خلاصہ خطبہ جمعہ

توکّل علیٰ اللہ کے حوالے سے حضرت مسیح موعودؑ کا پاکیزہ نمونہ۔ خلاصہ خطبہ جمعہ ۲؍اکتوبر ۲۰۲۶ء

٭… آج کل کے لوگوں کے نزدیک تہذیب یہ ہے کہ دنیا کا کیڑا بن جائیں اور خدا کو بھول جائیں اور ظاہری اسباب کی پرستش میں لگ جائیں مگر خدا تعالیٰ کے نزدیک تہذیب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پرپورا بھروسہ حاصل ہو جائے اور دل کو سچی پاکیزگی حاصل ہو جائے

٭… ہمارا مذہب تو یہ ہے کہ اگر تمام طبیب دنیا کے مایوس ہو جائیں اور موت کا فتویٰ لگائیں تب بھی کافی توجہ ہونے پر دعا قبول ہو کر شفا ہو جاتی ہے

٭… توکّل یہی ہے کہ جو اسباب اللہ تعالیٰ نے مقرر کیے ہیں ان کو حتّی المقدور جمع کرو اور پھر خود دعا میں لگ جاؤ کہ خدا اس کا انجام بخیر کرے۔ صد ہا آفات ہیں جو ان اسباب کو بھی تہ و بالا کر سکتی ہیں۔ان کو مٹا کر ہمیں منزل مقصود پر پہنچا

٭…مکرم عطا الرحمٰن صاحب آف مغربی بنگال انڈیا ، مکرمہ خدیجہ صدیقہ کونتو صاحبہ آف انڈونیشیا اور مکرم عبدالجلیل صاحب آف انڈونیشیا کی وفات پر مرحومین ذکر خیر اور نماز جنازہ غائب

خلاصہ خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ ۲؍اکتوبر ۲۰۲۶ء بمطابق ۲؍اخاء ۱۴۰۵؍ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد،ٹلفورڈ(سرے)، یوکے

اميرالمومنين حضرت خليفةالمسيح الخامس ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز نے مورخہ ۲؍اکتوبر ۲۰۲۶ء کو مسجد مبارک، اسلام آباد، ٹلفورڈ، يوکے ميں خطبہ جمعہ ارشاد فرمايا جو مسلم ٹيلي وژن احمديہ کے توسّط سے پوري دنيا ميں نشرکيا گيا۔ جمعہ کي اذان دينےکي سعادت مولانا فیروز عالم صاحب کے حصے ميں آئي۔

تشہد،تعوذ اورسورة الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضورِانور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا:

اپنی ابتدائی زندگی سے ہی اللہ تعالیٰ کے فضل، اُس کا آپؑ سے سلوک اور آپؑ کا اللہ تعالیٰ پہ توکّل جو تھا اس کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ تیس برس قبل میرے والد صاحب اپنی آخری عمرمیں بیمار ہوئے جس میں ان کی وفات مقدّر تھی۔اس روز دوپہر میں الہام ہوا کہ وَالسَّمَاءِ وَ الطَّارِقِجس کے معنی ہیں قسم ہے آسمان کی اور اس حادثے کی جو آفتاب کے غروب کے وقت پڑے گا۔اور ساتھ ہی دل میں ڈالا گیا کہ یہ ان کی وفات کی طرف اشارہ ہے۔یہ اصل میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عزا پُرسی تھی۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ جب مجھے خبر دی گئی تو مجھے کچھ دکھ پہنچا۔ ان کو زندگی میں گورنمنٹ کی طرف سے کچھ حقوق حاصل تھے جس کی وجہ سے دل میں یہ خوف پیدا ہوا کہ اب تنگی کے دن ہم پر آئیں گے۔تب اسی وقت غنودگی میں یہ الہام ہوا کہ اَلَیۡسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبۡدَہٗ یعنی کیا خدا اپنے بندے کے لیے کافی نہیں۔ اس الہام الٰہی کے ساتھ دل قوی ہو گیا جیسے کوئی سخت دردناک زخم مرہم سے اچھا ہو جاتا ہے۔ یہ عمل بارہاآزمایا گیا ہے کہ وحی الٰہی میں دلی تسلی دینے کے لیے ایک خاصیت ہے یعنی آپؑ کو یقین تھا کہ اللہ کافی ہے اور کسی چیز کی فکر کرنے ضرورت نہیں۔

آپؑ نے فرمایا کہ جب مجھے یہ الہام ہوا تومَیں نے اسی وقت یہ سمجھ لیا کہ خدا مجھے ضائع نہیں کرے گا۔تب مَیں نے ایک ہندو کھتری ملا وامل ساکن قادیان کو یہ الہام لکھ کر دیا اور یہ سارا قصہ اسے سنایا اور فوری امرتسر بھیجا تامحمد شریف صاحب کلانوری کی معرفت کسی نگینے میں کھدوا کر مہر بنوا کر لے آئے ۔اور مَیں نے اس ہندو کو تیار کیا تا وہ گواہ ہو اور مولوی محمد شریف بھی گواہ ہوجائیں۔ چنانچہ مولوی صاحب کی معرفت سے یہ انگوٹھی مبلغ پانچ روپے میں تیار ہو کر میرے پاس پہنچ گئی ۔ اور اب تک میرے پاس موجود ہے۔ حضور نے فرمایا کہ اور اللہ کے فضل سے اب تک چلتی آ رہی ہے۔

حضور انور نے فرمایا کہ آپ علیہ السلام کے اللہ پر توکّل اور سچائی پر قائم رہنے کے غیر بھی معترف تھے۔ملک صلاح الدین صاحب بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے ایک مجلس میں حضرت صاحب ؑکی مخالفت شروع کی تو مولوی فضل دین صاحب جو ایک غیر احمدی وکیل تھے اور مقدمہ اقدام قتل میں حضور ؑکے وکیل تھے ۔انہوں نے نہایت جوش میں آ کر کہا کہ میں مرزا صاحب کی عظیم شخصیت اور اخلاق کا قائل ہوں۔ مَیں نے بڑے بڑے نیک لوگوں کو دیکھا ہے کہ قانونی مشوروں پر انہوں نے اپنا بیان تبدیل کر لیا لیکن آپؑ کو ایسا پایا کہ جنہوں نے سچ کے مقام سے قدم نہیں اٹھایا۔ میں نے مارٹن کلارک کے مقدمے میں ایک قانونی بیان تجویز کیا اور میں نے کہا کہ ملزم کا بیان حلفی نہیں ہوتا۔ مرزا صاحب نے بیان پڑھ کر کہا کہ اس میں تو جھوٹ ہے۔ خدا تعالیٰ نے تو اجازت نہیں دی کہ ملزم جھوٹ بولے۔ میں نے کہا کہ آپ کیوں جان بوجھ کر اپنے آپ کو بلا میں ڈالتے ہیں لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا: مَیں یہ قانونی بیان دے کر ناجائز فائدہ اٹھانے کے لیے اپنے خدا کو ناراض کر دوں۔یہ ممکن نہیں خواہ کچھ ہو جائے۔ وہ کہتے ہیں کہ آپؑ نے فرمایا کہ

مَیں نے کبھی وہم بھی نہیں کیا کہ آپ کی وکالت سے فائدہ ہوگا۔ میرا بھروسہ تو خدا پر ہے جو میرے دل کو دیکھتا ہے اورمیں اس پر توکّل کرتا ہوں۔

آپؑ نے فرمایا کہ میرا بیان آپ کے اس قانونی بیان سے زیادہ موثر ہوگا۔خواہ سزا ہو جائے لیکن مَیں خوش ہوں گا کہ مَیں نے خدا کی نافرمانی نہیں کی اور عجیب بات ہے کہ آپؑ بری ہو گئے۔ فرمایا کہ وکالت تو ایک دنیاوی چیز ہے لیکن توکّل اللہ تعالیٰ پرکرنا چاہیے۔ یہ غیر بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔

حضور انور نے فرمایا کہ حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓ بیان فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ

آج کل کے لوگوں کے نزدیک تہذیب یہ ہے کہ دنیا کا کیڑا بن جائیں اور خدا کو بھول جائیں اور ظاہری اسباب کی پرستش میں لگ جائیںمگر خدا تعالیٰ کے نزدیک تہذیب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پر پورا بھروسہ حاصل ہو جائے اور دل کو سچی پاکیزگی حاصل ہو جائے ۔

ایک مجلس میں کچھ بیماریوں کا ذکر تھا ۔حضورؑ نے فرمایا: میرا مذہب بیماریوں میں دعا کے ذریعے سے شفا کے متعلق جتنا میرے دل میں ہوتاہے ، مَیں ظاہر نہیں کر سکتا۔ طبیب ایک حد تک ٹھہر جاتا ہے اور مایوس ہو جاتا ہے۔ اکثر لوگ خط لکھتے ہیں کہ ڈاکٹر نے جواب دے دیا ہے۔لیکن اس کے آگے خدا دعا کے ذریعے سے راہ کھول دیتا ہے کہ جو حدیں لوگوں نے مقرر کی ہوئی ہیں اس سے آگے بڑھ کر امید پیدا ہو اوراسی طرح اللہ تعالیٰ کی شناخت شروع ہوتی ہے ۔ آپؑ فرماتے ہیںکہ

ہمارا مذہب تو یہ ہے کہ اگر تمام طبیب دنیا کے مایوس ہو جائیں اور موت کا فتویٰ لگائیں تب بھی کافی توجہ ہونے پر دعا قبول ہو کر شفا ہو جاتی ہے۔

حضور انور ایدہ اللہ نے فرمایا کہ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی ؓکی علالت کے حوالے سے شیخ یعقوب علی عرفانی صاحبؓ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی متوکّلانہ شان بیان کرتےہیں:

مولوی صاحبؓ  کی بیماری میں حضرت صاحب ؑنے اپنی کمال محبت اور ایثار کا اور اللہ تعالیٰ پر کامل توکّل اور بھروسے کا نمونہ دکھایا جو ایک اہل بصیرت کے لیے کافی ثبوت ہے حضرت اقدسؑ کے مِن جانب اللہ ہونے کا اور خدا تعالیٰ کے ساتھ ان کا سچا تعلق ہونے کا اور اس بات کا کہ کوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نمونہ آج امت میں دیکھنا چاہےتو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے علاوہ آج دنیا میں کوئی نہیں۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام آخری وقت تک دعا کرتے رہے لیکن جب وقت آگیا تو پھر اللہ کی رضا پر راضی ہو گئے ۔

آپؑ فرماتے ہیں کہ

توکّل یہی ہے کہ جو اسباب اللہ تعالیٰ نے مقرر کیے ہیں ان کو حتّی المقدور جمع کرو اور پھر خود دعا میں لگ جاؤ کہ خدا اس کا انجام بخیر کرے۔ صد ہا آفات ہیں جو ان اسباب کو بھی تہ و بالا کر سکتی ہیں،ان کو مٹا کر ہمیں منزل مقصود پر پہنچا۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ حضرت سید زین العابدین شاہ صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ جونہی علاقے میں طاعون نمودار ہوتی آپؑ اپنے گھر کی صفائی کا حکم دیتے، بورڈنگ ہاؤس کی صفائی کرواتے اور تمام احباب کو حکم دیتے کہ اپنے گھروں میں فنائل کا استعمال کرین اور دھونی دیں۔ آپؑ نےفرمایا کہ

اسباب سے کام لینا بھی اللہ تعالیٰ کی نعمت کا شکریہ ادا کرنا ہے اور ترکِ اسباب شریعتِ الٰہیہ کے خلاف ہے ۔ توکّل کا مقام اس کے بعد ہے ۔سچی معرفت یہ ہے کہ اسباب کے پیچھے خدا تعالیٰ کے ہاتھ کو دیکھا جائے۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰنے فرمایا کہ حضرت مصلح موعودؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات سے دو تین سال قبل جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو شدید کھانسی ہوئی۔اس وقت میری عمر ۱۷؍سال تھی اور آپؑ کو دوائی دینا میرے سپر دتھا۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓ کے نسخے بھی استعمال ہوتے تھے اور دوسرے بھی لیکن کھانسی بڑھتی جاتی تھی ۔یہ ۱۹۰۷ء کا واقعہ ہے۔ عبدالحکیم مرتد نےآپؑ کی کھانسی کی تکلیف کا پڑھ کر لکھا تھا کہ آپؑ نعوذ باللہ سِل کی بیماری میں مبتلا ہو کر فوت ہوں گے ۔ اس لیے میں بہت احتیاط کرتا تھا کہ کہیں ان کو خوشی کا غلط موقع نہ مل جائے۔ بعض اوقات کھانسی کا اتنا لمبا دورہ پڑتا تھا کہ معلوم ہوتا تھا کہ سانس رک جائے گا۔ اسی حالت میں باہر سے ایک دوست آئے اور تحفے کے طور پر پھل لائے تو میں نے وہ آپؑ کے سامنے پیش کر دیا کہ یہ لائے ہیں۔ آپؑ نے یہ دیکھاتو فرمایا کہ ان کو جزاک اللہ کہہ دو۔اور ان میں سے کیلا اٹھایا۔ اور شاید مجھے سبق دینے کے لیے فرمایا کہ یہ کھانسی میں کیسا ہوتا ہے؟ مَیں نے کہا کہ یہ اچھا نہیں ہوتا تو آپؑ مسکرا پڑے اور چھیل کر کھانا شروع کر دیا۔ مَیں نے کہا کھانسی بہت سخت ہے اور یہ کھانسی میں اچھا نہیں ہے۔ آپؑ مسکرا کر اس کو چھیل کر کھاتے رہے اور مَیں نے نادانی میں اس پھر اصرار کیا۔ فرمایا کہ مجھے ابھی الہام ہوا ہے :کھانسی دور ہو گئی۔ حالانکہ نہ کوئی دوا استعمال کی مگر کھانسی دور ہوگئی۔ یہ صرف الٰہی تصرف سے ہوا۔

حضور انور نے فرمایا کہ اس حوالے سے مزید انشاءاللہ آئندہ بیان کروں گا۔

خطبے کے دوسرے حصے میں حضورِانور نےدرج ذیل

مرحومین کا ذکرِ خیر اور نمازِ جنازہ غائب

پڑھانےکا اعلان فرمایا:

پہلا ذکر ہے

مکرم عطا الرحمٰن صاحب مغربی بنگال انڈیا کا جو گذشتہ دنوں ۷۶؍سال کی عمر میں وفات پاگئے۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مرحوم اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصی تھے۔پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ ایک بیٹی اور تین بیٹے شامل ہیں۔ ایک بیٹے مفیض الرحمان صاحب مربی سلسلہ بوسنیا ہیں۔ایک بیٹے شاہ نور صاحب معلم ہیں انڈیا میں اور ایک داماد صابر علی صاحب مربی سلسلہ ہیں۔ واقفینِ زندگی کا خاندان سمجھ لیں۔ آپ کے مربی سلسلہ بیٹے میدان عمل میں ہونے کی وجہ سے جنازے میں شامل نہیں ہو سکے۔ خاندان میں احمدیت حضرت خلیفۃ المسیح اوّلؓ کے زمانے میں آپ کے دادا کے ذریعے سےآئی۔ جو اپنے علاقے کے بااثر شخصیت تھے۔احمدیت قبول کرنے بعد دین کی خاطر ایک نئی مسجد بنوائی جو مغربی بنگال کی پہلی مسجد بیت الاوّل کے نام سے ہے۔ بعد میں مخالفت کا سامنا رہا ۔کشتی کے ذریعے تیس چالیس کلومیٹر کا راستہ طے کر کے سودا سلف لاتے رہے۔ ایک سیاسی پارٹی میں شامل تھے۔دنیاوی سرگرمیاں ترک کر کے قادیان چلے آئے۔ دارالمسیح اور مسجد مبارک میں خدمت کرتے رہے۔ آپ ہر جماعتی کام کو توکّل،دعا اور پوری مستعدی سے انجام دیتے اور موسم کی مشکلات خاطر میں نہ لاتے۔ آپ کی کوشش سے جماعتیں قائم ہوئیں اور کئی نوجوانوں نے زندگیاں وقف کیں۔ جماعتی اموال کو کم سے کم خرچ کر کے پیسےبچاتے۔

مکرمہ خدیجہ صدیقہ کونتو صاحبہ انڈونیشیا کی جو گذشتہ دنوں ۸۱؍سال کی عمر میں وفات پاگئیں ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو پانچ بچوں،تین بیٹے اور دو بیٹیوں سے نوازا۔ تین مرتبہ نیشنل صدر لجنہ اماء اللہ انڈونیشیا خدمت کی توفیق ملی۔ آپ نے زندگی کے آخری لمحے تک جماعت کی خدمت کی۔ خلافت سے گہری محبت تھی۔اپنے اخلاص، دیانتداری اور عاجزی اور وفا کی وجہ سے جانی جاتی تھی۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کے انڈونیشیا دورے میں آپ کو پورے قافلے کی خدمت کرنے کا موقع ملا۔ ظفراللہ کونتو صاحب مربی سلسلہ کہتے ہیں کہ مرحومہ میری کزن تھیںلیکن میں انہیں اپنی سگی بہن کی طرح سمجھتا ہوں ۔آپ بہت رحم دل تھیں ۔پوری کوشش کرتیں کہ جماعتی پروگراموں کے ساتھ ساتھ عوامی اور رشتہ داروں کے پروگراموں میں بھی شامل ہوں۔مربیان کی عزت کرتیں اور مولانا کہتیں۔اس کہ وجہ یوں بیان کرتیں کہ ایک تونظام کی وجہ سے اور دوسراتاکہ مربیان کو ان کی ذمہ داریاں یاد رہیں۔

عبدالجلیل صاحب انڈونیشیا گذشتہ دنوں ۷۶؍سال کی عمر وفات پا گئے۔انا للہ و انا الیہ راجعون۔ آپ کے دو بیٹے اوردو بیٹیاں ہیں۔ ان کے ایک بیٹے ویسٹ جاوا کے ریجنل امیر ہیں۔ جنوبی سمارٹرا میں برنائی جماعت کی بنیاد آپ نے رکھی۔ خاندان کی اخلاقی و روحانی تربیت کا خیال رکھتے۔ معاشرے میں ایک مثالی شخصیت سمجھے جاتے۔ لوگ آپ سے مشورہ لیتے ۔روزانہ قرآن کریم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کا مطالعہ کرتے۔ مرحوم نے مسجد کے لیے اپنی زمین کا ایک ٹکڑا جماعت کو دیا۔ پانچوں نمازیں بروقت باقاعدگی سے ادا کرتے اور نماز تہجد بھی پڑھتے۔چندوں میں باقاعدہ تھے۔ ہر وقت موت کو یاد رکھتے اور دعا کے لیے کہتے۔

حضور انور نے تمام مرحومین کی مغفرت اور بلندیٔ درجات کے لیے دعا کی فرمائی۔

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: توکّل علیٰ اللہ کے حوالے سے حضرت مسیح موعودؑ کا پاکیزہ نمونہ۔ خلاصہ خطبہ جمعہ ۲۵؍ستمبر ۲۰۲۶ء

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button