ہے شُکرِ ربِّ عَزّوجَلّ خارج از بیاں

ہے شُکرِ ربِّ عَزّوجَلّ خارج از بیاں
جس کے کلام سے ہمیں اس کا مِلا نشاں
وہ روشنی جو پاتے ہیں ہم اس کتاب میں
ہو گی نہیں کبھی وہ ہزار آفتاب میں
اس سے ہمارا پاک دل و سینہ ہو گیا
وہ اپنے مُنہ کا آپ ہی آئینہ ہو گیا
اُس نے درختِ دِل کو معارف کا پھل دیا
ہر سینہ شک سے دھو دیا ہر دِل بدل دیا
اُس سے خدا کا چہرہ نمودار ہو گیا
شیطاں کا مکر و وَسوسہ بےکار ہو گیا
لوگو! سُنو! کہ زندہ خدا وہ خدا نہیں
جس میں ہمیشہ عادتِ قُدرت نما نہیں
اَے سونے والو جاگو کہ وقتِ بہار ہے
اب دیکھو آکے دَرپہ ہمارے وہ یار ہے
کیا زندگی کا ذوق اگر وہ نہیں ملا
لعنت ہے اَیسے جینے پہ گر اُس سے ہیں جُدا
اس رُخ کو دیکھنا ہی تو ہے اصل مُدّعا
جنّت بھی ہے یہی کہ ملے یارِ آشنا
دیکھو! خدا نے ایک جہاں کو جھکا دیا!
گُمنام پا کے شُہرۂ عالَم بنا دیا
جو کچھ مری مراد تھی سب کچھ دِکھا دیا
میں اِک غریب تھا مجھے بے انتہا دیا
کچھ ایسا فضل حضرتِ ربّ الوریٰ ہوا
سب دُشمنوں کے دیکھ کے اوساں ہوئے خطا
اِک قطرہ اُس کے فضل نے دریا بنا دیا
میں خاک تھا اُسی نے ثریّا بنا دِیا
مَیں تھا غریب و بیکس و گُمنام و بےہُنر
کوئی نہ جانتا تھا کہ ہے قادیاں کِدھر
لوگوں کی اِس طرف کو ذرا بھی نظر نہ تھی
میرے وجود کی بھی کِسی کو خبر نہ تھی
اب دیکھتے ہو کیسا رجوعِ جہاں ہوا
اِک مرجع خواص یہی قادیاں ہوا
وحیِ خدا اِسی رہِ فرّخ سے پاتے ہیں
دِلبر کا بانکپن بھی اِسی سے دِکھاتے ہیں
اَے مُدّعی نہیں ہے تِرے ساتھ کردگار
یہ کُفر تیرے دِیں سے ہے بہتر ہزار بار
(منتخب اشعار از براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد۲۱ صفحہ ۱۱تا۲۴)
مزید پڑھیں: قانونِ خدا



