الفضل ڈائجسٹ
اس کالم میں ان اخبارات و رسائل سے اہم و دلچسپ مضامین کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے جو دنیا کے کسی بھی حصے میں جماعت احمدیہ یا ذیلی تنظیموں کے زیرانتظام شائع کیے جاتے ہیں۔
حضرت چودھری تصدّق حسین صاحبؓ
روزنامہ’’الفضل‘‘ربوہ ۶؍مارچ ۲۰۱۴ء میں حضرت چودھری تصدّق حسین صاحبؓ آف ہجن ضلع سرگودھا کا مختصر تعارف اور حضرت مسیح موعودؑ کے حوالے سے بیان فرمودہ اُن کی چند ایمان افروز روایات مکرم غلام مصباح بلوچ صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہیں۔
حضرت چودھری تصدّق حسین صاحبؓ حضرت مولوی غلام نبی صاحبؓ ریٹائرڈ پوسٹ ماسٹر (وفات۱۹۱۸ء) کے بیٹے اور حضرت مولوی شیرمحمد صاحبؓ یکے از ۳۱۳ (بیعت:۷؍ستمبر۱۸۸۹ء۔ وفات۱۹۰۴ء) کے بھتیجے تھے۔
رجسٹر بیعتِ اولیٰ کے مطابق آپؓ نے ۱۶؍فروری۱۸۹۲ء کو حضرت مسیح موعودؑ کے سفرِ سیالکوٹ کے دوران بیعت کی۔ آپؓ بیان فرماتے ہیں کہ میرے والد بزرگوار نارمل سکول راولپنڈی میں حضرت مولوی نورالدین صاحبؓ کے ہم جماعت تھے نیز دُور کا ایک رشتہ بھی تھا۔ اسی لیے مجھے بھی والد بزرگوار نے تعلیم حاصل کرنے اُن کے پاس جموں بھیجا تھا۔ تب تک وہ احمدی نہیں ہوئے تھے۔
۱۸۹۲ء میں جب مَیں سیالکوٹ پہنچا تو سنا کہ مرزا صاحب وہاں ہیں۔ جس سے پوچھا اُس نے حضورؑ کی رہائش کی جگہ بتانے کی بجائے بدگوئی کی۔ آخر مولابخش بوٹ فروش سے پوچھا تو انہوں نے مجھے دکان کے اندر بلالیا اور پوچھا کہاں سے آئے ہو؟ پھر اُس نے بتایا کہ فلاں مسجد میں مرزا صاحب اور بہت مخلوق نظر آئے گی۔ مَیں گیا تو دیکھا کہ حضرت اقدسؑ مسجد کے ایک دروازے میں تشریف رکھے ہوئے تھے اور کافی حاضرین سامنے بیٹھے ہوئے تھے۔ یہ وہ وقت تھا جب عوام دیواروں اور مکانوں کی چھتوں سے تماشابینی کے طور پر جھانکتے، گالی گلوچ بھی کرتے اور پتھر بھی برسایا کرتے۔ مجلس میں مولوی عبدالکریم صاحبؓ بھی بیٹھے تھے جن کو پہلی دفعہ مَیں نے بھیرہ میں حضرت حکیم مولوی نورالدین صاحبؓ کی صاحبزادی کی شادی (ہمراہ عبدالواحد ولد مولوی عبداللہ صاحب غزنوی) کے موقع پر دیکھا تھا۔ مَیں نے کسی کے ذریعے پیغام بھیج کر مولوی صاحب کو بلوایا اور اپنی پہچان کروائی۔ آپ میری درخواست پر مجھے حضرت اقدسؑ کے سامنے لے گئے اور میرے تایا کا نام لے کر تعارف کروایا کہ یہ بھائی شیرمحمد صاحب سکنہ ہجن ضلع شاہ پور کے بھتیجے ہیں۔ حضورؑ نے دو دفعہ فرمایا: ’’وہ بہت نیک اور صالح آدمی ہیں۔‘‘ مَیں نے مصافحہ کیا۔ پھر حضورؑ نے تقریر شروع فرمائی۔ مَیں ایک رومال میں کچھ پھل لے گیا تھا جو حضورؑ کے سامنے رکھ دیے۔ دورانِ تقریر مجھے خیال آیا کہ مَیں نے یہ غریبانہ ہدیہ پیش کیا ہے اس کو آپؑ نے اٹھایا نہیں، شاید مَیں بہت گنہگار ہوں اور میرا ناچیز ہدیہ اٹھانا پسند نہیں فرماتے۔ جونہی میرے دل میں یہ خیال گزرا حضرت اقدسؑ نے فوراً اس رومال کو اٹھالیا اور ایک آدمی کو دے کر فرمایا کہ لے جاؤ۔
مَیں نے دو دفعہ بیعت کی درخواست کی تو یہی فرمایا کہ ابھی ٹھہرو۔ تیسری دفعہ شاید دوسرے تیسرے روز مَیں نے بیعت کی۔ مَیں نے حضورؑ سے عرض کیا کہ مَیں نیک کاموں کی طرف دل میں رغبت پاتا ہوں لیکن سستی کی وجہ سے نیک کام ہوتے نہیں۔ حضورؑ نے فرمایا: یہ بھی مومن کی ایک نشانی ہے کہ وہ نیک کاموں کی طرف رغبت رکھتا ہے۔ آپ ہر نماز کے بعد گیارہ مرتبہ لَاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّابِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْم پڑھ کر اپنے سینے پر پھونک لیا کریں۔
مَیں حضرت اقدسؑ کے لیکچر سیالکوٹ کے وقت بھی موجود تھا، لیکچر گیلا گیلا (یعنی بالکل تازہ )چھپا ہوا تھا جو حضرت مولوی عبدالکریم صاحبؓ نے پڑھا اور لوگوں میں تقسیم بھی کیا گیا۔ حضرت اقدسؑ نے زبانی بھی کچھ تقریر فرمائی۔
سیالکوٹ میں کُل نو دن ٹھہرا۔ پھر وہاں سے جموں پہنچا تو معلوم ہوا کہ حضرت مولوی نورالدین صاحب مہاراجہ کے ساتھ پنجاب میں کہیں گئے ہوئے تھے۔ چند یوم میں تشریف لے آئے اور پھر مہاراجہ کا تار ملنے پر لاہور روانہ ہوگئے۔ لیکن میرا کرایہ ایک شاگرد کو دے گئے۔ مَیں نے اُس سے کرایہ لیا اور لاہور آیا۔ آپؓ نے مجھ سے پوچھا کہ اب کدھر کا ارادہ ہے؟ مَیں نے عرض کیا: فیروزپور کا۔ آپؓ نے مجھے کرایہ دیا اور مَیں اُدھر چل دیا۔
لاہور میں بھی مَیں نے حضرت اقدسؑ کا ایک لیکچر سنا جو بریڈلاء ہال میں ہوا تھا۔ میرے والد میرے ساتھ تھے۔ ہم سحری کے وقت ہال میں چلے گئے۔ لوگ رات کو ہی لیکچرہال چلے گئے تھے تاکہ جگہ لے لیں۔ لیکچر طلوع آفتاب کے وقت شروع ہونا تھا۔ بہت مخلوق ہر ایک مذہب کی جمع ہوئی۔ حضرت اقدسؑ بگھی میں تشریف لائے جس کے آگے دو گھوڑے جتے ہوئے تھے۔ بگھی سے آگے دو انگریز پولیس کپتان گھوڑوں پر سوار جارہے تھے۔ بگھی کے دائیں بائیں اور پیچھے کی طرف دیگر پولیس افسر گھوڑوں پر سوار ساتھ دوڑ رہے تھے۔ حضورؑ کا لیکچر مولوی عبدالکریم صاحبؓ نے پڑھا۔ حضرت اقدسؑ کے ایک طرف مولوی صاحبؓ اور دوسری طرف حضرت مولوی نورالدین صاحبؓ کرسیوں پر تشریف فرما تھے۔ جب لیکچر ختم ہوا تو کسی نے عرض کیا کہ حضورؑ خود بھی کچھ فرمائیں۔ لیکن لوگ بول رہے تھے۔ انگریز پولیس کپتان نے چپ کروانے کی کوشش کی لیکن لوگوں نے ایک نہ سنی۔ حضورؑ نے مولوی عبدالکریم صاحبؓ کو قرآن مجید پڑھنے کا ارشاد فرمایا۔ انہوں نے ابھی بیٹھے بیٹھے اَعُوْذُ ہی پڑھی تھی کہ سب چپ ہوگئے۔ آپؓ پر قرآن مجید پڑھنا ختم تھا۔ چنانچہ میاں چراغ الدین صاحبؓ کے مکان پر ایک بار نماز ہونے لگی جہاں حضرت اقدسؑ اُترے ہوئے تھے تو سڑک پر جمع ہونے والے تماش بینوں نے خاموش رہنے کی درخواست کی گئی لیکن وہ شور مچاتے رہے۔ مولوی عبدالکریم صاحبؓ نے فرمایا: تکبیر کہو۔ تکبیر کہی گئی اور جب آپؓ نے بِسْمِ اللّٰہ کہا تھا تو سبحان اللہ! ایسی سریلی آواز تھی کہ سب شریر چپ ہوگئے۔
حضرت اقدسؑ کے لیکچر کے وقت دو تین مخالف مولوی بازاروں اور راستوں پر منادی کرتے رہے کہ جو لیکچر سننے جائے گا وہ کافر ہوجاوے گا۔ یہی طریق سیالکوٹ میں بھی شریروں نے اختیار کیا تھا تاکہ کوئی لیکچر سننے نہ جائے۔ وہ لیکچر جمّوں کے مہاراجہ کی سرائے کے اندر ہوا تھا اور اُس وقت بھی حضورؑ بندبگھی میں اپنی فرودگاہ سے سرائے تک تشریف لائے تھے۔ سرائے کے باہر دروازے کے پاس مخالفین نے ایک خیمہ لگارکھا تھا جس میں مولوی بھی لیکچر کررہے تھے اور شور مچامچاکر لوگوں کو روکتے تھے کہ جو اندر لیکچر سننے جائے گا اُس کا نکاح ٹوٹ جائے گا اور وہ کافر ہوجائے گا۔ پولیس کپتان عیسائی تھا، وہ کہتا تھا کہ عجیب بات ہے کہ یہ شخص یعنی حضرت اقدسؑ ہمارے برخلاف اسلام کی تائید میں لیکچر دے رہا ہے اور ہم تو عیسائی ہوکر اس کی حفاظت کررہے ہیں اور یہ مسلمان مولوی لیکچر سننے سے لوگوں کو روکتا ہے۔
حضرت چودھری تصدق حسین صاحبؓ نے تیسری مرتبہ کسولی پہاڑ سے قادیان حاضر ہوکر حضورعلیہ السلام کی مجلس میں شریک ہونے کی سعادت پائی۔
آپؓ کی زندگی کا ایک بڑا حصہ سرگودھا شہر میں گزرا۔ آپؓ کی شادی محترمہ صغریٰ خانم صاحبہ بنت حضرت مولوی محمودالحسن خان صاحبؓ آف پٹیالہ یکے از ۳۱۳ کے ساتھ ہوئی۔ دونوں میاں بیوی تحریک جدید کے پانچ ہزاری مجاہدین میں شامل تھے۔ آپؓ نے ۱۵؍اپریل۱۹۴۰ء کو بعمر ۶۹؍سال ہجن میں وفات پائی اور وہیں تدفین ہوئی۔ آپؓ کی اہلیہ محترمہ نے ۱۰؍اپریل ۱۹۵۹ء کو ۷۸؍سال کی عمر میں وفات پائی۔ آپؓ کے ایک بیٹے مکرم چودھری عطاءاللہ رانجھا صاحب اور ایک بیٹی مکرمہ سلیمہ بیگم صاحبہ اہلیہ مکرم مسعود احمد خان دہلوی صاحب (سابق ایڈیٹر الفضل ربوہ) تھیں۔
………٭………٭………٭………
محترم چودھری شبیر احمد صاحب
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ ۷؍اپریل۲۰۱۴ء میں مکرم صفدر نذیر گولیکی صاحب کے قلم سے محترم چودھری شبیر احمد صاحب سابق وکیل المال اوّل کا مختصر ذکرخیر شائع ہوا ہے۔
محترم چودھری شبیر احمد صاحب نے باون سال تک مسلسل ایک ہی ادارہ میں، ایک ہی عہدہ پر خدمت کی توفیق پائی۔ آخری سانس تک آپ کو دفتر میں جاکر کام کرنے کی تمنا رہی۔ آپ کے بیٹے مکرم قمر احمد کوثر صاحب بیان کرتے ہیں کہ آپ نے اپنی وفات سے پندرہ دن پہلے خواب میں دیکھا کہ بالکل تندرست ہیں اور لاہور سے پیدل چل کر ربوہ آئے ہیں۔ صبح آپ نے یہ خواب گھر میں سناکر کہا کہ دفتر نہ ہو آؤں؟ ہم نے کہا: ٹھیک ہے، آپ کو لے چلتے ہیں۔ اس پر اُٹھ کر بیٹھ گئے۔ لیکن پھر کہنے لگے کہ دل تو بہت کرتا ہے مگر یہ ٹانگیں کام نہیں کرتیں۔
مضمون نگار رقمطراز ہیں کہ محترم چودھری صاحب نہ صرف خود تحریک جدید کے مطالبات پر عمل پیرا تھے بلکہ اپنے قول و فعل کے ذریعے احمدی جماعتوں کے بےشمار دورے کرکے احباب کی تربیت کرتے رہے۔ آپ ایک دفعہ جس سے مل لیتے اُس کو یاد رکھتے۔ پاکستان کے جس گاؤں یا شہر کا بھی آپ نے دورہ کیا اُس کو بعد میں یاد رکھا حالانکہ یہ بہت مشکل کام تھا۔ میری آپ سے پہلی ملاقات غالباً ۱۹۷۲ء میں ہوئی جب میں آٹھویں کلاس کا طالب علم تھا۔ آپ خانیوال تشریف لائے تھے جہاں کے صدر جماعت میرے والد محترم چودھری محمد نذیر صاحب گولیکی تھے اور خانیوال لوکوشیڈ میں ملازم تھے۔ ہم ریلوے کالونی میں رہتے تھے۔ والد صاحب سٹیشن سے چودھری صاحب کو گھر لے آئے۔ آپ دو دن ہمارے ہاں قیام فرما رہے۔
چودھری صاحب کے پاس دو بیگ تھے۔ اگلے روز والد صاحب اور چودھری صاحب سائیکلوں پر سوار ہوکر احمدیہ مسجد گئے جو اڑہائی کلومیٹر کے فاصلے پر تھی۔ وہاں چودھری صاحب نے تحریک جدید کے حوالے سے سلائیڈز دکھاکر بہت ایمان افروز واقعات بیان کیے۔ گھر واپس آئے تو میری والدہ نے گذشتہ دن والا آپ کا لباس دھوکر اور استری کرکے رکھا ہوا تھا۔ اگلی شام آپ رخصت ہوگئے اور پھر ربوہ سے چند دن کے بعد خط میں شکریہ ادا کیا اور ایک ایک خدمت کرنے والے کا نام لے کر دعائیں دیں۔ یہ آپ کی بہت اعلیٰ خصوصیت تھی کہ کسی نے ذرا سا بھی محبت کا اظہار کیا ہو یا نیکی کی ہو تو آپ ہمیشہ کے لیے اُس کے ہوگئے۔ اخبار الفضل میں دعائیہ اعلانات شائع ہوتے تو بھی اکثر احباب کا پتہ حاصل کرکے انہیں خط لکھتے اور دعاؤں سے نوازتے۔ آپ کی وفات ۲۲؍جولائی ۲۰۱۲ء کو ہوئی۔
………٭………٭………٭………
جمہوریہ مالدیپ
دو ہزار خوبصورت جزائر پر مشتمل ملک جمہوریہ مالدیپ کے بارے میں ایک معلوماتی مضمون روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ ۲۴؍نومبر۲۰۱۴ء میں شائع ہوا ہے۔ یہ سرسبز جزائر ناریل اور کھجور کے درختوں سے ڈھکے ہوئے ہیں۔ تاہم ان میں سے صرف ۲۲۰؍ جزائر آباد ہیں۔
مالدیپ ۲۶؍جولائی۱۹۶۵ء کو آزاد ہوا۔ یہ سری لنکا کے جنوب مغرب میں چارسو میل کے فاصلے پر ہے۔ اس کا رقبہ ۲۹۸؍مربع کلومیٹر اور آبادی تین لاکھ سے زائد ہے۔ دارالحکومت مالے ایک مربع میل رقبے پر مشتمل ہے جس کی آبادی ۱۹۷۷ء میں ۳۰۳۵ نفوس پر مشتمل تھی۔
مالدیپ میں موسم گرم مرطوب ہونے کی وجہ سے مچھروں کی کثرت ہے جو ملیریا کا سبب بنتے ہیں۔
مالدیپ کی کرنسی روپیہ ہے، ڈیوہی دفتری زبان ہے۔ برآمدات میں ناریل، چاول اور مچھلی جبکہ درآمدات میں چینی، تیل، کپڑا، آٹا اور ادویات شامل ہیں۔ بڑی صنعتیں فشنگ، سیاحت، گارمنٹس ہیں۔اس کی اپنی فضائی کمپنی ہے جو بھارت کے تعاون سے چل رہی ہے۔ ایک ایئرپورٹ بھی ہے۔ یہاں شرح خواندگی ۹۵فیصد ہے۔
………٭………٭………٭………
مزید پڑھیں: تم شکر کرو کہ ایک شخص کے ذریعہ تمہاری جماعت کا شیرازہ قائم ہے




