جلسہ سالانہخطاب حضور انور

امير المومنين حضرت خليفة المسيح الخامس ايّدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز کا جلسہ سالانہ برطانيہ کے دوسرے روز بعد دوپہر کےاجلاس سے بصيرت افروز خطاب کا خلاصہ

۲۰۲۵ء – ۲۰۲۶ء میں جماعت احمدیہ پر نازل ہونے والے اللہ تعالیٰ کے بے انتہا افضال میں سے بعض کا ایمان افروز تذکرہ

٭… دنیا بھر میں پاکستان کے علاوہ جو نئی جماعتیں قائم ہوئی ہیں اُن کی تعداد ۳۹۸؍ہے۔ ان نئی جماعتوں کے علاوہ ۸۱۱؍نئے مقامات پر پہلی بار احمدیت کا پودا لگا ہے

٭…دورانِ سال جو مساجد تعمیر ہوئی ہیں یا جماعت کو یہ مساجد عطا ہوئی ہیں اُن کی مجموعی تعداد۱۷۲؍ہے

٭… دورانِ سال ۴۱؍مالک میں ۱۲۷ مشن ہاؤسزکا اضافہ ہوا ہے

٭…٭… اس سال ۲؍لاکھ ۶۷؍ہزار ۵۹۶؍نئی بیعتیں ہوئی ہیں۔ ۱۳۲؍ممالک میں تقریباً ۶۷۰؍سے زائد اقوام احمدیت میں داخل ہوئیں

٭… جماعت احمدیہ کی طرف سےمختلف زبانوں میں مطبوعہ تراجم قرآن کریم کی تعداد ۷۹؍ہوگئی ہے

(حديقة المہدي، ۲۵؍جولائی ۲۰۲۶ء، نمائندگان الفضل انٹرنيشنل) آج جلسہ سالانہ برطانيہ کا دوسرا روز ہے۔ اس دن بعد دوپہر کے اجلاس ميں حضور انور ايدہ اللہ تعاليٰ دورانِ سال جماعت احمديہ پر ہونے والے افضال کي جھلک پيش فرماتے ہيں۔ اس اجلاس کي کارروائي کے ليے حضور انور فلک شگاف نعروں کي گونج ميں چار بج کر دس منٹ پر جلسہ گاہ ميں تشريف لائے اور کرسئ صدارت پر رونق افروز ہوئے۔ اجلاس کا باقاعدہ آغاز تلاوت قرآن کريم سے ہوا۔ مکرم الحاج رشید خطاب صاحب نے سورۃ الصف کی آیات ۷تا ۱۲ ؍کی تلاوت کی۔ ان آیات کا اردو ترجمہ مکرم حافظ محمد ظفر اللہ عاجزؔصاحب مدیر اعلیٰ روزنامہ الفضل انٹرنیشنل نے پیش کرنے کی توفیق پائی۔ مکرم مصور احمد صاحب نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کا منظوم کلام پیش کرنے کی سعادت حاصل کی جس کا آغاز درج ذیل شعرسے ہوا:

اَے خدا اَے کارساز و عیب پوش و کردگار

اَے مرے پیارے مرے محسن مرے پروردگار

چار بج کر پچیس منٹ پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ منبر پر تشریف لائے اور السلام علیکم ورحمۃ اللہ کا تحفہ عنایت فرمانے کے بعد خطاب کا آغاز فرمایا اور گذشتہ سال میںجماعت احمدیہ پر ہونے والے افضال کا ذکر فرمایا۔

خلاصہ خطاب حضور انور

تشہد،تعوذ اور سورت فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

اس وقت مَیں دورانِ سال جو اللہ تعالیٰ کے فضل جماعت احمدیہ پر ہوئے ہیں اُن کا مختصر خاکہ پیش کروں گا۔

نئی جماعتوں کا قیام

اس سال دنیا بھر میں پاکستان کے علاوہ جو نئی جماعتیں قائم ہوئی ہیں اُن کی تعداد ۳۹۸؍ہے۔ ان نئی جماعتوں کے علاوہ ۸۱۱؍نئے مقامات پر پہلی بار احمدیت کا پودا لگا ہے۔ بینن میں اس سال ۸۶ نئی جماعتیں قائم ہوئی ہیں، دوسرے نمبر پر کانگو برازاویل پھر لائبیریا اور اس طرح باقی ممالک ہیں۔

نئی مساجد کا قیام

اسی طرح دورانِ سال جو مساجد تعمیر ہوئی ہیں یا جماعت کو یہ مساجد عطا ہوئی ہیں اُن کی مجموعی تعداد۱۷۲؍ہے۔ جن میں سے ۱۳۳ نئی مساجدتعمیر ہوئی ہیں اور ۳۹ بنی بنائی جماعت کو ملی ہیں۔

مشن ہاؤسز اور تبليغي مراکز ميں اضافہ

اللہ تعالیٰ کے فضل سے دورانِ سال ۴۱؍مالک میں ۱۲۷ مشن ہاؤسزکا اضافہ ہوا ہے۔ اس میں پہلے نمبر پر کینیا ہے، پھر گھانا اور انڈونیشیا دوسرے نمبر پر ہیں۔ تیسرے نمبر پر نائیجر ہے۔ وقارِ عمل کے ذریعےکام کرنے کی وجہ سے اس سال جماعت کو تین ملین امریکی ڈالرز کی مالی بچت ہوئی ہے۔

وکالتِ اشاعت طباعت

وکالتِ اشاعت کی رپورٹ کے مطابق اس سال ۳۷؍زبانوں میں ۳۵۳؍مختلف کُتب، پمفلٹ، فولڈرز وغیرہ ۱۶؍لاکھ ۸۹ ہزار سے زائد کی تعداد میں طبع ہوئے ہیں۔

قرآن کریم کی تفاسیر میں حضرت مسیح موعودؑ کی تفسیر جو پہلے اردو میں ۸ جلدوں میں شائع ہوئی تھی، اس کا مکمل عربی ترجمہ پہلی مرتبہ شائع کیا گیا ہے۔ اسی طرح انگریزی تفسیر فائیو والیم کمینٹری بھی شائع ہوئی ہے، اس کی پہلی جلد کا عربی ترجمہ ری۔پرنٹ ہوا ہے۔

احادیث میں حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب کی شرح صحیح بخاری کی پہلی جلد کاانگریزی ترجمہ دوبارہ شائع ہوا ہے۔ جلد دوم کا انگریزی ترجمہ پہلی مرتبہ شائع ہوا ہے۔ یہ علم کا بہت بڑا خزانہ ہے۔ احباب کو اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔

حضرت مسیح موعودؑ کی کتب کے تراجم میں ۴۵؍کُتب کے ۱۸؍زبانوں میں ترجمے ہوئے ہیں۔ حضرت مصلح موعودؓ کی ۱۱؍ کتب ۶؍زبانوں میں شائع ہوئی ہیں۔ حضرت خلیفة المسیح الثالث ؒ کی کتاب ’’تعمیر بیت اللہ کے ۲۳ عظیم الشان مقاصد‘‘ کا عربی ترجمہ پہلی بار شائع ہوا ہے۔ حضرت خلیفة المسیح الرابع ؒ کی کتاب Christianity—A Journey from Facts to Fiction کا بلغارین اور An Elementary Study of Islam کا ڈینش زبان میں پہلی بار ترجمہ شائع ہوا ہے۔

اسی طرح مختلف وقتوں میں جو مَیں سوالوں کے جواب دیتا رہا ہوں انہیں بھی کتابی صورت میں شائع کیا گیا ہے، اور انگریزی زبان میں بھی۔ اسی طرح بعض دوسرے لیکچرز جو ہیں ان کو بھی مختلف زبانوں بشمول فرانسیسی، عربی، جرمن، انڈونیشین وغیرہ میں شائع کیا گیا ہے۔

نظارت نشر و اشاعت قاديان

نظارت نشرو اشاعت قادیان نے بھارت کی مقامی ۱۴؍زبانوں میں اب تک قرآن کریم کا ترجمہ شائع کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے قادیان سے اس دفعہ ایک قرآن کریم کا فونٹ توحید نستعلیق تیار کیا گیا ہے، یہ پہلا نستعلیق فونٹ ہے جو جماعت احمدیہ کی طرف سے تیار کیا گیا ہے۔ تفسیرِ صغیر کا عربی متن خطِ منظور فونٹ میں اردو متن اس نئے فونٹ میں تیار ہوچکا ہے۔

حضرت مسیح موعودؑ کی کتب کے بھارت کی علاقائی زبانوں میں بھی تراجم ہوئے ہیں۔

وکالتِ تصنیف یوکے

وکالت تصنیف یوکے نے ایک نئے زبان لیتھوینین میں قرآن کریم کا ترجمہ طبع کیا ہے۔ اب جماعت احمدیہ کی طرف سےمختلف زبانوں میں مطبوعہ تراجم قرآن کریم کی تعداد ۷۹؍ہوگئی ہے۔ حضرت مسیح موعودؑ کی کتب نجم الہدیٰ، خطبہ الہامیہ، کرامات الصادقین اور ملفوظات جلد پنجم کے انگریزی تراجم طبع ہوئے ہیں۔ براہینِ احمدیہ چار حصص کا انگریزی ترجمہ ایک جلد میں طبع ہوا ہے۔

حضرت مصلح موعودؓ کی کتب انقلابِ حقیقی، مطالبات تحریکِ جدید، عرفانِ الٰہی اور واقعات خلافتِ علوی کے انگریزی تراجم شائع ہوئے ہیں۔

جماعتوں میں ریجنل اور مرکزی لائبریریز کا قیام

دنیا کے ۱۰۸؍ممالک میں اب تک ۷۳۲؍لائبریریاں قائم ہوچکی ہیں۔

وکالتِ اشاعت ترسیل

دنیا بھر کی ۲۲؍زبانوں میں ۱۱۶؍رسائل و جرائد و اخبارات شائع ہورہے ہیں۔

نمائشوں کا انعقاد

دنیا بھر میں ۳۶۸۸؍نمائشوں کے ذریعے ۱۰؍لاکھ ۷ ہزار سے زائد افراد تک اسلام احمدیت کا پیغام پہنچا ہے۔

رقیم پریس

رقیم پریس کے ذریعے شائع ہونے والی کتب کی تعداد ایک لاکھ ستاون ہزار دو سَو چالیس ہے۔ رقیم پریس اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہاں کافی کام کر رہا ہے۔ افریقہ کے سات ممالک میں ہمارے پریس ہیں جہاں سات لاکھ ساٹھ ہزار کُتب، اور ۸۲؍ لاکھ سے زائد اخبارات،رسائل و جرائد، اور تبلیغی وتربیتی لٹریچر شائع ہوا ہے۔

وکالتِ تعمیل و تنفیذ بھارت

کی رپورٹ کے مطابق مکان حضرت خلیفة المسیح الاوّلؓ کے احاطہ میں ہستی باری تعالیٰ کے موضوع پر نمائش ’’المجیب‘‘ تیار کی گئی ہے۔ قادیان میں مرکزی ریسرچ سیل بورڈ کا قیام عمل میں آیا ہے۔

عربی ڈیسک

کے تحت اب تک شائع ہونے والی کتب کی تعداد ۲۰۰؍ہوچکی ہے۔ ان میں روحانی خزائن کی جملہ اردو کُتب، ملفوظات کا مکمل سیٹ، حضرت مصلح موعودؓ کی تفسیر کبیر کی دس جلدوں کا سیٹ اور دیگر ۳۴؍کتب کے تراجم شامل ہیں۔ دورانِ سال مجموعہ اشتہارات کی تینوں جلدیں اور دعوت الامیر کا عربی ترجمہ اور بعض دیگر تراجم بھی شائع ہوئے ہیں۔

بنگلہ ڈیسک

کے تحت حضرت مسیح موعودؑ کی ۶؍کتب کے تراجم چھپ چکے ہیں۔ میرے خطبات بھی ا نہوں نے شائع کیے ہیں۔

فرینچ ڈیسک

نے لیکچر لاہور کا فرانسیسی ترجمہ شائع کیا ہے۔ ٹرکش ڈیسک میں بھی تراجم کا کچھ کام ہورہا ہے۔ سپینش ڈیسک نے دورانِ سال چھ کتب کے تراجم مکمل کیے ہیں۔ چینی ڈیسک نے حضرت مصلح موعودؓ کے ۱۹۲۴ء کےمذہبی کانفرنس کے لیکچر کا ترجمہ کیا گیا ہے۔

لیف لیٹس اور فلائرز کی تقسیم

اس سال ۱۲۰؍ممالک میں مجموعی طور پر ۷۸؍لاکھ ۶۶؍ ہزارسے زائد لِیف لیٹس تقسیم ہوئے۔ جن کے ذریعے ۳؍کروڑ ۹۲؍لاکھ سے زائد افرادتک پیغام پہنچایا گیا۔

تحریکِ وقفِ نَو

میں شامل لڑکوں کی تعداد ۵۰؍ہزار ۹۸۱؍ہے اور لڑکیوں کی تعداد ۳۶؍ہزار ۶۸۶؍ہے۔ اس سال ۷۴؍ممالک سے۳۱۱۶؍ والدین نے اپنے ہونے والے بچوں کو وقفِ نَو میں پیش کیا۔

ریویو آف ریلجنز

جس کا اجرا حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا تھا۔ یہ رسالہ اب اپنے ۱۲۴؍ویں سال میں داخل ہوچکا ہے۔ یہ مختلف فورمز کے ذریعے انگریزی، جرمن، ہسپانوی اور فرانسیسی زبان میں کروڑوں لوگوں تک پیغام پہنچا رہا ہے۔ دوران سال اس کا ڈیجیٹل ایڈیشن بھی جاری کیا گیا۔

الفضل انٹرنیشنل

اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے کافی بڑی تعداد میں شائع ہورہا ہے۔

ایم ٹی اےانٹرنیشنل

کے ۱۶؍شعبہ جات ہیں، کُل ۵۶۸؍کارکنان دن رات خدمت انجام دے رہے ہیں۔

اس سال ایم ٹی اے افریقہ کے دس سال مکمل ہوئے ہیں۔ان دس سالوں میں سات ہزار سے زائد پروگرام تیار ہوئے جن کے ذریعے ہزاروں افراد اسلام احمدیت میں داخل ہوئے۔ افریقہ میں جماعت کے اپنے ریڈیو سٹیشنز کی تعداد ۲۶ ہے۔

وائس آف اسلام ریڈیو یوکے

کو بھی دس سال مکمل ہوگئے ہیں۔ اس وقت اس ریڈیو کی نشریات برطانیہ کے ۱۳ شہروں میں براہ راست نشر ہورہی ہیں۔ نیز آن لائن نشریات دنیا بھر میں سنی جاسکتی ہیں۔

الاسلام ویب سائٹ

پر حدیث سرچ انجن اور ایپ کا اجرا کیا گیا۔ قرآن سرچ انجن میں بہتری بھی لائی گئی ہے۔

الوصیت اور Ten conditions of Bait کی ایپس کا اضافہ ہوا ہے۔ ۳۶ نئی انگریزی ای۔بُکس کے اضافے سےکُل تعداد ۲۶۰ہوگئی ہے۔ الاسلام کی ٹیم بھی تقریباً ساری ہی، رضاکاروں پر مشتمل ہے اور بہت اچھا کام کر رہی ہے۔

انٹرنیشنل ایسوسی ایشن آف احمدیہ آرکیٹیکٹ اینڈ انجینیرز (IAAAE)

نے اس سال ۶۵ نلکے لگائے جس سے ۲لاکھ افراد مستفید ہوئے۔ اسی طرح ماڈل ویلیج قائم کیے گئے ہیں، سولر لگائے گئے ہیں۔

مجلس نصرت جہاں

کے تحت افریقہ کے ۵۴؍ممالک میں ۴۱؍کلینک اور ہسپتال قائم ہیں۔ گذشتہ سال پانچ لاکھ سے زائد مریضوں کو علاج معالجے کی سہولت مہیا کی گئی۔ افریقہ کے ۱۳؍ممالک میں ہمارے ۶۲۰؍پرائمری اور مڈل سکولز اور ۸۰؍سیکنڈری سکولز تعلیمی خدمت بجا لارہے ہیں۔

ہیومنٹی فرسٹ

کو ۲۵؍ لاکھ سے زائد افرادکی مجموعی طور پر خدمت کی توفیق ملی۔

رابطہ نومبائعین

دورانِ سال ۹۵؍ممالک میں کُل ۵۴؍ہزار۴۸۵؍نَومبائعین سے رابطہ بحال ہوا۔

نئی بیعتوں کی تعداد

اس سال ۲؍لاکھ ۶۷؍ہزار ۵۹۶؍نئی بیعتیں ہوئی ہیں۔ الحمدللہ ۱۳۲؍ممالک میں تقریباً ۶۷۰؍سے زائد اقوام احمدیت میں داخل ہوئیں۔

ان میں سب سے پہلے نمبر پر نائجیریا ہے۔پھرکانگو برازیل ہے۔پھر گنی بساؤ ہے۔پھر کیمرون ہے۔گنی کناکری، لائبیریا۔ کونگو کنساشا،گیمبیا، سینٹرل افریقن ریپبلک، سینیگال،سیرالیون،تنزانیہ، آئیوری کوسٹ، نائیجر، بینن، ٹوگو،کینیا،گھانا، یوگنڈا، ملاوی، مالی، برکینافاسو، مڈغاسکر، چاڈ، زیمبیا، روانڈا، برونڈی،ایتھوپیا اور ساؤ تومے شامل ہیں۔ افریقہ کے دیگر ممالک میں سے صومالیہ اور زمبابوے، مایوٹ آئی لینڈ، مصر سوازی لینڈ،لیسوتو، انگولا کیپ وردے، ساؤتھ افریقہ، نمیبیا وغیرہ شامل ہیں۔

ایشیا میں انڈونیشیا میں سب سے زیادہ بیعتیں ہیں۔ پھر انڈیا میں پھر بنگلہ دیش میں اور فلپائن میں۔ اس کے علاوہ ملائیشیا، تھائی لینڈ،قزاقستان،سری لنکا،کمبوڈیا، جاپان، سنگاپور وغیرہ میں شامل ہیں۔

یورپ میں جرمنی پہلے نمبر پہ ہے پھر فرانس پھر ہالینڈ، بیلجئم، اسپین،ناروے، سربیا ہیں۔ اس کے علاوہ سوئٹزرلینڈ میں البانیہ میں آسٹریا میں فن لینڈ میں، رشیا میں، چیک ریپبلک اور مالٹا وغیرہ میں تھوڑی تعداد میں ہوئی ہیں۔

امریکن بلاک میں کینیڈا میں زیادہ بیعتیں ہیں۔ اس کے بعد امریکہ ہے۔ پیراگوئے، میکسیکو میں بیلیز،میکسیکو،ہیٹی، گیانا،پورٹوریکو،برازیل، ایلسلواڈور، سرینام، پاناما، چلی، وینزویلا وغیرہ بھی شامل ہیں۔

براعظم آسٹریلیا میں سب سے پہلے آسٹریلیا ہے، پھر فجی ہے اس کے بعد نیوزی لینڈ میں سالومن آئی لینڈ میں۔وغیرہ

عرب ممالک میں بھی بیعتیں ہوئی ہیں۔

حضورِانور نے فرمایا کہ بیعتوں کے سلسلے میں بعض واقعات ہیں، یہ واقعات لوگوں کی دلچسپی کا زیادہ موجب ہوتے ہیں اس لیے مَیں بعض واقعات سنا دیتا ہوں۔

بیعتوں کے واقعات

ریڈیو کے ذریعہ تبلیغ

لائبیریا کے امیر صاحب لکھتے ہیں مومی کا ونٹنی میں ایک چیف امام جماعت کے خلاف منفی تاثر رکھتے تھے اور سمجھتے تھے کہ احمدیوں کا کلمہ مختلف ہے اور وہ نعوذ باللہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پرعمل نہیں کرتے۔ ان کے علاقے میں ابھی تک تبلیغ نہیں ہو سکی تھی کیونکہ وہ بات سننے کے لیے تیار بھی نہیں ہوتے تھے۔ایک دن اتفاق سے امام صاحب کو ریڈیو سنتے ہوئے جماعت احمدیہ کا پروگرام سننے کا موقع مل گیا۔اس وقت قران و حدیث کی روشنی میں نہایت خوبصورت اور مدلل انداز میں اسلامی تعلیمات کی خوبصورتی بیان کی جا رہی تھی۔ سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر گفتگو ہو رہی تھی۔ان کو یہ پروگرام بہت اچھا لگا چنانچہ انہوں نے باقاعدگی سے جماعتی پروگرام سننا شروع کر دیے جس نے ان کے دل و دماغ پر گہرا اثر چھوڑا۔انہوں نے خود ہمارے مبلغ کو دعوت دی کہ جمعہ ان کی مسجد میں جمعہ پڑھائیں اور لوگوں کو جماعتی عقائد کے بارے میں بتائیں۔ چنانچہ ہمارے مبلغ اپنی تبلیغی ٹیم کو لے کر ان کے گاؤں پہنچے اور جمعہ پڑھایا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئیوں کے مطابق امام مہدی علیہ السلام کی آمد اور اسلام کی نشاۃثانیہ کے حوالے سے بات کی۔بعد ازاں امام صاحب نے کھڑے ہو کر جماعت میں شامل ہونے کا اعلان کیا۔کیونکہ یہ اپنے علاقے کے چیف امام تھے۔ان کے اثر کے وجہ سے مزید دو دیہات کے لوگ بھی ان کے ساتھ احمدیت میں داخل ہو گئے۔یوں ایک دن میں تین دیہات میں احمدیت کا پودا لگا۔

خوابوں کے ذریعہ راہنمائی

چاڈ میں ہمارے معلم کہتے ہیں کہ وہ کافی عرصے سے اپنی بہن کو تبلیغ کر رہے تھے۔ جب بھی جماعت کا پیغام پہنچایا جاتا تو وہ یہ کہتی رہیں کہ اللہ تعالی مجھے صحیح راہ دکھا دے یا اللہ آپ لوگوں کو ہدایت دے دے۔ معلم صاحب کے اکثر خاندان والے جماعت کے مخالف ہیں۔ موصوفہ بیان کرتی ہے کہ چند دن پہلے میں دن کے وقت ذکر الہی میں مشغول تھی کہ میں نے کشفاً ایک بزرگ کو دیکھا اور ساتھ یہ آواز آئی کہ الامام حجۃ۔جب میں اپنے بھائی کو گھر ملنے گئی تو اس کے موبائل میں میں نے تصویر دیکھی اور پوچھا یہ کون ہے۔بھائی نے جواب دیا یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہیں۔ میں نے بھائی کو بتایا کہ چند دن پہلے میں نے دن کے وقت کشفاًان کو دیکھا تھا اور یہ ساتھ یہ آواز بھی سنی تھی۔اب اللہ تعالی نے میری رہنمائی کر دی ہے اس لیے میں بیعت کر کے جماعت میں شامل ہوتی ہوں۔

شمالی کیمرون کا ایک شہر ہے مروا۔صدر صاحب بیان کرتے ہیں کہ وہاں معلم ابوبکر صاحب بچوں کو قران شریف اور دینی معلومات پڑھاتے تھے اور خلفاء حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے نام بھی یاد کروتے تھے۔ایک غیر احمدی بچے نے بھی یہ نام یاد کر لئے۔ ایک دن وہ بچہ اپنے گھر میں زور زور سے خلفائے احمدیت کے نام پڑھنے لگا۔اس کے والد عثمان محمد صاحب نے جب اس کو میرا نام دہراتے سنا تو چونک گئے اور پوچھا کہ یہ کیا پڑھ رہے ہو۔بچے نے کہا کہ ہمیں مسجد میں یہ نام سکھائے گئے ہیں۔ بچے کے والد ہمارے صدر صاحب کے پاس گئے اور اس نام کے بارے میں پوچھا صدر نے بتایا کہ معلم صاحب بچوں کو دینی معلومات پڑھاتے ہیں اور ہم احمدی ہیں اور ہمارے موجودہ امام مرزا مسرور احمد صاحب ہیں۔ اس پر عثمان صاحب نے بتایا کہ مجھے خواب میں یہ نام مسرور احمد سنایا گیا تھا۔ مجھےآواز آئی کہ مسروراحمد کی کی اطاعت کرو اور ان کے ساتھ ہو جاؤ۔میں بہت حیران ہوں گا کہ یہ کون ہے۔ آج جب میں نے اپنے بچے سے یہ نام سنا تو میں آپ کے پاس آیا ہوں۔اس کے بعد عثمان صاحب نے معلم ابوبکر سے رابطہ رکھا،سوال و جواب ہوئے کتب کا بھی مطالعہ کیا اور مطمئن ہونے کے بعد بیعت کر لی۔

احمدیوں کے اچھے نمونے سے تبلیغ

مایوٹ آئی لینڈ کے امیر صاحب لکھتے ہیں کہ ایک خاتون موصوفہ ایک عرصے سے زیر تبلیغ تھیں مگر قبول احمدیت سے ہچکچاہٹ کا شکار تھیں۔ ہمارے ممبران صبر اور اخلاص کے ساتھ اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے تھے۔ ہم نے انہیں اپنے ایک اجتماع میں شرکت کی دعوت دی تو پہلے انہوں نے دعوت قبول نہ کی تا ہم بعد میں اجتماع میں شامل ہوئیں۔ اجتماع میں بھائی چارے کی فضا، جماعت کی محبت بھری اپنائیت اور مقررین کی تقاریر سے نہایت متاثر ہوں۔اگلے ہی دن انہوں نے ہم سے رابطہ کیا اور بیعت کر کے اسلام احمدیت میں شامل ہو گئیں۔

مخالفین کی قبول احمدیت

کانگو کنشاسا سے لوکل مشنری کہتے ہیں کہ ایک سنی امام نے انہیں ٹیلی فون کیا کہ ریڈیو پر آپ کی مسیح کے کی آمد کے حوالے سے گفتگو سنی جس میں آپ نے مرزا غلام احمد ؑ کو اس زمانے کے مسیح کے طور پر پیش کیا اور اس بات نے میرے دل میں بے چینی کی کیفیت پیدا کر دی ہے۔ میں اس وقت بیمار ہوں آپ میرے پاس آئیں ایسا نہ ہو کہ میں شکوک و شبہات کے ساتھ ہی وفات پا جاؤں۔ لوکل مشنری صاحب ان کے پاس گئے گفتگو ہوئی موصوف نے جماعت کا پیغام قبول کر لیا اور اظہار کیا کہ آج سے وہ اس پیغام کو اپنے مقتدیوں میں بھی پھیلائیں گے۔ اور مزید کہا کہ میں اللہ تعالیٰ سے اس مخالفت کی معافی چاہتا ہوں جو اس سے قبل حضرت مرزا غلام احمد ؑ کے بارے میں کرتا رہا۔

احمدیو ں کا حسن سلوک

صدر جماعت زمبابوے لکھتے ہیں یہاں ایک دوست نے بیعت کی احمدیت قبول کرنے سے قبل وہ منشیات کا استعمال کرتے تھے۔ان حالات میں بھی منشیات لینے کے باوجود ہمارے دو ممبران ان سے رابطہ میں تھے اور ان کو جماعت کے پروگرام میں مدعو کرتے تھے اور کبھی نماز جمعہ کے لیے لاتے تھے بیعت کرنے کے بعد اس نے کہا کہ مجھے جس چیز نے احمدی بنایا ہے وہ احمدیوں کا حسن سلوک ہے۔

نماز جمعہ کی ادائیگی

سینٹرل افریقہ سے ایک نو مبائع ہیں، کہتے ہیں میں اپنے دوست کے ساتھ نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے جا رہا تھا کہ ایک مسجد کے پاس سے گزر ہوا تو میں نے اپنے دوست سے کہا کہ یہی قریبی مسجد ہےہم گزر رہے ہیں یہاں جمعہ ادا کر لیتے ہیں میرا دوست کہنے لگا کہ نہیں یہ احمدیوں کی مسجد ہے ان کا اسلام اور ہے جبکہ ہمارا اور۔ لیکن میرے دل میں اس ان کی بات کھٹکی اور تجسس پیدا ہو گیا یہ کیسے ممکن ہے کہ مختلف اسلام چنانچہ اگلا جمعہ کہتے ہیں میں نے احمدیوں کی مسجد میں ادا کرنے کا ارادہ کیا۔مسجد داخل ہوا تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہی اذان ہے وہی نماز ہے اور مزید یہ ہے کہ یہاں خطبہ بھی سہل انداز میں تھا لہذا میں بیعت کر کے جماعت احمدیہ میں داخل ہو گیا اور اللہ کے فضل سے بڑے باقاعدہ نمازی ہیں۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آخر میں حضرت مسیح موعودؑ کا اقتباس پڑھتا ہوں۔

آپؑ فرماتے ہیں: باز آ جاؤ اور اس قہر سے ڈرو اور یقیناً سمجھو کہ تم اپنے مفسدانہ حرکات پر مہر لگا چکے ہو اگر خدا تمہارے ساتھ ہوتا تو اس قدر فریبوں کی تمہیں کچھ بھی حاجت نہ ہوتی۔تم میں سے صرف ایک شخص کی دعا ہی مجھے نابود کر دیتی مگر تم میں سے کسی کی دعا بھی آسمان پر نہ چڑھ سکی بلکہ دعاؤں کا اثر یہ ہوا کہ دن بدن تمہارا ہی خاتمہ ہوتا جاتا ہے۔ کیا تم دیکھتے نہیں کہ تم گھٹتے جاتے ہو اور ہم بڑھتے جاتے ہیں اگر تمہارا قدم کسی سچائی پر ہوتا تو کیا اس مقابلے میں تمہارا انجام ایسا ہونا چاہیے

آپؑ فرماتے ہیں: اے نادان قوم یہ سلسلہ آسمان سے قائم ہوا ہے تم خدا سے مت لڑو تم اس کو نابود نہیں کر سکتے اس کا ہمیشہ بول بالا ہے اپنے نفسوں پر ظلم مت کرو اور اس سلسلے کو بے قدری سے نہ دیکھو جو خدا کی طرف سے تمہاری اصلاح کے لیے پیدا ہوا اور یقینا سمجھو کہ اگر یہ کاروبار انسان کا ہوتا اور کوئی پوشیدہ ہاتھ اس کے ساتھ نہ ہوتا تو یہ سلسلہ کب کا تباہ ہو جاتا اور ایسا مفتری ایسی جلدی ہلاک ہو جاتا کہ اب اس کی ہڈیوں کا بھی پتہ نہ ملتا سو اپنی مخالفت کے کاروبار میں نظر ثانی کرو کم سے کم یہ تو سوچو کہ شاید غلطی ہو گئی ہو اور شاید یہ لڑائی تمہاری خدا سے ہو۔

خدا کرے کہ دنیا اور خاص طور پر مسلمان دنیا اس پیغام کو سمجھے اور اس ہاتھ پر اکٹھا ہو جائے جو اللہ تعالی نے اس زمانے میں مسلمانوں کو وحدت کی لڑی میں پرونے کے لیے بھیجا ہے جو اللہ آنحضرت ﷺ کی غلامی میں لانے کے لیے بھیجا ہے حقیقی غلامی میں لانے کے لیے بھیجا ہے۔اللہ تعالی ہمیں بھی اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button