یورپ (رپورٹس)

جماعت احمدیہ کوسووو کا تیرھواں جلسہ سالانہ ۲۰۲۶ء

٭… جلسہ سالانہ کے موقع پر احباب جماعت کے نام حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا خصوصی پیغام

٭… معاشرے کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے غیر از جماعت مہمانوں کی شرکت ٭…۳۰۰؍سےزائد احباب کی شمولیت

اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ کوسووو کو اپنا تیرھواں جلسہ سالانہ مورخہ ۱۷؍مئی ۲۰۲۶ء کو کامیابی سے منعقد کرنے کی توفیق ملی۔

جلسہ سالانہ میں کوسووو کے علاوہ البانیہ سے ایک خصوصی وفد نے شرکت کی جبکہ بلغاریہ، شمالی مقدونیہ، یوکے اور جرمنی سے بھی مہمان شریک ہوئے۔ جلسہ میں مکرم ابراہیم مائیکل نونن صاحب مبلغ انچارج آئرلینڈ بطور مرکزی نمائندہ شریک ہوئے۔

افتتاحی اجلاس:جلسہ کی کارروائی کا آغاز تلاوت قرآن کریم اور البانوی ترجمہ سے ہوا۔ بعد ازاں جلسہ سالانہ کے موقع پر حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا ارسال کردہ خصوصی پیغام خاکسار (مبلغ سلسلہ و صدر جماعت کوسووو)نے البانوی زبان میں پڑھ کر سنایا۔ مختلف مقررین نے خدا تعالیٰ سے تعلق، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ اور اسلام کی عالمگیر و پُرامن تعلیمات کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ مقررین نے اس امر پر زور دیا کہ موجودہ دور کے چیلنجز کا حقیقی حل خدا تعالیٰ سے مضبوط تعلق، اعلیٰ اخلاق اور خدمت انسانیت میں مضمر ہے۔

نمائش:جلسہ سالانہ کے موقع پر جماعت احمدیہ کوسووو کی تعلیمی، رفاہی اور خدمت خلق کی سرگرمیوں پر مشتمل خصوصی نمائش کا اہتمام کیا گیا۔ اس میں ملک بھر میں جاری نیشنل مضمون نویسی کے مقابلہ، شجرکاری کی مہمات، تعلیمی سرگرمیوں، ہیومینٹی فرسٹ کے فلاحی منصوبہ جات اور دیگر سماجی خدمات کو اجاگر کیا گیا۔ خصوصاً مضمون نویسی کے مقابلہ اور شجرکاری پروگرام حاضرین کی خصوصی توجہ کا مرکز رہے۔

اس کے علاوہ پہلی مرتبہ پورے خطۂ بلقان میں ’’بارلاس کلیکشن‘‘ کے زیر اہتمام اسلامی خطاطی کی خصوصی نمائش بھی منعقد ہوئی جس میں اسلامی فن خطاطی کے خوبصورت اور نادر نمونے پیش کیے گئے۔ مقامی و بین الاقوامی مہمانوں نے اس کاوش کو بے حد سراہا اور اسے جلسہ سالانہ کی نمایاں خصوصیات میں شمار کیا۔

دوسرا اجلاس:جلسہ سالانہ کے دوسرے اجلاس میں خدمت دین، اسلامی اقدار اور اخلاقی تربیت کے موضوعات پر مختلف تقاریر ہوئیں۔ بعد ازاں نماز ظہر و عصر ادا کی گئیں اور شاملین کی خدمت میں ظہرانہ پیش کیا گیا۔

امسال جلسہ سالانہ کی ایک نمایاں خصوصیت یہ بھی تھی کہ پہلی مرتبہ پورے پروگرام کا بلغاری زبان میں بیک وقت ترجمہ کیا گیا۔ اس سہولت کے ذریعہ بلغاریہ سے آنے والے مہمان جلسہ کی تمام کارروائی سے براہ راست مستفید ہوسکے۔ حاضرین نے اس اقدام کو جماعت احمدیہ کوسووو کی بین الاقوامی وسعت اور مہمان نوازی کا خوبصورت اظہار قرار دیا۔

اختتامی اجلاس:اختتامی اجلاس میں جماعت احمدیہ کوسووو اور ہیومینٹی فرسٹ کے مختلف تعلیمی، سماجی اور رفاہی منصوبوں پر تفصیلی پریزنٹیشن پیش کی گئی۔ اسی موقع پر مقابلہ مضمون نویسی میں کامیاب طلبہ و طالبات میں انعامات اور اسناد تقسیم کی گئیں۔ اس کے بعد مرکزی نمائندہ صاحب نے ’’بیعت کی دس شرائط‘‘ کے موضوع پر اختتامی تقریر کی۔ آپ نے خلافت احمدیہ سے وابستگی، روحانی اصلاح، اعلیٰ اخلاق اور خدمت انسانیت کی اہمیت بیان کرتے ہوئے حاضرین کو ان تعلیمات کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنانے کی تلقین کی۔

اختتامی اجلاس کے دوران کوسووو پولیس کے نمائندگان اور مختلف بلدیات کے اعلیٰ عہدیداران کی جانب سے مرکزی مہمان کو خصوصی اسناد تشکر اور یادگاری اعزازات پیش کیے گئے۔ مقررین نے جماعت احمدیہ کوسووو کی تعلیمی، سماجی، رفاہی، ماحولیاتی اور بین المذاہب ہم آہنگی کے لیے جاری خدمات کو سراہتے ہوئے اپنی جانب سے اظہار تشکر کیا۔

اجتماعی دعا کے ساتھ یہ جلسہ سالانہ اپنے بابرکت اختتام کو پہنچا۔ الحمدللہ علیٰ ذالک

اس جلسہ میں۳۰۰؍ سے زائد احباب شامل ہوئے۔

(رپورٹ: جناح الدین سیف۔ نمائندہ الفضل انٹرنیشنل)

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکے جلسہ سالانہ کوسووو ۲۰۲۶ء کے موقع پر بصیرت افروز پیغام کا اردو مفہوم

پیارے احباب جماعت احمدیہ کوسووو

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ

میں بہت خوش ہوں کہ آپ اپنا ۱۳واں جلسہ سالانہ ۱۷؍مئی ۲۰۲۶ء کو منعقد کر رہے ہیں۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کے جلسہ کو عظیم کامیابی سے نوازے اور تمام شاملین بے شمار روحانی برکات حاصل کریں۔

میں آپ کو یاد دہانی کروانا چاہتا ہوں کہ جلسہ میں شمولیت کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کریں، دینی علم اور تفہیم میں ترقی کریں، اپنی زندگیوں میں پاک تبدیلیاں پیدا کریں اور انہیں اپنے وجود کا حصہ بنائیں، اس فانی دنیا کی خواہشات اور لغویات سے خود کو بچائیں، بنی نوع انسان کے ساتھ پیار، محبت اور بھائی چارے کے تعلقات کو بڑھائیں، ان پاک مقاصد کے حصول کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتوں اور قابلیتوں کے ساتھ کوشش کریں اور اسی طرح دنیا بھر میں اسلام کا پیغام پھیلانے کا عہد کریں۔

یقیناً اگرچہ جلسوں میں ہماری شمولیت روحانی ترقی کے قیمتی مواقع فراہم کرتی ہے، لیکن اس کا حقیقی مقصد عبادت کا ماحول پیدا کرنا ہے۔ جلسہ کے اس بابرکت نظام کے ذریعہ جسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے الٰہی ہدایت کے تحت قائم فرمایا تھا، ایک ایسا روحانی ماحول پیدا ہوتا ہے جو لوگوں کو دوبارہ اللہ تعالیٰ سے جوڑتا ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہے:’’اس جلسہ میں ایسے حقایق اور معارف کے سنانے کا شغل رہے گا جو ایمان اور یقین اور معرفت کو ترقی دینے کیلئے ضروری ہیں اور نیز اُن دوستوں کیلئے خاص دعا ئیں اور خاص توجہ ہوگی اور حتی الوسع بدرگاہ ارحم الراحمین کوشش کی جائے گی کہ خدائے تعالیٰ اپنی طرف ان کو کھینچے اور اپنے لئے قبول کرے اور پاک تبدیلی ان میں بخشے اور ایک عارضی فائدہ ان جلسوں میں یہ بھی ہوگا کہ …آپس میں رشتہ تودّد و تعارف ترقی پذیر ہوتا رہے گا … اور اس روحانی جلسہ میں اور بھی کئی روحانی فوائد اور منافع ہوں گے جو انشاء اللہ القدیر وقتاً فوقتاً ظاہر ہوتے رہیں گے‘‘(مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ ۳۱۹)

ہمیں اپنی بیعت سے وابستہ عظیم ذمہ داریوں اور جماعت کے اندر تقویٰ یعنی راستبازی کے قائم ہونے کی ضرورت کو بھی ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہیے۔ یقیناً حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے واضح فرمایا ہے کہ ہم اپنی بیعت کے تقاضوں کو صرف اسی وقت پورا کر سکتے ہیں جب ہم اس مقام پر پہنچ جائیں جہاں ہم آپؑ کی کامل پیروی کریں اور اس عہد کی راہ میں کسی بھی دنیاوی رشتے،تعلق یا ذمہ داری کو حائل نہ ہونے دیں۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ جو لوگ آپؑ کے ہاتھ پر بیعت کرتے ہیں انہیں پنجوقتہ نمازوں کو باقاعدگی سے ادا کرنا چاہیے اور تہجد پڑھنے کی بھی کوشش کرنی چاہیے۔ انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر مسلسل درود بھیجنا چاہیے، اپنے گناہوں کی معافی مانگنی چاہیے اور استغفار کرنے میں مداومت اختیار کرنی چاہیے۔ انہیں اپنے دل کی گہرائیوں سے اللہ تعالیٰ کے احسانوں کو یاد رکھنا چاہیے اور اس کی حمد و ثنا کو اپنے روزمرہ کے معمول کا ایک ضروری حصہ بنانا چاہیے۔

میں آپ کو تاکید کرتا ہوں کہ خلافت احمدیہ کے الٰہی نظام کو اولین ترجیح دیں۔ خلیفۃ المسیح کے ساتھ ایک قریبی تعلق قائم کرنے کی ہر ممکنہ کوشش کریں اور ہمیشہ وفادار رہیں۔ آپ کو ایم ٹی اے کثرت سے دیکھنا چاہیے اور اپنے اہل خانہ خصوصاً اپنے بچوں کو بھی اس کی تلقین کرتے رہیں۔ بالخصوص میرے خطبات جمعہ باقاعدگی سے سنیں نیز دیگر تقریبات اور مواقع پر میرے خطابات اور نصائح بھی سنیں۔ اس سے آپ خلافت کے ساتھ ایک مضبوط تعلق اور وابستگی برقرار رکھ سکیں گے۔

میں تبلیغ کے حوالے سے بھی آپ کی اہم ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں جو ہر احمدی مسلمان کے لیے لازمی ہے۔ آپ کو دانشمندانہ منصوبہ بندی کرنی چاہیے اور کوسووو کے لوگوں تک اسلام احمدیت کا پُرامن پیغام پہنچانے کے لیے نئے اقدامات پر غور کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اس نیک مقصد میں ہر لحاظ سے کامیابی عطا فرمائے۔

آخر میں میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کے جلسہ کو بڑی کامیابی سے نوازے اور آپ کو اپنی زندگیوں میں تقویٰ، حسن سلوک اور اسلام احمدیت و انسانیت کی خدمت کی طرف ایک حقیقی تبدیلی لانے کی توفیق عطا فرمائے۔ اللہ آپ سب پر فضل فرمائے۔

مزید پڑھیں: واقفات نو اور واقفین نو کینیا کے سالانہ اجتماعات ۲۰۲۶ء کا انعقاد

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button