دادی جان کا آنگن

جلسہ سالانہ کے آداب

جلسہ سالانہ قریب تھا۔ محمود، احمد اور گڑیا بہت خوش تھے۔ ایک شام اُن تینوں نے مل کر دادی جان سے جلسہ سالانہ کے آداب کے بارے میں پوچھنے کا ارادہ کیا اور ان کے کمرے میں جا پہنچے جہاں وہ حسب توقع اخبار الفضل کے مطالعہ میں مشغول تھیں ۔

بچے:السلام علیکم دادی جان! تینوں نے بڑے پُرجوش انداز میں سلام کا تحفہ دیا ۔

دادی جان: وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ، میرے پیارے بچو! اللہ تمہیں خوش رکھے۔ دادی جان نے اخبار طے کرتے ہوئے جواب دیا ۔

گڑیا: دادی جان! آپ ہمیشہ سلام کا جواب اتنے پیار سے دیتی ہیں۔

دادی جان: بیٹی! سلام کرنااسلام کا بہت خوبصورت تحفہ ہے۔ اس لیے جلسہ سالانہ میں بھی جب ہم کسی سے ملیں تو پہلے سلام کریں۔ اس سے محبت اور بھائی چارہ بڑھتا ہے۔ اس سلسلے میں حضرت اقدس مسیح موعودؑ کا طریق کار یہ تھا کہ حضورؑ اگرچہ چند لمحوں کے لیے بھی جماعت سے اٹھ کر جاتے اور پھر واپس تشریف لاتے تو ہر بار جاتے بھی اور آتے بھی السلام علیکم کہتے۔

گڑیا : مگر آپ کو کیسے پتا چلا کہ آج ہم آپ سے جلسہ سالانہ کے حوالے سے بات کرنے لگے ہیں ؟

دادی جان مسکراتے ہوئے ۔بس مجھے آپ تینوں کے سلام کرنے کے انداز سے علم ہوگیا تھا ۔

احمد :سلام کرنا اتنا ضروری ہے ؟

دادی جان : حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے خطبہ جمعہ 26؍ جولائی 2024ء میں فرمایا تھا کہ بالکل اور ایسے مواقع پر جہاں آپ سب کو جانتے نہ ہوں یہ بات ہی تبلیغ کا ذریعہ بھی بن جاتی ہے ۔اِس بارے میں پیارے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ فرمایا تھا کہ پس جب یہ سلامتی کا رواج پیدا ہو گا تو مہمان جو غیر از جماعت ہیں اور جو نومبائعین ہیں ان کے دلوں پر ایک اچھا اثر قائم ہو گا اور اس پاک ماحول سے وہ زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے والے اور اسلام کی خوبصورت تعلیم کی تعریف کرنے والے بن جائیں گے۔ اور جو نومبائعین اس پر عمل کرنے والے ہوں گے وہ زیادہ احسن رنگ میں نظام میں جذب ہونے والے بن جائیں گے۔جس سے شکوہ پیدا ہوتا ہے کہ بعض جگہ ہمیں جذب نہیں کیا جاتا۔

احمد: دادی جان! جلسہ سالانہ میں جانے سے پہلے ہمیں کیا تیاری کرنی چاہیے؟

دادی جان: سب سے پہلے صفائی کا خیال رکھنا چاہیے۔ نہا دھو کر، صاف ستھرے کپڑے پہن کر اور اپنے جوتے بھی صاف کرکے جانا چاہیے۔ جلسے میں ہزاروں لوگ آتے ہیں، اس لیے ہر شخص کو اپنی صفائی کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔

محمود: تو صفائی بھی جلسے کے آداب میں شامل ہے؟

دادی جان: بالکل! صفائی نصف ایمان ہے اور ایک مومن کو ہر وقت پاکیزگی اختیار کرنی چاہیے۔ قطع نظر اس کے کہ کس کی ڈیوٹی ہے جو بھی گند دیکھے اس کو اٹھا کر جہاں بھی کوڑا پھینکنے کے لیے ڈسٹ بن یا ڈبے وغیرہ رکھے گئے ہیں ان میں پھینکیں۔ مہمان بھی، میزبان بھی دونوں ان چیزوں کا خیال رکھیں۔

احمد: دادی جان! اور کون سے آداب ہیں؟

دادی جان: ایک اہم ادب یہ ہے کہ اگر دو شخص پہلے سے اکٹھے بیٹھے ہوں تو کسی تیسرے شخص کو ان کے درمیان جا کر نہیں بیٹھنا چاہیے۔

گڑیا: ایسا کیوں؟

دادی جان: کیونکہ اس سے ان کو تکلیف ہو سکتی ہے اور ان کی گفتگو میں خلل پڑتا ہے۔ اسلام ہمیں دوسروں کے احساسات کا احترام کرنا سکھاتا ہے۔

محمود: اگر جلسہ کے دوران کوئی شخص باتیں کر رہا ہو تو کیا کرنا چاہیے؟

دادی جان: اس بارے میں ہمارے پیارے نبی کریم ﷺ نے بہت خوبصورت تعلیم دی ہے۔ آپؐ نے فرمایا کہ جمعہ کے خطبہ کے وقت اگر کوئی شخص بات کرے تو دوسرا شخص اسے شور مچا کر نہیں بلکہ اشارے سے خاموش کرائے۔

احمد: یعنی خاموشی قائم رکھنے کے لیے بھی نرمی اختیار کرنی چاہیے؟

دادی جان: بالکل! اچھے اخلاق یہی ہیں کہ دوسروں کو پیار اور حکمت سے سمجھایا جائے۔

گڑیا: اگر میں کسی کو باتیں کرتے دیکھوں تو میں انگلی ہونٹوں پر رکھ کر خاموش رہنے کا اشارہ کر سکتی ہوں؟

دادی جان: جی ہاں، یہ بہت اچھا طریقہ ہے۔

محمود: تو جلسہ میں ہمیں خاموشی سے تقاریر سننی چاہئیں، دوسروں کا احترام کرنا چاہیے اور کسی کو تکلیف نہیں دینی چاہیے۔

دادی جان: شاباش! اور یاد رکھو، جلسہ سالانہ میں نظم و ضبط، خاموشی، احترام اور حسنِ اخلاق کا مظاہرہ کرنا ایک مومن کی شان ہے۔بعض لوگ بلند آواز سے عادتاً تُو تُو، مَیں مَیں کر کے باتیں کر رہے ہوتے ہیں یا ٹولیوں کی صورت میں بیٹھ کر قہقہے لگا رہے ہوتے ہیں۔ ان تین دنوں میں ان تمام چیزوں سے جس حد تک پرہیز کر سکتے ہیں کریں بلکہ مکمل طور پر پرہیز کرنے کی کوشش کریں۔ ویسے بھی یہ کوئی ایسی اچھی عادت نہیں۔

احمد: دادی جان! اگر جلسے میں کسی بات پر بچوں کے درمیان اختلاف ہو جائے تو کیا کرنا چاہیے؟

دادی جان: بیٹا! جلسہ سالانہ محبت، بھائی چارے اور امن کا اجتماع ہوتا ہے۔ وہاں کسی سے لڑائی جھگڑا نہیں کرنا چاہیے۔ اگر کوئی بات پسند نہ آئے تو صبر اور نرمی سے کام لینا چاہیے۔

محمود: اگر کوئی ہمیں تنگ کرے تو؟

دادی جان: تب بھی غصہ نہیں کرنا چاہیے۔ اچھے اخلاق سے جواب دینا چاہیے اور ضرورت ہو تو خدام یا بڑوں سے مدد لینی چاہیے۔

گڑیا: تو ہمیں سب کے ساتھ پیار اور محبت سے پیش آنا چاہیے؟

دادی جان: بالکل! ایک سچا مومن دوسروں کو تکلیف نہیں دیتا اور نہ ہی لڑائی جھگڑا کرتا ہے۔

محمود :آپ نے کھانے کا تو بتایا ہی نہیں ؟

دادی جان :بہت اچھا یاد دلایا ۔کھانے کے آداب میں تو یہ ہے کہ جتنا پلیٹ میں ڈالیں اس کو مکمل ختم کریں۔ کھانے کا ضیاع نہیں ہونا چاہئے۔اتنا ہی لیں جتنا آپ ختم کر سکیں۔بلکہ مجھے حضرت مسیح موعودؑ کا ایک بہت عمدہ واقعہ یاد آگیا ۔ جب جنگِ مقدس کے مباحثہ کی تقریب تھی توایک دن مہمانوں کی کثرت کی وجہ سے منتظمین حضرت مسیح موعودؑ کے لیے کھانا رکھنا بھول گئے یا پیش کرنا بھول گئے اور رات کا ایک حصہ گزر گیا آپؑ کو کھانا نہیں دیا گیا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بڑے انتظار کے بعد جب کھانے کے بارے میں پوچھا تو سب جو انتظام کرنےو الے تھے وہ تو بڑے پریشان ہو گئے۔ سب کے ہاتھ پیر پھول گئے کہ یہ کیا ہو گیا ہے۔ کھانا رکھا ہو ا نہیں ہے۔ بازار بھی اب بند ہو چکے ہیں۔ بہت دیر ہو گئی ہے وہاں سے لا نہیں سکتے۔ بہرحال جب یہ صورتحال حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے علم میں آئی، جب آپؑ کو پتا لگا تو آپؑ نے فرمایا کہ اس طرح گھبراہٹ اور تکلیف کی ضرورت کیا ہے۔ دستر خوان پہ دیکھو، جہاں کھانا کھایا ہوا ہے وہاں دیکھو! لوگوں کا کچھ بچا کھچا پڑا ہو گا وہی کافی ہے۔ جو پڑا ہے وہی لے آؤ۔ دستر خوان جب دیکھا گیا تو وہاں سوائے روٹیوں کے چند ٹکڑوں کے کچھ بھی نہیں تھا۔ سالن وغیرہ بھی نہیں تھا۔ آپؑ نے فرمایا کہ ہمارے لیے یہی کافی ہے اور آپؑ نے وہی کھا لیا۔

تو حضرت مسیح موعودؑ جو سب سے بڑھ کر آنحضرتﷺ کے عاشق اور آپؐ کی سنت پر عمل کرنے و الے تھے یہ ان کا نمونہ تھا۔ پس ہمیں بھی جو آپؑ کی جماعت میں شامل ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں صبر اور حوصلہ اور شکرگزاری کے یہ جذبات ہر وقت دکھانے کی ضرورت ہے۔ اگر ان تین دنوں میں کسی کی مہمان نوازی میں کوئی کمی بھی رہ گئی ہو تو اس سے درگزر کریں اور انتظامیہ کو زیادہ مورد الزام نہ ٹھہرائیں۔

سب بچے: ان شاء اللہ! ہم جلسہ سالانہ کے تمام آداب کا خیال رکھیں گے۔

دادی جان : شاباش میرے بچو اللہ تم سب کو بہت خوش رکھے۔

(درثمین احمد۔ جرمنی)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button