خطبہ جمعہ بطرز سوال و جواب
(خطبہ جمعہ فرمودہ ۲۱؍فروری ۲۰۲۵ء بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد، ٹلفورڈ(سرے) یوکے)
سوال نمبر۱: حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے خطبہ کے عنوان کی بابت کیابیان فرمایا؟
جواب:فرمایا: کل ۲۰؍فروری تھی۔ یہ دن جماعت میں پیشگوئی مصلح موعود کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔…اس پیشگوئی میں لڑکے کی خصوصیات کے بارے میں الہامی الفاظ کا ایک حصہ اس طرح سے ہے کہ ’’وہ سخت ذہین و فہیم ہو گا‘‘ اور پھر ہے کہ ’’…علوم ظاہری و باطنی سے پُر کیا جائے گا۔‘‘… دنیاوی لحاظ سے تو آپ کی تعلیم شاید پرائمری تھی بلکہ یہ بھی نہیں تھی۔ ہاں سکول جاتے رہے لیکن امتحانوں میں حضرت مصلح موعودؓ نے خود لکھا ہے، بتایا ہے کہ کبھی پاس نہیں ہوتے تھے۔ دنیاوی مضمونوں میں بہت کمزور تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے آپؓ سے ایسے ایسے علمی اور دینی اور انتظامی کام کروائے ہیں کہ بڑے بڑے پڑھے لکھے بھی آپؓ کے سامنے طفل مکتب لگتے ہیں، بالکل بچے لگتے ہیں اور آپؓ کا باون سالہ دورِ خلافت اس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ آپؓ نے دنیا کے مختلف موضوعات پر بےشمار تقاریر کیں، مضامین لکھے۔ دینی اور قرآنی علوم کی تو کوئی انتہا ہی نہیں ہے۔ آپؓ نے دنیاوی موضوعات پر بھی، ملکی سیاست، بین الاقوامی سیاست کے بارے میں تقاریر کیں، مضمون لکھے۔ تاریخی حوالے سے غیر معمولی معیار کے مضامین لکھے اور تقاریر کیں۔ اقتصادی امور اور دنیا کے مختلف نظاموں سوشل ازم، کمیونزم، کیپٹل ازم کے بارے میں بھی ان کا تجزیہ کیا … حتٰی کہ عسکری معاملات، فوجی معاملات اور سائنسی اور علمی موضوعات پر بھی علم و معرفت کی وہ باتیں بیان فرمائیں کہ انسان کی عقل دنگ رہ جاتی ہے …مختصر وقت میں ان کی تفصیل بیان کرنا ممکن نہیں بلکہ صرف تعارف بھی ممکن نہیں ہے۔ نمونةً میں چند نمونے یہاں پیش کروں گا جو صرف تعارف پر مبنی ہیں۔ ’’اسلام کا اقتصادی نظام‘‘، ’’نظام نَو‘‘، ’’اسلام میں اختلافات کا آغاز‘‘ یہ موضوعات تو ایسے ہیں جن کا اکثر جماعت میں ذکر ہوتا ہے۔ ان سے ہٹ کر بعض دوسرے مضامین عموماً لوگوں کے سامنے نہیں آتے ان کا تعارف میں پیش کروں گا۔
سوال نمبر ۲:حضورانورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے حضرت مصلح موعودؓ کی کتاب’’ ترکی کامستقبل اورمسلمانوں کافرض‘‘ کی بابت کیابیان فرمایا؟
جواب: فرمایا: یہ ۱۹۱۹ء کی بات ہے یعنی آپؓ کی خلافت کے ابتدائی دور کی۔ اس کا خلاصہ یا تعارف یہ ہے کہ اتحادِ ملت کے ہر موقع سے پوری طرح فائدہ اٹھانے کےلیے حضورؓ نے ایسے وقت میں جبکہ ترکیہ حکومت خطرے میں تھی نہایت مدبّرانہ راہنمائی کرتے ہوئے ۱۸؍ستمبر ۱۹۱۹ء کو یہ کتاب تحریر فرمائی۔ مختلف الخیال مسلمانوں کے اتحاد و اجتماع کےلیے آپؓ نے یہ راہنما اصول بیان فرمایا کہ ’’میرے نزدیک اس جلسہ کی بنیاد صرف یہ ہونی چاہیے‘‘، ایک جلسہ ہونا تھا وہاں ترکی حکومت کے حق میں ’’کہ ایک مسلمان کہلانے والی سلطنت کو… ہٹا دینا یا ریاستوں کی حیثیت دینا ایک ایسا فعل ہے جسے ہر ایک فرقہ جو مسلمان کہلاتا ہے ناپسند کرتا ہے اور اس کا خیال بھی اس پر گراں گزرتا ہے‘‘۔پھر آپؓ نے یہ بھی فرمایا کہ ترک سلطنت اور مرکزِ اسلام حجاز کے متعلق جو میری راہنمائی ہے وہ اس طرح ہے۔ آپؓ لکھتے ہیں کہ ’’عرب کی غیرتِ قومی جوش مار رہی ہے اور اس کی حریت کی رَگ پھڑک رہی ہے …تیرہ سو سال کے بعد اب وہ پھر اپنی چاردیواری کا آپ حاکم بنا ہے اور اپنے حسنِ انتظام اور عدل و انصاف سے اس نے اپنے حق کو ثابت کر دیا ہے۔ اس کے متعلق کوئی نئی تجویز نہ کامیاب ہو سکتی ہے نہ کوئی معقول انسان اس کو قبول کر سکتا ہے‘‘۔ترکیہ کی بہتری کےلیے آپؓ نے ایک یہ مشورہ بھی دیا کہ ’’صرف جلسوں اور لیکچروں سے کام نہیں چل سکتا، نہ روپیہ جمع کر کے اشتہاروں اور ٹریکٹوں کے شائع کرنے سے…بلکہ ایک باقاعدہ جدوجہد سے جو دنیا کے تمام ممالک میں اس امر کے انجام دینے کےلیے کی جاوے۔ یہ زمانہ علمی زمانہ ہے۔‘‘ آپؓ فرماتے ہیں ’’یہ زمانہ علمی زمانہ ہے اور لوگ ہر ایک بات کےلیے دلیل طلب کرتے ہیں … پس اس مشکل کام کو پورا کرنے کےلیے باقاعدہ انتظام ہونا چاہیے …بے فائدہ کام دانا کا کام نہیں ‘‘…ترکوں یا اسلام کے خلاف بغض و تعصّب کی وجہ بیان کرتے ہوئے آپؓ نے فرمایا کہ ’’آباؤ اجداد سے ان کے دل میں‘‘ یعنی اسلام مخالف لوگوں کے دلوں میں ’’اسلام کی نسبت اس قدر بدظنیاں بٹھائی گئی ہیں کہ وہ اسلام کو ایک عام مذہب کے طور پر خیال نہیں کرتے بلکہ ایک ایسی تعلیم خیال کرتے ہیں جو انسان کو انسانیت سے نکال کر جانور اور وہ بھی وحشی جانور بنا دیتی ہے … اسلام کے سوا دوسرے مذاہب سے وہ ڈرتے نہیں…مگر قابل نفرت سمجھتے ہیں مگر اسلام سے وہ خوف کھاتے ہیں۔‘‘ یعنی جو اسلام مخالف لوگ ہیں ’’اس کی ترقی کو تہذیب و شائستگی کے رستہ میں روک ہی نہیں خیال کرتے بلکہ خود انسانیت کےلیے اسے مہلک یقین کرتے ہیں‘‘۔اور آجکل تو اس پر پہلے سے زیادہ زور دیا جا رہا ہے۔ ہر جگہ ہر ملک میں جو رائٹ وِنگ (right wing)ہیں یا دوسرے، وہ اسلام کے خلاف بڑی مہم چلا رہے ہیں۔ مسلمانوں کے خلاف مہم چلا رہے ہیں۔ اس صورتحال کی تبدیلی کےلیے یہ راہنمائی فرمائی کہ ’’مسلمان اپنی غلطی سے تائب ہو کر خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کریں اور خود اسلام کو سمجھیں اور اس کی حقیقت سے آگاہ ہوں اور دوسروں کو آگاہ کریں تا کہ وہ نکبت و اِدبار جو اس وقت مسلمانوں پر آ رہا ہے وہ دُور ہو … اگر مذہب کی خاطر انہوں نے تبلیغ نہیں کی، اگر خدا کے حکم کے ماتحت انہوں نے اس بے نظیر تعلیم کو دنیا کے سامنے پیش نہیں کیا۔‘‘ عملاً تو یہی ہوا ہے ناں۔ اسلام انہوں نے کب پیش کیا ہے ’’تو اب اپنی حیات کے قیام کےلیے ہی کچھ کوشش کریں۔‘‘ زندہ رہنا ہے تو اس کےلیے کچھ کوشش کریں ’’کیونکہ ان کی زندگی اور اسلام کی تبلیغ دونوں لازم و ملزوم ہو گئے ہیں ‘‘۔
سوال نمبر۳:حضورانورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نےآل مسلم پارٹیزکانفرنس میں حضرت مصلح موعودؓ کی طرف سےدی جانےوالی ہدایات اورتجاویز کی بابت کیابیان فرمایا ؟
جواب: فرمایا: آپؓ نے ’’آل مسلم پارٹیز کانفرنس کے پروگرام پر ایک نظر‘‘ کے عنوان سے ہدایات دیں۔ یہ پمفلٹ حضور نے آل انڈیا مسلم پارٹیز کانفرنس کے اجلاس میں پیش کرنے کےلیے ۱۳؍جولائی ۱۹۲۵ء کو تحریر فرمایا۔ منتظمین کانفرنس کی خواہش تھی کہ امام جماعت احمدیہ بنفس نفیس اس میں شریک ہو کر اپنے خیالات کا اظہار فرماویں۔ حضرت مصلح موعودؓ نے تحریر فرمایا کہ میں خود اس میں شمولیت سے معذور ہوں لیکن اپنے نمائندوں کے ذریعہ سے اپنے خیالات پیش کر دیتا ہوں۔ اس پمفلٹ میں حضور نے سب سے پہلے اسلام کی مذہبی اور سیاسی تعریف بیان فرمائی اور فرمایا کہ اسلام کی ایک تو مذہبی تعریف ہے جس کا ہر شخص کو اختیار ہے کہ وہ جو چاہے اس کی تعریف کرے۔ دوسری اسلام کی سیاسی تعریف ہے۔ سیاسی طور پر کون لوگ مسلمان ہیں؟ اس کا جواب صرف ہندو عیسائی اور سکھ ہی دے سکتے ہیں جن سے مسلمانوں کا سیاسی واسطہ پڑتا ہے کیونکہ اگر ایک جماعت کے پیرو جو خود کو مسلمان کہتے ہیں اور سمجھتے ہیں ان کو دوسرے فرقہ کے لوگ خواہ غیرمسلم ہی سمجھیں لیکن سیاست میں ہندو اور سکھ جب ان سے معاملہ کریں گے تو ان سے ایک ہی معاملہ کریں گے اور جو کارروائی وہ ایک قوم کے خلاف کریں گے وہی دوسری قوم کے خلاف بھی کریں گے۔ہر فرقے کو انہوں نے مسلمان سمجھ کے کرنا ہے۔ پس سیاستاً ان کے مفاد ایک ہیں اور مسلمانوں نے اس نکتہ کو نہ سمجھا تو دوسرے ایک ایک کر کے ان کو کھا جائیں گے اور ان کو اس وقت ہوش آئے گی جب ہوش آنے کا کچھ بھی فائدہ نہیں ہو گا۔ اس لیے حضورؓ نے تمام مسلمان فرقوں کے سامنے یہ زریں اصول پیش کیا کہ سیاسی معاملات میں مسلمان مکمل اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ کریں کیونکہ سیاسی لحاظ سے اگر آپ کسی قوم کو الگ کر دیں گے تو یہ کیسے ممکن ہے وہ دوسری قوموں کی طرف رجوع نہ کرے۔ اس کے بعد اسلام کی ترقی اور ترویج اور اس کے سیاسی استحکام کےلیے بعض تجاویز دیں اور فرمایا کہ اسلام کے استحکام کےلیے ضروری ہے کہ تمام ملک ہند میں اسلام کی ترویج کےلیے تبلیغی نظام مقرر کیاجائے اور تبلیغی انجمنوں کے باہم اتحاد کی کوئی راہ نکالی جائے کیونکہ اسلام کی زندگی تبلیغ پر ہی موقوف ہے اور اس کےلیے مکمل نظام وضع کرنے کی ضرورت ہے۔ (اور اب تو اس کا دائرہ عمل ساری دنیا ہو چکی ہے۔) نیز مسلمانوں کی صنعتی اور تعلیمی میدان میں ترقی کےلیے باقاعدہ صیغہ جات قائم کیے جائیں۔ ہر صیغے کا مطمح نظر ہو اور سال کے آخر پر بتایا جائے کہ مطمح نظر کو کس حد تک پورا کیا گیا ہے۔ اب تو یہ اسلام کی بڑی بڑی حکومتوں کا کام ہے۔ نیز اس وقت فوری طور پر ایک ایسی کمیٹی کا قیام بھی ضروری ہے جو اس امر کا جائزہ لے کہ مسلمانوں کو دوسری قوموں کے اثر سے کس طرح آزاد کروایا جا سکتا ہے اور کون کون سے شعبہ ہائے زندگی ایسے ہیں جن میں ماہر مسلمانوں کی تعداد بہت کم ہے۔ پھر وہ کمیٹی اس کمی کو پورا کرنے کےلیے کوشش کرے۔ اسی طرح حضرت مصلح موعودؓ نے مسلم بنک کے قیام کی ضرورت پر بھی زور دیا اور فرمایا کہ اگر بلا سود کی صورت نکل سکے جو کہ نکل سکتی ہے تو ہماری جماعت بھی اس میں شامل ہونے کےلیے تیار ہے اور آپؓ نے بیت المال اور مسلم چیمبر آف کامرس کے قیام کی بھی تجویز دی نیز آپ نے جہاں غیر مسلم حکومتیں ہیں وہاں فوجداری مقدمات کے علاوہ مسلمانوں کے دیگر تنازعات کو عدالتوں میں لے جانے کی بجائے باہم مل کر تصفیہ کےلیے بھی پنچایتی نظام وضع کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔آپؓ نے فرمایا کہ قیام امن کےلیے یہ ضروری ہے کہ ایک دوسرے کے مذہبی معاملات میں دخل نہ دیا جائے۔ وسعتِ حوصلہ کے ساتھ دوسروں کو ان کے عقیدہ کے مطابق کام کرنے دیں اور خود اپنے عقیدہ کے مطابق کام کریں۔ حضور نے تجارت اور صنعت و حرفت کے متعلق فرمایا کہ تجارت ایسا شعبہ ہے جس سے مسلمانوں نے سب سے زیادہ تغافل برتا ہے اور تجارتی لحاظ سے وہ ہندوؤں کے غلام بن کے رہ گئے ہیں۔ اس زمانے میں تھے۔ اب تو ہمیں نظر آ رہا ہے کہ ہم دنیا کے بڑے بڑے جو امیر لوگ ہیں، مختلف مذاہب کے جو لوگ تجارت میں ہیں، چاہے وہ یہودی ہیں، عیسائی ہیں یا کوئی اور ہیں ان کے غلام بنے ہوئے ہیں۔ اس وقت یہی حالات تھے۔ آجکل اس معاملے میں دنیا کی حکومتوں اور تاجروں کے غلام ہم بن رہے ہیں جیسا کہ میں نے کہا۔ پس اس طرف مسلمان حکومتوں کو توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ تجارت اور صنعت و حرفت میں بھی مسلمانوں کی ترقی کےلیے خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ آخر پر حضرت مصلح موعودؓ نے مسلمانوں کے باہمی تنازعات کو ختم کر کے باہم اتحاد اور یگانگت کی اہمیت کی طرف توجہ دلائی اور فرمایا کہ پھر ایک دفعہ اس امر کی طرف توجہ دلاتے ہوئے میں اپنے مضمون کو ختم کرتا ہوں کہ سب محنت رائیگاں اور سب تدبیریں عبث جائیں گی اگر اس امر کو اچھی طرح نہ سمجھ لیا گیا کہ ہم باوجود ایک دوسرے کو کافر کہنے کے اغیار کی نظروں میں مسلمان ہیں اور ایک کا نقصان دوسرے کا نقصان ہے۔ پس سیاسی میدان میں ہمیں مذہبی فتووں کو نظر انداز کر دینا چاہیے کیونکہ وہ ان کے دائرہ عمل سے خارج ہیں۔ اسلام ہرگز یہ نہیں کہتا کہ تم اپنی سیاسی ضروریات کےلیے ان لوگوں سے مل کر کام نہیں کر سکتے جن کو تم مسلمان نہیں سمجھتے۔ اگر رسول کریم ﷺ مشرکوں کے مقابلہ میں یہود سے سمجھوتہ کر سکتے ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ مسلمان کہلانے والے فرقے اسلام کی سیاسی برتری بلکہ کہو کہ سیاسی حفاظت کےلیے اس میں مل کر کام نہ کر سکیں۔ اگر ہم اس موقع پر اتحاد نہ کر سکیں گے تو یقیناً اس سے یہ ثابت ہو گا کہ ہمارا اختلاف اسلام کےلیے نہیں بلکہ اپنی ذات کےلیے ہے، اپنے نفسوں کےلیے ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس بدبختی سے محفوظ رکھے۔
سوال نمبر۴: حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے گول میزکانفرنس کےموقع پرحضرت مصلح موعودؓ کی طرف سےلکھےجانےوالےمضمون کی بابت کیابیان فرمایا ؟
جواب: فرمایا: گول میز کانفرنس ہوئی جس کی تفصیل کا ہماری تاریخ میں حضرت مصلح موعودؓ کے حوالے سے ذکر ملتا ہے۔ ’’حکومت برطانیہ کے قائم کردہ سائمن کمیشن کی رپورٹ اہلِ ہند کی توقعات پر پوری نہ اتری اس لیے وہ انہیں قابلِ قبول نہ تھی۔ ان حالات میں حکومت کی طرف سے گول میز کانفرنس کے انعقاد کا اعلان ہوا تاکہ برطانیہ اور ہندوستان کے نمائندگان ایک جگہ جمع ہو کر ہندوستان کے سیاسی ارتقاء کے بارے میں غورو فکر کر سکیں۔ اس موقع پر حضورؓ نے مسلمانوں کی راہنمائی کےلیے فوری طور پر یہ مضمون تحریر فرمایا اور انہیں نصیحت کی کہ وہ باہمی تفرقہ اور اختلافات کو ترک کر دیں اور قومی مفاد کی خاطر اتفاق اور اتحاد سے کام کریں۔ صرف اسی طریق پر وہ مخالف قوم کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنے حقوق حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکیں گے۔ انہیں کوشش کرنی چاہیے کہ کانفرنس میں ایسے نمائندے جائیں جو قوم کی نمائندگی کا حق ادا کر سکیں۔ حضورؓ نے اس موقع پر گورنمنٹ کو بھی مشورہ دیا کہ وہ سیاسی جماعتوں کے مشورہ سے نمائندوں کا انتخاب کرے تا کہ کانفرنس کے فیصلوں کو لوگ خوش دلی سے قبول کر لیں۔ مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت کے سلسلہ میں حضور نے فرمایا: ’’میرے نزدیک آل مسلم پارٹیز کانفرنس کےلیے کام کا وقت ابھی آیا ہے۔ خالی اس امر کو شائع کر دینا کہ مسلمانوں کے یہ مطالبات ہیں کافی نہیں ہے۔ اگر ایسے لوگ راؤنڈ ٹیبل کانفرنس میں گئے جنہوں نے ان مطالبات کو پسِ پشت ڈال دیا تو آل پارٹیز کانفرنس کے فیصلہ کی قیمت کچھ بھی باقی نہیں رہتی۔ پس یہی وقت ہے کہ وہ ایک طرف گورنمنٹ کو غلط انتخاب کے بد نتائج سے آگاہ کرے اور دوسری طرف پبلک کو اس کے خطرات سے واقف کرے اور اس وقت تک آرام نہ لے جب تک مسلمانوں کی نمائندگی کا فیصلہ مسلمانوں کے منتخب نمائندوں اور ان کی اہم سیاسی انجمنوں کے ذریعہ نہ ہو۔‘‘
مزید پڑھیں: دعاؤں اور صدقات سے بلائیں ٹل جاتی ہیں




