قانونِ خدا

(فارسی منظوم کلام حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام)
با خبر را دل تپد بر بے خبر رحم بر کورے کند اہلِ بصر
نادان کے لئے دانا کا دل تڑپتا ہے اور آنکھوں والا اندھے پر رحم کرتا ہے
ہمچنیں قانونِ قدرت اوفتاد مر ضعیفاں را قوی آرد بیاد
قانون قدرت اسی طرح واقع ہوا ہے کہ طاقتور کمزوروں کا دھیان رکھتے ہیں
چوں ازیں قانوں شود رحماں بروں رحمِ یزداں از همه باید فزوں
تو رحمان اس قانون سے باہر کیونکر رہ سکتا ہے خدا کا رحم تو سب سے زیادہ ہونا چاہیے
آنکه او ہر بار ما برداشت است ہیچ رحمت را فرو نگذاشت است
وہ خدا جس نے ہمارے سب بوجھ اٹھارکھے ہیں اور کسی رحمت کی ہمارے لئے کمی نہیں رکھی
چوں زِ ما غافل شود در امرِ دیں شرمت آید از چنین انکار و کیں
وہ دین کے معاملے میں ہم سے کیونکر غافل ہو گا تجھے اس انکار اور بغض سے شرم آنی چاہیے
دل منِه در خاکدانِ بے وفا یاد کن آخر وفا ہائے خدا
بے وفا دنیا سے دل مت لگا۔کبھی تو خدا تعالیٰ کی وفاداریاں بھی یاد کر
بارہا شد بر تو ثابت کایں عقول مبتلا هستند در سهو و ذهول
تجھ پر بارہا ثابت ہو چکا ہے کہ یہ عقلیں بھول چوک میں مبتلا رہتی ہیں
بارہا دیدی بعقلِ خود فساد بارہا زیں عقل ماندی بے مُراد
بار ہا تو نے اپنی عقل کی خرابی دیکھی ہے اور بار ہا تو اس معقل کی وجہ سے نامرادر ہا ہے
باز نخوت میکنی بر عقلِ خویش واز دلیری میروی نادیده پیش
پھر بھی تو اپنی عقل پر فخر کرتا ہے اور بے سوچے سمجھے دلیری کے ساتھ آگے بڑھا جاتا ہے
نفس خود را پاک کن از هر فضول ترکِ خود کُن تا کند رحمت نزول
اپنے نفس کو ہر غیر ضروری چیز سے پاک کر اور بے نفسی اختیار کرتا کہ خدا کی رحمت نازل ہو
لیک ترکِ نفس کے آساں بود مُردن و از خود شدن یکسان بود
لیکن نفس کو ترک کرنا کون سا آسان کام ہے۔مرنا اور نفس کو مارنا دونوں برابر ہیں
این چنیں دل کم بود در سینهٔ کاں بود پاک از غرور و کینهٔ
ایسا دل شاذ و نادر ہی کسی سینہ میں ہوتا ہے۔جو غرور اور کینہ سے پاک ہو
(براہین احمدیہ روحانی خزائن جلد اول صفحہ ۱۷۱تا ۱۷۲، بحوالہ درثمین فارسی مترجم صفحہ۹۸-۱۰۰)
مزید پڑھیں: الا! اے کمر بستہ بر افترا




