حضور انور کے ساتھ ملاقات

امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ جماعت احمدیہ ووڈرویل(Vaudreuil) کینیڈا کی مجلسِ عاملہ کے ممبران کی ملاقات

لڑکیوں کو مائیں وقت دیں اور لڑکوں کو باپ وقت دیں تو ان کی تسلّی بھی ہو جاتی ہے۔ تو شرماہٹ اپنی دُور کرنی پڑے گی، ہر جگہ تو آپ کو اسلامی سکول نہیں ملیں گے۔ بعض جگہ مجبوری ہے تو اس لیے خود محنت کرنی پڑے گی اور بغیر جھجکے جواب دیں۔ تو ان کی باتوں میں آپ بتائیں کہ کیا بُرائیاں ہیں اور کیا اچھائیاں ہیں

مورخہ ۲۱؍ جون ۲۰۲۶ء، بروزاتوار، امام جماعت احمدیہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ کینیڈا کی جماعت ووڈرویل (Vaudreuil) کے چودہ (۱۴)اراکینِ مجلس عاملہ کو بالمشافہ شرفِ ملاقات حاصل ہوا۔ یہ بابرکت ملاقات اسلام آباد (ٹِلفورڈ) میں منعقد ہوئی۔ مذکورہ وفد نے خصوصی طور پر اس ملاقات میں شرکت کی غرض سے کینیڈا سے اسلام آباد (ٹِلفورڈ) کا سفر اختیار کیا۔

[قارئین کی معلومات کے لیے عرض ہے کہ کینیڈا شمالی امریکہ کا ایک آزاد اور خودمختار وفاقی ملک ہے جو انتظامی طور پر دس صوبوں اور تین علاقوں (Territories) پر مشتمل ہے، یعنی مجموعی طور پر اس کی تیرہ انتظامی اکائیاں ہیں۔

ان صوبوں میں کیوبک (Québec) ایک اہم اور نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ رقبے کے لحاظ سے یہ کینیڈا کا سب سے بڑا صوبہ ہے، جبکہ آبادی کے اعتبار سے یہ دوسرے نمبر پر آتا ہے۔ کیوبک ملک کے مشرقی حصے میں واقع ہے اور اس کی سرکاری اور غالب زبان فرانسیسی ہے۔ یہ صوبہ کینیڈا میں فرانسیسی ثقافت، تاریخ اور شناخت کا سب سے بڑا مرکز سمجھا جاتا ہے۔ اس کے اہم شہر مونٹریال اور کیوبک سٹی ہیں، جنہیں معاشی، تعلیمی اور ثقافتی لحاظ سے کینیڈا میں مرکزی اہمیت حاصل ہے۔

اسی صوبے کے مونٹریال کے مغرب میں ایک مضافاتی رہائشی علاقہ Vaudreuil واقع ہے، جو Vaudreuil-Dorion کے نام سے ایک شہر کی صورت میں بھی جانا جاتا ہے۔ یہ علاقہ گریٹر مونٹریال ایریا کا حصہ ہے اور تیزی سے ترقی کرنے والے مضافاتی علاقوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں جدید رہائشی سہولیات، تعلیمی ادارے اور تجارتی مراکز موجود ہیں۔ یہ علاقہ خاندانی رہائش کے لیے پُرسکون اور موزوں سمجھا جاتا ہے۔]

جب حضورِ انور مجلس میں رونق افروز ہوئے تو آپ نےتمام شاملینِ مجلس کو السلام علیکم کا تحفہ عنایت فرمایا۔

بعدازاں تمام شرکائے مجلس کو حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں فرداً فرداً اپنا تعارف پیش کرنے کا بھی موقع ملا۔

ملاقات کے آغاز میں صدر صاحب جماعت نے حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں جماعتی تجنید کی بابت عرض کیا تو اس پر حضورِ انور نے فرمایا کہ ایک سو اکیس(۱۲۱) افراد کی جماعت ہے، مربی صاحب آپ کے پاس ہیں۔ مربی صاحب دوڑ بھی لگاتے ہیں ؟

اسی دوران حضورِ انور نے مربی سلسلہ کو تاکید فرمائی کہ دوڑ لگایا کرو تاکہ ساری جماعت کو بھی ساتھ دوڑاؤ۔

جس پر انہوں نے حضورِ انور کے ارشاد پر ان شاء اللہ کے دعائیہ کلمات کے ساتھ عملی اطاعت کا کامل اظہار کیا۔

یہ سماعت فرما کر حضورِ انور دوبارہ صدر جماعت کی جانب متوجہ ہوئے اور انہیں ووڈرویل کی ایک سو اکیس احباب پر مشتمل جماعت کو کینیڈا بھر کے لیے اپنے عملی نمونے کے ذریعے ایک مثالی اور قابلِ تقلید جماعت بننے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے اس خواہش کا اظہار فرمایا کہ آئیڈیل جماعت ہونی چاہیے اور ایک سو اکیس آدمی کو تو کینیڈا کے لیے ایک نمونہ بننا چاہیے۔ اپنے آپ کو نمازوں میں، قرآن میں، تربیت میں، تبلیغ میں، آپس میں ایک دوسرے کے حق ادا کرنے میں اور اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے میں ایک ماڈل جماعت بنا دیں۔ایک سو اکیس آدمی ہیںتو بہت کچھ کر سکتے ہیں۔ ایک سو اکیس تو یہاں محلے میں بیٹھے ہوتے ہیں۔

مزید برآں دورانِ ملاقات شاملینِ مجلس کو حضورانور کی خدمت میں متفرق سوالات پیش کرنے نیز ان کے جوابات کی روشنی میں حضورِانور کی زبانِ مبارک سے نہایت پُرمعارف، بصیرت افروز اور قیمتی نصائح پر مشتمل راہنمائی حاصل کرنے کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔

ایک عاملہ ممبر نے حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں عرض کیا کہ صوبہ کیوبک میں بعض سرکاری ملازمین خصوصاً اساتذہ کےلیے حجاب اور دیگر مذہبی علامات پر پابندی عائد کی جاچکی ہے اور اب بعض حلقوں کی جانب سے طلبہ کےلیے بھی ایسی پابندیوں کی تجاویز پیش کی جا رہی ہیں۔ ان حالات میں اپنے بچوں کے دینی مستقبل اور مذہبی آزادیوں کے تحفظ کے پیش نظر کیا ہمیں کیوبک میں رہنا چاہیے؟

اس پر حضورِ انور نے حالاتِ حاضرہ میں ہجرت یا قیام کے فیصلے کو عملی ضرورت اور ذاتی حالات کے ساتھ مشروط قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ جہاں آزادی ہے وہاں اگر جا سکتے ہیں تو جائیں ، لیکن اس سے پہلے اپنی جابsecure کریں۔

پھر حضورِ انور نے تعلیمی و عملی مجبوریوں کے تحت وقتی رعایت اور قانونی حدودکے دائرہ کار کو واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ دوسرے یہ ہے کہ بچیوں کو بتائیں کہ سکول میں مجبوری ہے، تم جب تک سکول میں ہو تو حجاب اگر نہیں پہنا ، تو کوئی ہرج نہیں ہے۔ لیکن سکول سے باہر نکلتے ہی فوری طور پر حجاب لے لو۔ تو صرف بعض قانون یہی ہیں کہ جو پبلک placesہیں یا گورنمنٹ offices ہیں وہاں نہیں جا سکتے ، جس طرح فرانس میں بعض جگہوں پر ہے۔

اسی طرح جواب کے آخر میں حضورِ انور نے دینی تربیت اور عملی حکمتِ عملی کے امتزاج کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ پس ان کی شروع سے تربیت کریں اور ان کو کسیcomplex میں نہ پڑنے دیں ۔ اگر مجبوری ہو تو ٹھیک ہے کہ سکول کے اندر بغیر حجاب کے رہ سکتے ہیں۔ جو پروفیشنلز ہیں، ہسپتالوں میں نرس ہیں، ڈاکٹر ہیں یا سرکاری دفتر میں کوئی کام کر رہا ہے تو مجبوری کے تحت ٹھیک ہے اور جب مجبوری ختم ہو جائے تو حجاب اوڑھ لیں۔ یہ منافقت نہیں ہے بلکہ یہ ضرورت ہے۔

ایک شریکِ مجلس نے عرض کیا کہ مَیں باقاعدگی سے اِستغفار کرتا ہوں اور دوسروں کو معاف کرنے کی کوشش بھی کرتا ہوں، لیکن جن لوگوں نے میرے ساتھ ناانصافی کی ہو، ان کے بارے میں دل کی تکلیف مکمل طور پر ختم نہیں ہو پاتی۔ حضور! مَیں اپنے دل کو ان احساسات سے کیسے پاک کر سکتا ہوں تاکہ حقیقی معافی اور دلی سکون حاصل کر سکوں؟

اس پر حضور ِانور نے اِستغفار اور حقیقی معافی کے باطنی اثرات اور ان کے عملی تقاضوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ اگر اِستغفار صحیح کر رہے ہوں اور اس میں معاف صحیح طرح کیا ہو تو پھر آپ کو معاملہ ختم کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ غلطی دیکھو تومعاف کرو اور پھر آخر میں آیت جو قرآن شریف میں آئی ہے، وہ یہی ہے کہ محسنون، وہ احسان کرنے والے ہوتے ہیں۔ تو احسان تو تبھی ہوتا ہے کہ جب دل سے معافی ہو۔ تو یہ کیفیت پیدا ہونی چاہیے۔

حضورِ انور نے دلی رنجشوں اور تکالیف کے اسباب کی بابت نشاندہی کرتے ہوئے فرمایا کہ باقی یہ ہے کہ کسی سے اگر کوئی اُمیدرکھیں گےتو پھرٹھیک ہے کوئی jealousy یا ہلکی سی رنجش آپ کے دل میں پیدا ہوگی۔ لیکن اگر اُمید ہی نہیں ہے ، اُمید اگر اللہ تعالیٰ پر ہےتو پھر کسی کے اچھا بُرا کرنے سے آپ کو فرق کوئی نہیں پڑتا۔ اگر یہ یقین ہو کہ مَیں معافی مانگ رہا ہوں اور جو میرے پر ظلم کر رہا ہے، اس کو مَیں اللہ کی خاطر معاف کر رہا ہوں تو پھر اللہ تعالیٰ سے reward حاصل ہوگا۔

اسی طرح حضورِانور نے سیرتِ نبوی صلی الله علیہ وسلم کی روشنی میں صبر و احسان کے روحانی اثرات کو عملی مثالوں کے ذریعے واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ اسی طرح ایک شخص آیا، انہوں نے کہا کہ جی! مَیں اپنے لوگوں سے، اپنے رشتہ داروں سے اورعزیزوں سے بڑا حُسنِ سلوک کرتا ہوں اور وہ میرے سے ہمیشہ بُرائی کرتے ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تک تم یہ کرتے رہو گے تو اللہ تعالیٰ کا تمہارے پر فضل ہوتا رہے گا، فرشتے تمہارے لیے دعا کرتے رہیں گے۔ اور جب تم نے یہ ختم کر دیا ، ان کے جواب دینے شروع کر دیے، ویسا ہیattitudeاختیار کر لیا تو تم بھی ویسے ہو جاؤ گے۔ جس طرح ایک مثال ہے کہ ایک جگہ جھگڑا ہو رہا تھا، حضرت ابوبکر رضی الله عنہ وہاں موجود تھے، تو وہ سُن رہے تھے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے گزرے ، آنحضرتؐ کھڑے رہے، مسکراتے رہے اور دیکھتے رہے۔ انہوں نے جواب نہیں دیا ۔ آخر پر ایک جگہ انہوں نے جواب دے دیا توآنحضرتؐ وہاں سے واپس آ گئے۔تو انہوں نے پوچھا کہ آپؐ کیوں واپس چلے گئے تھے؟ انہوں نے کہا کہ جب تک تم خاموش تھے، تو فرشتے وہاں کھڑے تمہاری طرف سے جواب دے رہے تھے اور جب تم بولے ہو تو فرشتے چلے گئے تو بس مَیں بھی چلا گیا۔

جواب کے آخر میں حضورِ انور نے دل سے رنجش اور کدورت کے خاتمے اور حقیقی معافی کے جذبے کو پیدا کرنے کے لیے ایک حکیمانہ عملی حل تجویز فرمایا کہ اللہ کی خاطر معاف کر رہے ہیں تو پھر دل سے آپ ہی نکل جائے گا۔ یہ دعا کیا کریں، روزانہ نماز میں ایک سجدہ تو کم از کم کیا کریں کہ اللہ تعالیٰ میرے دل سے لوگوں کے لیے کسی قسم کی بھی جو رنجش اورgrudge ہے وہ نکال دے۔

ایک اَور عاملہ ممبر نے عرض کیا کہ پیارے حضور! جب ہمارے بچے ایسے ماحول میں پروان چڑھتے ہیں کہ جہاں مذہبی شناخت کے اظہار کو ناپسند کیا جاتا ہے تو وہ اپنی اسلامی شناخت کو ظاہر کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں۔ ایسی صورت میں ہم بطور احمدی والدین کس طرح اپنے بچوں کی تربیت کریں؟

اس پر حضورِ انور نے بچوں کی دینی تربیت میں والدین کے عملی نمونے اور گھر کے ماحول کو بنیادی حیثیت کا حامل قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ پہلی تو بات یہ ہے کہ مَیں نے ان کو بھی کہا ہے کہ اپنی مثال ان کے سامنے قائم کریں۔ جب ان کو پتا ہوگا کہ آپ نے اپنی شناخت نہیں چھپائی، آپ اپنا اظہار بھی کر رہے ہیں، باہر بھی آپ کا مسلمان کی حیثیت سے اظہار ہے، گھر میں بھی مسلمان کی حیثیت سےاظہار ہے۔ گھر میں، اسلام کے بارے میں، قرآن کے بارے میں، اللہ تعالیٰ کے بارے میں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کے بارے میں، خلافت کے بارے میں اور اسلامی ماحول کے بارے میں discussionکر رہے ہیں، تو آپ کے رویّے سے بھی اس کا نیک اثر بچوں پر پڑ رہا ہے۔ اگر گھر میں اَور باہر اَور بچوں کے سامنے آپ کاattitudeمختلف ہےتو بچے تو پھرکہیں گے کہ باپ تو ہمارے لیےمصیبت ہی ہے، ہمارے لیےسختیاں کرنے والا ہی ہے۔

پھر حضورِ انور نے گھریلو تربیت میں مسلسل مکالمے، دینی گفتگو اور ایم ٹی اے پر نشر ہونے والے تربیتی پروگراموں سے استفادہ کرنے کی اہمیت کواُجاگر کرتے ہوئے فرمایا کہ تو نرمی سے پیار سے یہdiscussionکیا کریں۔ گھر میں بیٹھ کے پندرہ بیس منٹ کم از کم روزانہ بچوں کو دیں، ان سے پوچھیں کہ کیا سوال ہیں اور کیا نہیں۔ ہفتے میں بہت ساری فیملیاں مجھے لکھتی ہیں کہ ہم خطبے کا خلاصہ ایک دفعہ بیٹھ کےdiscussکرتے ہیں یاThis weekکو بھی دیکھ لیتے ہیں، اس میں بہت ساری باتیں پتا لگ جاتی ہیں یا کوئی اَور پروگرام ایم ٹی اےپر آ رہا ہوتا ہے تو اس کو دیکھتے ہیں۔ پندرہ بیس منٹ آدھا گھنٹہ دیکھتے ہیں، اس کے بعد اسے discussکرتے ہیں اور اس سے اثر پڑتا ہے۔

اسی طرح جواب کے آخر میں حضورِ انور نے بچوں میں دینی شناخت، خود اعتمادی اور واضح فکری شعور پیدا کرنے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ تو ایکconfidenceپیدا کریں اوربتائیں کہ تم کون ہو۔تم مسلمان ہو اور مسلمان کیا ہے اور پھر احمدی مسلمان ہو اور احمدی مسلمانوں کا فرق دوسرے مسلمانوں سے کیا ہے، تم نے کس طرح اپنی مثالیں قائم کرنی ہیں۔ تو یہ ساری چیزیں جب ان کو بتائیں گے اور اپنے اعتماد کا بھی آپ ان کے سامنے اظہار کریں گے، تو ظاہر ہے کہ جو complex ہے، وہ ختم ہو جائے گا۔

ایک شریک مجلس نے عرض کیا کہ ہم پوری کوشش کرتے ہیں کہ روزانہ وہ تسبیحات پڑھیں کہ جن کی حضورِ انور نے ہمیں تلقین فرمائی ہے، تاہم بعض اوقات بیماری یا شدید ذہنی دباؤ کی وجہ سے عبادت اور ذکرِ الٰہی کی طرف توجہ برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ایسی کیفیت میں حضورِ انور ہمیں کیا راہنمائی فرماتے ہیں؟

اس پر حضورِ انور نےذکرِ الٰہی اور عبادت میں کیفیتِ توجہ سے زیادہ اس کے تسلسل اور عملی التزام کی اہمیت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ چلیں! آپ توجہ نہ کریں، بغیر توجہ کے ہی پڑھ لیا کریں، تو توجہ آپ ہی قائم ہو جائے گی۔ کتنی دیر لگتی ہے، زیادہ سے زیادہ بیس پچیس منٹ لگتے ہیں۔بیماری میں لیٹے ہوئے ہیں تو اسی میں درود شریف پڑھ لیں۔اسی میں شفا ہے۔

حضورِ انور نے بیماری اور شدید جسمانی یا ذہنی تکلیف کے ایّام میں دعا اور ذکرِ الٰہی کی روحانی برکات کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک ایمان افروز واقعہ بیان فرمایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب بیمار ہوئے تھے، ایسی انتہائی حالت ہو گئی، تو جب گھر والوں کو بھی خیال ہوا کہ بس اب گئے کہ گئے تو اس وقت آپ کو اللہ تعالیٰ نے الہاماً یہ دعا بتائی کہ سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْمِ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّاٰلِ مُحَمَّدٍ۔ وہ آپؑ نے کی اور پھر ساتھ یہ الہام ہوا کہ دریا کا پانی ریت سمیت منگواؤ اور وہ لے کے اپنے جسم پر ملو تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام یہ دعا پڑھتے جاتے تھے اور ساتھ یہ ملتے جاتے تھے، تو آپؑ کہتے ہیں کہ اس طرح لگتا تھا کہ میرے جسم سے جس طرح آگ باہر نکل رہی ہے۔ اورآپؑ کی حالت ٹھیک ہو گئی۔

جواب کے آخر میں حضورِ انور نے دعا اور ذکرِ الٰہی کی عملی اہمیت اور اس کے تدریجی اثرات کو مزید واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ تو دعا میں تو خود شفا ہے۔ تو آپ بیماری کی حالت میں، ذہنی دباؤ ہے، تو اس کے لیے تو بڑی اچھی بات ہے کہ دعا کریں۔ ضروری تو نہیں صرف جماعت کے لیے بلکہ آپ کی ذات کے لیے بھی یہ چیز اچھی ہے۔ تو بیس پچیس منٹ لگتے ہیں۔ باقی اگر ذہنی دباؤ نہ بھی ہو، تب بھی آپ اتنے غور سے نہیں پڑھتے، پندرہ بیس پچیس دفعہ تو پڑھ لیں گے، لیکن اگلے ستّر پچہتر دفعہ جو ہیں وہ صرف منہ سے نکل رہے ہوں گے۔ یہی حالت ہوتی ہے۔ تو ٹھیک ہے کہ جتنی دفعہ پڑھی جاتی ہے وہ تو پڑھیں۔ آہستہ آہستہ عادت پڑ جائے گی۔

ایک ناصر نے عرض کیا کہ جب بھی سوشل میڈیا پر پیارے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف گستاخانہ اور دل آزار مواد دیکھتا ہوں تو میرا دل بہت زیادہ بے چین اور تکلیف محسوس کرتا ہے۔ ایسی صورتحال میں اپنے دل کو تسلّی دینے اور اس پریشانی کا احسن طریق سے مقابلہ کرنے کے لیے پیارے حضور کیا راہنمائی فرمائیں گے؟

اس پر حضورِ انور نے سوشل میڈیا پر پیدا ہونے والے فکری چیلنجز کا علمی اور عملی انداز میں مقابلہ کرنے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ ایک تواپنا علم بڑھائیں۔ جو دیکھتے ہیں ان کے جواب آپ کو پتا ہونے چاہئیں۔ صرف دل میں کُڑھنے سے تو کوئی فائدہ نہیں۔ اگر آپ کو جواب آتے ہیں تو آپ اسی جگہ سوشل میڈیا پر ڈالیں گے کہ یہ ایک سوال اُٹھا تھا اور یہ اس کا جواب ہے۔ بجائے اس کے کہ اپنی سائٹ بنا کے، اس کے سوشل میڈیا پر ڈالتے جائیں، انہی کے اُوپر جواب دیتے جائیں۔تو جو ان کو پڑھنے والے ہیں ،ان کے followers ہیں، وہ آپ کا جواب پڑھ لیں گے۔

حضورِ انور نے مخالفین کےردِّعمل میں حکمت، نرمی اور ضبطِ نفس کو بنیادی اصول قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ نرمی سے ، تحمل سے بات کریں، سختی نہیں کرنی اور کہیں غلط قسم کے الفاظ استعمال نہ کریں۔

جواب کے آخر میں حضورِ انور نے دعا اور درود شریف کی طرف توجہ دلاتے ہوئے اس کےروحانی پہلو کو اُجاگر فرمایا کہ دوسرے دعا کریں۔ درود بھیجیں اور جب آپ درود بھیجتے ہیں تو دعا ہو جاتی ہے اور آپ کو بھی ثواب ہو جاتا ہے۔

ایک ناصر نے عرض کیا کہ آجکل بچوں کو سکول میں بُلنگ(bullying) کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔بحیثیت والدین ہم ان کی کس طرح راہنمائی کر سکتے ہیں؟

اس پر حضورِ انور نے بُلنگ کو ایک عمومی معاشرتی مسئلہ قرار دیتے ہوئے اس کے مختلف پہلوؤں کی طرف توجہ دلائی کہ ہر جگہ تو نہیں ہوتا، نہ صرف پاکستانی بچوں پر ہوتا ہے، ایشین پر بھی ہوتا ہے، افریقن پر بھی ہوتا ہے۔ ان کے لوکل مقامی جو لوگ ہیں، کینیڈین ہیں یا برٹش ہیں یا فرنچ ہیں ، ان کے اپنے بچوں پر بھی ہوتا ہے۔ عربوں پر بھی ہوتا ہے۔ تو یہ تو بعض بچے ہوتے ہیں، وہ bullyکرتے ہیں اوراس کی وجہ سے بچے ڈپریشن میں چلے جاتے ہیں۔

[قارئین کی معلومات کے لیے عرض ہے کہbullying (تضحیک یا بدسلوکی) ایک انگریزی اصطلاح ہے اوراس کا مفہوم یہ ہے کہ کسی کو جان بوجھ کر تنگ کرنا، اذیت دینا، تمسخر اُڑانا، ہنسی اور ٹھٹھے کا نشانہ بنانا یا تکلیف پہنچانا۔ یہ عمل جسمانی، ذہنی یا جذباتی طور پر اثر اندازہو سکتا ہے، جیسے مار پیٹ، گالیاں دینا ، کسی کو گروپ سے الگ کرنا، اس کے بارے میں افواہ پھیلانا یا جھوٹ کی تشہیر کرنایا اسے سماجی سطح پر بدنام کرنا ، سوشل میڈیا یا انٹرنیٹ پرتذلیل یا ہراساں کرناوغیرہ وغیرہ۔ اس کا بنیادی مقصد کسی کی عزتِ نفس کو مجروح کرنا، اس کی تذلیل کرنا یا اسے کمزور بنانا ہوتا ہے۔ یہ عموماً طاقت کے فرق کی وجہ سے ہوتا ہے اور اس تحقیرکے نتیجے میں متاثرہ شخص سماجی تنہائی کا شکار ہو سکتا ہےاور ساتھ ہی اسے خود اعتمادی کی کمی، ڈپریشن یا ذہنی پریشانی جیسے مسائل کا سامنا بھی ہو سکتا ہے۔ بدقسمتی سے عصرِ حاضر کے نام نہاد آزادی پسند معاشروں میں یہ رجحان تکلیف دہ حد تک رواج پا چکا ہے۔]

پھر حضورِ انور نے بچوں کے ساتھ گھر میں دوستانہ ماحول، روزمرہ گفتگو اور اعتماد سازی کو بنیادی حفاظتی تدبیر قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ تو بچے جب گھر آئیں ،ایک تو یہ ہے کہ ان سے دوستانہ ماحول پیدا کریں، ان سے پوچھیں کہ آج سکول میں کیسا دن گزرا۔ اگر کوئی بات ہوئی تو اس کے بارے میں ان کو بتائیں کہ اس پر تمہارا رویّہ کیا ہونا چاہیے تھا اور کیا جواب دینا چاہیے تھا یا ignoreکرنا ہے تو کرو اور اگر زیادہ خطرناک بات ہے تو وہاں کا ہیڈ ٹیچریا ہیڈ ماسٹر جو ہے اس کو جاکے بتانا ہے کہ یہ اس طرح ہو رہا ہے اور یہ بڑا غلط ہے اور اس کو تم لوگ ٹھیک کرو۔

اسی طرح حضورِ انور نے بچوں میں اعتماد، حوصلہ اور ذہنی پختگی پیدا کرنے میں والدین کی مسلسل توجہ کی اہمیت کواُجاگر کرتے ہوئے فرمایاکہ تو جب ان کو بھی پتا لگ جائے گا کہ ہاں! والدین بھی interested ہیں، بچوں کی خبر بھی لیتے ہیں اور بچوں کو بھی پتا لگ جائے کہ ہمارے ماں باپ ہمارے میں دلچسپی رکھتے ہیں اور ہمارے حالات پوچھتے ہیں اور ہم سے باتیں کرتے ہیں اور ہمیں تسلّی دیتے ہیں۔ تو ان میں confidence بھی پیدا ہوگا۔ تو وہ جو bully ہو رہے ہوتے ہیں تووہ پھر زیادہ پریشان نہیں ہوتے۔ ان کو بتائیں کہ تم میں confidence ہونا چاہیے اور لوگوں کی پرواہ نہ کرو ۔ ان کو یہ بتا دیں کہ تم نے دنیا میں لیڈ کرنا ہے، دنیا کا لیڈر بننا ہے اور اس لیے تمہارے ساتھ ایسی دشمنی میں یہ باتیں ہوں گی۔ اس کا مقابلہ تم کرو اور حوصلہ پیدا کرو۔

بعدازاں حضورِ انور نے والدین کی عدم توجہ کے بچوں پر مرتّب ہونے والے نفسیاتی اثرات کو ایک عملی مثال کے ذریعے واضح فرمایا کہ لیکن یہی ہے کہ ان کے ساتھ روزانہ کی بات چیت شیئر کریں، لیکن اگر بچوں کوہفتہ ہفتہ پوچھ ہی نہیں رہے اور بچے ڈپریشن میں جا رہے ہیں تو انہیں کہو کہ سکول نہیں جاؤ۔ اب ایک جرمنی میں اسی طرح لڑکی تھی، اس کو تنگ کرتے تھے اور وہ ماں باپ کو آ کر کہتی تھی کہ مَیں نے سکول نہیں جانا، زبردستی ماں باپ بھیج دیتے تھے۔ تو سکول کے قریب ایک خالی بلڈنگ تھی ، تو وہ وہاں جا کے چھپ کے بیٹھ جاتی تھی اور سکول میں چھٹی ہوتی تو وہ گھر آ جاتی تھی۔ کافی دن جب وہ سکول نہیں آئی تو سکول والوں نے پھر ماں باپ کو رپورٹ کی کہ وہ سکول نہیں آ رہی۔ تب ماں باپ نے اس سے پوچھا تواس نے کہا کہ مَیں تمہیں کہہ رہی تھی کہ مَیں نے نہیں جانا وہاں مجھےbully کرتے ہیں، تنگ کرتے ہیں اور یہ یہ کرتے ہیں۔ اور تم لوگ میری بات ہی نہیں سُنتے تھے۔ اگر توجہ کر لیتے تو کم از کم ٹیچر کو کہتے یا تم میری باتیں سنتے تو مَیں دل کی بھڑاس نکالتی۔ تو پھر مَیں نے حل یہی سوچا کہ مَیں سکول ہی نہیں جاتی، وہاں جا کے ایک کنارے پر سکول کے باہر ایک بلڈنگ میں بیٹھ جاتی ہوں اور جب چھٹی ہوتی ہے تو آ جاتی ہوں۔ تو پھر یہ اثر ہوتا ہے۔

جواب کے آخر میں حضورِ انور نے اس اَمر پر زور دیا کہ ان کو معاشرے میں نفسیاتی اثر سے بچانا ہے تو ماں باپ کو محنت کرنی پڑے گی۔

ایک شریکِ مجلس نے عرض کیا کہ پیارے حضور! آجکل سکولوں میں بہت سی غیر اسلامی باتیں پڑھائی جا رہی ہیں۔ ایسی صورتحال میں کیا ہمارے لیے یہ جائز ہے کہ ہم اپنے بچوں کو کسی پرائیویٹ غیر احمدی مسلم سکول میں داخل کروائیں کہ جہاں انہیں تعلیم اور تربیت کے لیے زیادہ اسلامی ماحول میسر ہو؟

اس پر حضورِ انور نے تعلیمی ادارے کے انتخاب میں دینی ماحول کے ساتھ اعتقادی تحفظ کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ ٹھیک ہے کہ جہاں تو ایسا ماحول میسر ہے کہ جہاں یہ تعلیم نہیں دی جاتی تواس میں پڑھا لیں لیکن وہاں یہ احتیاط کرنی پڑے گی اور ان کو بتانا پڑے گا کہ ان کے سارے نظریات پر نہ عمل کرنے لگ جاؤ۔ وہ ختمِ نبوّت پر لیکچر نہ دینے لگ جائیں۔ وہ جماعت کے خلاف نہ بولنے والے ہوں۔

پھر حضورِ انور نے گھر کے ماحول کو بنیادی تربیت کا مرکز قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ دوسرے یہ کہ جہاں مجبوری ہے اور سکول میں بچے جاتے ہیں تو وہاں پھر روزانہ جس طرح مَیں نے کہا ہے کہ گھروں میں ان کے ساتھ بیٹھیں۔ لڑکیوں سے مائیں باتیں شیئر کریں اور ان کو بتائیں کہ اصل چیز کیا ہے۔ لڑکوں سے باپ ان کی باتیں شیئر کریں اور ان کو بتائیں کہ اصل چیز کیا ہے اور کیوں ہم اس چیز سے بچتے ہیں۔ جب ایک وقت آئے گا تو تمہیں خود ہی ان باتوں کاپتا لگ جائے گا یا اگر ان کے سوال پیدا ہوں تو ان کے جواب دیں۔

جواب کے آخر میں حضورِ انور نے تربیتِ اولاد میں والدین کی ذمہ داری کو اُجاگر کرتے ہوئے بلا جھجک گفتگو کی ضرورت پر زور دیا کہ لڑکیوں کو مائیں وقت دیں اور لڑکوں کو باپ وقت دیں تو ان کی تسلّی بھی ہو جاتی ہے۔ تو شرماہٹ اپنی دُور کرنی پڑے گی، ہر جگہ تو آپ کو اسلامی سکول نہیں ملیں گے۔ بعض جگہ مجبوری ہے تو اس لیے خود محنت کرنی پڑے گی اور بغیر جھجکے جواب دیں۔ تو ان کی باتوں میں آپ بتائیں کہ کیا بُرائیاں ہیں اور کیا اچھائیاں ہیں۔

ایک شریک مجلس نے عرض کیا کہ مغربی ممالک میں اکثر تنخواہ دار افراد کی آمدنی اور اخراجات تقریباً برابر ہوتے ہیں، ان کی آمدن کا بڑا حصہ گھر کے کرایہ یا مورگیج(mortgage)، ٹیکسز اور دیگر ضروری اخراجات میں صَرف ہو جاتا ہے، جبکہ باقی رقم روزمرہ ضروریات پوری کرنے میں خرچ ہو جاتی ہے، ایسی صورتحال میں بعض افراد مالی قربانی کے لیے گنجائش محسوس نہیں کرتے۔ہم ایسے افراد کو مالی قربانی کی اہمیت اور برکات کے بارے میں کس طرح مؤثر انداز میں سمجھائیں اور ان میں قربانی کا جذبہ کیسے بیدار کریں؟

اس پر حضورِ انور نے مالی قربانی کے حوالے سے بعض افراد کے عملی خدشات اور معاشی حالات کے تناظر میں راہنمائی عطا فرمائی کہ ٹھیک ہےبیچارے مالی قربانی کے لیے گنجائش محسوس نہیں کرتے تو وہ آپ کو قرضہ لے کے تو نہیں دیں گے۔مغربی معاشرے میں ایسا نہیں ہوتا۔ اگر آپ لوگ ٹیکس چوری نہ کر رہے ہوں اور ایمانداری سے کام کریں تو مشرقی معاشرے میں بھی ٹیکس دیں گے تو وہاں بھی تنگی ہوگی۔

حضورِ انور نے پاکستان اور کینیڈا کے معیارِ زندگی کے تقابلی پہلو اور معاشی رویوں کے عملی اثرات کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ پاکستان سے زیادہ بُرے حالات تو نہیں ناں کینیڈا کے؟ جتنی مرضی آپ عیاشیاں کر لیں، آپ کہتے ہیں کہ یہ نہیں ہوتا وہ نہیں ہوتا، لیکنfridge کو کھولو تو وہاں جُوس بھی بھرا ہوا ہے، چاکلیٹ بھی ہوتے ہیں، مٹھائیاں بھی ہوتی ہیں، کیک بھی پڑے ہوتے ہیں اور ڈرنکس بھی مختلف پڑے ہوتے ہیں۔ آپ آ کے کھولتے ہیں اور پی لیتے ہیں۔ توپاکستان میں یہ کہاں ملتا ہے؟ اس لیے آپ بہت سارے لوگ کینیڈا آ گئے تھے۔ لیکن جواچھا کمانے والے ہیں، وہ وہاں بھی ٹیکس چوری کرتے ہیں۔ اگر وہ ٹیکس دیں تو ان کی بھی آمدنیاں کم ہو جائیں گی۔

حضورِ انور نے مالی قربانی کے حقیقی مفہوم اور روح کی وضاحت کرتے ہوئے اس کے نتیجے میں نازل ہونے والے افضال کی بابت نشاندہی فرمائی کہ قربانی تو کرنی پڑتی ہے۔ قربانی کا مطلب کیا ہے؟ قربانی کا مطلب یہی ہے کہ بوجھ ڈال کے اپنے اُوپر، تنگی پیدا کر کے دین کے رستے میں خرچ کرنا، تو وہ ان کو جب احساس پیدا ہو جائے، تو بہت سارے لوگ کرتے ہیں۔ کینیڈا میں بھی بہت سارے لوگ ہیں کہ جو مجھے لکھتے ہیں کہ ہمارے یہ یہ حالات تھے اور ہم نے یہ قربانی کی اور پھر غیر معمولی طور پر یا کمپنی والوں نے ہمیں کوئی بونس دے دیا یا ٹیکس ریٹرن والوں نے ہمارا extraٹیکس واپس کر دیا یا اور بہت سارے اس طرح کے واقعات لکھتے رہتے ہیں۔ آپ لوگ بھی لکھتے ہیں۔

اسی طرح حضورِ انور نے مالی نظم و ضبط، بجٹ سازی اور عملی ترجیحات کے ذریعے مالی قربانی کی گنجائش پیدا کرنے اورعملی تجربات کی اہمیت کو اُجاگر فرمایا کہ تو اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرو تو اللہ تعالیٰ تو کہتا ہے کہ مَیں لَوٹاتا ہوں۔ تجربہ کرو گے تو پتا لگے گا۔ ان کو بتائیں کہ مالی قربانی کرنے کے لیے تو اپنے اخراجات کم کرنے پڑتے ہیں۔ یہ ہماری آمد ہے، پہلے بجٹ بنا لیں اور یہ ہمارا گھر کا خرچہ ہے۔ گھر میں ہم نے روزانہ کی یہ یہ چیزیں لینی ہیں، یہ ہماری ضروریات ہیں، یہ بچوں کی تعلیم کا خرچہ ہے، یہ ہماری مورگیج کا خرچہ ہے، یہ ہمارے ٹیکس کا خرچہ ہے، یہ ہمارا ٹرانسپورٹ کا خرچہ ہے اور اس میں سےکچھ نہ کچھ حساب ہم نے اللہ کی خاطر بھی نکالنا ہے۔ تو اللہ کاخانہ بھی تو کچھ رکھنا چاہیے۔

بعد ازاں حضورِ انور نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کی برکات اور اس کے وعدوں پر کامل یقین رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ تو ان کو یہ realize کروائیں کہ اللہ کی خاطر بھی تو کچھ کرو تو پھر اللہ تعالیٰ بھی دے گا۔ اللہ تعالیٰ تو یہی کہتا ہے، اللہ تعالیٰ کا دعویٰ ہے، تو جھوٹا دعویٰ تو نہیں ہو سکتا کہ تم میری خاطر خرچ کرو گے تو مَیں تمہیں دوں گا۔ تو یہ بے شمار واقعات خطبات میں مَیں بیان کرتا ہوں، اقتباسات بھی ہیں،حدیثیں بھی ہیں، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اقتباسات بھی ہیں اور قرآنِ کریم بھی کہتا ہے۔ تو یہ دیکھنا پڑے گا کہ اپنی دنیاوی ضروریات بھی پُوری کرنی ہیں اور نیکی بھی کرنی ہے۔ لَنۡ تَنَالُوا الۡبِرَّ حَتّٰی تُنۡفِقُوۡا مِمَّا تُحِبُّوۡنَ۔ نیکی تو وہی ہوتی ہے۔ اگر خرچ نہیں کرو گے کہ جس سے تم محبّت کرتے ہو، تو صرف مال سے ہی محبّت کرنی ہے تو یہ پھر کس طرح ہوگا۔

مزید برآں حضورِ انور نے عملی تربیت کے لیے مالی قربانی پر مبنی واقعات کو جذبۂ قربانی بیدار کرنے کے لیے استعمال کرنے کی ترغیب دلاتے ہوئے فرمایا کہ تو جو لوگ خطبات سنتے ہیں، جوچندے دینے والوں کے واقعات سُنتے ہیں اور جن کو اللہ کا خوف بھی ہے اور دین کا درد بھی ہے، تو وہ کسی نہ کسی طرح کر ہی لیتے ہیں اور پھر بعد میں لکھتے ہیں کہ تنگیوں کے باوجود اللہ تعالیٰ نے ہمیں نوازا۔افریقہ میں بہت سارے ملک ایسے ہیں کہ جہاں مشکلوں سے گزارا ہوتا ہے، چند فرانک دینا بھی ان کو مشکل ہو جاتی ہے۔ فرینکوفان ملکوں میں یا دوسرے جو لوکل ملک ہیں ، زبانیں جو بھی بولتے ہیں، ان میں جو بھی کرنسی ہے ۔ اس میں پھر اللہ تعالیٰ ان کو مختلف طریقوں سے نوازتا بھی ہے۔ واقعات سنتے ہیں ، مَیں واقعات سُناتا ہوں، تو پھر وہ واقعات بیان کر دیا کریں۔

[قارئین کی معلومات کے لیے عرض ہے کہ فرینکوفان (Francophone) سے مراد وہ ممالک یا علاقے ہیں کہ جہاں فرانسیسی زبان سرکاری یا عام طور پر بولی جاتی ہے۔ افریقہ میں یہ اصطلاح عموماً ان ممالک کے لیے استعمال ہوتی ہے جو پہلے فرانس کی نوآبادی رہے اور آج بھی وہاں فرانسیسی زبان اہم حیثیت رکھتی ہے۔]

جواب کے آخر میں حضورِانور نے یاد دلایا کہ اس لیے مَیں واقعات بتاتا ہوں تاکہ جو ایسے کمزور ہیں، ان کوواقعات بتا دیا کریں اور جو سنتے ہیں، ان میں تبدیلی پیدا ہوتی ہے۔

ایک شریکِ مجلس نے عرض کیا کہ مَیں اپنے خاندان کی کفالت، روزگار کی ذمہ داریوں اور جماعتی فرائض کو نبھانے کی کوشش کرتا ہوں۔ براہ کرم راہنمائی فرمائیں کہ مَیں ان تمام ذمہ داریوں میں توازن قائم کرتے ہوئے اپنی روحانی ترقی اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق کو کس طرح مضبوط بنا سکتا ہوں؟

اس پرحضورِ انور نے دنیاوی اور دینی ذمہ داریوں کے باہمی توازن اور روحانی ترقی کے اصل مفہوم کی طرف توجہ دلاتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ سوال یہ ہے کہ جو اللہ کا ہے، بائبل بھی کہتی ہے کہ جو خدا کا ہے وہ خدا کو دو اور جو قیصر کا ہے وہ قیصر کو دو۔تو روحانی ترقی کے لیے کیا ہے۔پانچ نمازیں ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں کہا کہ تم دنیاوی کام کر رہے ہو تو تمہیں اجازت ہے کہ پانچ نمازیں نہ پڑھو۔

پھر حضورِ انور نے مسلسل عبادت، قلبی توجہ اور عملی زندگی کے ساتھ ذکرِ الٰہی کے امتزاج کو واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ اسی لیے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ایک فقرہ فرمایا کرتے تھے، جو مَیں کئی دفعہ بتا چکا ہوں کہ دست بکار و دل بیار کہ ہاتھ کام کر رہے ہیں اور دل جو ہے وہ اللہ کی طرف ہے۔ اگر یہ احساس پیدا ہو جائے تو انسان ایک تو پانچ نمازیں نہیں چھوڑے گا۔ رات کو خاندانی ذمہ داریاں ادا تو نہیں کر رہے تو اُٹھ کے دو نفل پڑھ لیں، تو فائدہ ہو جائے گا۔ پانچ نمازیں صحیح طرح پڑھ رہے ہوں، چلتے پھرتے ذکر کر رہے ہوں اور دعا پڑھ رہے ہوں تو فائدہ ہو جائے گا۔

اسی طرح حضورِ انور نے دنیاوی مصروفیات کے باوجود ذکرِ الٰہی کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے اس بنیادی فکری اصول کی وضاحت فرمائی کہ یہ کہاں لکھا ہوا ہے کہ اگر تم خاندان والوں کے پاس بیٹھے ہو، ان کے لیے کھانا پکا رہے ہو یا پیسے کما رہے ہو، تو درود شریف نہیں پڑھ سکتے؟پڑھ سکتے ہو، تو روحانیت پیدا ہو جاتی ہے، یہ توسوچ کی بات ہے۔جیسی آپ کی سوچ ہو گی تو ویسا ہی نتیجہ نکلے گا۔

ملاقات کے اختتام پر تمام شاملینِ مجلس کو اپنے محبوب آقا کے ساتھ گروپ تصویر بنوانے اور آپ کے دستِ مبارک سے قلم بطورتبرک حاصل کرنے کی سعادت بھی نصیب ہوئی ۔

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ جماعت احمدیہ بالٹی مور امریکہ کی مجلس عاملہ کے ممبران کی ملاقات

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button