حضور انور کے ساتھ ملاقات

امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ مجلس انصار اللہ امریکہ گلف سٹیٹس کے ایک وفد کی ملاقات

لوگ بے شمار خط لکھتے ہیں۔ اب جماعت کی اتنی بڑی تعداد ہے، لاکھوں کروڑوں میں ہو گئی، خط لکھتے ہیں اور مجھے روزانہ کے ہزاروں خط آتے ہیں ۔ اب وہ جو مَیں نے کسی کو دیکھا بھی نہیں ہوتا ، وہ دعا کےلیے کہتے ہیں،
ان کے لیے دعا اس وقت بھی نکلتی ہے کہ جب خط پڑھ رہا ہوتا ہوں اور بعد میں نماز کے وقت بھی ان کے لیے دعا ہو جاتی ہے۔ ہر ایک کے نام نہیں یاد رہتے تو عمومی طور پر ہو جاتی ہے۔ اسی سے محبّت بڑھتی ہے

مورخہ ۲۱؍ اپریل ۲۰۲۶ء بروزمنگل، امام جماعت احمدیہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ امریکہ کے گلف سٹیٹس ریجن سے تعلق رکھنے والے مجلس انصار اللہ کے احباب کے پندرہ(۱۵) رکنی وفد کو بالمشافہ شرفِ ملاقات حاصل ہوا۔ یہ ملاقات اسلام آباد (ٹِلفورڈ) میں منعقد ہوئی۔ مذکورہ وفد نے خصوصی طور پر اس ملاقات میں شرکت کی غرض سےامریکہ سے اسلام آباد (ٹِلفورڈ) کا سفر اختیار کیا۔

[قارئین کی معلومات کے لیے’گلف سٹیٹس‘ کی وضاحت ضروری ہے، کیونکہ عمومی طور پر ’گلف سٹیٹس‘ کا ذکر آتے ہی ذہن میں عرب خلیجی ممالک:جیسے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین، کویت اور عمان کا تصوّر اُبھرتا ہے، اور یہ اصطلاح بالعموم ان ممالک کے لیے استعمال ہوتی ہے۔تاہم امریکہ کے تعلق میں ’گلف سٹیٹس‘ سے مراد وہ پانچ امریکی ریاستیں ہیں،جو خلیجِ میکسیکو (Gulf of Mexico)کے ساتھ واقع ہیں:یعنی ٹیکساس(Texas)، لوزیانا(Louisiana)، مِسی سپی(Mississippi)، الاباما (Alabama) اور فلوریڈا (Florida)۔یہ ریاستیں سمندری معیشت، بندرگاہوں، تیل کی صنعت اور متنوع ثقافتی ورثے کے لیے مشہور ہیں۔امریکی گلف سٹیٹس سمندری طوفانوں (Hurricanes) اور ساحلی خوبصورتی کے لیے بھی معروف ہیں، جبکہ عرب خلیجی ریاستیں اپنے صحرائی جغرافیہ اور تیل کی دولت کے لیے مشہور ہیں۔ اگرچہ دونوں علاقوں کو ان کی جغرافیائی صورتِ حال کی وجہ سے ’ گلف‘ کہا جاتا ہے، لیکن ان کی ثقافت، تاریخ اور معیشت میں زمین آسمان کا فرق ہے۔]

جب حضورِ انور مجلس میں رونق افروز ہوئے تو آپ نےتمام شاملینِ مجلس کو السلام علیکم کا تحفہ عنایت فرمایا۔

بعدازاں تمام شاملین مجلسِ کو حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں فرداً فرداً اپنا تعارف پیش کرنے کا موقع بھی ملا۔

مزید برآں دورانِ ملاقات شاملینِ مجلس کو حضور انور کی خدمت میں متفرق سوالات پیش کرنے نیز ان کے جوابات کی روشنی میں حضورِانور کی زبانِ مبارک سے پُرمعارف، بصیرت افروز اور قیمتی نصائح پر مشتمل راہنمائی حاصل کرنے کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔

ایک شریکِ مجلس نے رقّت آمیز انداز میں حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں عرض کیا کہ ہم بعض اوقات اپنے والدین سے بے انتہا محبّت کے باعث ان کے گزر جانے کے بعد خواب میں انہیں بار بار دیکھتے ہیں اور ان سے ملاقات ہوتی ہے۔ اس حوالے سے مَیں راہنمائی چاہتا ہوں کہ ہم ایسی ہی محبّت اللہ اور اس کے رسول صلی الله علیہ وسلم ، حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور خلفائے کرام سے کیسے کر سکتے ہیں اور ان سے بھی اکثر خواب میں ملاقات ہو اور یہ روحانی تجربات ہوتے رہیں؟

اس پر حضورِ انور نے والدین سے فطری تعلق اور ذاتی وابستگی کی حقیقت پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ بہرحال والدین سے بچپن سے لے کر ان کے بڑھاپے تک اور اپنی جوانی تک یا جتنی بھی عمر ہو، ان سے ایک تعلق ہوتا ہے،personal attachment ہوتی ہے اور یہی تعلق اور محبّت اگر ہم کریں، توضروری تو نہیں ہے کہ آپ خواب میں بھی دیکھیں۔

پھر حضورِ انور نے خوابوں کی بجائے عملی نیکی کی اصل کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھنا، تو پتا نہیں کہ تم نے صحیح دیکھا بھی ہے کہ نہیں، کوئی بڑی نیکی نہیں ہے۔ اصل نیکی یہ ہے کہ جو آپؐ کے احکامات ہیں، جو باتیں ہیں، جو تعلیم ہے، اس پر عمل کرو۔

مزید برآں حضورِ انور نے حضرت رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبّت بڑھانے کے عملی ذرائع نہایت جامع انداز میں بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اس لیے آپ کا کام یہی ہے کہ محبّت میں بڑھنا ہے تو زیادہ سے زیادہ درود شریف پڑھیں۔نمازوں کی طرف توجہ دیں، اللہ تعالیٰ نے جو آپؐ کے ذریعہ سے شریعت اُتاری ہے، اس پر عمل کرنے کی کوشش کریں اور یہی چیز قریب لے آتی ہے۔ پھر اللہ کا فضل ہو گا تو اللہ تعالیٰ خواب میں بھی دکھا دیتا ہے، یہ تو بہت اُونچے مقام کی باتیں ہیں کہ جب نظر آ جائے۔

اسی طرح حضورِ انور نے حقیقی کامیابی اور نیک خوابوں کی حقیقت کو واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ باقی اگر عمل کر رہے ہیں، اور دل کو سکون مل رہا ہےتو وہی آپ کی کامیابی ہے۔ کوئی بھی آپ اچھی خواب دیکھ لیں، تو سمجھیں کہ اسی فضل کی وجہ سے ایسا ہوا کہ جو آپ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجا یا خواہش کی کہ مَیں ملوں۔ جواب کے آخر میں حضورِ انور نےناصر سے دریافت فرمایا کہ آپ کو کبھی نیک خوابیں آتی ہوں گی؟ اثبات میں جواب سماعت فرمانے پر حضورِ انور نے اسے فضلِ الٰہی سمجھنے کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا کہ بس! پھر اس کو بھی اللہ کا فضل سمجھیں اور اس وجہ سے سمجھیں کہ آپ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے محبّت ہے، مسیح موعودؑ سے محبّت اور تعلق ہے اور ان کے احکامات پر عمل کرنے کی پوری کوشش ہے اور درود بھیجتے ہیں۔

ایک شریک مجلس نے عرض کیا کہ سیّدی! مَیں اکثر اس بات پر غور کرتا ہوں کہ انسان کے دل میں انجانے میں بھی تکبّر کی باریک صورتیں موجود ہو سکتی ہیں۔ خاکسار کا سوال یہ ہے کہ انسان کس طرح شعوری طور پر اپنی ذات میں موجود تکبّر کے ان ادنیٰ ترین اثرات کو پہچان کر ان پر قابو پا سکتا ہے، تاوہ اللہ تعالیٰ کے حضور قبول کیا جاوے اور اس کی محبّت کے مجاہدات ملیں؟

اس پر حضورِ انور نے حکیمانہ انداز میں دل کی کیفیت اور اللہ تعالیٰ کی بے پایاں بخشش کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ دل کی کیفیت تو اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔ آپ اگر دل سے اللہ تعالیٰ سے اِستغفار کر رہے ہیں اور معافی مانگ رہے ہیں اور گناہوں سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں اور تکبّر سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں تو اللہ تعالیٰ بخشنے والا ہے۔ سو یہ کب قبول کیا ہے یا نہ قبول کیا ہے یہ تو اللہ تعالیٰ کا فعل ہے، اللہ تعالیٰ کا کام ہے، ہمیں تو پتا نہیں۔

پھر حضورِ انور نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے منظوم کلام کے ذریعے عاجزی کی تعلیم کو نہایت دلنشین انداز میں بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کے مختلف اشعار ہیں، ہر وقت یہ ذہن میں رکھیں، اگر کوئی شعروں سے تعلق ہے، نسبت ہے، تو بتا دیں؂

بدتر بنو ہر ایک سے اپنے خیال میں

شاید اسی سے دخل ہو دارالوصال میں

کہ کم سے کم بنو۔اپنے آپ کو حقیر ترین سمجھو۔جب تکبّر کا کوئی خیال آئے تو یہ شعر دماغ میں آ جائے۔ پھر دارالوصال کیا ہے؟ وہی اللہ تعالیٰ کے تعلق کا جو گھر ہے، اس سے تعلق ملتا ہے۔ جب انسان عاجز ہوتا ہے تو پھر ہوتا ہی اس لیے ہے۔

مزید برآں حضورِ انور نے عاجزی اختیار کرنے کاعملی نمونہ پیش کرتے ہوئے اس کی اہمیت کو اُجاگر فرمایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تیری عاجزانہ راہیں اُسے پسند آئیں۔ جب ایک بحث میں آپؑ نے کہا کہ مخالف فریق صحیح کہہ رہا ہے، اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر مَیں کہتا ہوں کہ یہ صحیح کہہ رہا ہے اور مجھے بحث کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تو آپؑ کو الہام ہوا کہ تیری عاجزانہ راہیں اُس کو پسند آئیں۔ تو عاجزانہ راہیں یہ ہیں کہ جب ایسا موقع آ جائےتو پھر انسان تھوڑا سا سوچے، بجائے اس کے کہ اس کی اَنا اَور زیادہ بھڑک اُٹھے۔ اس کو نہ بھڑکنے دیں۔

جواب کےآخر میں حضورِ انور نے مسلسل اِستغفار، ذاتی محاسبہ اور عاجزی اختیار کرنے کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا کہ اِستغفار کرتے رہیں۔ انسان باقاعدہ اِستغفار کرےتو کوشش ہوتی ہے کہ بچ جائے۔ دن میں ویسے بھی سوچتے رہیں ، ہر تھوڑے عرصہ کے بعد دو چار دفعہ repeatکرتے رہیں ، تو انسان کا ذہن پھر تکبّر سے خالی ہو جاتا ہے۔ لیکن جہاں کوئی کامیابی ملی، جہاں آپ کی کوئی تعریف ہو گئی، جہاں آپ کو کوئی انعام مل گیا تواس پر کہہ دیں کہ یہ کوئی میرے علم کی وجہ سے یا میری بڑائی کی وجہ سے ہے یا میری کسی خصوصیت کی وجہ سے ملا ہے، تو وہ پھر آہستہ آہستہ تکبّر کی طرف لے جاتا ہے۔ پس یاد رکھیں کہ میں عاجز انسان ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ شریف میں فرمایا ہے کہ تم کتنا تکبّر کر لو گے؟ قد میں پہاڑوں سے اُونچا تو نہیں نکل سکتے۔ اس لیے عاجزی اختیار کرو۔

ایک ناصر نے عرض کیا کہ جمعہ کی نماز فرض ہےلیکن کبھی ناگزیر حالات یا ایمرجنسی کی وجہ سے جمعہ کی نماز تک پہنچنا ممکن نہیں ہوتا۔ ایسے میں جمعہ کی نماز اور جمعوں میں قبولیتِ دعا کے وقت سے محروم ہونے کی فکر رہتی ہے۔ اس سلسلے میں راہنمائی کی عاجزانہ درخواست پیش کی۔

اس پر حضورِ انور نےاللہ تعالیٰ کی رحمت اور انسان کی مجبوریوں کا ذکر کرتے ہوئے نیّت کی اہمیت کو ایک بنیادی اصول کے طور پر نہایت خوبصورتی سے اُجاگر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ظالم تو نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کو مجبوریاں پتا ہیں۔ جمعہ کی نماز کا وقت آیا، کوئی بیمار ہو گیا اور جمعہ پرنہیں جا سکا ، لیکن نیّت آپ کی نیک تھی۔بنیادی اصول جس کے گرد اسلام کی تعلیم پھرتی ہے، جس کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تلقین فرمائی کہ اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ کہ تمہاری نیّت ٹھیک ہے تو ٹھیک ہے۔ اگر نیّت میں گڑ بڑ ہے تو تبھی اللہ تعالیٰ پکڑ کرتا ہے۔

پھر حضورِ انور نے بلاوجہ اور مجبوری کے تحت جمعہ چھوڑنے کے درمیان فرق کو مزید وضاحت کے ساتھ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اپنی نیّت اگر آپ کی صحیح ہے، تو اس لیے حدیث میں یہ نہیں آیا کہ تم نے اگر ایک جمعہ چھوڑا ، تو تمہارا دل سیاہ ہو جائے گا۔تم نے اگر جان بوجھ کر ایک جمعہ چھوڑا، دوسرا چھوڑا، تیسرا چھوڑا تو پھر تمہارا دل سیاہ ہوتا ہے۔ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث میں تین دفعہ کی اجازت دے دی۔ اس کا مطلب ہے کہ اگر مجبوری میں ایسا ہو جاتا ہےتو کوئی بات نہیں ۔ لیکن اس میں بھی، آپ اس عرصہ میں ذکرِالٰہی تو کر سکتے ہیں، دعا تو کر سکتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے مغفرت تو مانگ سکتے ہیں۔

جواب کے آخر میں حضورِ انور نے اللہ تعالیٰ کی وسعت مغفرت اور اجر عطا فرمانے کی بے پایاں قدرت کو ایک مؤثر مثال کے ذریعے واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ بخشنے والا ہے اور وہ ثواب بھی دینے والا ہے، وہ دے دیتا ہے۔ اگر ایک بادشاہ کو نماز فجر پر نہ اُٹھنے کی وجہ سے پھر سارا دن اِستغفار پڑھنے کی وجہ سے دس نمازوں کا ثواب مل گیا تو جمعوں کا بھی مل سکتا ہے۔

ایک ناصر نے عرض کیا کہ پیارے حضور! باقی دنیا کی طرح ہماری جماعت کے اراکین بھی رابطے کے لیےواٹس ایپ ، ٹیکسٹ میسجنگ اور اِی میل جیسے پلیٹ فارم پر انحصار کرنے لگے ہیں۔ اگرچہ یہ ذرائع بلا شبہ سہولت فراہم کرتے ہیں، یہ تبدیلی اس ذاتی تعلق اور دلی قربت کو آہستہ آہستہ کم کرتی جا رہی ہے جو ہمیشہ سے ہماری جماعت کی نمایاں پہچان رہی ہے۔ ہم عاجزی سے اپنے پیارے حضورِ انور کی راہنمائی کے طلبگار ہیں کہ ہم جماعت کے اراکین کے ساتھ اپنے ذاتی تعلقات کو کس طرح برقرار رکھ سکتے ہیں اور مضبوط بنا سکتے ہیں تا کہ ڈیجیٹل مواصلات کے بڑھتے ہوئے اثر ورسوخ کے باوجود ہمارے آپسی رشتے مخلصانہ باہمی اور گہری جڑوں سے مضبوط رہیں؟

اس پر حضورِ انور نے ٹیکسٹ میسجنگ کے ذریعے ذاتی تعلق اور دلی قربت میں کمی کے تصوّر کی تردیدکرتے ہوئے اسے اظہارِ محبّت کا ایک مؤثر ذریعہ قرار دیا کہ یہ تو آپ کی سوچ ہے ۔ مَیں اگر کسی کو ٹیکسٹ میسج کرتا ہوں یا مجھے مجبوراً کرنا پڑتا ہے یا کسی سے تعلق رکھتا ہوں، تو میرے دل میں تو اس کی قدر اور زیادہ بڑھ جاتی ہے اور جب وہ جواب دیتا ہے اور محبّت والے جواب آ تے ہیں یا مَیں محبّت سے کسی کو جواب دیتا ہوں یا خط و کتابت ہے۔صرف ٹیکسٹ میسج کی بات کر رہے ہیں۔ ایک زمانہ خط و کتابت کا تھا ، تو اس لیے اُردو میں ایک محاورہ بنا ہوا ہے کہ جو خط ہے وہ آدھی ملاقات ہے۔ اسی طرح ٹیکسٹ میسج تو اس سے بھی جلدی ہو جاتا ہے۔ خط تو پھر پُرانے زمانے میں پندرہ دن میں پہنچتا تھا یا مہینہ لگاتا تھا۔ حضورِ انور نے دستِ مبارک سے نشاندہی کرتے ہوئے فرمایا کہ آج تو ٹیکسٹ میسج یُوں آپ کرتے ہیں، sendکرتے ہیں اور اگلے سیکنڈ میں اگلے کو پہنچا ہوتا ہے اور اس کا محبّت والا جواب آ جاتا ہے۔ اس کو یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ ہاں! مجھے میرے بھائی ،میرے دوست نے یاد رکھا ۔ تو یہ کہنا کہ اس سے محبّت کم ہو رہی ہے، یہ تو آپ کی سوچ ہو گی، میری تو نہیں ہے۔ مجھے تو کوئی محبّت کم نہیں ہو رہی۔

پھر حضورِ انور نے افرادِ جماعت کے ساتھ اپنے ذاتی تعلق، خطوط کے ذریعے رابطے اور دعاؤں کے تسلسل کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ لوگ بے شمار خط لکھتے ہیں۔ اب جماعت کی اتنی بڑی تعداد ہے، لاکھوں کروڑوں میں ہو گئی، خط لکھتے ہیں اور مجھے روزانہ کے ہزاروں خط آتے ہیں ۔ اب وہ جو مَیں نے کسی کو دیکھا بھی نہیں ہوتا ، وہ دعا کےلیے کہتے ہیں، ان کے لیے دعا اس وقت بھی نکلتی ہے کہ جب خط پڑھ رہا ہوتا ہوں اور بعد میں نماز کے وقت بھی ان کے لیے دعا ہو جاتی ہے۔ ہر ایک کے نام نہیں یاد رہتے تو عمومی طور پر ہو جاتی ہے۔ اسی سے محبّت بڑھتی ہے۔

علاوہ ازیں حضورِ انور نے محبّت کے قیام اور باہمی تعلق کو مضبوط بنانے کے لیے دعا، خیرخواہی اور باقاعدہ ملاقاتوں کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ رات کو سوتے ہوئے آپ تصوّر کریں کہ میرے یہ بہن بھائی ہیں، ان کے لیے مَیں نے دعا کر کے سونا ہے، تو دل میں محبّت قائم رہے گی۔ تو یہ کہنا کہ صرف ملنے سے ہی محبّت بڑھتی ہے غلط ہے۔ٹھیک ہے کہ ملنے سے محبّت بڑھتی ہے ، ضرور ملنا چاہیے اور حدیث میں آیا ہے کہ ایک دوسرے کی دعوتیں کرو اس سے بھی محبّت بڑھتی ہے۔آپ ایک شہر میں رہتے ہیں ، آپ فنکشنز کرتے ہیں، اس طرح انصار کی میٹنگ ہوتی ہے، آپ وہاں جاتے ہیں تو وہاں ملا کریں۔ جمعہ پر جاتے ہیں توملا کریں۔ پانچ وقت نمازیں ہیں، ان کی عادت ڈال لیں، تو ملنے کی طرف توجہ ہو جائے گی ۔ اس سے محبّت کا تعلق تو قائم رہے گا۔

مزید برآں حضورِ انور نے بڑے ہی خوبصورت انداز میں اللہ تعالیٰ کی خاطر محبّت کرنے کی حقیقی روح کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ پھر اللہ کہتا ہے کہ میری خاطر محبّت کرو تو تمہیں اَجر ملے گا۔ دنیا کی خاطر محبّت کر رہے ہو تو کوئی اَجر نہیں۔ تو جب اللہ کی خاطر آپ محبّت کر رہے ہوں گے، تو نمازوں پر آنے والوں سے بھی محبّت ہو گی، جمعہ پر آنے والوں سے ہو گی۔عید پر آپ تو گلے بھی مل لیتے ہیں۔ کووِڈ میں لوگوں نے بڑی پابندی لگائی کہ یہ نہ کرو اوروہ نہ کرو، لیکن اس میں بھی آپ عید پر ایک دوسرے سے گلے ملتے رہے ، پرواہ نہیں کی۔ تو محبّت تھی تو ملتے رہے۔

حضورِ انور نے اسلامی اخوّت کے پیرائے میں باہمی خیرخواہی اور دل میں محبّت و ہمدردی کے مستقل احساس کو نہایت مؤثر اور بلیغ انداز میں اُجاگر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ تو اس لیے دل میں ہمیشہ اصل میں یہ احساس ہونا چاہیے کہ مومن بھائی بھائی ہیں اور بھائی کو بھائی کا خیال رکھنا چاہیے اور حدیث کو یاد رکھیں کہ جو اپنے لیے پسند کرو، وہ اپنے بھائی کے لیے بھی پسند کرو۔ جب آپ کی سوچیں ہوں یا خیالات ہوں اس میں جو نیکی کی باتیں آپ کے دل میں آتی ہیں، جو اپنے بچوں کے لیے نیک خیالات آپ کے دل میں آتے ہیں، وہ اپنے بھائی کے لیےبھی آئیں، اپنے بھائی کے بچوں کے لیےبھی آئیں اور اپنے دوست کے بچوں کے لیے بھی آئیں، تو وہ ایک محبّت کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ پھر جب آپ کبھی ملتے ہیں، چاہے دو مہینے بعد ملیں، چھ مہینے بعد ملیں ، سال بعد ملیں، تو وہ یاد رہتے ہیں۔

بعد ازاں حضورِ انور نے فاصلوں کے باوجود اللہ تعالیٰ کی ودیعت کردہ محبّت اور جذباتی وابستگی کی عملی مثال بیان کرتے ہوئے باہمی رنجشوں سے اجتناب کی تلقین فرمائی کہ افریقہ میں لوگ رہتے ہیں، بے شمار گاؤں اور remote areasمیں رہتے ہیں اور مجھے خط لکھتے ہیں اور ہمارے لوگ جب وہاں نمائندہ بن کے جاتے ہیں، کوئی میرا سلام کہہ دے، تو وہ جذباتی ہو کر رونے بھی لگ جاتے ہیں۔ ان کے دل میں محبّت ہے ، وہ اللہ تعالیٰ نے محبّت پیدا کی ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں میں محبّت پیدا کرے اور یہ جو چھوٹی چھوٹی باتوں کی دنیاوی رنجشیں ہیں، ان کی وجہ سے دُوری نہ پیدا ہو۔

اس کے ساتھ حضورِ انور نے ٹیکسٹ میسج، فیس ٹائم اور دیگر جدید ذرائع کے ذریعے باہمی محبّت کے فروغ پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے فرمایا کہ تو یہ کہنا صرف ٹیکسٹ میسج کرنے سے محبّت کم ہوتی ہے درست نہیں ۔ ٹیکسٹ میسج تو مَیں سمجھتا ہوں کہ اب محبّت کو وسیع کرنے کا ایک آسان ذریعہ بن گیا ہے ۔ پہلے خط مہینہ لیتا تھا، اب آپ ایک دن میں ٹیکسٹ میسج کر لیتے ہیں اور باتیں بھی کر لیتے ہیں اور فیس ٹائم پر باتیں بھی کر لیتے ہیں اور اپنا چہرہ بھی دکھا دیتے ہیں اورٹیکسٹ کا جواب بھی آپ کو آ جاتا ہے۔ آپ کو تو یہ کہنا چاہیے تھا کہ اس سے محبّت بڑھ گئی ہے اور اب اس کو ہم اَور کس طرح بڑھائیں؟

ناصر کی جانب سے پاکستان سے نئے آنے والے انصار بھائیوں کے ان اُمور کو پسند نہ کرنے کی عرض پر حضورِ انور نے انڈیا اور پاکستان میں موبائل فون اور ٹیکسٹ میسج کے عام اور وسیع استعمال کی بابت مسکراتے ہوئے تبصرہ فرمایا کہ ان کو پتا ہے اور ان کو آپ سے زیادہ ٹیکسٹ میسج کرنا آتا ہے۔ انڈیا یا پاکستان میں انہوں نے غریب لوگوں میں سروے کیا ہے ، جتنے ان کے پاس سیل فون ہیں اور ٹیکسٹ میسج کا رواج ہےتووہ امیروں میں بھی نہیں ہے۔

اسی تناظر میں حضورِ انور نے کم وسائل رکھنے والے افراد کے لیے مساجد، جماعتی پروگرامز اور غیر رسمی ملاقاتوں کے ذریعے تعلقات قائم رکھنے کی عملی تجویز پیش فرمائی کہ باقی یہ ہے کہ اگر نئے آئے ہیں اور ان کے پاس فون نہیں ہے اور نیا فون خریدنا affordنہیں کر سکتے، تو ان سے پھر آپ ملیں، ان کو مسجدوں میں بلائیں اور آپ کے مختلف فنکشنز ہوتے ہیں،اس میں بلائیں،get togetherہو۔ اور ضروری نہیں کہ اجلاس ہی ہوں، بعض weekend پر کبھی باہر چلے گئے، پکنک منا لی، کچھ کر لیا ، وہ تو پروگرام بنانے چاہئیں۔

سلسلۂ کلام کو آگے بڑھاتے ہوئے حضورِ انور نے جماعتی تنظیموں میں اجتماعی ملاقاتوں، باہمی میل جول اور اکٹھے کھانے پینے کے ذریعے تعلقات مضبوط کرنے کی جانب راہنمائی کرتے ہوئے فرمایا کہ خدام الاحمدیہ میں كُلُوْا جَمِيْعًا جو رواج دیا ہوا ہے وہ اس لیے ہے۔ اب انصار اللہ میں بھی ہو سکتا ہے۔ لجنہ میں بھی ہوتا ہے۔ آ کے بیٹھتے ہیں ، اکٹھے ہوتے ہیں اور اچھی میٹنگز ہوتی ہیں۔ ہم تویہاں اسلام آباد میں، لجنہ بھی ہیں، خدام بھی ہیں اور یہاں سارے مختلف شہروں میں لوگ ہفتے میں ایک دن یا مہینے میں ایک دن اکٹھے ہوتے ہیں اور آپس میں کھانا پینا بھی کرتے ہیں، گپ شپ بھی کرتے ہیں اور دین کی باتیں بھی کرتے ہیں۔ تو آپ بھی کر سکتے ہیں۔

جواب کےآخر میں حضورِ انور نے نیک ارادے اور عملی اقدام کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ اگر انسان کا نیک کام کرنے کا ارادہ ہو تو نیک کام ہو جاتا ہے اور اگر یہ سوچتا رہے کہ کام تو مَیں نے نیک کرنا ہے، پر اس وقت میں پیسے کما لوں تو پھر نہیں ہوتا۔

اس پر حضورِ انور نے سائل کی جانب سے ماہانہ کُلُوْا جَمِيْعًا کے اہتمام کی سوچ کو سماعت فرماتے ہوئے ذاتی انتظام کے ذریعے کم وسائل رکھنے والے افراد کی شمولیت کی بابت تاکید فرمائی کہ تو پھر غریب لوگ، جو کھانا پکا کے نہیں لا سکتے، ان کا آپ جیسے دُگنا تگنا کھانا پکا کے لے آئیں۔

ایک ناصر نے عرض کیا کہ گھر خریدتے وقت مارگیج (mortgage) کی اجازت ہے۔ اگر کسی کے پاس اتنے وسائل ہوں کہ وہ refinanceکروا کر اپنے مارگیج میں توسیع کروا لے تا کہ اسequity یعنی بچ جانے والی رقم کو مقامی مسجد کے منصوبے میں چندہ دینے کے لیے استعمال کر سکے، تو کیا ایسا کرنا جائز ہے؟

اس پر حضورِ انور نے ذاتی رہائش کے لیے مارگیج کی اجازت کے دائرۂ کار کو واضح کرتے ہوئے اصولی راہنمائی عطا فرمائی کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ مارگیج کی اجازت صرف اس گھر کےلیے ہے، جو آپ اپنے ذاتی استعمال نہ کہ کاروبار کے لیے خریدتے ہیں۔ آپ ایک گھر خرید سکتے ہیں اور اس گھر پر مارگیج لے سکتے ہیں جہاں آپ رہنے والے ہیں۔

پھر حضور ِانور نے refinancing کے ذریعےمسجد کی تعمیر کے لیے مالی معاونت اور اس کے عملی پہلو کی طرف توجہ دلاتے ہوئےفرمایا کہ ایسے بہت سے لوگ ہیں کہ جو اپنے گھروں کی دوبارہrevalueکرواتے ہیں اور وہ بینک سے مزید قرض لیتے ہیں اور اس قرض کو مسجد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ تو اگر آپ اپنا گھر بنا رہے ہیں اور آپ اپنے ذاتی فائدے کےلیے مارگیج ادا کر رہے ہیں، تو آپ اپنا پیسہ اللہ کا گھر بنانے کے لیے کیوں نہیں خرچ کر سکتے، جو کہ آپ کو جنّت میں گھر بنانے میں بھی مدد دے رہا ہے۔

حضور انور نے اس عمل میں اعتدال اختیار کرنے اور مالی استطاعت کو مدِّ نظر رکھنے کی بھی نصیحت فرمائی کہ چنانچہ اگر آپ چاہیں تو ایسا کر سکتے ہیں ، لیکن خود پر حدّسے زیادہ بوجھ نہ ڈالیں۔ اگر یہ آسانی سے کیا جا سکتا ہے تو ٹھیک ہے ورنہ نہیں۔ اور آپ کو قرض واپس کرنے کی اپنی استطاعت کا بھی بخوبی جائزہ لینا چاہیے ، اگر آپ میں اتنی استطاعت ہے تو ہاں! آپ کر سکتے ہیں، اگر نہیں تو ایسا نہ کریں۔

مزید برآں اسی روز حضورِ انور نے ازراہِ شفقت سائل کو اپنے دفتر طلب فرما کر تقویٰ اور دیانتداری کی بنیادی شرط پر زور دیتے ہوئے مزید راہنمائی عطا فرمائی کہ رِی مارگیج کے ذریعہ حاصل کی گئی رقم کو مسجد کے منصوبے میں استعمال کرنا جائز ہے بشرطیکہ بینک کی کوئی ایسی شرط نہ ہو کہ جس کے تحت اس رقم کو صرف اور صرف پراپرٹی پر ہی خرچ کرنا لازمی ہو۔کبھی بھی کسی قسم کی غلط بیانی سے کام نہیں لینا چاہیے کیونکہ کسی بھی قسم کا دھوکا تقویٰ کی روح کے منافی ہے۔

ایک اور ناصر بھائی نے عرض کیا کہ پیارے حضور! دنیا کی موجودہ صورتحال کے پیشِ نظر بعض حلقوں میں یہ بحث جاری ہے کہ دسمبر تک امریکہ میں ممکنہ طور پر ملٹری ڈرافٹ (فوج میں لازمی بھرتی) ہو سکتی ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو بیس سے پچیس سال کی عمر کے درمیان کے جماعت کے بعض افراد اس سے متأثر ہو سکتے ہیں، اس صورتحال میں حضورِ انور افرادِ جماعت کو کیا راہنمائی فرمائیں گے؟

اس پر حضورِ انور نے مقیم ملک کے قانون کی پابندی کو بنیادی اصول کے طور پر واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ جب تک آپ اس ملک میں رہ رہے ہیں تو وہاں جو بھی قانون ہے،آپ نےfollow کرنا ہے یا وہاں سے migrate کر جائیں یا اس کی سروس میں شامل ہوں۔ یہی حکم ہے کہ جس ملک میں تم رہتے ہو، اس کے قانون کی پابندی کرو اور ان کی سروس کرو۔

حضورِ انور نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک عملی نمونے کی روشنی میں اس اصول کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تیرہ سال مکّہ میں کیوں نہیں ہتھیار اُٹھائے، اس لیے کہ کسی اَور کی حکومت تھی۔ جب اپنی حکومت ہو گئی اور پھر ان پر حملہ ہوا تو ہتھیار اُٹھا لیے۔اس لیے ملک کا قانون جو ہےوہ بہرحال ماننا ہے ۔ چاہے وہ عیسائی ملک ہو یا دہریہ ملک ہو یا کوئی بھی حکومت ہو۔ اس ملک میں جب آپ رہ رہے ہیں تو آپ نے اس کےقانون کی پابندی کرنی ہے یا آپ ملک چھوڑ دیں ۔

پھر حضورِ انور نے اپنے ماحول میں مؤثر آگاہی اور رائے عامہ کے ذریعے ظلم و ناانصافی کے خلاف شعور بیدار کرنے کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا کہ اور اپنے اردگرد میں سمجھائیں ۔اصل چیز یہ ہے کہ آپ نے لوگوں کو سمجھانا ہے۔ وہاں امریکہ میں تو لابنگ کا بڑا رواج ہے، تو آپ لوگ بھی اپنے معاشرے،اپنی سوسائٹی، اپنے ماحول اور اپنے environment میں یہ کریں۔ آپ کو بتانا چاہیےکہ یہ ہم کر رہے ہیں اور اب بہت سارے لوگ اس بات کو realizeکر رہے ہیں اور سمجھ لیتے ہیں کہ جو ٹرمپ صاحب اِدھر اُدھر حملے کر رہے ہیں یا اسرائیل کی طرف سے ہو رہے ہیں تو وہ ظلم ہو رہے ہیں، تو اس کےلیے ہمیں کیا کرنا چاہیے۔

اسی طرح حضورِ انور نے مختلف حالات میں جنگ و خدمت کے اصول کو واضح کرتے ہوئےفرمایا، ہاں! اگر بہتر cause کے لیے لڑنا ہے تو ٹھیک ہے۔ سیکنڈ ورلڈ وار میں انگریزوں اور یورپین کی جب لڑائی ہوئی ہے تو اِنڈو پاکستان میں برٹش حکومت تھی، تو اس وقت انہوں نے بہت سارے انڈین لوگ بھی جا کے لڑنے کے لیے ریکروٹ کیے تھے ۔ اور اس لیے یہاں اس وقت گورکھا رجمنٹ اور فلاں فلاں رجمنٹس قائم ہوئی تھیں ۔باقی ان کو انہوں نے ورلڈوار کے بعد بہت زیادہ benefits بھی دیے کہ یہاں آ جاؤ اور آباد ہو جاؤ ۔

مزید برآں حضورِ انور نے مؤخر الذکر تناظر میں جماعت احمدیہ کی ٹیریٹوریل فورس اور فرقان بٹالین کے ذریعے دفاعی خدمات اور کسی بھی اقدام کے پس پردہ موجود مقصد کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اس وقت جماعتِ احمدیہ کی بھی ایک ٹیریٹوریل فورس تھی۔اس وقت ٹیریٹوریل فورس کے نام سے ایک فورس جماعتِ احمدیہ نے بھی قائم کی تھی اور فوجی بھرتی ہوتے تھے، جن کو مختلف محاذوں پر بھیجا گیا تھا، اب اس لیے کہ وہ ایک بہترcauseکے لیے لڑ رہے تھے۔ میرے دادا حضرت مرزا شریف احمد صاحب رضی الله عنہ اس ٹیریٹوریل فورس کے کمانڈر تھے، کیپٹن رینک کے تھے، ان کےunder جو بھی ان کی بٹالین تھی یا جو کچھ بھی تھا، اس کو وہleadکرتے تھے۔ گو وہ فیلڈ میں نہیں گئے لیکن ایک فورس قائم تھی۔ اسی طرح انڈیا پاکستان کی پارٹیشن کے بعد جو جنگ ہوئی ہے تو وہاں فرقان بٹالین قائم تھی۔ انہوں نے وہاں اگلے محاذ پر جا کے لڑائی بھی کی ۔ تو یہ تو دیکھنا چاہیے کہcause کیا ہے، اس کے لیے پھر جدو جہد کریں اور نہیں تو پھر ظلم ہے، تو ظلم کے خلاف جہاد کریں۔

[قارئین کی معلومات کے لیے عرض ہے کہ۱۹۲۰ء میں انگریز حکومت نے ہندوستان میں‘ ٹیریٹوریل فورس ’ کے نام سےایک رضاکار فورس تشکیل دی تھی۔جس کا مقصد کسی بھی ایمرجنسی یا جنگ کے وقت ملکی خدمت کے لیے تیار رہنا تھا۔اس فورس کو فوج کی طرف سے باقاعدہ ٹریننگ دی جاتی تھی۔ سیّدنا حضرت مصلح موعود رضی الله عنہ کے ارشاد پر قادیان سے بھی نوجوان اس فورس میں شامل ہوئے۔قادیان سے شاملین افراد کی تعدادایک مکمل کمپنی پر مشتمل تھی۔ یہ ٹریننگ جالندھر چھاؤنی میں دی جاتی رہی جو تقریباً دو ماہ کی ہوتی تھی۔ اس کمپنی کے کمانڈر سیّدنا حضرت اقدس مسیح موعود و مہدی معہود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے لختِ جگر’شریف اصغر‘ یعنی حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب رضی الله عنہ تھے، جو بعدازاں لفٹیننٹ بنائے گئے۔آپؓ ۱۹۳۹ء تک اس کمپنی کی کمان کرتے رہے۔سبحان الله! کتنے خوش نصیب وہ لوگ ہوں گے کہ جنہیں حضرت صاحبزادہ صاحبؓ  کی کمان میں کام کرنے کی توفیق ملی۔

اسی طرح ’فرقان بٹالین‘جماعت احمدیہ کی ایک رضاکارانہ فورس تھی جس کا قیام حضرت صاحبزادہ مرزا بشیرالدین محمود احمد صاحب خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی ہدایت پر۱۹۴۸ء میں عمل میں آیا۔اس کے قیام کا مقصد پہلی کشمیر جنگ کے دوران پاکستان کی فوج کی معاونت اور دفاعِ وطن میں حصہ لینا تھا۔ اس میں خلافت کی بابرکت راہنمائی میں خدمتِ وطن کے جذبے سے لبریز ہر سطح کے احمدی احباب شامل تھے۔یہ بٹالین جون ۱۹۴۸ء سے جون ۱۹۵۰ء تک سرگرمِ عمل رہی اور اس دوران محاذِ کشمیر پر احمدی مجاہدین نے شجاعت و بہادری کے بے مثال جوہر دکھائے۔ اس بٹالین کے لیے حضرت مصلح موعودؓ نے جو کمیٹی مقرر فرمائی تھی، اس کے ایک رکن حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب رحمہ اللہ بھی تھے، اور فرقان فورس کے فوجی اشاروں میں آپ فاتح الدّین کے نام سے موسوم تھے۔فروری ۱۹۴۹ء میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیرالدین محمود احمد صاحب رضی اللہ عنہ بنفسِ نفیس محاذِ جنگ پر کشمیر تشریف لے گئے تاکہ فرقان فورس کے رضاکاروں کا حوصلہ بلند کر سکیں۔بعد ازاں ۱۷؍جون ۱۹۵۰ء کو پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی کے بعد اس فورس کو باضابطہ طور پر تحلیل کر دیا گیا۔ اس موقع پر سرائے عالمگیر میں ایک باقاعدہ تقریب منعقد ہوئی جس میں پاکستان آرمی کے اس وقت کے کمانڈر اِن چیف جنرل سر ڈگلس گریسی کا پیغام پڑھ کر سنایا گیا اور فوجی قیادت نے اس فورس کے نظم و ضبط، جرأت مندی اور مؤثر کارکردگی کو سراہا۔]

انہی ناصر کے اپنی فیملی کو لے کر کینیڈا منتقل ہونے کی بابت استفسار پر حضورِ انور نے مسکراتے ہوئے ذاتی فیصلے کی بجائے موجودہ صورتحال کے مطابق عمل کرنے کی طرف توجہ دلائی کہ یہ آپ کی مرضی ہے ۔ آپ کو جب compulsary سروس کے لیےکوئی کہے گا، توتب move ہوں گے، ابھی کوئی کچھ نہیں کہتا۔

جواب کے آخر میں حضورِ انور نے دعا اور اللہ تعالیٰ پر توکّل کی طرف ر اہنمائی کرتے ہوئے اس اَمر پر زور دیا کہ دعا میں بڑی طاقت ہے۔ اللہ تعالیٰ میں بڑی طاقت ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ سے sincerely مانگا جائے تو اللہ تعالیٰ انسانیت کے فائدے کےلیے دعائیں قبول کرتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ آپ کے ذاتی کام کےلیے نہ کرے۔لیکن انسانیت کےلیے کر رہے ہوں، اللہ تعالیٰ کے کسی نیک مقصد کے لیےکر رہے ہوں گے تو وہ دعائیں قبول ہو جاتی ہیں۔

ایک شریکِ مجلس نےاپنے مشاہدے کی بابت ذکر کرتے ہوئے حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں عرض کیا کہ وِیک اینڈ پرمَیں نے دیکھا کہ اِدھر جرمنی اور ناروے سے بہت سارے نوجوان آئے ہوئے تھے۔ اس سے پتا لگتاہے کہ اس مادیت پرست دنیامیں بھی کیسے نوجوان آپ سے اخلاص و وفا کا ایک گہرا اور مضبوط تعلق رکھتے ہیں۔

اس پر حضورِ انور نے فرمایا کہ جس طرح آپ کی میٹنگ تھی ان کے ساتھ بھی تھی۔نیز سائل کے خدام کی بڑی تعداد میں موجودگی کے اظہار پر حضورِ انور نے مسکراتے ہوئے فرمایا، توبہت ساروں کو مَیں نے ہال میں بٹھا دیا تھا۔

مزید برآں حضورِ انور نے جرمنی اور ناروے سے آنے والے خدام کی تعداد اور ان سے ہونے والی نشست کی بابت تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایاکہ ۱۰۴؍ خدام جرمنی اور ۹۱؍ ناروے سے آئے ہوئے تھے۔ان کے ساتھ اچھا ہے کہ گھنٹے کی sitting ہو گئی، جس طرح آپ کے ساتھ ہوئی ہے، ان کے ساتھ بھی ہو گئی۔

بعدازاں حضورِ انور نے ملاقات کے روحانی اثرات اور عملی فوائد کو واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ اور میرا خیال ہے کہ نیک اثر ہی لے کر جاتے ہیں۔ اَور کچھ نہیں تو یہاں پانچ وقت نمازیں پڑھنی پڑتی ہیں وہی ان کے لیے کافی ہو جاتا ہے۔

اسی تناظر میں حضورِ انور نے مزید روشنی ڈالتے ہوئے ملاقاتوں کے لیے آنے والے وفود کے ایک دوسرے پر پڑنے والے نیک اثر اور ایمان کی باہمی تازگی کی بابت بیان فرمایا کہ اور وہ کہتے ہیں کہ واقعی ان کو نیک اثرنظر آیا۔ان لوگوں کا تو آپ کو دیکھ کے بھی ایمان تازہ ہو گیا۔آپ کا ایمان تازہ ہوا ہے یا نہیںلیکن آپ کو دیکھ کر ان کا ایمان تازہ ہوا ہے اور اس کا انہوں نے اظہار بھی کر دیا کہ اس طرح امریکہ سے بھی لوگ آئے ہوئے ہیں۔ہم تو یہاں قریب ہی کے ہیں۔ بس پر بیٹھے اوریہاں آ گئے یا ناروے سے آگے ڈیڑھ ، دو گھنٹے کی فلائٹ ہے ۔

ایک ناصر جنہیں قبل ازیں ڈیجیٹل مواصلات کے بڑھتے ہوئے اثر ورسوخ کے حوالے سے راہنمائی حاصل کرنے کا موقع ملا تھا، انہیں ایک اَور سوال پیش کرنے کی بھی سعادت حاصل ہوئی ، جس میں انہوں نے عرض کیا کہ آجکل امریکہ میں ’’ No King ‘‘کے نام سے ٹرمپ کے خلاف کافی مظاہرے وغیرہ ہو رہے ہیں۔ اس میں اکثر وہ کہتے ہیں کہ آپ آئیں اور حصّہ لیں اور حالیہ دنوں میں دیکھا جا رہا ہے کہ کافی لوگ ان میں شامل بھی ہو رہے ہیں۔

اس پر حضورِ انور نے پُرامن احتجاج کی اصولی اجازت اور اس کی حدود کو واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر peacefully protest ہو رہا ہے تو بے شک جائیں۔ مار دھاڑ نہیں کرنی۔ گورنمنٹ پراپرٹی کو نقصان نہیں پہنچانا۔ کسی کو مُکّا نہیں مارنا۔ ویسے آپ نے جانا ہے اور protest کر سکتے ہیں تو کریں۔اسی تناظر میں حضورِ انور نے تاریخ کے اوراق سے ایک مثال کے ذریعے مزید وضاحت فرمائی کہ اب کشمیر کے راجہ نے ظلم کیا تھا۔ اس کے خلاف جو پُرامن protest ہوا تھا، حضرت خلیفہ ثانی رضی الله عنہ نے احمدیوں کو بھی کہا تھا ، بلکہ آرگنائز کروایا تھا کہ جاکےکرو۔ آخر میں ناصر نے عرض کیا کہ انہیں صرف حضورِ انور کی راہنمائی درکار تھی، کیونکہ ان سے کہا گیا تھا، چنانچہ انہوں نے Love for All, Hatred for None کا بینر بنایا تھا۔جس پر حضورِ انور نے پُر امن احتجاج میں شرکت کے حوالے سے اس اَمر کا اعادہ فرمایا کہ توہم کرتے ہیں، یہاں بھی کرتے ہیں، جرمنی میں بھی کرتے ہیں اور یوکے میں بھی کرتے ہیں۔

ملاقات کے اختتام پر تمام شاملینِ مجلس کو اپنے محبوب آقا کے ساتھ گروپ تصویر بنوانے اور آپ کے دستِ مبارک سے قلم بطورتبرک حاصل کرنے کی سعادت بھی نصیب ہوئی ۔

تبرک حاصل کرنے کے دوران ایک شریکِ مجلس نے عرض کیا کہ حضور! میرے لیے دعاکریں کہ مَیں قرآنِ کریم کے تمام احکامات پر عمل کر سکوں اور ہر قسم کی بُرائیوں سے دُور رہوں۔

اس درخواست پر حضورِ انور نے سات سو قرآنی احکام کی بابت تدریجی اور عملی طریق اختیار کرنے کی طرف راہنمائی کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فضل کرے۔ان کی ایک لسٹ بنالو۔ ایک لسٹ بنا کے تو ان پرعمل کریں۔ دیکھیں۔ ان شاء الله! الله فضل کر دے۔

اسی طرح شرکائے مجلس میں سے ایک ناصر نے نشاندہی کی کہ ان کی قیام گاہ میں موجود بستر زیادہ آرام دہ نہیں تھے۔

اس پر حضورِ انور نے آرام و آسائش کی طلب کی بجائے قناعت اورسادگی کے تناظر میں سیرتِ نبویؐ کے اسلوبِ حیات کی طرف توجہ دلاتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ آپ لوگوں کو جب شکوے پیدا ہوں کہ بیڈ آرام دہ ہے کہ نہیں، جو اتنےزیادہ لوگوں کو مِل سکتا ہے اورمیسّر ہو سکتا ہے ، تو اس وقت سوچا کریں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح سویا کرتے تھے؟ جب وہ سوچیں گے تو آپ کی بیڈوں کی آرامی اور بے آرامی ختم ہو جائے گی۔

مزید برآں ازراہِ شفقت حضورِ انور کی اجازت سے ایک شریکِ مجلس کوحضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کےشانِ احمدِعربی ؐپر مبنی روح پرور منظوم کلام ؂

زندگی بخش جامِ احمد ہے

کیا ہی پیارا یہ نامِ احمد ہے

پڑھنے کی سعادت بھی میسر آئی۔

یہ روح پرور نشست حضورِ انور کے دعائیہ کلمات ’’چلو پھرالسلام علیکم!‘‘پر بخیر و خوبی اختتام پذیر ہوئی۔

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ مجلس خدام الاحمدیہ جرمنی کے طلبہ پرمشتمل ایک وفد کی ملاقات

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button