قانون صحت میں سے حفظ ما تقدّم بھی ایک عمدہ چیزہے
حدیث میں آیا ہے مِنْ حُسْنِ اِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْکُہٗ مَا لَا یَعْنِیْہِ یعنی اسلام کا حُسن یہ بھی ہے کہ جو چیز ضروری نہ ہو وہ چھوڑ دی جاوے۔
اسی طرح پر یہ پان، حُقّہ، زردہ (تمباکو) افیون وغیرہ ایسی ہی چیزیں ہیں۔ بڑی سادگی یہ ہے کہ ان چیزوں سے پرہیز کرے۔ کیونکہ اگر کوئی اور بھی نقصان اُن کا بفرضِ محال نہ ہو تو بھی اس سے ابتلا آجاتے ہیں اور انسان مشکلات میں پھنس جاتا ہے۔ مثلاً قید ہو جاوے تو روٹی تو ملے گی لیکن بھنگ چرس یا اور منشّی اشیاء نہیں دی جاوے گی۔ یا اگر قید نہ ہو کسی ایسی جگہ میں ہو جو قید کے قائم مقام ہو تو پھر بھی مشکلات پیدا ہو جاتے ہیں۔ عمدہ صحت کو کسی بیہودہ سہارے سے کبھی ضائع کرنا نہیں چاہیے۔ شریعت نے خوب فیصلہ کیا ہےکہ ان مضر صحت چیزوں کو مضر ایمان قرار دیا ہے اور ان سب کی سردار شراب ہے۔
یہ سچی بات ہے کہ نشوں اور تقویٰ میں عداوت ہے۔ افیون کا نقصان بھی بہت بڑا ہوتا ہے۔ طبّی طور پر یہ شراب سے بھی بڑھ کر ہے اور جس قدر قویٰ لے کر انسان آیا ہے اُن کو ضائع کر دیتی ہے۔
(ملفوظات جلدسوئم صفحہ۹۰ تا ۹۱ ایڈیشن ۲۰۲۲ء)
عام اسباب تندرستی اور قانون صحت میں سے حفظ ما تقدم بھی ایک عمدہ چیزہے اور فائدہ مند ثابت ہوا ہے پس مناسب ہے کہ سمّیّت اور عفونت پیدا کرنے والی چیزوں سےپر ہیز کیا جاوے۔ اور بعض تیز غذاؤں سے جو دوران خون کو تیز کرتی ہیں جیسے بہت گوشت اور بہت میٹھا یا حد سے زیادہ دھوپ میں پھرنا یا سخت اور شدید محنت کرنا ان سے پر ہیز کرنا مناسب ہے۔
(ملفوظات جلداول صفحہ۲۳۱ ایڈیشن ۲۰۲۲ء)
مزید پڑھیں: جو اللہ تعالیٰ پرتوکّل کرتاہے اللہ تعالیٰ اس کو کافی ہو جاتاہے




