھی ملتی ہے۔ یکدم غائب ہوجاتی ہے۔ کبھی فاصلے دور کروں تو الفاظ جڑ جاتے ہیں۔ بار بار درست کرنا پڑتا ہے۔ مسائل تو ان کے علاوہ بھی ہیں اپنی کوتاہ قامتی کی کہاں تک تشہیر کروں ؟

آخر تو فیصلہ سرِ مقتل اسی کا ہے

اس انتظام جرم و سزا پر نہ جائیے

میرا لکھنے کا شوق بہت پرانا ہے۔ اصل زندگی سے چند سال ہی کم ہوگا۔ قلم دوات سے تختی پر لکھنا بچپن میں سکھا دیا گیا تھا۔ سلیٹ پر سلیٹی سے بھی لکھا۔ بڑی کلاسز میں فاؤنٹین پین کی اجازت ہوئی۔ پین میں سیاہی بھرنے کی ٹیوب ہوتی تھی۔ سستے سے پین ہوتے جس میں کہیں نہ کہیں بال آجاتا سیاہی رسنے لگتی ہاتھ، منہ، یونیفارم سب سیاہی کے دھبوں سے عجیب منظر پیش کرتے۔ پین کا نام ڈالر تھا، شاید امریکی رعب سے رکھا گیا تھا۔ ڈالر پین قلم کی نسبت لکھنے میں رواں ہوتا تھا یہ سہولت بڑی غنیمت تھی۔ بال پوائنٹ آئے تو مزید سہولت ہوئی۔ اچھے سے اچھے پین اور بال پوائنٹ جمع کرکے تیزی سے لکھنے کا شوق پورا کرتی۔

کمپیوٹر پر لکھنے کا آغاز حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ کے ان گنت احسانات میں سے ایک احسان ہے۔ ذرا تفصیل میں جانا پڑے گا۔ لجنہ کراچی کے شعبہ اشاعت کے کاموں میں ہمہ تن مصروف تھی کہ جولائی ۱۹۹۹ء میں حضور رحمہ اللہ کی طرف سے دو صفحات کی فیکس ملی جس میں آپؒ نے ایک ایسےکام کا ارشاد فرمایا جس کی طوالت اور کٹھنائیوں کا کوئی بھی اندازہ نہیں لگا سکتا۔ حضورؒ مملکتِ شعرو سخن کے بادشاہ تھے۔ ان کی وسعت فکر اور دقت نظر کے کئی پہلوؤں کا ذکر اپنے مضامین میں کرتی رہی ہوں۔ آج جو مکتوب پیش کر رہی ہوں اس سے آپ ؒکی جولانیٔ طبع کا ایک نیا زاویہ آشکار ہوگا۔ تحریر ملاحظہ فرمائیے :’’مختلف نئے اور پرانے شعراء کے کلام میں جو یکسانیت یا مطابقت پائی جاتی ہے اور ایک شاعر کی زمین پر دوسروں نے بھی کلام کہا ہوا ہو اُسے زمانی ترتیب کے لحاظ سے مرتب کرکے بھجوائیں۔ مثلاً میر تقی میرؔ کی نظم، فقیرانہ آئے صدا کر چلے، کی طرز پر صدا کر چلے، دعا کر چلے، چلے چلے کے ردیف کے ساتھ ان سے پہلے کے،بعد کے شعراء نے غزلیں کہی ہوں تو وہ سب زمانی ترتیب سے اکٹھی ہو جائیں کہ سب سے پہلے کس نے اس طرزپر نظم یا غزل کہی، پھر کس نے اور پھر کس نے وغیرہ وغیرہ۔ اس سلسلہ میں نقوش کے غزل نمبر میں ولیؔ دکنی، غالبؔ،میؔر، خواجہ میر دردؔ، ذوق ؔوغیرہ کے کلام دیکھ لیں۔ ان سے کافی مدد مل سکتی ہے۔ اسی طرح ولی ؔدکنی کی ایک غزل… خطاب آہستہ آہستہ، گلاب آہستہ آہستہ کے الفاظ پر مشتمل ہے اس میں دیکھیں کہ کن کن دوسرے شعراء نے کوشش کی ہوئی ہے۔ تاریخ وار شاعروں کے نام اور ان کا کلام اکٹھا ہوجائے۔ ولی ؔدکنی کی غزل۔ ۔ کرتے ہیں، غلام کرتے ہیں، سلام کرتے ہیں، تمام کرتے ہیں۔ اس پر بھی دیکھیں کہ اور کس کس شاعر نے غزلیں کہی ہوئی ہیں۔ اسی طرح میر تقی میرؔ کی غزلیں… نوحہ گری کا، آشفتہ سری کا، شیشہ گری کا وغیرہ الفاظ میں ہے۔ میؔر ہی کی ایک اور غزل ہے… آخر کام تمام کیا،عبث بدنام کیا،آرام کیا۔ وغیرہ وغیرہ اس پر بھی اسی رنگ میں کام کریں۔ غالب ؔکی غزلیں… دوا نہ ہوا،برا نہ ہوا،گلا نہ ہوا،خنجر آزما نہ ہوا، غزل سرا نہ ہوا۔ اور زلف کے سر ہونے تک، تم کو خبر ہونے تک، سحر ہونے تک۔ اسی طرح دوسرے بڑے بڑے شعراء کی مشہور غزلیں چن لیں ان پر یہ کام کریں کہ کس نے سب سے پہلے اس پر کہا اور کب کہا اور کیا ہوا پھر دوسرے نمبر پر کون آیا اور تیسرے نمبر پر کون آیا اور اسی طرح بعد میں کون کون آئے، پھر عبید اللہ علیمؔ  بھی صاحبِ طرز شاعر تھے۔ ان کی طرزیں اگرپہلے موجود تھیں تو کس کس شاعر نے اس پر کہا ہوا تھا۔ یہ مواد بھی اکٹھا ہو جائے،صرف ردیف ایک نہیں بلکہ وزن اور بحر اور زمین سبھی ایک ہونی چاہئے۔ ایک بحر،ایک زمین او رایک ہی قافیہ ردیف والی نظمیں کہنے والے جوبہترین شاعر ہیں انہیں ان کے زمانہ کے لحاظ سے الگ نکال لیں تو پھر صحیح موازنہ ہوگا اور یہ بھی پتہ چل جائے گا کہ سب سے پہلے کہنے والا کون سا شاعر تھا…، اردو شعرا کا ہم زمین کلام اکٹھا کرنے کا کام آپ کے سوا اور کوئی نہیں کرسکتا تھا اس لئے آپ کے سپرد کیا ہے۔ یہ کام بہت پھیلا ہوا ہے میں نے بھی جو مطالعہ کیا اس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ بہت پیچیدہ اور پھیلا ہوا کام ہے کوئی آسان کام نہیں ہے۔ اس لئے چیدہ چیدہ چن لیں ورنہ اتنی طوالت ہو جائے گی کہ سنبھالا نہیں جائے گا اور پھر اس کو نبھانا آپ کے لئے آسان کام نہیں ہوگا۔

والسلام ۔ مرزا طاہر احمد۔ خلیفۃ المسیح الرابع‘‘

پیارے حضورؒ جب بھی کوئی کوئی کام ارشاد فرماتے تھے تو پہلا ردّ عمل یہ ہوتا تھا کہ الحمدللّٰہ۔ واہ ری قسمت! اس سے بڑی خوش نصیبی کیا ہوگی کہ حضورؒ کسی کام کے قابل سمجھیں۔ ان شاءاللہ کرنا ہی کرنا ہے خواہ جان لڑانی پڑے۔ کام کے ساتھ دعا بھی ہوتی ہے کام تو فرشتوں کی مدد سے ہوجاتا ہے۔ دعائیں ساتھ رہتی ہیں۔ دنیا و آخرت میں کام آتی ہیں۔ سب سے پہلےنئے، پرانے شاعروں کے بے شمار مجموعہ ہائے کلام اور مستند رسالوں کے غزل نمبر وغیرہ جمع کیے۔ مکرم سلیم شاہجہانپوری نے ذاتی کتاب خزانے سے بہت کچھ دیا۔ بعض علم دوست سہیلیوں نے مجموعہ ہائے کلا م دیے۔ بعض نے مذاق بھی اُڑایا کہ یہ عمر اور غزلوں کا شوق!

بہر صورت مطالعہ کرتی گئی مگر کوئی سرا ہاتھ نہ آتا تھا۔ حضورؒ کا ارشاد تھا کہ ہم زمین غزلیں شعراء کی زمانی ترتیب سے مرتب کی جائیں سب سے پہلے زمانی ترتیب سے شعراء کی فہرست بنا نی شروع کی۔ دنیائے شعر کی ہر مستند کتاب کی ورق گردانی کی مگر زمانی ترتیب کہیں نہ ملی ایسا کوئی ریکارڈ دستیاب نہ تھا۔ لائبریری جا کر کام کرنا کئی وجوہ سے ممکن نہیں تھا پرانے تذکروں سے حالات تلاش کرتی۔ اکثر تو تاریخ پیدائش اور وفات لکھے ہی نہیں گئے تھے اور جو ملتے بھی تو سنہ ہجری میں تھے۔ سنہ ہجری کو سنہ عیسوی میں بدل کر شاعر کے نام کے آگے لکھتی جس کو بعد میں زمانی ترتیب کے مطابق مناسب جگہ پر لکھا۔ اس طرح مہینوں کی محنت سے اردو شعرا کی زمانی ترتیب سے فہرست بنالی۔ ۱۹؍صفحات کی فہرست تیار ہوئی یاد رہے کہ گوگل کی سہولت میسر نہیں تھی۔

ہم زمین غزلوں کی ترتیب کے کام کا بھی کوئی نمونہ میرے علم میں نہیں تھا۔ ولی دکنی سے عبید اللہ علیم تک جائزہ شروع کیا۔ ہر مجموعہ سےغزل کا قافیہ ردیف درج کیا دوسرا مجموعہ اٹھایا پھر قافیہ ردیف درج کیا۔ کوئی دو مل بھی گئے تو بحر مختلف ہوتی۔ شاعروں اور اشعار کے سمندر میں ڈوب کر بھی خاطر خواہ نتیجہ حاصل نہ کرسکی۔ کئی حیلے کیے مگر کوئی طریقِ کار بھی طے نہ ہوسکا۔ جتنے مشورے ملے جتنے طریق سوچے جاسکتے ہیں میں نے سب آزمالیے۔ بچے بھی جانتے تھے کہ اس عمر میں ہماری اماں غزلوں کے پیچھے کیوں پڑی ہے۔ اللہ کریم کو مجھ غریب پر رحم آگیا۔ ان دنوں گھر میں پہلا کمپیوٹر آیا تھا کموڈور نام تھا۔ جس پر بچے کام کرتے تھے میں نے اس کو استعمال کرنے کا سوچا بھی نہیں تھا ۔ ای میل پرکبھی کسی کو پیغام دینا ہوتا تو بچوں سے لکھاتی۔ مجھے تو آن آف کرنا بھی نہیں آتا تھا۔ بچوں سے اس کی کارکردگی کی تعریف سنتے ہوئے خیال آیا۔ کیا میں اس سے مدد لے سکتی ہوں ؟ اپنے بیٹے محمود سے پوچھا کہ کمپیوٹر میں ایسا کوئی پروگرام بناسکتے ہو جس میں سارے ردیف قافیے ڈال دوں پھر ان میں سے ایک ایک کا رزلٹ لے لوں۔ اللہ کا شکر کہ اس نے پروگرام بنا دیا اور میں نے اس میں مواد بھرنے کے لیے ابتدائی سبق لینے شروع کیے۔ اس طرح میں نے کمپیوٹر پر کام کرنا شروع کیا۔ جو بہت کار گر رہا۔ غزلوں کے ردیف اور قافیہ کے آخری حرف ڈالتی جاتی ایک مثال دیتی ہوں درجِ ذیل مصرعے دیکھیے:

جس لیے آئے تھے سو ہم کر چلے

کھائی ٹھوکر، گر پڑے، گر کر اٹھے، اٹھ کر چلے

چھوڑ کر بیمار کو یہ کیا قیامت کر چلے

لے کے ہم دنیا میں کیا آئے تھے، کیا لے کر چلے

چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اُٹھا کے چلے

لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے

گلوں میں رنگ بھرے باد نوبہار چلے

پہلے جو ہم چلے تو فقط یار تک چلے

کمپیوٹر میں اس طرح ڈالا۔ ی چلے۔ ر چلے۔ ار چلے۔ ک چلے۔ اس کے ساتھ شاعر کا نام کتاب کا نام صفحہ نمبر وغیرہ ڈالا۔ اور مہینوں ڈالتی گئی۔ پھر، رچلے، والی ساری غزلوں کی لسٹ کا پرنٹ آؤٹ لے کر کتابیں کھول کر ان میں سے ایک بحر اور وزن کی ہم زمین غزلیں شعرا کی زمانی ترتیب سے درج کرنے لگی۔ کتابیں کھول کھول کر دینے میں چند بچیوں نے تعاون کیا۔ ہم زمین غزلیں ہاتھ سے لکھ کر الگ الگ فائل میں ترتیب سےرکھتی گئی۔ غزلوں کا انڈیکس ۴۵؍صفحات میں بنا۔ ۲۴۶۷؍صفحات پرہم زمین غزلیں لکھیں۔ ساتھ ساتھ پیارے حضور ؒکو دعا کے لیے کام کی رپورٹ بھی دیتی رہی۔ پیارے آقا نے میرا کام پسند فرمایا اور دعائیں دیں صرف مجھے نہیں میرے بزرگوں کو بھی۔ ہے نا مزے کی بات! تحریر فرمایا:’’ہم زمین غزلوں کے کام کو آپ بڑی محنت، سلیقہ اور قرینہ سے سرانجام دے رہی ہیں۔ بڑی بات ہے۔ آپ کو محنت کی داد دینی پڑتی ہے۔جزاکم اللہ احسن الجزا۔ اللہ قبول فرمائے اور آپ کی معاونات کو بھی اجر عظیم عطا فرمائے اور سب کام وقت پر پورے ہوں…

میں رمضان میں آپ اور آپ کے بزرگوں کو دعاؤں میں یاد رکھوں گا۔‘‘

مارچ ۲۰۰۰ء میں کام مکمل ہوا کام کی فائلیں پیارے حضورؒ کی خدمت میں بھجوادیں۔ آپؒ نے پسندیدگی کا اظہار فرمایا۔ ۲۶؍مارچ ۲۰۰۰ء کا مکتوب تھا:

پیاری عزیزہ امۃ الباری ناصر صاحبہ!

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

آپ کا خط اور ہم زمین غزلوں کی ترتیب کا کام موصول ہوا۔ جزاکم اللہ احسن الجزاء

آپ نے تو حیرت انگیز کام کیا ہے۔ ماشاء اللہ بہت زبردست محنت کی ہے۔ میں تو حیران ہوں کہ آپ نےاتنے بڑے کام کو کیسے اتنی تیزی سے نپٹا لیا۔ جزاکم اللّٰہ احسن الجزاء فی الدنیا والاخرۃ

اب یہ ساری جلدیں آپ کو اپنے نام سے چھپوانی ہوں گی… اللہ تعالیٰ آپ کی سب خدمتوں کو قبول فرمائے۔ اس کی رحمتیں بارش بن کر نازل ہوں۔ ہمیشہ اس کے پیار کی نظریں آپ پر پڑتی رہیں اور اس کی رضا کی راہوں پر چلنے کی توفیق پاتی رہیں۔ سب اخلاص سے خدمت کرنے والیوں کو اور بچوں کو بہت بہت سلام۔ خداحافظ وناصر۔

والسلام خاکسار

مرزا طاہر احمد

سچ بتاؤں تو ان پیاری دعاؤں کے سامنے میں نے تو کچھ محنت نہیں کی تھی یہ سارا اللہ تعالیٰ کا کرم ہے اور حضور کا لطف و احسان۔ یہ سعادت زورِ بازو سے نہیں ملتی یہ دعائیں عرش سے رحمت کی بارش بن کر برس رہی ہیں۔

ترے در کی گدائی سے بڑاہے کون سا درجہ

مجھے تو بادشاہت بھی ملے تو میں نہ لوں ساقی

بات ختم کرنے سے پہلے ہم زمین غزلوں کا ایک نمونہ بھی پیش کردوں۔

وہ جو کشش تھی اس کی طرف سے کہاں ہے اب (میر تقی میر )

دیکھا خیال سے تو یہ صورت عیاں ہے اب ( زکی)

میں کیا کروں بلا سے جو تو مہرباں ہے اب (داغ)

قتل عدو میں عذر نزاکت گراں ہے اب (مومن)

صیاد مجھ سے دور ہے خوش باغباں ہے اب (جگر مراد آبادی)

بات شروع ہوئی تھی کہ میری کمپوزنگ میں غلطیوں کی اور کہاں جا نکلی۔ اب لیپ ٹاپ پر سارے کام کرتی ہوں۔ تحقیق، تحریر، ترتیب، تہذیب سب کچھ ہورہا ہے مگر یہ کومے اور ہندسے لکھنے نہیں آئے۔ خود کو تسلی دیتی ہوں کہ سب لوگوں کو سب کام نہیں آتے اور مجھے تو اور بہت سے کام نہیں آتے حق یہ ہے کہ کچھ بھی نہیں آتا۔ اللہ تعالیٰ پردہ پوشی فرماتا رہے۔ ہر اس مہربان کے لیے دعاگو ہوں جس نے کسی نہ کسی رنگ میں خاکسار کی معاونت کی۔ اللہ تعالیٰ سب کا مددگار ہو اور لامتناہی اجر ملے۔ آمین

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: جماعت احمدیہ کے صد سالہ جوبلی جشنِ تشکر کے موقع پر ڈاک ٹکٹ جاری کرنے والا پہلا ملک حکومتِ سیرالیون کی جانب سے یادگاری ڈاک ٹکٹ کا اجراء ، سڑک موسوم اور اعلیٰ ترین سول ایوارڈ

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button