ہنسنا منع ہے

ہنسنامنع ہے!

جنگلات

استاد (پپو سے): بتاؤ جنگلات کسے کہتے ہیں ؟

پپو جلدی سے بولا: جناب! وہ جنگ جس میں لات چلائی جائے۔

ہڈی

کلیم دُور سے لنگڑاتا ہوا آ رہا تھا کہ سلیم نے فہیم سے کہا :میرے خیال میں اِس کے ٹخنے کی ہڈی ٹوٹ گئی ہے۔

فہیم کہنے لگا: نہیں! لگتا ہے کہ اِس کے گھٹنے کی ہڈی ٹوٹ گئی ہے۔

جب کلیم قریب آیا تو انہوں نے پوچھا تو کلیم نے کہا: میری کوئی ہڈی نہیں ٹوٹی۔ چپل ٹوٹ گئی ہے۔

دو لقمے

پیٹو (حکیم صاحب سے) : حکیم صاحب میرا پیٹ بھاری ہو گیا ہے۔ جلدی سے کوئی علاج کریں۔

حکیم صاحب دوا پکڑاتے ہوئے بولے کہ جلدی سے یہ پھکی اور یہ دو گولیاںکھا لو۔

پیٹو: اگر اتنی گنجائش ہوتی تو دو لقمے اور نہ کھا لیتا!

جلدی

اسکوٹر سوار( بھاگتے ہوئے بیٹے سے):ارے بیٹا کہاں جانا ہے ، میں تمہیں چھوڑآتا ہوں۔

لڑکا: نہیں ابو جان! مجھے جلدی ہے۔ میں خود ہی چلا جاؤں گا۔

بیمارسےملاقات

ایک غیر حاضر دماغ پروفیسر صاحب کو نوکر نے اطلاع دی کہ ڈاکٹر صاحب آئے ہیں۔

پروفیسر نے کروٹ لے کر آنکھیں بند کر لیں اورکہا کہ اُن سے کہہ دو آج میں بیمار ہوں کسی سے نہیں مل سکتا۔

بھاری لفافہ

ڈاکخانے کاکلرک: یہ لفافہ بھاری ہے اس پر ایک اور ٹکٹ لگے گا۔

دیہاتی : لیکن بابو صاحب ٹکٹ لگانے سے تو لفافہ اور بھاری ہو جائے گا۔

دودھ

شہر کا ایک بچہ اپنے دادا دادی کے پاس پہلی بار گاؤں پہنچا ۔ اس نے دیکھا کہ اس کے دادا نے دودھ دوہنے کے بعد تھوڑا سا دودھ چھوٹی سی بالٹی میں ڈال کر بچھڑے کے سامنے رکھ دیا۔

بچہ چند لمحوں تک دیکھتا رہا پھر اُچھل پڑا اور بولا:آہا ! دادا جان ، اب میں سمجھا۔ آپ اس وقت جب کہ یہ گائیں چھوٹی ہوتی ہیں ان کو تھوڑا سا دودھ ڈال دیتے ہیں تاکہ جب یہ بڑی ہو جائیں تو زیادہ دودھ نکال لیں ۔

گھڑی

پہلے زمانے میں لوگ ریڈیو پر نشر ہونے والے خبرنامے سے وقت ملاتے تھے۔ تو ریاض نے فیاض سےپوچھا : تمہاری گھڑی ریڈیو سے ملی ہے یا کسی گھڑی سے ؟

فیاض: جناب معاف فرمائیے ، مجھے یہ گھڑی اپنے سسرال سے ملی ہے۔

انگور

ایک سیاح کسی پھل والے کی دکان پر گیا اور سیب کی طرف اشارہ کر کے کہنے لگا کہ یہ کیا ہے ؟

دکان دار نے کہا یہ سیب ہیں۔ سیاح کہنے لگا، اتنے چھوٹے سیب ؟ ہمارے ہاں تو سیر سیر بھر کے سیب ہوتے ہیں۔

پھر اس نے کیلے کی طرف اشارہ کر کے کہا، یہ کیا ہے ؟ دکان دار نے کہا، کیلے ہیں۔ سیاح بولا، کیلے ایسے ہوتے ہیں؟ ہمارے ملک میں تو پانچ پانچ فٹ کے کیلے ہوتے ہیں۔

پھر اس نے تربوز کی طرف اشارہ کیا تو دکان دار جھنجھلا کر بولا، یہ انگور ہیں جناب ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button