حضرت مسیح موعودؑ کی مقرر فرمودہ دس شرائط بیعت کی تشریح اور ان پر عمل کرنے کی تاکید
٭… اللہ تعالیٰ نے ہم پر احسان کرتے ہوئے ہمیں اِس زمانے میں پیدا کیا ہے جب آنحضرتﷺ کے غلامِ صادق مسیح و مہدی کو اسلام کی تعلیم دنیا میں پھیلانے کے لیے بھیجا۔
اس آنے والے مسیح و مہدی نے اپنی بھرپور کوشش سے ایک ایسی جماعت تیار کرنی تھی جس کا ہر فرد کامل مؤحد اور شرک کے خاتمے کے لیے
نہ صرف اپنی ذات میں کوشش کرے بلکہ دنیا کو بھی خدائے واحد کے جھنڈے تلے لانے کے لیے کوشاں رہے
٭… اگر ہم اپنے اندر پاک تبدیلی پیدا کرتے ہوئے، بیعت کا حق ادا کرتے ہوئے ان شرائطِ بیعت پر مکمل عمل کریں تو ہم نہ صرف اپنے اندر پاک معاشرہ پیدا کرنے والے ہوں گے بلکہ
اسلام کے حقیقی پیغام کو دنیا میں پھیلانے والے، مسلمانوں اور غیر مسلموں بلکہ دہریوں اور اسلام مخالف لوگوں میں بھی ایسی تعلیم پھیلانے والے ہوں گے جو
بہرحال ایک دن انہیں سوچنے پر مجبور کرے گی کہ احمدی ہی وہ لوگ ہیں جو دنیا میں خدا کی حکومت قائم کرنے کے ساتھ اعلیٰ اخلاقی قدریں بھی پیدا کرنا چاہتے ہیں
٭…آج کل دجالی طاقتیں اپنی پوری کوشش کر رہی ہیں کہ دنیا سے خدا کے نام کو مٹایا جائے، دنیا میں فساد پیدا کیا جائے۔ ایسے میں ہماری بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ
حقِ بیعت ادا کرتے ہوئے، جہاد کرتے ہوئے، خدا سے اس کا فضل مانگتے ہوئے، ان کی دجالی چالوں کو ناکام کرتے ہوئےاپنی پوری کوشش کریں
(حديقة المہدي، ۲۶؍جولائی ۲۰۲۶ء، نمائندگان الفضل انٹرنيشنل) آج جلسہ سالانہ کا آخري دن ہے۔ حضورِ انور ايّدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز نے آج شام جلسہ سالانہ کے اختتامي اجلاس سے پُرمعارف خطاب فرمايا۔ اختتامي خطاب کے ليے حضورانور چار بج کر بارہ منٹ کے قريب نعرہ ہائے تکبير کي گونج ميں جلسہ گاہ ميں رونق افروز ہوئے۔
اجلاس کي باقاعدہ کارروائي کا آغاز تلاوت قرآن کريم سے ہوا۔ مولانا فیروز عالم صاحب کو سورۃ النور کی آیات ۵۲ تا ۵۷؍کی تلاوت اور تفسیر صغیر سے اس کا اردو ترجمہ پیش کرنے کی سعادت ملی۔ اس کے بعد حضور انور کی اجازت سے محترم امیر صاحب یوکے نے جلسہ سالانہ کی مناسبت سے
شاہ چارلس سوم کا موصولہ خصوصي پيغام
پڑھ کر سنایا۔ شاہ چارلس سوم کے پیغام کا خلاصہ:
بادشاہ نے مجھے ہدایت فرمائی ہے کہ میں آپ کا شکریہ ادا کروں کہ آپ نے اپنے جلسہ سالانہ کے حوالے سے انہیں خط لکھا۔ یہ اجتماع ۲۴سے ۲۶؍جولائی ۲۰۲۶ء تک حدیقۃ المہدی، اوکلینڈز فارم، آلٹن میں منعقد ہو رہا ہے۔
بادشاہ آپ کے اس جذبے کو بہت سراہتے ہیں کہ آپ نے انہیں یہ خط لکھنے کی زحمت کی۔ میں آپ کو یہ بتا سکتا ہوں کہ بادشاہ کو یہ جان کر خوشی ہوئی کہ اس سال جلسہ سالانہ کو ساٹھ سال مکمل ہورہے ہیں، جس میں آپ کی جماعت کے افراد دنیا بھر سے ایک جگہ اکٹھا ہوتے ہیں۔
بادشاہ نے اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ جلسہ میں شریک ہونے والے تمام افراد تک ان کی جانب سے نیک تمنائیں اور دلی دعائیں پہنچا دیں۔
(یہ پیغام شاہی مراسلات کے سربراہ کی طرف سے موصول ہوا ہے)
اس کے بعد فرج عودہ صاحب نےحضرت مسیح موعودؑ کا عربی قصیدہ پیش کرنے کی سعادت حاصل کی جس کا آغاز درج ذیل شعرسے ہوا:
بِكَ الْحَوْلُ يَا قَيُّوْمُ يَا مَنْبَعَ الْهُدٰى
فَوَفِّقْ لِي أَنْ أُثْنِيْ عَلَيْهِ وَأَحْمَدَا
ان اشعار کا اردو ترجمہ مکرم میر انجم پرویز صاحب( مربی سلسلہ) نے پیش کیا۔
اس کے بعد مکرم مرتضیٰ منان صاحب نے حضرت اقدس مسیح موعودؑ کے منظوم کلام
ہر طرف فکر کو دوڑا کے تھکایا ہم نے
کوئی دیں دینِ محمدؐ سا نہ پایا ہم نے
میں سے چند اشعار خوش الحانی سے پڑھے۔
تعليمي اعزازات کا اعلان
اس کے بعد مکرم نیشنل سيکرٹري صاحب تعليم جماعت احمدیہ يوکے نے تعليمي ميدان ميں نماياں کاميابي حاصل کرنے والے طلبہ کے نام پڑھ کر سنائے۔ محترم سيکرٹري صاحب تعليم نے کہا کہ ۲۳۹؍ درخواستیں موصول ہوئیں۔ ۹۹؍ لجنہ کے لیے منظور ہوئیں اور ۶۰؍مردوں کے ایوارڈ کے لیے معیاری قرار پائیں۔
جی سی ایس سی
ہاشم خان، افروز عطاء الہادی سدھو، نوید رحمان، ہاشم محمود، لمعات احمد مرزا، محمد ارحم، فارس احمد نسیم، عاطف خان، ارحم احمد مرزا، زیان نواز، وارث احمد، صہیب ملک، روحان مرزا، عابس ظفر، احمد جلیس، کرشن جبران ادریس، نبراس احمد سادات، ازلان عاصم سلیم، شایان سید جواد، ناصر احمد عودہ۔
اے لیول
نفیس عدنان، عطاؤل خان، جاذب مرزا، سدید امین انجم، اذان سید شاہ، دانیال احمد علوی، کاشف معاذ خان، عمیر شیروانی، مسرور لطیف، جمشید ججہ، فارس ملک، ظافر احمد، صباحت امان احمد، حسن رحمان۔
ڈگریز اور پوسٹ گریجوایٹ
ابرار احمد، راجہ سہران احمد، زمریز علی شہزاد احمد، بلال احمد خان، سمیر احمد قریشی، عامر قمر الدین عباسی، عریس سعید، صبیح عبدل، رامش شہباز، ڈاکٹر عرفان جلیس محمد، سدید احمد عابد، دانیال احمد Plahay، جبران احمد راجہ، محمد مسعود، سجیل احمد، اسامہ مظفر، ابراہیم Kwaku Oppong، حاشر احمد رانا، زید احمد آصف، جلیس احمد، ڈاکٹر علی شہاب، ڈاکٹر آغا اسامہ حسن، ڈاکٹر عاقب احمد، ڈاکٹر فضل الرحمٰن۔
بیرون ملک طلبہ
ڈاکٹر سلمان مصطفیٰ اور طبیب اللہ۔
اس کے بعدمکرم امیر صاحب یوکے نے
احمدیہ مسلم انعام برائے امن
کا اعلان فرمایا۔ ۲۰۲۶ء کے لیے تھائی لینڈ کے Sampop Jantraka اس انعام کے حقدار قرار پائے ہیں۔ انہیں یہ انعام شمالی تھائی لینڈ میں انسانی اسمگلنگ کے خطرات سے دوچار بچوں، خصوصاً بے وطن قبائلی بچیوں کے تحفظ کے لیے کاوشوں کے اعتراف میں دیا جارہا ہے۔
چار بج کر سینتالیس منٹ پر حضورانور ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز منبر پر تشريف لائے اور تمام حاضرين کو السلام عليکم ورحمة اللہ کا تحفہ عطا فرما کر جلسہ سالانہ برطانیہ ۲۰۲۶ء کے اختتامي خطاب کا آغاز فرمايا۔
خلاصہ اختتامي خطاب
تشہد، تعوذ اور سورة الفاتحہ کي تلاوت کے بعد فرمايا:
اللہ تعالیٰ نے ہم پر احسان کرتے ہوئے ہمیں اِس زمانے میں پیدا کیا ہے جب آنحضرتﷺ کے غلامِ صادق مسیح و مہدی کو اسلام کی تعلیم دنیا میں پھیلانے کے لیے بھیجا۔اس آنے والے مسیح و مہدی نے اپنی بھرپور کوشش سے ایک ایسی جماعت تیار کرنی تھی جس کا ہر فرد کامل مؤحد اور شرک کے خاتمے کے لیے نہ صرف اپنی ذات میں کوشش کرے بلکہ دنیا کو بھی خدائے واحد کے جھنڈے تلے لانے کے لیے کوشاں رہے۔
پس حضرت مسیح موعودؑ نے اس مقصد کے لیے ایک پاک جماعت کا قیام فرمایا اور بعض شرائط پر جن کی تعداد دس ہے، اپنے ماننے والوں سے بیعت لی۔ یہی بیعت کے الفاظ ہم جماعت میں داخل ہوتے ہوئے دہراتے ہیں۔
آپؑ نے جو بیعت لی وہ ان باتوں پر لی کہ جب تک مَیں قبر میں داخل نہ ہوجاؤں شرک کے قریب بھی نہیں جاؤں گا۔ جھوٹ،زنا، بدنظری، فسق وفجور، ظلم ، خیانت، فساد اور بغاوت سے بچوں گا۔نفسانی جوشوں کے وقت اُن کا مغلوب نہیں ہوں گا۔ روحانیت میں ترقی کےلیے پنجوقتہ نمازوں کا ہی پابند نہیں رہوں گا بلکہ نمازِ تہجد بھی ادا کرنےکی کوشش کروں گا۔ نبی کریمﷺ پر درود بھی بھیجوں گا، روزانہ اپنے گناہوں کی معافی بھی مانگوں گا۔ اللہ تعالیٰ کے احسانوں کو یاد رکھوں گا، اس کی حمد کرتا رہوں گا۔ اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو عموماً اورمسلمانوں کو خصوصاً نفسانی جوشوں سے کسی قسم کی تکلیف نہیں پہنچاؤں گا۔ بدرسومات، ہواوحوس سے باز رہوں گا۔ تکبر سے بچوں گا، عاجزی ، خوش خلقی،حلیمی اور مسکینی اختیار کروں گا اور دین کی عزت اور ہمدردیٔ اسلام کو اپنی جان مال عزت اور اپنی اولاد سے زیادہ عزیز سمجھوں گا۔ حضرت مسیح موعودؑ جو بھی فیصلہ کریں گے اس کو دل سے مانوں گا۔
حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ
یہاں خلافت کی بھی کامل اطاعت ہے کیونکہ خلافت بھی اللہ تعالیٰ کے وعدوں کے مطابق حضرت مسیح موعودؑ کے کاموں کو ہی آگے بڑھانے کے لیے ہے۔
حضورِانور ایدہ اللہ نے فرمایا کہ یہ مضمون مَیں پہلے بھی بیان کرچکا ہوں اور یہ کتابی صورت میں شائع بھی ہوچکے ہیں لیکن اس مضمون کی اہمیت کے پیشِ نظر آج مَیں پھراس حوالے سے کچھ بیان کروں گا۔
پہلی شرطِ بیعت میں شرک سے مجتنب رہنے کا ذکر ہے۔
اس حوالے سے حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ انسانی پیدائش کی اصل غرض اور مقصد یہی ہے کہ وہ خدا کے لیے ہوجائے… گناہ اگرچہ بہت ہیں اور ان کے بہت سے شعبے اور شاخیں ہیں… لیکن عظیم الشان گناہ… شرک ہے۔ جوں جوں بدقسمت انسان اس (شرک) میں مبتلا ہوتا ہے اسی قدر اپنے اصل مدعا سے دُور ہوتا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ گرتے گرتے ایک سِفلی جگہ پر جاگرتا ہےجہاں مصائب اور مشکلات اور ہر قسم کی مصیبتوں اور دکھوں کا گھر ہے جسے جہنم بھی کہتے ہیں۔
آنحضرتﷺ بھی جب بیعت لیا کرتے تو شرک سے بکلّی بچنے پر بیعت لیتے۔ پس ہمیں ہمیشہ اس بات کی کوشش کرنی چاہیے کہ ہم کبھی کوئی ایسی حرکت نہ کریں جو ہمیں ہمارے عہدِ بیعت سے ہٹانے والی ہو۔
حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ ہر ایک قسم کے شرک سے پرہیز ہو، نہ سورج نہ چاند، نہ آسمان کے ستارے، نہ ہوا، نہ آگ، نہ پانی، نہ کوئی اور زمین کی چیز معبود ٹھہرائی جائے اور نہ دنیا کے اسباب کو ایسی عزت دی جائے اور ان پر ایسا بھروسہ کیا جائے کہ گویا وہ خدا کے شریک ہیں اور نہ اپنی ہمت اور کوشش کو کچھ سمجھا جائے کہ یہ بھی شرک کی قسموں میں سے ایک قسم ہے۔
شرک کی نفی میں سورة الاخلاص کی نسبت حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ یہ چھوٹی سی سورت ہے اور اس نے بڑی لطافت سے ہر قسم کے شرک سے انسان کو دُور کردیا ہےاور اللہ تعالیٰ کی خوبصورتی کومنزّہ کردیا ہے۔
جب آنحضرتﷺ کے فرزند حضرت ابراہیم کی وفات ہوئی تو سورج کو گرہن لگا، لوگوں نے کہا حضرت ابراہیم کی وفات کی وجہ سے گرہن لگا ہے مگر رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ یقیناً سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کے نشانات میں سے ہیں، یہ دونوں کسی کی زندگی یا موت کی وجہ سے نہیں گہناتے ۔
ایک جگہ آپؑ نے فرمایا کہ
شرک تین قسم کے ہیں اوّل یہ کہ عام طور پر بت پرستی ہو۔ دوسری قسم یہ ہے کہ اسباب پر حد سے زیادہ بھروسہ کیا جائے۔ تیسری قسم شرک کی یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے وجود کے سامنے اپنے وجود کو بھی کوئی شئے سمجھنا۔
مادی ترقی کے زمانے میں شرک فی الاسباب بہت بڑھ گیا ہے۔
فرمایا لا الہ الااللّٰہ یہ توحید کا کلمہ ہے اس کے معنی ہیں کہ خدا تعالیٰ کے سوا کوئی بھی عبادت اور سچی فرمانبرادی کے لائق نہیں۔ آنحضرتﷺ اُن ہدایات کو خدا سے پاکر مخلوق کو پہنچانے والے ہیں اور جو کچھ اُدھر سے آتا ہے وہ اسی راہ سے آتا ہے۔
حضورِانور نے فرمایا کہ ہمیں ہمیشہ یہ کوشش کرنی چاہیے کہ ہر کام کرتے ہوئے، ہر لفظ بولتے ہوئے ہمیں ہمیشہ یہ خیال رہے کہ یہ لفظ ہمیں خدا سے دُور لے جانے والا اور شیطان کے قریب کرنے والا نہ ہو۔
اللہ تعالیٰ کا حضرت مسیح موعودؑ سے وعدہ ہے کہ وہ آپؑ کو فتوحات دےگا اور ضرور دے گا، مگر ہمیں بھی چاہیے کہ اگر ہم نے ان فتوحات کا حصّہ بننا ہے تو ہم خالص ہوکر اللہ تعالیٰ کی توحید کا اعلان کرنے والے بنیں۔
حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا:
اے احمدی قوم! خدا ہمارا رشتہ دار نہیں ہے شرک سے پرہیز کرو اور عبادت کرو تاخدا تمہارا نگہبان ہوجائے۔ دیکھو خدا نے نوحؑ کے بیٹے تک کی پرواہ نہیں کی۔ بلکہ ایسا کام کرو کہ احمدی ہونے کے لائق ثابت ہوجاؤ۔
حضرت لقمانؑ نے بھی اپنے بیٹے کو شرکِ خفی سے بچنے کی تلقین فرمائی۔ حضورِانور نے مسلمانوں کی عملی حالت کا ذکر کیا اور فرمایا کہ یہ کلمہ لا الہ الااللّٰہتو پڑھتے ہیں مگر شرک کی مختلف حالتوں میں گرفتار ہیں۔
شرک کی ایک قسم جھوٹ کا استعمال ہے۔
آج لوگ سمجھتے ہیں کہ جھوٹ کے بِنا گزارہ نہیں۔ حضورِانور نے حضرت مسیح موعودؑ کے مقدمہ ڈاک خانہ کا حوالہ دیا کہ حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا ہے کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ سچ بول کر بچنا ممکن نہیں مگر مَیں نے سچ بولا اور مجھے خدا نے بچایا۔
حضورِانور نے فرمایا آج کل بہت سے معاملے آتے ہیں جہاں جھوٹ بولا گیا ہوتا ہے ہمیں اس سے بچنا ہوگا۔ اگر دیکھا جائے تو جھوٹ فطرت کے خلاف ہے۔ مگر آج کل دنیا کے سیاسی حالات بتا رہے ہیں کہ کس کس طرح جھوٹ بولا جاتا ہے، ملکوں کے ملک اکٹھے ہوکر دوسرے کے خلاف جھوٹ پر بنیاد رکھ کر چڑھائی کرتے ہیں ۔ پس
آج اگر ہم نے اپنی بیعت کا حق ادا کرنا ہے اور دنیا میں انقلاب لانا ہےتو احمدیوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ جھوٹ کے خلاف جہاد کریں۔
پھر ایک برائی بد نظری ہے۔
حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ اگر میری بیعت کی ہے تو کسی کو غلط نظر سے نہ دیکھو۔ بدنظری نہ کرو۔ قرآن کریم عیسائیوں کی تعلیم کی طرح یہ نہیں کہتا کہ بد نظر سے عورت کو نہ دیکھو بلکہ قرآن کریم تو یہ کہتا ہے کہ نہ تو شہوت کی نظر سے اور نہ ہی بغیر شہوت کی نظر سے بیگانہ عورت کےمنہ پر نظر ڈال اور نہ اُن کی ایسی باتیں جو نرم مزاجی کی باتیں ہوں ، جو خیالات کو غلط طرف لےجانے والی باتیں ہوں، ایسی باتیں نہ سنو۔ تب ہی تم ٹھوکر سے بچ سکوگے۔
حضورِانور نے فرمایا کہ آج کل کے معاشرے میں یہی برائیاں ہیں جس کی وجہ سے بہت سارےلوگ برائیوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور گھر بھی ٹوٹتے ہیں۔ آج کل تو ترقی یافتہ ممالک میں پڑھی لکھی عورتوں میں بھی یہ شعور پیدا ہوگیا ہے اور وہ بھی شور مچارہی ہیں کہ ہماری عزتوں کی حفاظت کے لیے کوئی قانون بننا چاہیے۔ پس! احمدیوں کا فرض ہے کہ ان برائیوں کے خلاف جہاد کریں۔
حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ پاک دامن رہنے کے لیے پانچ باتیں ہیں۔
نمبر ایک اپنی آنکھوں کو نامحرم پر نظر ڈالنے سےبچاؤ۔ نمبر دو کانوں کو نامحرموں کی آواز سننے سے بچاؤ۔ نامحرموں کے قصّے نہ سنو۔ ایسی تمام تقریبات اور مواقع جہاں بدفعل کے پیدا ہونے کا اندیشہ ہے ان سے اپنے آپ کو بچاؤ۔ پانچویں بات نوجوانوں کے لیے یہ ہے کہ اگر نکاح اور شادی میں کوئی دقّت ہے تو روزہ رکھیں۔
پھر
ایک برائی فساد اور فسق و فجور ہے۔
حضورؑ فرماتے ہیں جہاں تم ایسی مجالس دیکھوجہاں فسق و فجور کی مجالس ہوں وہاں سے اٹھ جایا کرو۔
حکومت کے خلاف جو بغاوت ہو اس سے بھی آپؑ نے منع فرمایا۔
ظلم سے بچنے کی تلقین بھی فرمائی۔
پھر
حضرت مسیح موعودؑ نے فرائض نمازوں کے علاوہ تہجد اور نوافل کی طرف توجہ دلائی ہے۔
حدیث میں آتا ہےکہ آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ میرا بندا نوافل کے ذریعے میرے نزدیک ہوجاتا ہے یہاں تک کہ مَیں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں۔
اسی طرح
آپؑ نے تسبیح و تحمید کی تلقین فرمائی ہے۔
حدیث میں آتا ہے کہ ہر اہم کام جس کو حمد کے بغیر شروع کیا جائے وہ بےبرکت ہوتا ہے۔
اسی طرح
شکر کی طرف بہت توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
دروردشریف کو آپ اپنی زندگیوں کاحصّہ بنالیں۔ آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ جس نے ایک مرتبہ مجھ پر درود بھیجا اللہ اس پر دس مرتبہ رحمت بھیجے گا۔
اسی طرح
توبہ و استغفار کی طرف بھی بہت توجہ کی ضرورت ہے۔
آنحضورﷺ نے فرمایا ہے کہ جو توبہ و استغفار کو لازم کرے گا اللہ اس کے لیے ہر تنگی سے نکلنے کا راستہ بنادے گا اور ہر غم سے کشائش دے گا اور ایسی جگہ سے رزق دے گا جہاں سے اُس کو گمان بھی نہیں ہوگا۔
خلق اللہ سے حسنِ سلوک بھی ضروری ہے۔
حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ دیکھو! وہ جماعت جماعت نہیں ہوسکتی جو ایک دوسرے کو کھائےاور جب چار مل کر بیٹھیں تو اپنے غریب بھائی کا گلہ کریں اور نکتہ چینیاں کریں اور کمزوروں اور غریبوں کو حقارت اور نفرت سے دیکھیں۔
حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ چند باتیں ہیں جو مَیں نے بیان کی ہیں۔
اگر ہم اپنے اندر پاک تبدیلی پیدا کرتے ہوئے، بیعت کا حق ادا کرتے ہوئے ان شرائطِ بیعت پر مکمل عمل کریں تو ہم نہ صرف اپنے اندر پاک معاشرہ پیدا کرنے والے ہوں گے بلکہ اسلام کے حقیقی پیغام کو دنیا میں پھیلانے والے، مسلمانوں اور غیر مسلموں بلکہ دہریوں اور اسلام مخالف لوگوں میں بھی ایسی تعلیم پھیلانے والے ہوں گے جو بہرحال ایک دن انہیں سوچنے پر مجبور کرے گی کہ احمدی ہی وہ لوگ ہیں جو دنیا میں خدا کی حکومت قائم کرنے کے ساتھ اعلیٰ اخلاقی قدریں بھی پیدا کرنا چاہتے ہیں۔
آج کل دجالی طاقتیں اپنی پوری کوشش کر رہی ہیں کہ دنیا سے خدا کے نام کو مٹایا جائے، دنیا میں فساد پیدا کیا جائے۔ ایسے میں ہماری بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ حقِ بیعت ادا کرتے ہوئے، جہاد کرتے ہوئے، خدا سے اس کا فضل مانگتے ہوئے، ان کی دجالی چالوں کو ناکام کرتے ہوئےاپنی پوری کوشش کریں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔
دعاؤں میں ساری دنیا کی امن و سلامتی اور مسلمانوں کی بقا اور سلامتی کے لیے دعا کریں۔ اللہ تعالیٰ کرے کہ ہر احمدی دنیا میں خدائے واحد کی حکومت قائم کرنے اور امن و سلامتی پھیلانے میں اپنا کردار ادا کرنے والا بن جائے۔
اس کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے دعا فرمائی۔
آخر میں حضور انور نے فرمایا کہ اس وقت حاضری کی جو رپورٹ ہے اس کے مطابق
اللہ تعالیٰ کے فضل سے ۵۱؍ہزار ۱۸۱؍لوگ ہیں جو جلسہ پر حاضر ہوکر جلسہ سن رہے ہیں۔
جلسہ میں ۱۱۷؍ممالک کی شمولیت ہے۔
بعد ازاں مختلف گروپس نے مختلف زبانوں میں ترانے پڑھے۔
٭…٭…٭
