حالاتِ حاضرہ

خبرنامہ(اہم عالمی خبروں کا خلاصہ)

٭…برطانوی وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر نے پارٹی کی خواہش کے مطابق لیبر پارٹی کی قیادت سے مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئے قائد کے انتخاب تک وہ اپنے عہدے پر برقرار رہیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ دو برس میں معیشت کو مضبوط بنانے اور ملک کی خدمت کے لیے بھرپور کوششیں کیں اور اقتدار کی ہموار منتقلی کے لیے اپنے جانشین سے مکمل تعاون کریں گے۔ کیئر اسٹارمر ۲۰۲۴ء کے انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیاب ہو کر اقتدار میں آئے تھے، جس سے چودہ سالہ کنزرویٹو دور کا خاتمہ ہوا۔ ان کے استعفے کے ساتھ ایک دہائی میں برطانیہ کے چھٹے وزیرِ اعظم کے عہدہ چھوڑنے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔

٭…امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی تجزیاتی رپورٹ کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان تقریباً چار ماہ تک جاری کشیدگی اور حالیہ معاہدے کے باوجود مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی صورتحال میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آئی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام مکمل طور پر ختم نہیں ہوا اور اس کے مستقبل کا فیصلہ آئندہ مذاکرات پر منحصر ہے۔ ایران کا بیلسٹک میزائل پروگرام اور خطے میں اس کے اتحادی گروپ بدستور فعال ہیں، جبکہ سیاسی نظام بھی برقرار ہے۔ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں اور معاہدے سے ایران کو معاشی فوائد ملنے کی توقع ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ معاہدہ جنگ کے پھیلاؤ سے بچنے کی کوشش کی عکاسی کرتا ہے، جبکہ ایران اسے اپنی مزاحمتی کامیابی قرار دے رہا ہے۔

٭…ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز ایران کے خودمختار پانیوں کا حصہ ہے اور اس کے بارے میں فیصلہ صرف ایرانی عوام اور مسلح افواج کا حق ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ ایران دھمکیوں کے جواب میں عملی اقدامات کرتا ہے۔ یہ بیان ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران سامنے آیا ہے، جبکہ بعض رپورٹس میں ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش اور بحری جہازوں کو انتباہ دینے کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے اور ایران کو اپنی علاقائی پراکسی سرگرمیاں روکنی ہوں گی۔

٭…جرمنی کے وزیر دفاع نے آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی نئی کشیدگی اور ممکنہ بندش کا ذمہ دار امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس صورتحال کو جنم دینے میں امریکا کا کردار اہم ہے۔ عرب میڈیا کے مطابق انہوں نے کہا کہ یورپ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلا اور محفوظ دیکھنا چاہتا ہے، کیونکہ اس آبی گزرگاہ کے ذریعے توانائی کی فراہمی اور عالمی تجارت کا تسلسل یورپی معیشت کے لیے نہایت اہم ہے۔ جرمن وزیر دفاع کے مطابق آبنائے ہرمز کی بحالی نہ صرف توانائی کے تحفظ بلکہ اقتصادی بحالی کے مفاد میں بھی ہے، اور یورپ اس راستے میں رکاوٹوں کے خاتمے کا خواہاں ہے۔

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button