امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ لجنہ اماء اللہ وناصرات الاحمدیہ سوئٹزرلینڈ کے وفد کی ملاقات
دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ جوخلافت کا کام ہے، ان میں برکت ڈالے اور ان کے منصوبے جو ہیں، وہ پُورے ہوں اور اللہ تعالیٰ اس کے نیک نتیجے پیدا کرے۔
اور تم سارے لوگوں کو جو احمدی ہیں، ان کو ایمان و اخلاص میں بڑھائے اور خلیفۂ وقت کے مددگار بن جائیں
مورخہ ۲۸؍ جون ۲۰۲۶ء، بروزاتوار، امام جماعت احمدیہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ سوئٹزرلینڈ سے تعلق رکھنے والی لجنہ اماء الله اور ناصرات الاحمدیہ کے ایک وفد کو بالمشافہ شرفِ ملاقات حاصل ہوا۔ یہ بابرکت ملاقات اسلام آباد (ٹِلفورڈ) میں منعقد ہوئی۔ مذکورہ وفد نے خصوصی طور پر اس ملاقات میں شرکت کی غرض سے سوئٹزرلینڈ سے اسلام آباد (ٹِلفورڈ) کا سفر اختیار کیا۔
جب حضورِ انور مجلس میں رونق افروز ہوئے تو آپ نےتمام شاملینِ مجلس کو السلام علیکم کا تحفہ عنایت فرمایا۔
بعدازاں تمام شاملینِ مجلس کو حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں فرداً فرداً اپنا تعارف پیش کرنے کا موقع بھی ملا۔

مزید برآں دورانِ ملاقات شاملینِ مجلس کو حضورِ انور کی خدمت میں متفرق سوالات پیش کرنے نیز ان کے جوابات کی روشنی میں حضورِانور کی زبانِ مبارک سے نہایت پُرمعارف، بصیرت افروز اور قیمتی نصائح پر مشتمل راہنمائی حاصل کرنے کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔
ایک لجنہ ممبر نے حضورِ انور سے راہنمائی کی درخواست کی کہ ایک بڑی بہن اپنے مختلف عمر کے چھوٹے بہن بھائیوں کے لیے اچھا نمونہ کیسے بن سکتی ہے، ان کے ساتھ اپنے تعلقات کیسے مضبوط کر سکتی ہے اور اس سلسلے میں اس کی اہم ذمہ داریاں کیا ہیں؟
اس پر حضورِ انور نے عملی نمونے کی اہمیت اور نرمی کے ساتھ تدریجی انداز میں نصیحت کرنے کی ضرورت کو واضح فرمایا کہ پہلے تو خود اپنا نمونہ دکھاؤ۔ نمازیں پڑھو اور ان کو پتا ہو کہ میری بہن جو ہے وہ پانچ نمازیں پڑھنے والی ہے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والی ہے اور اچھے اخلاق والی ہے۔ اچھی باتیں کرتی ہے، بُری باتوں سے جو اگر ہمیں روکتی ہے تو خود بھی نہیں کرتی۔یا اگر اچھے اخلاق کا ہمیں کہتی ہے کہ نمونہ پیش کرو تو خود بھی وہ پیش کرتی ہے۔ تو وہ جب نمونہ دیکھیں گے تو پھر وہ خود ہی ٹھیک ہو جائیں گے۔ تو بس اپنا نمونہ ہے۔نصیحتیں آرام آرام سے کرو۔ انسان کوrigidنہیں ہونا چاہیے۔ اگر یہ کہو گی کہ یہ کرو ، وہ کرو، زبردستی کرو گی تو پھر وہ چِڑ جائیں گے۔
پھر حضورِ انور نے چھوٹے بہن بھائیوں کے ساتھ دوستانہ تعلق قائم کرنے، ان کی دلچسپیوں کو سمجھنے اور بامقصد گفتگو کے ذریعے ان کی راہنمائی کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ ان سے بیٹھ کے تھوڑی دیر باتیں کرو کہ آؤ بیٹھ کے باتیں کریں۔ کوئی ایسےtopicپرباتیں کریں کہ جو اچھے اخلاق والےtopicہوں یا اگر دنیا کےcontemporary issuesبھی ہیں، اس پر بھی بات کر سکتی ہو۔ پھر چھوٹے بہن بھائیوں کا دیکھو کہ ہر ایک کا interestکیا ہے۔ بٹھا کے ان سے باتیں کرو، ان کے interestکی باتیں سنو اور پھر ان کے جواب دو۔
اسی طرح جواب کے آخر میں حضورِ انور نے موجودہ ماحول کے اثرات کے تناظر میں مکالمے، فکری راہنمائی اور اسلامی تعلیمات کو حکمت کے ساتھ سمجھانے کے مؤثر انداز کی طرف راہنمائی کرتے ہوئے فرمایا کہ صرف یہی باتیں کرو گی کہ نماز پڑھو، قرآن پڑھو ، یہ کرو، وہ کرو، تو وہ کہیں گے کہ یہ تو مشکل میں ڈال دیا ہے۔ باہر کچھ اَور دیکھتے ہیں ۔ ٹی وی میں تم کچھ اَور دیکھتی ہو۔ پھر ان کے سامنے ٹی وی بھی دیکھتی ہو، انٹرنیٹ بھی دیکھتے ہو اورenvironment کا بھی تو اثر پڑتا ہے، تو وہ کچھ اور دِکھ رہا ہوتا ہے۔ تو ان سے discuss کیا کرو کہ آجکل معاشرے میں یہ یہ باتیں ہیں ،یہ بُرائیاں ہیں اور ہمیں اسلام یہ سکھاتا ہے، تو اس بارے میں تمہاری کیا رائے ہے۔ پھر ان کی رائے لو۔ پھر ان کا point of view سامنے آئے گا۔ پھر ان کو سمجھاؤ کہ اسلام کی تعلیم کیا ہے۔تو اس طرح سمجھایا جا سکتا ہے۔
ایک ناصرہ نے سوال کیا کہ ہمیں آپ کےلیے کون سی دعا کرنی چاہیے؟
اس پر حضورِ انور نے فرمایا کہ دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ جوخلافت کا کام ہے، ان میں برکت ڈالے اور ان کے منصوبے جو ہیں، وہ پُورے ہوں اور اللہ تعالیٰ اس کے نیک نتیجے پیدا کرے۔ اور تم سارے لوگوں کو جو احمدی ہیں، ان کو ایمان و اخلاص میں بڑھائے اور خلیفۂ وقت کے مددگار بن جائیں۔
ایک ناصرہ نے عرض کیا کہ بطور مسلمان بعض اوقات ہمیں اپنے دوستوں کے درمیان یہ احساس ہوتا ہے کہ ہم دوسروں سے مختلف ہیں کیونکہ ہم اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں جن میں حیا کا اہتمام کرنا اور بعض سرگرمیوں سے اجتناب کرنا بھی شامل ہے۔ان احساسات سے نمٹنے کےلیے حضورِ انور ہمیں کیا راہنمائی عطا فرما سکتے ہیں؟
اس پر حضورِ انور نے نیک اور صالح دوستوں کے انتخاب کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ تمہارے سکول میں ساری لڑکیاں تو ایسی نہیں جو تمہیںisolateکرتی ہیں اور علیحدہ کر دیتی ہیں۔کچھ اچھی دوست ہوں گی ۔ اس لیے اچھے دوست کو تلاش کرنا چاہیے۔جو اچھی لڑکیاں ہوں۔
پھر حضورِ انور نے استفسار فرمایاکہ تمہاری لجنہ کے اندر، تمہارے گھر جہاں تم رہتی ہو، اس کے گرد احمدی بچیاں کوئی نہیں ہیں؟ناصرہ کے اثبات میں جواب عرض کرنے پرحضورِ انور نے جماعتی ماحول سے وابستگی مضبوط کرنے اور نیک صحبت اختیار کرنے کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا کہ ان سے دوستی کرو۔ احمدی بچوں سے دوستی کرو۔ اجلاس میں، ہفتے کے ہفتے میٹنگ ہے، دو ہفتے بعد ناصرات کی میٹنگ ہوتی ہے۔ وہاں جاؤ۔ وہاں ان سے اچھی باتیں کرو۔ اپنے سکول کی جو اچھی لڑکیاں ہیں، اچھے کریکٹر کی لڑکیاں ہیں، ان سے دوستی کرو۔
دوست اچھے بنانے چاہئیں۔ جو تمہیں ویسے ہی کہتی ہیں کہ تمہاراdifference ہے، تم اسلامک ٹیچنگ پر عمل کرتی ہو اور تمہیں اچھی نظر،اچھےطریقے سے نہیں دیکھتیں تو ان کو تم چھوڑ دو اور بہتر ہے ان سے دوستی نہ کی جائے۔ اچھے دوست بناؤ اس لیے کیونکہ اچھے دوستوں کا اثر ہوتا ہے۔ اگر تم ان دوستوں میں سے دوست بناؤگی تو تم بھی ایک وقت میں نمازیں پڑھنی چھوڑ دو گی اور اللہ تعالیٰ پر ایمان ختم ہو جائے گا۔
اس لیےتمہیں چاہیے کہ بجائے اس بات پر پریشان ہونے کے کہ لوگ کیا کہیں گے ، لڑکیاں کیا کہیں گی، تمہیں یقین ہونا چاہیے کہ اسلام ایک سچا مذہب ہے اور ہم مسلمان ہیں اور ہم نے ساری دنیا میں اسلام کے پیغام کو پہنچانا ہے اور ہر ایک کو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والا بنانا ہے۔ اس کےلیے ہم خود بھی اچھے عمل کریں۔
اللہ تعالیٰ سے دعا بھی کریں کہ اللہ تعالیٰ اچھے دوست مہیا کرے۔اچھے دوست بھی اللہ کے فضل سے ہی ملتے ہیں۔ اس لیے دعا کیا کرو کہ اللہ تعالیٰ تمہیں اچھے دوست دے۔ اور جو اس طرح کی باتیں کرنے والے دوست سہیلیاں ہیں، ان کو چھوڑ دو تو اچھا ہے۔ ان کا کوئی فائدہ نہیں۔اور اچھی اچھی لڑکیاں بھی تلاش کرو ۔ تمہاری کلاس میں ہی مختلف سیکشن میں سو پچاس بچیاں پڑھتی ہوں گی تو ان میں سے جو اچھی لڑکیاں ہیں، ان سے دوستی کرو۔ جو مذہب کو اچھا نہیں سمجھتیں ان سے دوستی کرنے کی ضرورت ہی نہیں۔
باقی اپنا نمونہ اچھا دکھاؤ ۔ اچھا behaveکرو۔تمہارا اچھا کریکٹر جب ان کےسامنے آئے گا تو وہ خود تمہارے سے پوچھیں گی اور پھر وہ تمہاری بات بھی سنیں گی۔
اگلی پیش کی جانے والی درخواستِ راہنمائی بھی ایک ناصرہ ہی کی جانب سے تھی کہ اگر آپ مجھے صرف ایک نصیحت کریں کہ جو پوری زندگی میرے کام آئے تو وہ کیا ہوگی؟
اس پر حضورِ انور فرمایا کہ ایک نصیحت تو ایک لفظ میں نہیں ہو سکتی۔ نصیحتیں تو ایک سے آگے نئی نصیحت بن جائیں گی۔ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو نہ بھولو۔ تم یہ سمجھو کہ اللہ تعالیٰ مجھے ہر وقت دیکھ رہا ہے۔ مَیں اچھے کام کروں گی تواللہ تعالیٰ مجھے ریوارڈ دے گا ۔ بُرے کام کروں گی تواللہ تعالیٰ مجھے سزا بھی دے سکتا ہے۔
اس لیے مَیں نے ہر کام کرنا ہے تو اللہ تعالیٰ کو خوش کرنے کے لیےکرنا ہے۔ پھر تم نہ کبھی جھوٹ بولو گی اور نہ تم کسی سے لڑو گی ۔جب اللہ کو خوش کرنے کے لیے کرنا ہے تو اللہ تعالیٰ نے بہت سارے حکم دیے ہیں کہ میری عبادت بھی کرو ، میرے بندوں کے حق بھی ادا کرو اور غریبوں کا خیال بھی رکھو۔ اپنے بہن بھائیوں کا خیال بھی رکھو۔ بڑوں کا ادب لحاظ بھی رکھو۔ دین کا علم بھی حاصل کرو۔ یہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ شریف میں بہت ساری باتیں بتائی ہیں۔چھ سات سو حکم ہیں۔
ایک چیز یاد رکھو کہ مَیں نے اللہ کو خوش کرنا ہے، تو باقی کام جو ہیں وہ بیچ میں ہی آ جائیں گے۔ ایک دفعہ کسی نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے سوال کیا کہ کیا کام مَیں کروں اور کیا نہ کروں، تمہاری طرح ہی سوال کیا ہوگا ، آپؑ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور سب کچھ کرو۔ جب تم اللہ میاں سے ڈرو گی تو اللہ پر یقین ہوگا، تو تم کوئی غلط کام کرو گی ہی نہیں اور جب نہیں کرو گی توتمہاری زندگی اچھی ہو جائے گی۔
ایک سوال حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں یہ پیش کیا گیا کہ ہم اللہ سے محبّت کیسے کر سکتے ہیں اور اللہ کو کیسے اپنےپیار کا احساس دلا سکتے ہیں؟
اس پر حضورِ انور نے اللہ تعالیٰ سے محبّت کے حصول اور اس کی محبّت کو جذب کرنے کے بنیادی قرآنی اصول کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ میری عبادت کرو، میری باتیں مانو اور میرا رسولؐ جو ہے، اس نے جو تمہیں باتیں بتائی ہیں ۔آنحضرت صلی الله علیہ وسلم الله تعالیٰ کے سب سے زیادہ محبوب ہیں۔اللہ تعالیٰ کے سب سے پیارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، آپ صلی الله علیہ وسلم سے اللہ میاں نے فرمایا کہ لوگوں کو کہو کہ میری اتباع کرو ۔جو مَیں نے باتیں بتائی ہیں ان پرعمل کرو تو اللہ تعالیٰ تم سے محبّت کرے گا۔
پھر حضورِ انور نے انسان کی باطنی اصلاح اور عملی تبدیلی کو اللہ تعالیٰ کی محبّت کے حصول کی لازمی شرط قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ تمہارے سے محبّت کرے گا توپھر تمہاری دعائیں بھی سنے گا، تمہاری باتیں بھی سنے گا۔ لیکن پہلے اپنے آپ کو بدلنا ہوگا، پہلے اپنے آپ کو reformکرنا ہوگا،اپنی اصلاح کرنی ہوگی۔ اللہ کی باتیں ماننی ہوں گی اور اس کی عبادت کرنی ہوگی۔
جواب کےآخر میں حضورِ انور نے قرآنی آیت قُلۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تُحِبُّوۡنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوۡنِیۡ یُحۡبِبۡکُمُ اللّٰہُ وَیَغۡفِرۡ لَکُمۡ ذُنُوۡبَکُمۡ ط وَاللّٰہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌکے حوالے سے اطاعتِ رسولؐ کے ذریعے محبّتِ الٰہی کے حصول کے عظیم اصول کو واضح فرماتے ہوئے فرمایا کہ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا وہ اچھی اچھی باتیں کریں، تواللہ محبّت کرتا ہے۔ فَاتَّبِعُوۡنِیۡ، اب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوفرمایا کہ ان کو بتا دے کہ میری اتباع کرو، تو یُحۡبِبۡکُمُ اللّٰہُ۔اللہ تعالیٰ تمہارے سے محبّت کرے گا۔
ایک ناصرہ نے عرض کیا کہ مَیں نے سنا ہے کہ جنّت دنیا میں بھی مل سکتی ہے۔پیارے حضور! دنیا کی جنّت کیا ہوتی ہے اور وہ ہمیں کس طرح مل سکتی ہے؟
اس پر حضورِ انور نے دنیا میں جنّت کے تصوّر کی وضاحت کرتے ہوئےفرمایاکہ کوئی اچھی چیز دیکھو، اچھی جگہ جاؤ، اچھی اچھی باتیں سنو، تو تم کہتی نہیں ہو کہ اوہو کمال ہو گیا! بہت اچھی جگہ آ گئی، یہ تو جنّت کی طرح ہے ۔ تم سوئٹزرلینڈ میں رہتے ہو، بعض جگہ بڑے scenic علاقے ہیں ، ان کو دیکھ کے کہتےہو کہ اوہو یہ تو جنّت ہے۔ نظارے نظر آ جاتے ہیں، اچھی خوبصورت چیز دیکھتے ہو تواس کو تم کہتے ہو کہ جنّت ہے تویہ محاورہ ہے۔
پھر حضورِ انور نے انتہائی دلنشین انداز میں اطاعتِ الٰہی، عبادت اور نیک اعمال کے نتیجے میں حاصل ہونے والی روحانی خوشی کو حقیقی جنّت قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ اور جب تم اللہ کو راضی کرنے کے لیے اچھے کام کرتے ہو تو اللہ تعالیٰ تمہیں خوش ہو کرreward دیتا ہے۔جب وہ دیتا ہے تو وہ تمہارےلیے جنّت بن جاتی ہے۔ اللہ کی عبادت کرو تو تمہیں مزہ آئے گا تو تمہاری جنّت بن جائے گی کہ اللہ کی باتیں سُن رہے ہو اور اللہ کے سامنے حاضر ہو رہے ہو۔ اپنی عبادت کا deep concept پیدا کرو۔ سجدے میں جا کے رویا کرو توتمہیں مزہ آئے گا ، تم کہو گی کہ مَیں جنّت میں آ گئی۔
جواب کے آخر میں حضورِ انور نے اس اَمر کا اعادہ فرمایا کہ بس اللہ کو راضی کرنا اور اچھے کام کرنا اور اللہ کے حکموں پر چلنا یہی جنّت ہے ۔
ایک ناصرہ نے سوال کیا کہ پیارے حضور!کیا فرشتہ اللہ تعالیٰ کا ایک نظام ہے یا ان کی کوئی physical existence بھی ہے؟
اس پر حضورِ انور نے فرشتوں کے وجود اور ان کے نظامِ الٰہی ہونے کی حقیقت کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ physical existence کوئی نہیں ہے۔ ایک سسٹم ہے، جو تمہارے دل میں نیکی کے خیال پیدا ہوتے ہیں ، وہ خیال اللہ تعالیٰ کے فرشتے تمہارے اندر ڈالتے ہیں۔
پھر حضورِ انور نے فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ نظام اور مختلف اُمور کی نسبت سے سمجھانے کے لیے دیے گئے نام قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ سسٹم بنایا ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ نے کچھ پیغام بھیجنے کےلیے مختلف نام رکھ دیے، اللہ تعالیٰ نے ہمیں سمجھانے کے لیےdeputeکر دیے کہ جبرائیل آئیں گے تو نبیوں پر وحی لے کے آئیں گے ۔ کوئی موت کا فرشتہ ہے، کوئی زندگی کا فرشتہ ہے اور کوئی فلاں کا فرشتہ ہے، اسرافیل اور فلاں فلاں نام رکھےتو وہ صرف ہمیں پہچاننے کے لیےدیے ہیں۔
اسی طرح حضورِ انور نے حکیمانہ انداز میں انسانی جسم، علاج، شفا اور حالات کی تبدیلی کے پسِ پردہ کارفرما الٰہی نظام اور فرشتوں کے عمل کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ باقی یہ دل میں جو خیال پیدا ہوتے ہیں یا تمہارےلیے بہتری کے جو سامان کرتے ہیں یا اگر انسان بیمار ہوتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ شفا دیتا ہے، تو اپنے کسی فرشتے کو حکم دیتا ہے کہ اس کے جسم میں ایسے حالات پیدا کر دے کہ اس کی جو دوائیاں ہیں وہresponse کرانے لگ جائیں۔ بعض دفعہ ڈاکٹر دوائیاں دیتے ہیں تو اس کا اثر ہی نہیں ہوتا اوربعض دفعہ تھوڑی سی دوائی دے دو تو اس کا اثر ہو جاتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ اس فرشتے کو کہتا ہے کہ اس کے جسم کو جا کے حکم دے دو کہ اس دوائی کو response کرائے اور جب اثر اس کا ہو جائےتو پھر وہ صحت مند ہو جائے گا۔
بعد ازاں حضورِ انور نے وحی، خوابوں اور نیک خیالات کو فرشتوں کے ذریعے الٰہی راہنمائی کا حصہ قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ اسی طرح وحی لانے والے فرشتے ہیں، نبیوں کے لیے وحی لاتے ہیں، اس طرح خوابوں میں نیک خیال آتے ہیں۔
مزید برآں حضورِ انور نے شیطانی خیالات کی حقیقت اور ان سے بچنے کے لیے دعا و نیکی کے اثر کو واضح فرماتے ہوئے فرمایا کہ اسی طرح اگر بُرے خیالات آتے ہیں، وہ تو شیطان ہے، شیطانی خیالات ہیں۔ شیطان کی بھی کوئی physical existence تو نہیں ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر انسان کے خون میں شیطان گھوم رہا ہے، اب تمہیں کہاں گھومتا نظر آتا ہے؟ شیطان کا مطلب یہی ہے کہ گندے خیالات ہیں ۔ اس لیے تم ان سے بچو۔ اور جو تم نیک باتیں کرو گے، اللہ تعالیٰ سے دعا کرو گے، تو اللہ تعالیٰ شیطانی خیالات کو جب نکال دیتا ہے تو وہاں فرشتے قبضہ کر لیتے ہیں۔
جواب کےآخر میں حضورِ انور نے انسانی دل میں پیدا ہونے والے خیالات کی روحانی حقیقت کو سمجھاتے ہوئے فرمایا کہ جو نیکی کے خیالات تمہارے اندر آتے ہیں یا نیک باتیں سوچتی ہو تو وہ فرشتوں کی طرف سے ہوتے ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے سے تمہیں پیغام بھیجتا ہے اور تمہارے دماغ میں بات آ جاتی ہے ۔ اور جو بُرے خیالات آتے ہیں وہ شیطان کی طرف سے ہوتے ہیں۔
ایک ناصرہ نے عرض کیا کہ میرے سکول میں کوئی بھی ایسی لڑکی نہیں جو سکارف لیتی ہو، بعض دفعہ انسان complex کا شکار ہو جاتا ہے۔ پیارے حضور! اس حالت میں ہمیں کیا کرنا چاہیے؟
اس پر حضورِ انور نے احساسِ کمتری سے بچتے ہوئے ایمان میں مضبوطی، خود اعتمادی اور اپنی اسلامی شناخت پر فخر کے ساتھ قائم رہنے کی تلقین کرتے ہوئےفرمایا کہcomplex کا شکار کیوں ہوتے ہو؟ مَیں نے پہلے بھی بتایا، تم کہو کہ ہم نے ساری دنیا کو اسلام کا پیغام پہنچانا ہے اور اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ ہمیں اپنے ایمان میں strong ہونا چاہیے۔
پھر حضورِ انور نے ہم عمروں کے دباؤ، تمسخر اورتضحیک سے مرعوب ہونے کے بجائے ثابت قدم رہنے اور جرأت و اعتماد کے ساتھ اپنا دینی موقف پیش کرنے کی ضروت پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ اس لیےcomplexمیں آنے کی ضرورت ہی کوئی نہیں۔ اگر کوئی تمہیں bullyبھی کرتا ہے تو تم ان کو جواب دے دیا کرو کہ ہم تو ٹھیک ہیں اور تم غلط ہو۔ ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ احمدی مسلمان کو دنیا کو لیڈ کرنا ہے۔ دنیا سے ڈرنا نہیں ہے۔ اس لیے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔
اسی طرح حضورِ انور نے سکارف کے حوالے سے حالات اور تعلیمی ضوابط کو ملحوظ رکھتے ہوئے حکمت اور اعتدال کے ساتھ عمل کرنے کی بابت راہنمائی فر مائی کہ اور سکول میں اگر تم سکارف نہیں بھی پہنتی، تو کوئی بات نہیں۔ باہر آ کے تم پہن لیا کرو ۔ اگر سکول میں یونیفارم ہے، ٹیچر تمہیں کہتا ہے یا سکول کا ڈسپلن تمہیں کہتا ہے۔
اس پر ناصرہ نے عرض کیا کہ وہ سکول میں سکارف پہنتی ہے۔یہ سماعت فرما کر حضورِ انور نے گذشتہ سلسلۂ کلام کو جاری رکھتے ہوئے فرمایا کہ اچھا! سکول میں اگر تمہیں منع ہو تو ٹھیک ہے، اُتارا بھی جا سکتا ہے۔
مزید برآں حضورِ انور نے حجاب اختیار کرنے کی صورت میں مضبوط کردار، حیا اور اللہ تعالیٰ کی رضا کو مقدّم رکھنے کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے فرمایا کہ لیکن اگر پہنتی ہو تو بڑی اچھی بات ہے ، پھر تو تمہیں مضبوط کریکٹر ہونا چاہیے، پھر دکھاؤ کہ یہ میرا کریکٹر ہے ۔ مَیں تم لوگوں کو خوش نہیں کر رہی ، بلکہ مَیں تو اپنے اللہ میاں کو خوش کر رہی ہوں ، جو کہتا ہے کہ modest لباس ہونا چاہیے۔تو modesty میرا ایک کریکٹر ہے۔ تم کہتی ہو کہ بُری بات ہے اور مَیں کہتی ہوں اچھی بات ہے۔
جواب کےآخر پر حضورِ انور نے حضرت مریم علیہا السلام کے پاکیزہ نمونے کو بطور دلیل پیش کرتے ہوئے حجاب کی اہمیت واضح کرنے اور مؤثر انداز میں اپنے موقف کا دفاع کرنے کی بابت تاکید فرمائی کہ کہو کہ تم لوگ عیسائی یہاں اب تو عیسائیت کو بھول رہے ہو، تو عیسائی مریم علیہا السلام کی تصویر دکھاتے ہیں، تو انہوں نے کیوں سر پر سکارف اوڑھا ہوا ہے؟ تم کہا کرو کہ تمہاری تو Maryجو ہے وہ تو خود سکارف پہن کے پھرتی ہے، تو مجھے کیا کہتی ہو؟ یہ کہہ دیں کہ مَیں تو اس کی نقل کر رہی ہوں، لیکن تم اس کی نقل نہیں کر رہی ۔
یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم ایک لجنہ ممبر نے سوال کیا کہ عزتِّ نفس اور تکبّر کے درمیان حدّ کیسے مقرر کی جا سکتی ہے اور مَیں اپنی عزتِّ نفس اور عاجزی میں توازن قائم رکھتے ہوئے محبّت سب کے لیے نفرت کسی سے نہیں کے اصول کی عملی تصویر کیسے بن سکتی ہوں؟
اس پر حضورِ انور نے عزتِ نفس اور تکبّر کے فرق کو واضح کرتے ہوئے اس کی بنیادی حقیقت بیان فرمائی کہ تکبّر یہ ہے کہ تمہارے اندر کوئی خاصیت ہے اور تم لوگوں کے سامنےboastکرو ، جب تم boastfulہو جاتی ہوتو وہ تکبّر ہے۔ تم لوگوں کو بتاؤ کہ مَیں تمہارے سےsuperiorہوں۔یہ تکبّر ہے۔ لوگوں سے اپنے آپ کو superiorسمجھنا ۔یہ تکبّر ہے۔چھوٹے آدمی سے اپنا بڑا منہ بنا کے بات کرنا تویہ تکبّر ہے۔
پھرحضورِ انور نے عزتِ نفس، اپنا وقار قائم رکھنے اور غلط باتوں سے اِعراض کرنے کے اسلامی اصول بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ لیکن اگر تمہیں کوئی غلط بات کہتا ہے، تو وہاں تم لڑائی کرنے کے بجائے، تمہاری عزّتِ نفس ہے تو تم وہاں سے اُٹھ کے آ جاؤ۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا ہے کہ لغو باتیں سنو ، تو وہاں سے اِعراض کر کے اُٹھ جاؤ، یہ تمہاری عزّت ِنفس ہے کہ تم بُری باتوں سے بھی بچو گی اور تمہاری عزّت بھی قائم رہے گی۔
اسی طرح حضورِ انور نے تکبّر اور عاجزی کے فرق کو کھول کر بیان کرتے ہوئے عاجزی کو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر شکر اور انکساری کا نام قرار دیا کہ عزّتِ نفس یہ ہے کہ اپنیrespectکو قائم رکھنا اورarrogance جو ہے وہ بالکل اور چیز ہے۔ وہاں اپنے آپ کوboastfulبنانا ، وہarroganceہے، اپنے آپ کو دوسروں سے superiorسمجھنا ۔ باقی عاجزی جو ہے، انسان اپنے آپ کو سمجھے کہ جو کچھ مجھے ملا ہے ، اللہ تعالیٰ کے فضلوں سے ملا ہے اور اللہ کے فضل میں مزید عاجزی دکھاؤں گی۔
بعد ازاں حضورِ انور نے عاجزی اور انکساری کی حقیقی روح بیان کرتے ہوئے تکبّر سے بچنے اور ہر ایک سے حسنِ سلوک کی تلقین فرمائی کہhumilityہونی چاہیے، غریب آدمی کی بھی مدد کرو، اس سے بھی آرام سے ملو۔ تو تکبّر بھی نہیں ہے۔ تکبّر نہ دکھاؤ تو عاجزی ہے۔تکبّر کاoppositeکیا ہے؟عاجزی۔ arroganceکاoppositeکیا ہے؟ humility۔ تو اب یہ فرق کر سکتی ہو، اکیس سال کی بڑی پڑھی لکھی ہو ، یونیورسٹی میں پڑھتی ہوتو تمہیں پتا ہونا چاہیے۔
مزید برآں حضورِ انور نے محبتِ عامہ کے اصول کی وضاحت کرتے ہوئے نفرت سے بچنے اور ہمدردی و دعا کے ذریعے اصلاحِ معاشرہ کی طرف راہنمائی فرماتے ہوئے فرمایا کہ باقی محبّت سب کے لیےنفرت کسی سے نہیں کا مطلب ہے کہ اپنے دل میں کسی کے خلاف نفرت پیدا نہ کرو۔ اگر تمہارے سے کوئی نفرت کرتا ہے تو یہ تو نہیں ہو سکتا کہ تم اس سے محبّت کرو، لیکن اس سے ہمدردی کا تقاضا ہے کہ اسے سمجھانے کی کوشش کرو۔ محبّت اس سے یہی ہے کہ اس سے ہمدردی کرو کہ اللہ تعالیٰ اس کو سیدھے راستے پر چلائے، اس کے لیے دعا کر دو۔ اور کسی کے غلط کام جو ہیں، وہ تمہارے سے اگر تکبّر دکھاتا ہے، تو وہ تمہیں اسی طرح تکبّر دکھانے والا نہ بنائے۔ تم اس کے لیے دعا کرو ، وہاں سے ہٹ جاؤ، کہو کہ یہ فضول باتیں ہیں۔ مَیں تو ان باتوں میں نہیں پڑ سکتی ۔ ہاں! مَیں تمہارے لیے دعا کروں گی کہ اللہ تعالیٰ تمہیں ہدایت دے اور پھر اس کے لیےدعا بھی کر لو۔ یہ محبّت سب کے لیے والی بات ہے۔ باقی یہ کہنا کہ دل میں تمہارےلیے اسی طرح محبّت پیدا ہو جائے ، جس طرح تمہارے اپنے ماں باپ کےلیے، پیارے لوگوں کے لیے محبّت ہے، وہ محبّت تو تم دشمن کے لیے اپنے اندر پیدا نہیں کر سکتی ۔
جواب کے آخر میں حضورِ انور نے حقیقی محبّت کے مفہوم کو ہمدردی اور دعا کے ساتھ جوڑتے ہوئے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے ارشاد کی روشنی میں اس کی وضاحت فرمائی کہ دشمن کی محبّت یہی ہے کہ اس کے لیے دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ اس کو ہدایت دے ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھا ہے کہ جو ہمدردی ہے وہی محبّت ہے۔
ایک اَور لجنہ ممبر نے راہنمائی کہ درخواست پیش کی کہ شادی کے بعد ایک لڑکی اپنی زندگی کی سب سے بڑی تبدیلی کے دَور سے گزرتی ہے، اگر وہ اپنی تعلیم ، صلاحیت و دلچسپی اور زندگی کے مقاصد کو آگے بڑھانا چاہے تو اپنی بات کس حکمت سے کرے اور ایسی صورتحال میں سسرال اور سب سے بڑھ کر خاوند کی کیا ذمہ داری ہے؟
اس پر حضورِ انور نے شادی کے بعد عورت کی بنیادی ذمہ داریوں میں گھر کی حفاظت، اس کے حسنِ انتظام اور اولاد کی نیک تربیت کو مرکزی حیثیت دیتے ہوئے فرمایا کہ جب شادی ہو جائے تو لڑکی کی سب سے بڑی ذمہ داری تو یہ ہے کہ گھر کو سنبھالے ۔ بچے ہو جائیں تو بچوں کی تربیت کرے۔ اگر تعلیم حاصل کی ہوئی ہےتو اس کا نیک اثر بچوں پر بھی ڈالو۔ ایک اَن پڑھ عورت اس طرح بچوں کی اچھی طرح تربیت نہیں کر سکتی کہ جس طرح ایک نیک پڑھی لکھی عورت کر سکتی ہے۔ تو پہلی بات یہ ہے کہ تمہارا اصل مقصد یہ ہونا چاہیے کہ مَیں نے گھر کی بھی حفاظت کرنی ہے اور بچوں کی تربیت کرنی ہے۔ یہی اسلام میں division of labour کاconceptہے کہ مردوں کے یہ کام ہیں اورعورتوں کا یہ کام ہے کہ گھروں کو سنبھالنا، گھروں کی نگرانی کرنا اور بچوں کی تربیت کرنا۔
پھر حضورِ انور نے تعلیم یافتہ عورت کے علم کو بچوں کی بہتر تعلیم و تربیت اور آئندہ نسل کی اصلاح کا مؤثرذریعہ قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ ہاں! انسان ساتھ یہ بھی کہتا ہے کہ علم حاصل کرو تاکہ وہ علم تم آگے بچوں میں بھی پیدا کر سکو۔ اس لیے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی لکھا ہے کہ مَیں نے لجنہ بنائی ، تو اس لیے بنائی تاکہ عورتوں میں زیادہ سے زیادہ پڑھنے لکھنے کی عادت پیدا ہو اور اگلی نسل پڑھی لکھی پیدا ہو جائے۔ ماؤں کا یہ کام ہوتا ہے۔
اسی طرح حضورِ انور نے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں خواتین کے مثبت کردار اور ملازمت کے انتخاب میں ترجیحات اور ذمہ داریوں کے توازن کو واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ کچھ پروفیشن میں چلی جاتی ہیں۔بعض اچھے پروفیشن ہیں، ٹیچر ہیں ، ڈاکٹر ہیں، وہ بھی تربیت کے لیے کام کر رہی ہوتی ہیں یا انسانیت کی خدمت کےلیے کام کر رہی ہوتی ہیں۔ باقی صرف پیسہ کمانے کے لیے کام کرنا تو کوئی بات نہیں ، سوائے اس کے کہ خاوند نکٹّھو ہو، تو خاوند سے کہو کہ تمہاری ذمہ داری ہے کہ گھر چلاؤ۔ میرا کام یہ ہے کہ مَیں اپنے گھر کا انتظام صحیح رکھوں۔
نیزحضورِ انور نے قناعت اور شکرگزاری کی اہمیت بیان کرتے ہوئے ازدواجی زندگی میں باہمی تعاون، صبر اور موجود وسائل پر اکتفا کرنے کی بابت تلقین فرمائی کہcontentmentہونی چاہیے۔ قناعت ہونی چاہیے اور اگر خاوند پوری طرح کما بھی رہا ہے اور کوشش کر رہا ہے، محنت کر رہا ہے، پھر یہ ہر روز اس سے لڑتے رہنا بھی نہیں چاہیےکہ نہیں! تم پیسے لاؤ اور میرے خرچے پُورے کرو ۔ جو لاتاہے اس پر گزارا کرو۔
اسی سلسلۂ کلام کو آگے بڑھاتے ہوئے حضورِ انور نے اولاد کی نیک تربیت کو حقیقی کامیابی اور جنّت کے حصول کا ایک ذریعہ قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ اصل چیز یہ ہے کہ بچوں کی تربیت، نیک نسل پیدا کرو، تو وہ بچے آگے قوم کے بھی کام آئیں گے اور انسانیت کے بھی کام آئیں گے ۔ اور پڑھے لکھے بچے ہوں گے، ان کے اخلاق بھی اچھے ہوں گے اور ماحول جو ہے وہ پُرامن بھی ہوگا اور پڑھا لکھا بھی ہوگا۔ تو اس لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھی عورت جو اپنے بچوں کی اچھی تربیت کرتی ہے ، پڑھی لکھی، اس کے پاؤں کے نیچے جنّت ہے۔ جنّت یونہی مل جاتی ہے؟ تم عورتیں تو ایک sourceآف جنّت بن رہی ہو کہ تمہارے عورتوں کے ذریعے سے ، گزر کے بندہ جنّت میں جاتا ہے ، تو مردوں کے ذریعے سے نہیں جاتا ۔مردوں کو نہیں کہا کہ تم جنّت میں لے جانے والے ہو۔ عورتوں کو آپؐ نے فرمایا۔
بعدازاں حضورِ انور نے بیٹیوں کی عمدہ تعلیم و تربیت اور حُسنِ پرورش کے ذریعے جنّت کے حصول کی بشارت اور عملی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ فرمایا کہ اس لیے ایک حدیث یہ بھی ہے کہ کسی شخص کے تین بیٹیاں پیدا ہوں اور وہ ان کی اچھی تربیت کرے اور وہ پڑھی لکھی ہوں اور آگے نسلوں کو سنبھالنے والی ہوں، تو اس نے اپنے لیےبھی جنّت بنا لی، یعنی پھر لڑکیوں کے ذریعے سے ہی جنّت ماں باپ کو مل رہی ہے۔ تو تم تو ہر وقت sourceآف جنّت بن رہی ہو توتمہیں کیا فکر ہے۔ صرف خیال رکھو کہ ہم نے کس طرح اپنے کام پُورے کرنے ہیں۔
مزید برآں حضورِ انور نے ازدواجی نظام میں قناعت، باہمی حقوق و فرائض کی ادائیگی اور سسرالی تعلقات میں حُسنِ سلوک کی اسلامی تعلیمات پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ قناعت ہونی چاہیے، قناعت کاپتا نہیں کیا ہوتی ہے، contentment ہونی چاہیے تاکہ انسان اس پر راضی رہے اور جو اس کا مقصد ہے وہ پُورا کرے۔ خاوند سے غلط demandsبھی نہیں ہونی چاہئیں اور خاوند کابھی کام ہے کہ جو بیوی کی requirement اورdemands ہیں ان کو پُورا کرے اور سسرال والوں کا بھی کام ہے کہ جو بہو بیاہ کے لاتے ہیں ، اس سے نیک سلوک کریں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی اس بارے میں یہی فرمایا کہ خاوند کو ، سسرال والوں کو دیکھنا چاہیے کہ وہ کسی کی بیٹی کو بیاہ کے جب گھر میں لاتے ہیں تو اس کے جذبات کا بھی خیال رکھیں۔ وہ اپنے گھر کو چھوڑ کے آتی ہے تو اس کو تم یوں ہی سمجھ لو کہ پاؤں کی جوتی ہے، آج نہیں تو کل بدل دوں گا کہ اس کو طلاق دے دوں اور کسی اَور سے شادی کر لوں ۔ تو وہ غلط طریقہ ہے ۔ اور جو لوگ یہ کرتے ہیں وہ گناہ کرتے ہیں۔
جواب کے آخر میں حضورِ انور نے اسلام میں تعدّدِ ازداج سے متعلق پائے جانے والے اعتراضات کا ازالہ کرتے ہوئے، اس کی شرائط و قیود اور عورتوں کو عطا کردہ حقوق کی وضاحت فرمائی کہ پھر اسلام پر ابھی بھی یہ اعتراض ہو جاتا ہے کہ اسلام میں چار شادیوں کی اجازت ہو گئی۔ وہ بھی مجبوری کی صورت میں ہے اور اس کی بڑیconditions ہیں۔ بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھا ہے کہ اگر عورت کو شک ہو کہ یہ لڑکا کہیں دوبارہ شادی نہ کر لے، تو لڑکی شادی سے پہلے اس سےbond لکھوا سکتی ہے کہ تم شادی نہیں کرو گے اور وہ پابند ہے کہ دوسری شادی نہیں کرے گا ، پھر چاہے اس کی ضرورت ہو۔ یہ بھی اسلام کہتا ہے۔ تو اسلام نے تو عورتوں کو بہت سارے حقوق دیے ہیں اور مردوں کو کہا ہے کہ ان کی ذمہ داریاں ادا کرو۔ اس لیے تم فکر نہ کرو ۔
ایک لجنہ ممبر نےحضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں عرض کیا کہ اسلام میں شادی اور خاندان بنانے کو بہت اہمیت دی گئی ہے ، تاہم ایسی کوئی واضح بنیاد نظر نہیں آتی کہ جس میں شادی نہ کرنے کو صریحاً گناہ قرار دیا گیا ہو یا اس پر کسی سزا کا ذکر ہو۔اس بنا پر یہ خیال درست ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی مرضی سے شادی نہ کرنے کا فیصلہ کرے تو اسلامی تعلیمات کے اعتبار سے وہ گنہگار نہیں ہوگا؟
اس پر حضورِ انور نے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں شادی نہ کرنے کی شرعی حیثیت کو واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ کہیں نہیں لکھا ہوا کہ وہ گنہگار ہوگا۔
پھر حضورِ انور نے آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کی سُنّتِ مؤکدہ کی پیروی میں شادی کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگوں کا میرے سے اگر تعلق ہےتو میری سُنّت پر عمل کرو ، مَیں نے شادیاں بھی کیں اور میرے بچے بھی ہوئے۔ میری سُنّت پر عمل کرو تو تمہیں فائدہ ہے ۔ کہیں نہیں فرمایا کہ تمہیں گناہ ہوگا یا تم عذاب میں ڈالے جاؤ گے۔
اسی طرح حضورِ انور نے انفرادی مجبوریوں اور استثنائی حالات کے پیشِ نظر شادی نہ کرنے پر گناہ کے عدمِ اطلاق کو واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ بعض دفعہ مجبوریاں ہوتی ہیں، بعض شادی نہیں بھی کرتے، نہیں کر سکتے تو کوئی بات نہیں۔ لیکن یہ جو ہے کہ گناہ ہوگا، اس کا مَیں نے ایک تفصیلی جواب بھی کہیں دیا ہوا ہے، دوبارہ میرا خیال ہے کہ اخبار میں چھپ بھی جائے گا ، اس میں بھی تم پڑھ لینا۔ کوئی گناہ نہیں کہ شادی اگر مجبوری کی وجہ سے نہیں کی ہے۔
[قارئین کے استفادہ کے لیے حضورِ انور کا وہ تفصیلی جواب بطورِ تحدیثِ نعمت پیش کیا جاتا ہے، جس کا آپ نے تذکرہ فرمایا ہے، اور جس میں ایک کویتی خاتون کے سوال کے جواب میں نہایت جامع راہنمائی عطا فرمائی تھی۔
انہوں نےحضورِ انور سے دریافت کیا تھاکہ ہم مسلمانوں پر شادی کرنا کیوں فرض ہے، اور اگر کوئی بہت نیک ہو، لیکن شادی نہ کرے تو کیا وہ جنّت میں داخل نہیں ہو گا؟
اس پرحضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مکتوب مورخہ ۱۵ ؍اکتوبر۲۰۲۱ء میں درج ذیل جواب عطا فرمایا تھا کہ مسلمانوں کے لیے شادی کرنا اسلام کے بنیادی احکامات میں سے ایک حکم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بھی قرآنِ کریم میں اس کا ارشاد فرمایا ہے۔ چنانچہ فرمایا: فَانۡکِحُوۡا مَا طَابَ لَکُمۡ مِّنَ النِّسَآءِ مَثۡنٰی وَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَ (النّسآء:۴)یعنی عورتوں میں سے جو تمہیں پسند آئیں ان سے نکاح کرو۔ دو دو اور تین تین اور چار چار۔
اسی طرح شادی کرنا حضور صلی الله علیہ وسلم کی سُنّت ہے اور حضور صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ حقیقی مسلمان وہی ہے ، جو میری سُنّت پر عمل کرتا ہے۔ چنانچہ حضرت عائشہ رضی الله عنہاسے مروی ہے۔
قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النِّكَاحُ مِنْ سُنَّتِیْ فَمَنْ لَمْ يَعْمَلْ بِسُنَّتِیْ فَلَيْسَ مِنِّیْ وَتَزَوَّجُوا فَاِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمُ الْاُمَمَ وَمَنْ كَانَ ذَا طَوْلٍ فَلْيَنْكِحْ وَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَعَلَيْهِ بِالصِّيَامِ فَاِنَّ الصَّوْمَ لَهُ وِجَاءٌ(سنن ابن ماجہ۔ کتاب النّکاح؍ بَاب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ النِّكَاحِ)یعنی رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا !نکاح میری سُنّت ہے، پس جو میری سُنّت پر عمل نہ کرے ، اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔ اور نکاح کیا کرو اس لیے کہ تمہاری کثرت پر مَیں اُمّتوں کے سامنے فخر کروں گا۔ اور جس میں استطاعت ہو تو وہ نکاح کرے اور جس میں استطاعت نہ ہو تو وہ روزے رکھے اس لیے کہ روزہ اس کی شہوت کو توڑ دے گا۔
پس اگر اچھا رشتہ مل رہا ہو اور کُفْو بھی ہو تو شادی ضرورکرنی چاہیے، لیکن یہ نہیں کہ کسی بھی کافر اور ملحد کے ساتھ شادی کر لی جائے، بلکہ اس معاملہ میں بھی اسلامی تعلیمات اور انتظامی ہدایات کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔(الفضل انٹرنیشنل۱۶؍دسمبر۲۰۲۲ء، صفحہ۱۱)]
بعد ازاں حضورِ انور نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سُنّتِ مبارکہ کی پیروی میں شادی کرنے کی بابت اصولی راہنمائی عطا فرماتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے کہ میری سُنّت پر عمل کرو اور اگر مجھ سے تعلق ہے، تو وہ سُنّت تویہی ہے کہ پھر شادیاں کریں۔
جواب کے آخر میں حضورِ انور نے انسانی حالات، نیّت اور ذاتی مجبوریوں کے باطنی پہلو کو اللہ تعالیٰ کے علم پر محمول کرتے ہوئے فرمایا کہ مجبوری نہ ہو تو شادی کرنی چاہیے۔ اور مجبوری ہو تو انسان اپنی مجبوری خود جانتا ہے یااللہ تعالیٰ جانتا ہے، کوئی کسی کے دل میں بیٹھ کے نہیں دیکھ سکتا ۔ مجھے کیا پتا کہ تمہارے دل میں کیا ہے؟
ایک حافظہ قرآن لجنہ ممبر نے حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں عرض کیا کہ آجکل کچھ اساتذہ یا لوگ جو میڈیا سے متأثر ہوتے ہیں ، وہ اسلام کے بارے میں غلط فہمیاں رکھتے ہیں، جیسے حجاب یا خواتین کے حقوق۔ چاہے ہم کتنی ہی وضاحت اور اخلاق کے ساتھ بات کریں کہ اسلام نے عورت کو کس قدر شخصی آزادی اور حقوق دیے ہیں، لوگ پھر بھی سمجھتے ہیں کہ شاید ہم کچھ چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہم ایسی غلط فہمیوں کو دُور کرنے کے لیے کیا کر سکتے ہیں؟
اس پر حضورِ انور نے نہایت سادہ اور بلیغ انداز میں اسلام سے متعلق پائی جانے والی غلط فہمیوں کا ایک محاورے کے ذریعے ازالہ کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ ایک پنجابی کی مثال ہے کہ گھر سے مَیں آیا ہوں اور میرے گھر کی خبریں تم دے رہی ہو۔ اس کا اُردو version مَیں نے بتا دیا کہ گھروں مَیں آیاں آں تے سندیسے تُو دیویں! یہ پنجابی کا محاورہ ہے۔ یعنی جو میرا مذہب ہے، میرا دین ہے، مجھے پتا ہے کہ کیا ہے، اس پر مَیں عمل کر رہی ہوں اور اس پر مَیں خوش ہوں تو تمہیں اس سے کیا تکلیف ہے؟
اسی تسلسل میں حضورِ انور نے شیطانی وساوس کی حقیقت، ان کے قرآنی پس منظر اور انجام کو بیان کرتے ہوئے اہلِ ایمان کو اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر کامل یقین اور ہر قسم کے منفی پروپیگنڈے سے بے نیاز رہنے کی تلقین فرمائی کہ یہ صرف شیطانی خیالات ہوتے ہیں، جو ماحول میں شیطان پیدا کر رہا ہے اور یہ تو شیطان نے آدم علیہ السلام کی پیدائش کے وقت ہی کہہ دیا تھا کہ مَیں انسان کو بھڑکاؤں گا اور اللہ تعالیٰ کو کہہ دیا تھا چیلنج کیا تھا کہ بہت سارے لوگ جو ہیں ، تیری بات نہیں مانیں گے اور میرے پیچھے چلیں گے۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں کہا تھا کہ تمہارے پیچھے نہیں چلیں گے اور بہت سارے لوگ نیک ہوجائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ٹھیک ہے، تم ان کو بھڑکاؤ، مَیں تمہیں مہلت دیتا ہوں ۔ اس نے مہلت مانگی تھی کہ مجھے قیامت تک لوگوں کو بھڑکانے کی مہلت دے دے ۔ تم حافظہ ہو تو قرآنِ شریف کا ترجمہ بھی سیکھا ہو گا، آتا ہو گا، تو یہ بھی لکھا پڑھا ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے کہا کہ ٹھیک ہے ، تمہیں مہلت ہے ، لیکن پھر بعد میں مَیں تمہیں اور تمہارےجیسے لوگوں کو جہنّم سے بھر دوں گا ۔ آخری زندگی تو آخر کی ہے۔تو اس لیے ان سے کہو کہ ہم اس بات پر خوش ہیں تو تمہیں کیا؟
اسی طرح حضورِ انور نے حجاب اور اسلامی شعائر پر دوسروں کی منفی تعبیرات سے متأثر ہوئے بغیر کامل یقین اور دینی شعور کے ساتھ عمل پیرا ہونے کی بابت سمجھایا کہ اگر تمہارے چہرے سےپردہ کر کے، حجاب پہن کے ڈپریشن نظر آتا ہے، تو پھر اس کے بعد وہ یہی کہیں گے کہoppressedہیں اور اگر تمdepressedہو تو لوگ oppressedسمجھیں گے۔ اگر تم depress نہیں ہو، تو کوئی تمہیں نہیں سمجھے گا ، تو کہیں گے کہ تم یہ ساری باتیں اپنی خوشی سے کر رہی ہو ۔ تو تم لوگوں کو بتاؤ کہ ہم اس کو صحیح سمجھتے ہیں، یہ اسلامی تعلیم ہے اور ہم اس پر عمل کر رہے ہیں۔ اسلام یہ کہتا ہے کہ یہ تمہارا مذہب ہے ، اس پر عمل کرو، تو اگر مَیں اپنے آپ کو مسلمان سمجھتی ہوں تو میرا فرض بنتا ہے کہ مَیں جو قرآنِ کریم کی تعلیم ہے ، اس پر عمل کروں۔
مزید برآں حضورِ انور نے قرآنی تعلیمات کی روشنی میں دین میں آزادیٔ انتخاب اور بلا جبر و اِکراہ مذہبی فیصلے کے حق کو واضح کرتے ہوئے ارتداد سے متعلق پائی جانے والی غلط فہمیوں کا ازالہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ یہ بھی فرماتا ہے کہ لَاۤ اِکۡرَاہَ فِی الدِّیۡنِ ، اسلام میں کوئی compulsion نہیں ہے ، اگر مَیں سمجھتی ہوں کہ مَیں ان باتوں پرعمل نہیں کر سکتی تو مَیں اسلام چھوڑ دیتی ہوں۔ اسلام مجھے کوئی قتل کرنے کاتو نہیں کہتا۔ اب! مولویوں نے تو شور مچایا ہوا ہے کہ مرتد کی سزا قتل! مرتد کی سزا قتل! تو اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ مرتد کی سزا قتل نہیں ہے کہ اگر لوگ دین سے پھر جاتے ہیں ، قرآن ِشریف میں بھی آیا ہے کہ اگر لوگ دین سے پھرجاتے ہیں، تو دوسرے لوگ جو لَوۡمَۃَ لَآئِمٍسے نہیں ڈرتے، لوگوں کی باتوں سے نہیں ڈرتے، وہ اللہ تعالیٰ تمہارے لیے پیدا کر دے گا اور نیک لوگ ہوں گے۔
جواب کے آخر میں حضورِ انور نے اسلامی نظامِ حیات کو ایک منظّم، اصولی اور ضابطۂ اخلاق پر مبنی طرزِ زندگی قرار دیتے ہوئے اس کی حکمت و فلسفہ کو مؤثر دلائل کے ساتھ واضح کرنے کی تاکید فرمائی کہ اسے کہو کہ اس میں کوئی سختی نہیں ہے۔ کسی بھی کلب میں تمjoinکرو تو اس کلب کے بھی rules and regulations ہوتے ہیں، ان کوfollow کرو گی تو ممبرشپ ملے گی اور اگرنہیں کرو گی تو نہیں ملے گی۔ تو اسلام بھی یہی کہتا ہے یہ میرا code of ethics اور code of direction ہے اور اس پر اگر تم عمل نہیں کر رہے ، تو پھر ٹھیک ہے کہ تم یا تو علیحدہ ہو جاؤ یا پھر منافقت نہیں ہونی چاہیے۔ اس طرح لوگوں کو سمجھاؤ تو لوگ سمجھ جاتے ہیں۔
الغرض یہ روح پرور نشست حضورِ انور کے دعائیہ کلمات ’’ السلام علیکم‘‘پر بخیر و خوبی اختتام پذیر ہوئی۔
٭…٭…٭




