حالاتِ حاضرہ

خبرنامہ(اہم عالمی خبروں کا خلاصہ)

٭…روس کے دارالحکومت ماسکو میں دھماکے کے نتیجے میں تین افراد ہلاک اور ۲۱؍دیگر زخمی ہوگئے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک خاتون دھماکا خیز مواد کیفے لائی تھی، جہاں گارڈ نے اسے روکنے کی کوشش کی تو دھماکا ہوگیا۔ روسی میڈیا کے مطابق دھماکا خیز مواد کیفے لانے والی خاتون کی شناخت سامنے نہیں آئی۔ ہلاک افراد میں دھماکا خیز مواد لانے والی نامعلوم خاتون، سیکیورٹی گارڈ اور کیفے میں موجود ایک شخص مارے گئے۔

٭…جنوبی امریکہ کے ملک پیرو میں سیاحوں کا طیارہ گر کر تباہ ہوگیا۔ حادثے میں ۱۳؍افراد ہلاک ہوگئے۔غیرملکی میڈیا کے مطابق جس وقت اس چھوٹے طیارے کو حادثہ پیش آیا وہ نازکا لائنز کے قریب پرواز کررہا تھا۔ پیرو کی سرکاری حکام کے مطابق طیارے میں دو عملے کے ارکان کے ہمراہ گیارہ سیاح سوار تھے جن کا تعلق جرمنی، اٹلی اور سپین سے تھا۔ پیرو کی وزارت ٹرانسپورٹ حکام کے مطابق طیارے کے عملے نے مقامی وقت کے مطابق دوپہر ایک بجے ہنگامی صورتحال کی اطلاع دی تھی، اس کے بعد کنٹرول ٹاور سے طیارے کا رابطہ منقطع ہوگیا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ جائے حادثہ کی جانب فائر بریگیڈ اور ایمبولینس گاڑیاں بھیجی جاچکی ہیں۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق نازکا لائنز کے قریب آثار قدیمہ کو ہر سال ایک لاکھ سے زائد افراد دیکھنے آتے ہیں اور یہ سیاحوں کے لیے پسندیدہ مقام تصور کیا جاتا ہے۔

٭…ایران کے نائب صدر محمد رضا عارف نے کہا ہے کہ ایران آئندہ دو برسوں میں بدترین صورتحال کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہے۔ محمد رضاعارف نے کہا کہ جنگ کی صورتحال کے باوجود ایران میں انتظامیہ نے کسی چیز کی کمی نہیں ہونے دی۔ سینئر مشیر مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ ایرانی انفرااسٹرکچر پر حملے کیے گئے تو میدان جنگ سے باہر اثرات ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ مغربی طاقتوں کی جانب سے ڈھائی سوسال میں بنایا گیا گلوبل آرڈر تباہ کردیا جائے گا۔

٭…امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف وہ کارروائی کرنے کے لیے تیار ہیں جو ماضی میں دیگر انتظامیہ نے نہیں کی۔ اپنے بیان میں مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ ایران نے آج تک ڈونلڈ ٹرمپ جیسے صدر کا سامنا کیا ہے۔ ایران اب انجام کے بغیر مذاکرات کی توقع نہ رکھے۔ امریکی وزیر خارجہ نے صدر ٹرمپ کی بات دہراتے ہوئے الزام لگایا کہ ایران عشروں سے جھوٹ بول رہا ہے، ڈیل توڑ رہا ہے اور لوگوں کو معاہدے کرنے کے فریب میں الجھا رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس کا بھی کہنا ہے کہ ایران جب تک بامعنی مذاکرات کی طرف نہیں لوٹتا اسے مسلسل قیمت چکانا پڑے گی۔

٭…ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی مجتبیٰ خامنہ ای کے سینئر مشیر محمد مخبر نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی انفرا اسٹرکچر پر حملے کیے گئے تو نتیجہ امریکی حاکمانہ نظام کی تباہی کی صورت میں نکلے گا۔ ایک بیان میں سینئر مشیر نے کہا کہ امریکہ معاملے کا حساب فوجی توازن سے کرتا ہے جبکہ ایران تاریخ کی منطق سے جواب دیتا ہے۔ ایرانی انفرا اسٹرکچر پر حملے کیے گئے تو میدانِ جنگ سے باہر اثرات ہوں گے اور مغربی طاقتوں کی جانب سے ڈھائی سو سال میں بنایا گیا گلوبل آرڈر تباہ کر دیا جائے گا۔ محمد مخبر نے کہا کہ جب اس نظام کے ستون ٹوٹیں گے تو نہ قیادت کے لیے کوئی کمانڈ سینٹر ہوگا اور نہ لوٹ کے لیے کوئی مارکیٹ بچے گی۔

٭…امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مراکش کے شاہ محمد ششم کو خصوصی پیغام ارسال کیا ہے۔ مراکش کے شاہی محل کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے امریکہ کی جانب سے مغربی صحارا پر مراکش کی حاکمیت کو تسلیم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ شاہی محل کے بیان کے مطابق صدر ٹرمپ نے مغربی صحارا میں خودمختار حکومت کے قیام کےلیے مراکش کی پیش کردہ تجاویز کی حمایت کی۔ واضح رہے کہ مغربی صحارا شمال مغربی افریقہ کا ایک متنازع اور کم آبادی والا علاقہ ہے، جو ہسپانوی نوآبادیاتی نظام کے خاتمے کے بعد مراکش کی شاہی حکومت اور پولیساریو فرنٹ کے درمیان تنازع کا شکار ہے۔

٭… بدخشان میں مزاحمتی گروپوں نے طالبان پر نئے حملوں کی ذمہ داری قبول کرلی۔ طالبان کو شمالی افغانستان میں مسلسل سیکیورٹی چیلنج کا سامنا ہے۔ ریڈیو فری یورپ کی رپورٹ کے مطابق مزاحمتی فورسز نے ۲۹؍جولائی کو یفتل میں طالبان کے ضلعی مرکز پر حملہ کرکے پولیس ہیڈکوارٹر اور انٹیلی جنس دفتر پر قبضہ کرکے اسلحہ اور گاڑیاں تحویل میں لے لیں تھیں۔ارگوکشم چوراہے پر ۲۸؍جولائی کو طالبان کی چیک پوسٹ راکٹ حملے کی زد میں آئی، زیبک میں ۲۴؍جولائی کو مزاحمتی حملوں میں طالبان کی متعدد چیک پوسٹیں نشانہ بنیں اور کئی طالبان اہلکار ہلاک و زخمی ہوئے۔ریڈیو فری یورپ کے مطابق طالبان رجیم کو صرف پنج شیر ہی نہیں بلکہ بدخشان میں بھی مسلسل مزاحمتی دباؤ کا سامنا ہے۔ معدنی وسائل پر طالبان کے کنٹرول نے مقامی سطح پر کشیدگی کو مزید بڑھا دیا۔

٭…برطانوی بادشاہ شاہ چارلس نے پاکستان میں براڈ پیک حادثے میں سابق برطانوی فوجی کی موت پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق شاہ چارلس نے کہا ہے کہ برطانوی فوجی نرمل پرجا نے عظیم کوہ پیما بننے سے پہلے اہم خدمات سرانجام دیں۔ واضح رہے کہ برفانی تودہ گرنے کے حادثے میں مرنے والے آٹھ کوہ پیماؤں کی لاشیں نکالی جاچکیں جبکہ دو کی تلاش جاری ہے۔

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button