ادبیات

ملفوظات حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور فارسی ادب(قسط نمبر ۲۱۸)

(محمود احمد طلحہ ۔ استاد جامعہ احمدیہ یو کے)

وحیٔ الٰہی کی ضرورت پر ایک عقلی دلیل

’’اس موقعہ پر ضروری معلوم ہوتا ہے کہ وَالسَّمَآءِ ذَاتِ الرَّجۡعِ کے معنے بتادیئے جاویں۔ کیونکہ اس کا ذکر آگیا ہے۔ سو یاد رکھنا چاہیے کہ سماء کے معنے آسمان ہی کہ نہیں ہیں بلکہ سماء مینہ کو بھی کہتے ہیں۔گویا اس آیت میں اس مینہ کی جو زمین کی طرف رجوع کرتا ہے قسم کھائی ہے اور پھر وہ زمین جس سے شگوفے نکلتے ہیں۔اکیلی زمین اور اکیلا آسمان کچھ نہیں کرسکتا۔ اس آیت کو اﷲ تعالیٰ ضرورت وحی پر بطور مثال پیش کرتا ہے کہ ہر چند زمین میں جو جوہر قابل ہوں اور اس کی فطرت میں نشوونما کا مادہ ہو۔ لیکن وہ نشوونما نہیں پاسکتا اور فطرت بار آور نہیں ہوسکتی جب تک آسمان سے مینہ نہ برسے؎

باراں کہ در لطافت طبعش خلاف نیست

در باغ لالہ روید و در شورہ بوم و خس

اس غض کے لیے کہ عمدہ عمدہ پھل اور پھول پیدا ہوں،عمدہ زمین اور اس کے لیے بارش کی ضرورت ہے جب تک یہ بات نہ ہو کچھ نہیں ہو سکتا۔اب اس نظارۂ فطرت کو اﷲ تعالیٰ ضرورت وحی کے لیے پیش کرتا ہے اور توجہ دلاتا ہے کہ دیکھو جب مینہ نہ برسے تو قحط کا اندیشہ ہوتا ہے یہانتک کہ زمینی پانی جو کنوؤں اور چشموں میں ہوتا ہے، وہ بھی کم ہونے لگتا ہے۔ پھر جبکہ دنیوی اور جسمانی ضرورتوں کے لیے آسمانی پانی کی ضرورت ہے تو کیا روحانی اور ابدی ضرورتوں کے لیے روحانی بارش کی ضرورت نہیں؟ اور وہ وحیٔ الٰہی ہے۔ جیسے مینہ کے نہ برسنے سے قحط پڑتا اور کنوئیں اور چشمے خشک ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح پر اگر انبیاء و رسل دنیا میں نہ آئیں تو فلسفیوں کا وجود بھی نہ ہو کیونکہ قویٰ عقلیہ کا نشوونما وحیٔ الٰہی ہی سے ہوتا ہے اور زمینی عقلیں اسی سے پرورش پاتی ہیں۔

پس اس آیت وَالسَّمَآءِ ذَاتِ الرَّجۡعِ۔وَالۡاَرۡضِ ذَاتِ الصَّدۡعِ۔(الطارق : ۱۳،۱۲) میں وحی الٰہی کی ضرورت پر عقلی اور فطرتی دلائل پیش کئے ہیں۔جو شخص اس امر کو سمجھ لے گا وہ بول اُٹھے گا کہ بیشک وحیٔ الٰہی کی ضرورت ہے۔اور یہ وہ طریق ہے جو آدم سے چلا آتا ہے اور ہر شخص نے اپنی استعداد اور فطرت کے موافق اس سے فائدہ اُٹھایا ہے۔ ہاں جو جاہل اور ناقص تھے یا جن میں تکبر اور خودسری تھی وہ محروم رہ گئے اور انہوں نے کچھ بھی حصہ نہ لیا۔یہی اصل اور سچی بات ہے اور تم یقیناً یاد رکھو کہ آسمانی بارش کی سخت ضرورت ہے۔اس لیے کہ عملی قوت بجز اس بارش کے پیدا ہی نہیں ہو سکتی۔‘‘

(ملفوظات جلد ہشتم ۳۰۴-۳۰۵ مطبوعہ ۱۹۸۴ء)

تفصیل: اس حصہ ملفوظات میں آمدہ فارسی شعر شیخ سعدی کا ہے ۔شعرمع اعراب واردو ترجمہ ذیل میں درج ہے۔

بَارَاں کِہْ دَرْلَطَافَتِ طَبْعَشْ خِلَافْ نِیْسْت

دَرْبَاغْ لَالِہْ رُوْیَدْ و دَرْ شُوْرِہْ بُوْم خَسْ

ترجمہ: بارش جس کی طبیعت کے پاکیزہ ہونے میں کوئی اختلاف نہیں باغ میں لالہ اورشوریلی زمین میں جھاڑ اگاتی ہے۔

لغوی بحث: بَارَاں(بارش) کِہْ(کہ) دَرْ(میں)لَطَافَت(پاکیزگی) طَبْعَشْ(اس کی طبیعت ۔ش برائے ضمیر متصل سوم شخص مفرد) خِلَافْ(اختلاف) نِیْسْت (نہیں ہے) دَرْ(میں)بَاغْ (باغ)لَالِہْ(لالہ،پھول) رُوْیَدْ(اگتا ہے؍اگاتی؍اگاتا ہے) و(اور) دَرْ(میں) شُوْرِہْ(شوریلی زمین) بُوْم خَسْ(جھاڑ؍گھاس پھونس)

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button