نمازِ جنازہ حاضر و غائب
مکرم منیر احمد جاوید صاحب پرائیویٹ سیکرٹری حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز تحریر کرتے ہیں کہ حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ۳؍جون ۲۰۲۶ء بروز بدھ بارہ بجے بعد دوپہر اسلام آباد (ٹلفورڈ) میں اپنے دفتر سے باہر تشریف لاکر مکرم رانا عبد الغفار خان صاحب ابن مکرم را نا عبدالجبار خان صاحب مرحوم (روہیمپٹن ویل۔ یوکے) کی نماز جنازہ حاضر اور چھ مرحومین کی نمازِ جنازہ غائب پڑھائی۔
نماز جنازہ حاضر
مکرم رانا عبد الغفار خان صاحب ابن مکرم را نا عبدالجبار خان صاحب مرحوم (روہیمپٹن ویل۔یوکے)
۲۸؍مئی ۲۰۲۶ء کو ۹۱سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ حضرت غلام قادر خان صاحب رضی اللہ عنہ (آف لنگڑ وعہ) کے پوتے اور حضرت چودھری عبدالواحد خان صاحب رضی اللہ عنہ کے نواسے تھے۔ مرحوم کو کوئٹہ، جہلم، پشاور، سرگودھا اور ربوہ میں جماعتی اور تنظیمی سطح پر مختلف شعبوں میں خدمت کی توفیق ملی۔ ۱۹۷۴ء کے فسادات میں شر پسندوں نے آپ کا پورا گھر ساز و سامان سمیت جلادیا تھا لیکن آپ بڑے صبر وحوصلہ کے ساتھ اپنے ایمان پر مضبوطی سے قائم رہے۔ ۲۰۱۲ء میں یو کے شفٹ ہوگئے اور روہیمپٹن میں مختلف شعبوں میں جماعتی خدمت کی توفیق پائی۔ مرحوم صوم وصلوٰۃ کے پابند، بڑے نیک اور مخلص انسان تھے اور اللہ کے فضل سے موصی تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ دوبیٹیاں،پانچ بیٹے اور پوتے پوتیاں اور نواسے نواسیاں شامل ہیں۔ آپ کے بیٹے مکرم عبد الرؤوف خان صاحب کو صدر جماعت اپرمچم اور دوسرے بیٹے مکرم عبدالودود خان صاحب کو زعیم مجلس انصاراللہ مچم پارک کے طورپر خدمت کی توفیق مل رہی ہے۔ آپ مکرم جہانزیب خان صاحب (مربی سلسلہ۔یوکے) کے دادا اور مکرم ذیشان احمد صاحب …کے پھوپھا تھے۔
نماز جنازہ غائب
۱۔مکرم محمد منیف بخش صاحب ابن مکرم حاجی محمد رحیم بخش صاحب مرحوم (فجی)
۹؍اپریل ۲۰۲۶ء کو ۸۱سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ نے اپنے والد کے ساتھ ۲۰ سال کی عمر میں احمدیت قبول کی اور فجی میں نیشنل سیکرٹری مال کے علاوہ مختلف جماعتی عہدوں پر خدمت کی توفیق پائی۔ مرحوم بڑے خوش مزاج، ملنسار، مہمان نواز اور خوش اخلاق طبیعت کے مالک، ایک نیک، مخلص اور باوفا انسان تھے۔ خلافت کے شیدائی اور جماعتی نظام کی پابندی اور اطاعت کا اعلیٰ نمونہ پیش کرنے والے تھے۔ حضور انور کے خطابات اور خطبات با قاعدگی سے خود بھی سنتے اور ان پر عمل کرتے اور دوسروں کو بھی اس کی تلقین کیا کرتے تھے۔آپ کو اپنی ذاتی ۳۵ ایکٹر زمین جزیرہ ونوالیوو میں ولو دا کے مقام پر جماعت کو بطور تحفہ پیش کرنے کی توفیق ملی جس پر اب احمد یہ مسلم سیکنڈری سکول کے نام سے جماعت کا سکول قائم ہے۔ حضور ا نور بھی ۲۰۰۶ء میں اپنے دورہ فجی کے دوران اس سکول کا وزٹ فرماچکے ہیں۔پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ دو بیٹیاں اور تین بیٹے شامل ہیں۔ آپ کے بچوں کو بھی جماعت کے مختلف عہدوں پر خدمت کی توفیق مل رہی ہے۔
۲۔مکرم چودھری محمد شریف صاحب ابن مکرم محمد عارف صاحب مرحوم (بیلجیم)
۱۱؍اپریل ۲۰۲۶ء کو بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ حضرت میاں رحیم بخش صاحب رضی اللہ عنہ (آف پھیر و چچی) کے پوتے اور حضرت سلطان بی بی صاحبہ رضی اللہ عنھاکے نواسے تھے۔ مرحوم پنجوقتہ نماز وں اور تلاوت قرآن کریم کے پابند، تہجد گزار، متوکل علی اللہ،ایک نیک فطرت اور مخلص انسان تھے۔ آپ کو متعدد بار عمرہ کی سعادت بھی حاصل ہوئی۔ مالی قربانی میں ہمیشہ صف اول میں رہے۔ آپ اچھا علمی رجحان رکھتے تھے اورخاص طور پر تاریخ اسلام اور انبیاء کے حالات کا بہت گہرا علم تھا۔ اپنے سب بچوں کی بہت اچھی تربیت کی۔ مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ دو بیٹے اور چار بیٹیاں شامل ہیں۔ آپ مکر م چودھری محمد مظہر صاحب (مربی سلسلہ جماعت بیلجیم) کے والد تھے۔
۳۔ مکرمہ قانتہ شمس صاحبہ اہلیہ مکرم شمس الدین صاحب (ماڈل ٹاؤن۔ لاہور)
۲؍اپریل ۲۰۲۶ء کو ۴۷سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ مکرم بدر دین عامل صاحب (درویش قادیان) کی بھتیجی تھیں۔ مرحومہ صوم و صلوٰۃ کی پابند، ملنسار طبیعت کی مالک، بڑی ذہین و فہیم، نیک اور مخلص خاتون تھیں۔ ہمیشہ دین کو دنیا پر مقدم رکھتی تھیں۔ آپ نے مقامی مجلس میں صدر لجنہ اور نگران حلقہ کے علاوہ مختلف شعبوں میں خدمت کی توفیق پائی۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔ پسماندگان میں میاں کے علاوہ ایک بیٹی اور دو بیٹے شامل ہیں۔
۴۔مکرم سید منور احمد شاہ صاحب ابن مکرم سید مختار احمد شاہ صاحب مرحوم (علامہ اقبال ٹاؤن۔لاہور)
۴؍اپریل ۲۰۲۶ء کو بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ حضرت سید سردار احمد شاہ صاحب رضی اللہ عنہ (آف شاه مسکین) صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پوتے، مکرم سید احمد علی شاہ صاحب (سابق نائب ناظر اصلاح وارشاد) کے داماد اور مکرم سید علی احمد طارق صاحب ایڈوو کیٹ کراچی (اسیر راہ مولی) کے بہنوئی تھے۔ آپ کی والدہ حضرت حکیم محمد حسین صاحب رضی اللہ عنہ (المعروف مرہم عیسیٰ )کی نواسی تھیں۔ مرحوم نے زعیم اعلیٰ انصارالله بیت التوحید لاہور اور سیکرٹری اصلاح وار شاد حلقہ وحدت کالونی لاہور کے طور پر خدمت کی توفیق پائی۔ مرحوم صوم وصلوٰۃ کے پابند، خلافت کے ساتھ اخلاص و وفا کاتعلق رکھنے والے ایک نیک، دینداراور مخلص انسان تھے۔ مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ ایک بیٹی شامل ہے۔
۵۔مکرمہ بشریٰ بیگم صاحبہ اہلیہ مکرم چودھری رحمت علی صاحب مرحوم(دار البرکات۔ربوہ)
۱۱؍اپریل ۲۰۲۶ء کو بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحومہ صوم وصلوٰۃ کی پابند، تہجد گزار،صابرہ وشاکرہ، غریب پرور، مہمان نواز، شفیق اور رشتہ داروں کے دکھ سکھ میں شریک ہونے والی بڑی نیک اور مخلص خاتون تھیں۔ تلاوتِ قرآن کریم سے گہرا شغف رکھتی تھیں اور جماعتی رسائل خاص طور پر الفضل کا باقاعدگی سے مطالعہ کرتی تھیں۔ دار العلوم شرقی ربوہ میں بطور صدر لجنہ اورپھر دار البرکات میں سیکرٹری مال کے علاوہ اصلاح و ارشاد، دعوت الی اللہ اور تربیت کے شعبوں میں خدمت کی توفیق پائی۔۱۹۸۷ء میں جب جلسہ سالانہ یو کے میں شمولیت کے لیے کراچی ایئر پورٹ پہنچیں تو پاسپورٹ پر مسلم درج ہونے کی بنیاد پر آپ کو گرفتار کر لیا گیااور تقریباً اڑھائی دن جیل میں دیگر احمدی احباب کے ساتھ قید رہیں اور ساڑھے چار سال تک اس کیس کا سامنا کرتی رہیں۔مرحومہ موصیہ تھیں۔پسماندگان میں تین بیٹے، پانچ بیٹیاں اور پوتے پوتیاں اور نواسے نواسیاں شامل ہیں۔
۶۔مکرمہ مصباح سحر احمد صاحبہ بنت مكرم محمد احمد صاحب (Austin امریکہ)
۱۲؍اپریل۲۰۲۶ء کو ۲۲ سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ مكرم محمد احمد صاحب (صدر جماعت Austin امریکہ و نائب صدر صف دوم مجلس انصار الله امریکہ) کی بیٹی تھیں۔ جوکہ حضرت چودھری محمد یار صاحب رضی اللہ عنہ (آف گھٹیالیاں) صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پڑپوتے ہیں۔ مرحومہ تحریک وقفِ نو میں شامل تھیں۔آپ بہت لائق،ہونہار اور محنتی طالبہ تھیں۔ ہائی سکول میں اپنے ڈسٹرکٹ میں چوتھی پوزیشن حاصل کی۔ وفات کے وقت یونیورسٹی میں پڑھ رہی تھیں اور چند ہفتوں میں بیچلر کی ڈگری مکمل کرنے والی تھیں۔ مرحومہ لجنہ اماء اللہ کی فعال ممبر تھیں اور بطور لوکل سیکرٹری امور طالبات لجنہ اماء اللہ خدمت کی توفیق پاررہی تھیں۔ مرحومہ کو امریکہ میں بچوں کے جماعتی رسالہ الہلال اور Media Watch لجنہ اماء اللہ امریکہ کے تحت اخبارات اور رسائل میں جماعت کے بارہ میں آرٹیکلز شائع کروانے کی بھی توفیق ملتی رہی۔ آپ پردہ کی پابندی کرتی تھیں۔ خدمت خلق کے کاموں میں بڑے شوق سے شامل ہوتیں اور مالی قربانی میں بھی حسب توفیق حصہ لیتی تھیں۔ پسماندگان میں والدین کے علاوہ ایک بھائی شامل ہے۔
اللہ تعالیٰ تمام مرحومین سے مغفرت کا سلوک فرمائے اور انہیں اپنے پیاروں کے قرب میں جگہ دے۔ اللہ تعالیٰ ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ان کی خوبیوں کو زندہ رکھنے کی توفیق دے۔آمین
٭…٭…٭




