پرسیکیوشن رپورٹس

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں احمدیوں پر ہونے والے دردناک مظالم کی الَم انگیز داستان

(مہر محمد داؤد)

۲۰۲۵ء میں سامنےآنے والے چند تکلیف دہ واقعات سے انتخاب

۲۰۲۵ء میں احمدیوں کے خلاف پر تشدد جان لیوا کارروائیاں منظّم طریق پر سر انجام دی گئیں جن میں ہدف بنا کر قتل کرنا،اقدام قتل،لوگوں کو زخمی کرنا اور پولیس کی جانب سے ایسی سرگرمیاں بھی شامل تھیں جن میں مظلوم کو ہی مجرم ثابت کر دیا گیا۔ اس سال تین احمدی احباب کو شہید کردیا گیا اور ایک احمدی دوست کی وفات پولیس کی حراست میں ہوئی۔ ڈاکٹر شیخ محمود احمد صاحب کی الم ناک شہادت احمدی ڈاکٹروں پر قاتلانہ حملوں کے اس تسلسل کا حصہ ہے جس کی بنیاد ۱۹۸۴ء کے احمدیت مخالف قوانین سے پڑی جس کے باعث اب تک تیس احمدی ڈاکٹروں اور میڈیکل کے شعبے سے وابسطہ افراد کو شہید کیا جا چکا ہے۔اس کے علاوہ متعدد احمدی جان لیوا حملوں میں بچ گئے۔ بے شمار واقعات اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ کیسے مولویوں اور شدت پسندوں کے دباؤ سے پولیس کے کام کے نتائج ایک مختلف شکل اختیار کر گئے ہیں۔ بشمول ایسے واقعات کے جہاں مظلوم مجرم بن گئے اور حملہ آور قانونی شکنجے سے با آسانی بچ گئے۔

زندہ احمدیوں کے حقوق تو ختم ہو ہی چکے تھے لیکن اب تو وفات یافتہ احمدی بھی اس کی زد میں آ چکے ہیں۔ احمدیوں کی تدفین کے حقوق کی سلبی اور احمدیوں کی قبروں کو نقصان پہنچانا اس بات کو واضح کرتا ہے کہ معاشرے میں احمدیوں کے خلاف تشدد کس قدر سرایت کر چکا ہے اور ریاست کس حد تک احمدیوں کو تحفظ فراہم کر نے میں ناکام ہو چکی ہے۔ کئی خاندانوں کو اپنے پیاروں کی تدفین میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور پولیس نے ان پر دباؤ ڈالا کہ وہ تدفین کی جگہ کو تبدیل کریں۔ اسی دوران کئی اضلاع میں منظّم طور پر احمدیوں کی قبروں کی بےحرمتی کی گئی۔ انتظامیہ نے بارہا ایسے اقدامات اٹھائے جن میں نام نہاد مُلّاؤں کی ایماء پر احمدیوں پر پابندیاں عائد کیں جبکہ یقینی تحفظ ، واقعات کی تفتیش، اور احتساب کا عمل مکمل طور پر غائب تھے۔

تعلیمی اور معاشرتی زندگی میں احمدیوں کے ساتھ امتیازی سلوک نے معاشرے میں احمدیوں کے ساتھ ممتاز سلوک کو مزید واضح کر دیا۔ احمدی اساتذہ کو ان کی نوکریوں سے برخواست کر دیا گیا،نوکریوں پر لگائے جانے کے عمل کو روک دیا گیا اور انہیں ان کی مذہبی شناخت کی بنیاد پردھمکایا گیا۔ احمدی بچوں کو سکولوں سے نکال دیا گیا اور کئی بچوں کو سکول میں داخلے کی اجازت نہ دی گئی۔مقاطعہ اور عوام کو مشتعل کرنے کی مہمات نے کئی احمدیوں کو معاشی اور معاشرتی امور میں شمولیت سے باہر کر دیا۔ انتظامیہ نے زبردستی احمدیوں کے گھروں اور دوکانوں سے اسلامی الفاظ کو ہٹا دیا اور ایسے حلف نامے لکھوائے جن کے باعث وہ کوئی مذہبی فریضہ ادا نہ کر سکیں اور فرقہ وارنہ دباؤ کے باعث احمدیوں کی آواز کو مکمل طور پر دبا دیا۔

پورا سال تشدد ،امتیاز اور ہراسانی کا یہ عمل ہر گرفت سے آزاد نفرت انگیز ریلیوں اور احمدیوں کو نشانہ بنانے والی کانفرسوں کے باعث مضبوط تر ہوتا گیا۔ کم سے کم ۱۸؍ایسے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں لیکن ان کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ سب سے بڑی کانفرنس جماعت کے مرکز ربوہ میں ہوئی جہاں پر ۱۹۸۴ء سے خود احمدیوں کو کسی بھی کانفرنس کی اجازت نہیں ہے۔ستمبر اور اکتوبر میں دوسر ی آئینی ترمیم کی سالگرہ،پیغمبر اسلام ﷺ کی سالگرہ اور سالانہ ختم نبوت کی کانفرنس کے موقع پر ربوہ میں ان لوگوں کے بڑے بڑے مجمعے جمع ہوئے۔

مولانا فضل الرحمان اور کیپٹن صفدر جیسی سیاسی قدو قامت رکھنے والی اہم شخصیات نے اس مجمع سے خطاب کیا۔جس کی تعداد کم وبیش سترہ ہزار کے قریب تھی۔ مقررین نے بار بار احمدیوں کو دائرۂ اسلام سے خارج اور غدار قرار دیا۔ساتھ ہی انہوں نے ایسے بیانات دیے جو جماعت احمدیہ کے خلاف پُرتشدد کارروائیاں کرنے کے لیے قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے پر اکسانے والے تھے۔یہ ریلیاں ریاست کی ناک تلے انتظامیہ کی موجودگی میں ایک ایسے ماحول میں منعقد ہوئیں جہاں پر عوام کو احمدیوں کے خلاف تشدد پر اکسائے جانے کے نتائج واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔

بڑے پیمانے پر عوام کو احمدیوں کے خلاف اکسائے جانے کا یہ عمل اب پاکستان کی حدود کو پار کر چکا ہے۔ جامیلیتو(جمیعت علماء اسلام)ختم نبوت پرشاد کے زیر صدارت ۱۵ نومبر کو سہروری اودیان ڈھاکہ میں ایک ریلی منعقد کی گئی۔مقررین نے اس موقع پر بنگلہ دیش کی حکومت اور انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ احمدیوں کو غیرمسلم قرار دیا جائے اور ان پر وسیع پیمانے پر ایسی پابندیا ں لگائی جائیں جن سے ان کی مذہبی شناخت اور اسلامی عقائد پر عمل پیرا ہونے کا عمل محدود ہو جائے۔ اس موقع پر مقامی مذہبی اور سیاسی راہنماؤں کے ساتھ پاکستانی اور غیر ملکی وفود کا ایک بڑا اتحاد نظر آیا اور اس ریلی نے پاکستان میں موجود احمدیوں کے لیے امتیازی قوانین سے مشابہہ قوانین بنگلہ دیش کے احمدیوں پر لاگو کرنے کے کی مذموم کوشش کو گراں قدر تقویت دی۔

شرکا نے پورے سال پر محیط ایک ایسی تحریک چلانے کا اعلان کیا جس کا مقصد کانفرنسوں،قرارداوں اور شورشوں کے ذریعے حکومت پر دباؤ ڈالنا ہے۔ اس تقریب میں وسیع پیمانے پرلوگوں کی حاضری،اہم غیر ملکی مذہبی شخصیات کی شرکت اور حکومت سے احمدیوں کے معاشرتی مقاطعہ کا مطالبہ بنگلہ دیش کے احمدیوں کی جان کے تحفظ،برابر شہری حقوق اور مذہبی آزادی کو لاحق سنگین خدشات کی عکاسی کرتا ہے۔ اور ساتھ ہی یہ بات آئینِ موجود میں مذہبی تنوع کے احترام کے عہد سے انحراف کی طرف بھی ایک واضح اشارہ ہے۔

۲۰۲۵ء میں ریاستی اداروں کی جانب سے ہمیں ایک ایسا منظّم طریقہ واردات دیکھنے کو ملا جس میں انہوں نے فرقہ واریت پھیلانے والے جتھوں کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہوئے احمدیوں پر مختلف پابندیاں عائد کیں ، ان پر جھوٹے مقدمات بنائے اور ان کی مذہبی زندگی پر حملوں میں سہولت کار ی فراہم کی۔ ربوہ میں فائرنگ،نماز جمعہ کی ادائیگی پر پابندی،نماز عید کی ادائیگی کے متعلق خود ساختہ قوانین پر جبرا ًعمل دارآمد،اور ایک احمدی مدرس پر توہین کی دفعات کے تحت عمر قید کی سزا جیسے واقعات جو اس سال کے وسط میں روپزیر ہوئے اس بات پر شاہد ہیں کہ کس طرح سے امتیازی سلوک قانون،پولیس کی کارروائیوں اور قانون کو ہاتھ میں لینے والوں پر اغماض کا لبادہ اوڑھ لیتا ہے۔ مجموعی طور پر ان واقعات کا اثر یہ ہوا کہ احمدیوں کی معاشرتی اور مذہبی زندگی مزید تنگ ہو گئی اوران پر تشدد اور جھوٹی کارروائیوں کا خطرہ اور بڑھ گیا۔

دعوت فکر: امتیازی قوانین اور ان کی شقیں خصوصاً دوسری آئینی ترمیم اور احمدیت مخالف قوانین جن کا اشارہ آرڈیننس XX میں ملتا ہے جو کہ احمدیوں کی فکری،شعوری،مذہبی اور اعتقادی آزادی پر کاری ضرب لگاتے ہیں ان کو تبدیل کرنا ہو گا۔آئین ایسا ہونا چاہیے جو بلا تفریقِ مذہب، ہر شہری کو برابر حقوق دے اور اس کے تحفظ کا ضامن ہو۔

احمدیوں کے خلاف تشدد،مذہبی منافرت کے پھیلاؤ اور اشتعال انگیزی کے خلاف متفقہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے تناظر میں آئینی اور ریاستی رد عمل مضبوط ہونا چاہیے۔

آئین پاکستان میں مجوزہ قانون کےمطابق تمام شہریوں کو یکساں شہری حقوق فراہم کرنے کو یقینی بنانے کے لیے پاسپورٹ اور قومی شناختی کارڈ کے حصول کے لیے احمدیت مخالف حلف نامے کو منہا کرنا ہو گا۔

یہ حلف نامہ ہر فرد کو حضرت محمد ﷺ کو آخری نبی ماننے، بانی جماعت احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ کو جھٹلانے اور جماعت احمدیہ کے ممبران کو غیر مسلم قرار دینے پر مجبور کرتا ہے۔ اس حلف نامے کا تقاضا نہ صرف مصدقہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے متضاد ہے بلکہ معاشرتی مقاطعہ کو بھی بڑھاوا دیتا ہے اور مذہبی عدم برداشت کو قانون تحفظ فراہم کرتا ہے۔ اور ساتھ ہی یہ احمدیوں کےلیے بنیادی دستاویزات اور خدمات کے حصول میں بھاری روکاوٹیں پیدا کرتے ہوئے انہیں دوسرے درجے کا شہری بنا دیتا ہے۔

ریاست پاکستان کو ایسی آئین سازی کا سد باب کرنا ہوگا جس کا مقصد صرف احمدیوں کو نشانہ بنانا ہے۔ علاوہ ازیں نفرت اور اشتعال انگیزی کے متعلق موجود قوانین پر سختی سے عمل درآمد کرنا ہوگا۔اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ ایسے بیانات اور تحریرات جو کسی بھی اقلیت کو نشانہ بناتی ہیں ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی ہو۔اور اگر ضرورت پڑے تو ایسے قوانین جاری کرنے ہوں گے جو اس بات کو یقینی بنائیں کہ مذہبی اقلیتوں کے خلاف نفرت اور اشتعال انگیزی کو ایک جرم تصور کیا جائے۔ اور قوانین واضح اور قابل عمل ہونے چاہیں۔

پاکستان جہاں احمدیوں کے خلاف تشدد اور امتیازی سلوک ایک عام چلن بن چکا ہے وہاں احمدیوں کے بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ،اور عام زندگی کی دوڑدھوپ میں بلا خوف و خطر شمولیت کو یقینی بنانے کے لیے سنگین اقدامات کی سخت ضرورت ہے۔

جمہوری ریاستی اصولوں کے نفاذ اور بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی کو یقینی بنانےکے لیے یہ بات بھی ضروری ہے کہ احمدیوں کو بنا کسی بھی مذہبی تفریق اور تعصب کے ووٹ ڈالنے کا حق بھی دیا جائے۔ یہ سفارش اس انتخابی قانون میں تبدیلی کا تقاضا کرتی ہے جو احمدیوں کو ان کے عقیدے کی بنیاد پر ووٹ کے حق سے محروم کررہی ہے۔ یہ تبدیلی بلا مذہبی امتیاز ہر شہری کو برابر حقوق فراہم کرنے کی ضامن ہونی چاہیے جس کے تحت وہ اپنے جمہوری حق کو استعمال کرتے ہوئے ووٹ دے سکیں۔

سیاستدانوں اور قانون سازوں کو احمدیوں کے خلاف کسی بھی نفرت انگیزی اور اپنے سیاسی مفاد کے لیے عوامی جذبات کو بڑھکانے سے پرہیز کرنا ہوگا۔

ریاست پاکستان کو مساجد اور قبرستانوں پر حملوں میں معاونت کو بند کرتے ہوئے تمام مذہبی اور ثقافتی جگہوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہو گا جن میں جماعت احمدیہ سے منسوب مقامات شامل ہیں۔تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ قانون کا نفاذ سختی کے ساتھ کیا جائے، مذہبی اقلیتوں کو کسی بھی تعصب کے بغیر قانونی تحفظ فراہم کیا جائے اور احمدیہ مساجد اور قبرستانوں پر حملوں میں مجرمانہ معاونت اور چشم پوشی پر سخت محاسبہ کیا جائے۔

یہ بھی یقینی بنایا جانا ضروری ہے کہ احمدی بین الاقوامی اور آئین پاکستا ن میں موجود انسانی حقوق کے مطابق آزادی کے ساتھ اپنے مذہبی تہوار کسی خوف اور گرفتاری کے ڈر کے بغیر منا سکیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مذہبی انتہا پسندوں کی جانب سے احمدیوں کو مذہبی تہواروں خصوصاً عید الاضحی کے موقع پر نشانہ بنانا انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی اور مذہبی آزادی اور برداشت کے اصولوں کو پس پشت ڈالنے کے مترادف ہے۔

علاوہ ازیں انتظامیہ کو امن عامہ برقرار رکھنے کے قوانین کا ازسر نو جائزہ لینا ہوگا۔ تا کہ انہیں کسی بھی مذہبی اقلیت کو نشانہ بنانے کے لیے اس طرح سے استعمال نہ کیا جا سکے۔ جس طرح انہیں ۲۰۲۴ء میں احمدیوں کو عید الاضحی منانے سے روکنے کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔

جماعت احمدیہ کی کتب و رسائل، اخبارات، ویب سائٹس اور دیگر صحافتی ذرائع پر لگی ہوئی پابندیاں فوراً منسوخ کی جانی چاہئیں۔ اور ایسے اقدامات کرنے چاہئیں جو اس بات کو یقینی بنائیں کہ احمدی بھی تحقیق و جستجو کا اپنا حق استعمال کرسکیں اور اپنی معلومات اور خیالات کا اظہار کر سکیں۔

بین الاقوامی اداروں کو بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی کے ضمن میں ریاست پاکستان پر گہری نظر رکھنی چاہیے۔ خصوصاً مذہبی آزادی کو یقینی بنانے کے متعلق۔انہیں ریاست پاکستان کی انتظامیہ سے بات کرتے ہوئے احمدیوں پر ظلم وستم کے متعلق اپنی تشویش کا اظہار کرنا چاہیےاور پتا کرنا چاہیے کہ انہوں نے اس امتیازی قوانین اور تشدد کی ابتر صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے کیا اقدامات اٹھائے اور اس بات کی ضمانت لینی ہو گی کہ ابتر صورتحال کی بہتری کو یقینی بنانا پاکستان کی بین الاقوامی برادری کے ساتھ کی گئی یقین دہانیوں کا ایک اٹوٹ انگ اور جزو لاینفک ہے۔

حکومت پاکستان کو سکولوں ، کام کی جگہوں،صنعت و تجارت اور رہائشی علاقوں میں احمدیوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے ہر قسم کے امتیازی سلوک کی روک تھام کرنا ہو گی۔جہاں تک تعلیمی اداروں کا تعلق ہے حکومت کو احمدی طلبہ اور اساتذہ کے ساتھ کی جانے والی منظّم ہراسانی کا سد باب کرنا ہو گا۔ اور ساتھ ہی اصلاحات کرنا ہوں گی جن سے ان طلبہ اور اساتذہ کے حقوق کا تحفظ کیا جا سکے۔ تعلیم کا حق عالمی سطح پر متفق علیہ حق ہے اور آئین پاکستان کا آرٹیکل ۲۵-A بھی اس حق کا ضامن ہے جس میں صاف طور پر لکھا گیا ہے کسی بھی شخص کو اس کی مذہبی شناخت کی وجہ سے تعلیم دینے یا لینے کے حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ سکولوں،کالجوں اور یونیورسٹیوں کو ایسے قوانین وضع کرنے چاہئیں جو کسی بھی فرد واحد کو اسکی مذہبی شناخت کے باعث ہراسانی سے محفوظ رکھیں۔ علاوہ ازیں نہ صرف ان قوانین کی ترویج کرنی چاہیے بلکہ ایسا ماحول بھی پیدا کرنا چاہیے جس میں کوئی بھی فرد اس ہراسانی کو بدلہ لیے جانے کے خوف کے بغیر منظر عام پر لا سکے۔

شیخ حسینہ کی حکومت گرنے کے بعد بنگلہ دیشی حکام کو بڑھتے ہوئے احمدیت مخالف جذبات کو دبانا ہوگا۔ احمدی افراد اور جماعت کے خلاف تشدد و اشتعال انگیزی کو روکنا ہو گا۔ اور مذہبی انتہا پسندوں کی جانب سے احمدیوں کو غیر مسلم قرار دینے اور پاکستان کی طرز پر امتیازی قوانین کے نفاذ سے گریز کرنا ہوگا۔ حکومت کو آئین میں دیے گئے برابر شہری حقوق اور مذہبی آزادی کے تحفظ کو یقینی بنانا ہو گا۔ اور ایسے افراد جو جماعت احمدیہ کے خلاف تشدد اور اشتعال انگیزی کر رہے ہیں ان کو قانون کے کٹہرے میں لانا ہو گا۔

مذہبی آزادی کے متعلق اقوام متحدہ کے نامہ نگارکی رپورٹ قابل توجہ ہے جس میں پاکستان میں وفات،تدفین اور وفات شدگان کی حرمت کے متعلق خاص طور توجہ مبذول کروائی گئی ہے۔ احمدیہ قبرستانوں پر بڑے پیمانے پر حملے ،تدفین کے عمل میں رکاوٹیں اور احمدیہ قبروں کے بے حرمتی غمگین لواحقین کے حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔ ساتھ ہی یہ اس امتیازی سلوک روا رکھے جانے کے منظّم طریق کار کا غماض ہے جسے حکومت نے مذہبی آزادی کا درجہ دے دیا ہے۔ بین الاقوامی اداروں کو چاہیے کہ جب بھی انسانی حقوق کے متعلق ریاست پاکستان کے ساتھ ان کی کوئی بات ہو اور مستقبل میں ان کی جانب سے کوئی رپورٹ آئے تو وہ ان واقعات پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے رہیں۔

مزید پڑھیں: پریس ریلیز: جماعت احمدیہ کے مرکزربوہ میں احمدی عبادتگاہ بیت اقصیٰ کے باہر سیکیورٹی رضا کاروں کی گاڑی پر فائرنگ

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button