خبرنامہ(اہم عالمی خبروں کا خلاصہ)
٭…مقبوضہ مشرقی القدس میں وزیراعظم نیتن یاہو سمیت ۵۷۰؍اسرائیلی آبادکار سخت فوجی سیکیورٹی میں مسجدِ اقصیٰ کے صحن اور دیوارِ براق کے احاطے میں داخل ہوئے اور تلمودی مذہبی رسومات ادا کیں۔ فلسطینی گورنریٹ القدس کے مطابق اس موقع پر متعدد اسرائیلی وزراء بھی موجود تھے۔ حماس نے نیتن یاہو کے مسجدِ اقصیٰ کے نیچے سرنگوں اور کھدائی کے مقامات کے دورے کی مذمت کرتے ہوئے اسے مقدس مقام کی حیثیت اور شناخت پر حملہ قرار دیا۔ حماس نے کہا کہ مسجدِ اقصیٰ اپنے تمام صحنوں، نماز گاہوں، دیواروں اور دروازوں سمیت مکمل طور پر مسجد رہے گی۔ یہ واقعہ یومِ کپور کے آغاز سے ایک روز قبل پیش آیا۔
٭… امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مقررہ وقت سے پہلے کیمپ ڈیوڈ کا قیام ختم کرکے وائٹ ہاؤس واپسی اختیار کرلی۔ انتظامیہ نے دورہ مختصر کرنے کی کوئی وجہ بیان نہیں کی تاہم عرب میڈیا کے مطابق خراب موسم اور پہاڑی علاقے میں بارش، گرج چمک کے امکانات اس کی ممکنہ وجہ ہوسکتے ہیں۔ ٹرمپ کی واپسی سے قبل امریکی محکمۂ خارجہ نے مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی شہریوں کے لیے سفری انتباہ جاری کیا۔ انتباہ میں سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافے کے خدشے سے آگاہ کیا گیا ہے۔
٭… امریکی سفارتخانے ابوظبی نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے پیشِ نظر امریکی شہریوں اور سفارتی مراکز کے لیے نئی سیکیورٹی وارننگ جاری کردی۔ امریکی حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ خطے میں حالات اچانک خراب ہوسکتے ہیں اور امریکی سفارتخانوں، قونصل خانوں اور دیگر مفادات کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔ شہریوں کو محتاط رہنے اور خطے کے سفر پر دوبارہ غور کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ بیرونِ ملک موجود امریکی شہریوں کو بھی ممکنہ خطرات سے آگاہ کیا گیا ہے۔ ایران اور اس کے حمایت یافتہ گروہوں کی جانب سے امریکی مفادات کو نشانہ بنائے جانے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ مسافروں کو ایئرپورٹس اور ایئرلائنز کی تازہ صورتحال پر نظر رکھنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
٭… روسی حکام کے مطابق یوکرین کی جانب سے بڑے ڈرون حملے میں دو افراد ہلاک ہوئے جبکہ ماسکو کی آئل ریفائنری کو بھی نقصان پہنچا۔ ماسکو کے میئر نے دعویٰ کیا کہ روس نے ۱۶۰۰؍سے زائد ڈرونز تباہ یا ناکارہ بنائے جن میں ۴۵۰؍ماسکو کی طرف بڑھ رہے تھے۔ روسی حکام کے مطابق ایک ۲۱؍منزلہ عمارت پر ڈرون گرنے سے آگ لگی اور ۴۰۰؍افراد کو نکالا گیا۔ روس نے الزام لگایا کہ حملے کا مقصد پارلیمانی انتخابات میں خلل ڈالنا تھا۔ دوسری جانب یوکرینی فضائیہ کا کہنا ہے کہ روس نے رات گئے ۱۳۸؍ڈرونز داغے جن میں سے ۱۰۱؍کو تباہ یا ناکارہ بنایا گیا۔
٭… آسٹریلیا سے امریکہ منتقل کیے جانے والے ایف35 لڑاکا طیاروں کے انتہائی حساس پرزوں کی کھیپ ہانگ کانگ پہنچنے پر امریکی حکام نے تحقیقات شروع کردی ہیں۔ کھیپ میں ایف35 کا کینوپی شیلٹر بھی شامل تھا جس پر ریڈار شعاعیں جذب کرنے والی خصوصی تہ ہوتی ہے اور جو طیارے کی شناخت کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ امریکی محکمۂ دفاع اور کانگریس کی قومی سلامتی کمیٹیاں معاملے کی چھان بین کر رہی ہیں۔ ایف35 پروگرام کے دفتر نے پرزے واپس حاصل کرنے اور واقعے کی تحقیقات کی تصدیق کی ہے۔ رپورٹس کے مطابق ماضی میں بھی ایف35 کے لاکھوں پرزوں کے گم ہونے اور نگرانی کے مسائل سامنے آچکے ہیں۔
٭… ایرانی سلامتی امور کے عہدیدار محسن رضائی نے کہا ہے کہ امریکہ کو مذاکرات سے قبل ایران کی شرائط تسلیم کرنا ہوں گی۔ ان کے مطابق قطر اور پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان رابطے میں ہیں اور تہران نے اپنی شرائط دونوں ممالک کو بتا دی ہیں۔ ایران نے منجمد اثاثوں کی بحالی، جنگ کا خاتمہ، داخلی معاملات میں عدم مداخلت، مبینہ مخالفین سے تعاون روکنے، ایرانی سرزمین پر حملوں کے خاتمے اور بحری ناکہ بندی اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے۔ رضائی نے کہا کہ ایران جوہری پالیسی پر اپنے مؤقف پر قائم ہے تاہم جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے سے دستبرداری پر غور ہوسکتا ہے۔ انہوں نے دوبارہ جنگ کی صورت میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی بھی دی۔
٭… سعودی فوجی اتحاد کے مطابق ہفتے کے روز یمن کے حوثیوں کی جانب سے ریاض کی طرف داغا گیا بیلسٹک میزائل فضا میں ہی تباہ کردیا گیا۔ اتحاد کا کہنا ہے کہ بیش، طائف، فرسان اور ینبع میں بھی حوثیوں کے حملوں کو ناکام بنایا گیا۔ سعودی حکام کے مطابق حوثیوں نے ان حملوں میں شہری علاقوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی تاہم میزائل اور دیگر حملوں کو روک دیا گیا۔
٭… امریکہ کی جانب سے سعودی عرب کو ۴۸؍ایف35 جنگی طیارے فروخت کرنے کی منظوری کے بعد اسرائیل نے امریکہ سے اضافی دفاعی صلاحیتیں حاصل کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیل ایسے جدید ہتھیاروں اور نظاموں کا مطالبہ کرسکتا ہے جن کی منظوری امریکی انتظامیہ نے پہلے نہیں دی تھی۔ ان میں زیرِ زمین ٹھکانوں کو تباہ کرنے والا گولہ بارود، گہرے زیرِ زمین اہداف کے خلاف نظام، خلائی ہتھیار اور میزائل روکنے کی جدید صلاحیتیں شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیل کا مقصد سعودی عرب کے ساتھ ایف35 معاہدے کے بعد اپنی دفاعی برتری برقرار رکھنے کے لیے واشنگٹن سے اضافی فوجی صلاحیتیں حاصل کرنا ہے۔ سعودی طیاروں کی مجوزہ فروخت کی مالیت ۲۴.۳؍ارب ڈالر بتائی گئی ہے۔



