یورپ (رپورٹس)

سویڈن کی پہلی مسجد، مسجد ناصر، گوتھن برگ کی پچاسویں سالگرہ کے سلسلہ میں استقبالیہ تقریب

اللہ تعالیٰ کے فضل سے مورخہ ۳؍اکتوبر ۲۰۲۶ء کو جماعت احمدیہ سویڈن کے زیر اہتمام سویڈن کی پہلی مسجد، مسجد ناصر، گوتھن برگ کی پچاسویں سالگرہ کے سلسلہ میں ایک خصوصی استقبالیہ تقریب منعقد ہوئی۔ اس مسجد کا سنگ بنیاد ۲۷؍ستمبر ۱۹۷۵ء کو حضرت مرزا ناصر احمد صاحب خلیفۃ المسیح الثالثؒ نے رکھا، جبکہ ۲۰؍اگست ۱۹۷۶ء کو حضورؒ نے اس کا افتتاح فرمایا۔ اس تقریب میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات سمیت تقریباً ۱۰۰؍افراد نے شرکت کی جن میں قریباً ۵۰؍معزز مہمان شامل تھے۔ ان میں ممبران پارلیمنٹ، پروفیسرز، پولیس کے نمائندگان اور مذہبی راہنما شامل تھے۔

مہمانوں کی آمد پر ان کی خدمت میں ریفریشمنٹس پیش کی گئیں جس کے بعد انہیں مسجد میں قائم تاریخی نمائش کا دورہ کروایا گیا۔ اس نمائش میں مسجد ناصر کی تاریخ اور اس کے مختلف ادوار کو اجاگر کیا گیا تھا۔ مہمانوں نے نمائش میں گہری دلچسپی لی اور اسے سراہا۔

تقریب کا آغاز مکرم رضوان سلیم صاحب صدر جماعت احمدیہ گوتھن برگ کی تلاوت قرآن کریم سے ہوا۔ اس کے بعد مکرم آغا یحییٰ خان صاحب مبلغ انچارج سویڈن نے استقبالیہ کلمات کہے اور مہمانوں کو خوش آمدید کہا۔ آپ نے ان کی آمد پر شکریہ ادا کرتے ہوئے اس تقریب کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ بعد ازاں مکرم عامر منیر چودھری صاحب لوکل سیکرٹری امور خارجہ جماعت احمدیہ گوتھن برگ نے ایک معلوماتی پریزنٹیشن پیش کی جس میں مسجد ناصر کی تاریخ اور قیام کے پس منظر پر روشنی ڈالی گئی۔ آپ نے بتایا کہ گذشتہ پانچ دہائیوں کے دوران مسجد ناصر عبادت گاہ ہونے کے ساتھ ساتھ اسلام کے تعارف، بین المذاہب مکالمے اور معاشرتی روابط کے فروغ کا اہم مرکز رہی ہے۔

پروگرام کے دوران مختلف اہم شخصیات کے ویڈیو پیغامات پیش کیے گئے۔ متعدد مہمانوں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے مسجد کی تاریخی اہمیت اور معاشرے میں اس کے مثبت کردار کو سراہا اور مذہبی رواداری، باہمی احترام اور مختلف مذہبی برادریوں کے درمیان تعمیری روابط کی اہمیت پر زور دیا۔ ان میں ڈاکٹر قانتہ صدیقہ صاحبہ بھی شامل تھیں جو سویڈن کی پہلی احمدی خاتون ہیں۔ آپ نے ۱۹۶۷ء میں اسلام احمدیت قبول کیا اور آپ کو قرآن کریم کا ترجمہ کرنے کی سعادت بھی حاصل ہوئی۔ ایک یہودی خاتون، جنہیں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے ملاقات کا شرف حاصل ہو چکا ہے، نے مسجد سے اپنے تعلق کا اظہار کرتے ہوئے اسے ’’اپنی مسجد‘‘ قرار دیا اور یہاں خود کو محفوظ محسوس کرنے کا ذکر کیا۔

پروگرام کے اختتام پر مکرم مامون الرشید صاحب امیر جماعت احمدیہ سویڈن نے تمام مہمانوں کی تشریف آوری پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ بعد ازاں تمام شرکاء کی خدمت میں کھانا پیش کیا گیا جس کے دوران مہمانوں کو باہمی تبادلۂ خیال اور روابط کو مزید مستحکم کرنے کا موقع ملا۔ تقریب کے اختتام پر متعدد مہمانوں نے ایم ٹی اے سویڈن کے لیے انٹرویوز بھی ریکارڈ کروائے اور پروگرام کے انتظامات اور مختلف پہلوؤں کو سراہا۔

تمام معزز مہمانوں کی خدمت میں مسجد ناصر کی پچاسویں سالگرہ کے موقع پر تیار کیے گئے خصوصی سووینئرز اور جماعت احمدیہ کی کتب بھی پیش کی گئیں۔

اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ استقبالیہ تقریب کامیاب رہی۔ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات کی شرکت اور ان کے مثبت تاثرات اس تقریب کی کامیابی کا مظہر تھے۔ اللہ تعالیٰ مسجد ناصر کو آئندہ بھی اسلام کے پُرامن پیغام اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کا ذریعہ بنائے۔ آمین

(رپورٹ: رضوان احمد افضل۔ نمائندہ الفضل انٹرنیشنل)

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: مدرسہ احمدیہ کولیکورو، مالی میں تین ماہ کی تعلیمی و تربیتی کلاس کا انعقاد

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button