خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 31؍جولائی 2026ء
اللہ تعالیٰ کے فضل سےگذشتہ اتوار کو جماعت احمدیہ برطانیہ کا تین دن کا جلسہ سالانہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو سمیٹتے ہوئے اپنے اختتام کو پہنچا
تمام کارکنان جو جلسے کے کسی بھی شعبہ میں کام کرتے رہے ہیں شکریہ کے مستحق ہیں۔اللہ تعالیٰ انہیں ان کی خدمت کی بہترین جزا دے
ایم ٹی اے کے کارکنان ہیں جن میں بہت سے رضاکار شامل ہیں۔یہ بھی شکریہ کے مستحق ہیں جنہوں نے بڑے عمدہ طریق پر جلسہ کے
پروگراموں کو دنیا کے ہر کونے میں پہنچانے کے لیے بھرپور کوشش کی۔ یہ بھی تبلیغ کا ایک بڑا ذریعہ ہے
پریس اینڈ میڈیا نے بھی خبریں پہنچانے میں اپنا کردار ادا کیا جس میں مرکزی پریس کا شعبہ بھی شامل ہے ،یو کے کا پریس کا شعبہ بھی شامل ہے اور
کروڑوں لوگوں تک پیغام پہنچا۔ اس میں خواتین اور مرد سب شامل ہیں
اس سال بھی خدام الاحمدیہ کینیڈا کے بہت سے رضاکار آئے ہیں جو جلسے کے بعد سمیٹنے کا کام، جلسے کے وائنڈ اَپ کا کام کرتے ہیں اور اب آسٹریلیا والوں نے بھی آنا شروع کیا ہوا ہے۔اوریہ بڑے عمدہ طریق پر کام کر رہے ہیں اور یہ سب بھی شکریہ کے مستحق ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں بھی جزا دے
مَیں خود بھی تمام کارکنان کا اور کارکنات کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے بڑی بےلوث خدمت کی لیکن ساتھ ہی اِنہیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اُن کو بھی اللہ تعالیٰ کا شکرگزار ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سب کارکنان کو توفیق دی کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کے مہمانوں کی خدمت کریں۔ لوگوں کے شکر گزاری کے اظہار سے آپ لوگوں کو مزید عاجز ہونا چاہیے ۔مزید اللہ تعالیٰ کے آگے جھکنا چاہیے اور اس کا شکر گزار ہونا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ اس کی بھی آپ کو توفیق دے
خلیفہ وقت کے خطاب کے بعد ہمیں اسلام اور تقویٰ کی حقیقی شناخت حاصل ہوئی۔ ہمیں اس موضوع کے بارے میں گہری سمجھ اور علم حاصل ہوا (ایک مہمان کا تاثر)
مجھے دنیا بھر میں مختلف بین الاقوامی کانفرنسوں اور کنونشنز میں شرکت کا موقع ملا ہے لیکن جلسہ سالانہ یو کے کا تجربہ ان سب سے منفرد رہا ہے۔سو(100) سے زائد ممالک سے آئے ہوئے لوگوں، مختلف مذاہب، قومیّتوں اور شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے مہمانوں سے ملاقات ہوئی۔ ان سب کی ایک ہی رائے تھی کہ یہاں محبت، احترام، امن اور باہمی اخوّت کا جو ماحول دیکھنے کو ملا وہ واقعی غیر معمولی ہے (ایک مہمان کا تاثر)
امام جماعت کے خطابات نے مجھے بڑا متاثر کیا۔ انہوں نے مختصر وقت میں بہت سے موضوعات کا احاطہ کیا ۔
اور ہر موضوع کو تفصیلی مگر سادہ اور قابل فہم انداز میں پیش کیا (ایک مہمان کا تاثر)
ملاقات کے بعد مجھے تو یقین ہو گیا ہے کہ خلیفہ وقت کو اپنی جماعت کے بارے میں بہت معلومات ہوتی ہیں
کہ کہاں کہاں اور کس مقام پر کھڑی ہے، اسے ان باتوں سے گہری دلچسپی تھی (ایک مہمان کا تاثر)
الفاظ سے بڑھ کر مَیں نے یہاں خدمت والا اسلام دیکھا۔ ایسے ہاتھ دیکھے جو دیتے ہیں، ایسے دل دیکھے جو معاف کرتے ہیں اور
ایسے دروازے دیکھے جو ہمیشہ دوسروں کے لیے کھلے رہتے ہیں (ایک مہمان کا تاثر)
مجھے احساس ہوا کہ خلیفة المسیح کی ہدایات صرف الفاظ نہیں تھے بلکہ ہر رضاکار کی عملی زندگی کا حصہ ہیں (ایک مہمان کا تاثر)
پریس اینڈ میڈیا کے ذریعے سے مجموعی کوریج پانچ کروڑاٹھائیس لاکھ افراد تک ہوئی
افریقہ کے اٹھارہ سے زائد چینلز پر براہ راست خبر نشر ہوئی، خطابات نشر ہوئے اور نشریات کی رسائی کا اندازہ تین کروڑ پچاس لاکھ سے زائد افراد تک ہے
اللہ تعالیٰ اس جلسے کے جہاں نیک اثرات تمام جماعت کے افراد پر قائم فرمائے وہاں لوگوں کی بھی راہنمائی فرمائے اور انہیں صحیح اسلام اور احمدیت کی طرف راغب کرے
جلسہ سالانہ میں تشریف لانے والے معزز مہمانوں کے تاثرات اور خدمت کرنے والوں کے لیے اظہارِ تشکّر
خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 31؍جولائی 2026ء بمطابق 31؍وفا1405 ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد، ٹلفورڈ(سرے)،یوکے
(خطبہ جمعہ کا یہ متن ادارہ الفضل اپنی ذمہ داری پر شائع کر رہا ہے)
أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِيْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ۔ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾
اَلۡحَمۡدُلِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۴﴾إِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ إِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ﴿۵﴾
اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ أَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ﴿۷﴾
اللہ تعالیٰ کے فضل سےگذشتہ اتوار کو جماعت احمدیہ برطانیہ کا تین دن کا جلسہ سالانہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو سمیٹتے ہوئے اپنے اختتام کو پہنچا۔
جلسے کی تیاری میں مہینوں لگتے ہیں۔بلکہ ہر سال کے جلسے کے بعد ہی تیاری شروع ہو جاتی ہے اور اس کازور جلسے سے چند ہفتے پہلے شروع ہو جاتا ہے لیکن جلسہ سے ایک دو ہفتے پہلے تو یہ انتہائی بڑھ جاتا ہے اور جلسے کے دنوں میں تو ہزاروں رضاکار کارکنان لڑکیاں، عورتیں، بچے، مرد، بوڑھے، جوان اپنی تمام تر صلاحیتوں اور اخلاص کے ساتھ ہمہ وقت خدمت کر رہے ہوتے ہیں جو نہ صرف احمدی مہمانوں کو سہولت پہنچا رہے ہوتے ہیں بلکہ جلسہ پر آنے والے دنیا کے مختلف ممالک سے غیر ازجماعت اور غیرمسلم مہمان جو ہیں ان کی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ اسلام کی حقیقی تصویر پیش کر کے ایک خاموش تبلیغ کر رہے ہوتے ہیں۔پس اس لحاظ سے
تمام کارکنان جو جلسے کے کسی بھی شعبہ میں کام کرتے رہے ہیں شکریہ کے مستحق ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں ان کی خدمت کی بہترین جزا دے۔
اسی طرح جلسہ کے براہ راست خدمت کرنے والے کارکنان کے علاوہ
ایم ٹی اے کے کارکنان ہیں جن میں بہت سے رضاکار شامل ہیں۔یہ بھی شکریہ کے مستحق ہیں جنہوں نے بڑے عمدہ طریق پر جلسہ کے پروگراموں کو دنیا کے ہر کونے میں پہنچانے کے لیے بھرپور کوشش کی۔ یہ بھی تبلیغ کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔
اسی طرح
پریس اینڈ میڈیا نے بھی خبریں پہنچانے میں اپنا کردار ادا کیا جس میں مرکزی پریس کا شعبہ بھی شامل ہے، یو کے کا پریس کا شعبہ بھی شامل ہے اور کروڑوں لوگوں تک پیغام پہنچا۔ اس میں خواتین اور مرد سب شامل ہیں۔
اسی طرح ہر سال کی طرح یہاں کارکنان کی مدد کے لیے
اس سال بھی خدام الاحمدیہ کینیڈا کے بہت سے رضاکار آئے ہیں جو جلسے کے بعد سمیٹنے کا کام، جلسے کے وائنڈ اَپ کا کام کرتے ہیں اور اب آسٹریلیا والوں نے بھی آنا شروع کیا ہوا ہے۔اوریہ بڑے عمدہ طریق پر کام کر رہے ہیں اور یہ سب بھی شکریہ کے مستحق ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں بھی جزا دے۔
بہرحال کام کرنے والوں کا جو غیروں پر اثر ہوتا ہے اس سے جماعت اور اسلام کی حقیقی تصویر ان کے سامنے پیش ہوتی ہے جس سے وہ انتہائی متاثر ہوتے ہیں۔ بے شمار تبصرے وہ لکھ کر بھیجتے ہیں اور شکریہ بھی ادا کرتے ہیں۔ اور ایسےبعض تبصرے میں اس وقت پیش بھی کروں گا۔ جو چند ایک میں نے لیے ہیں وہ بھی شایدنہ پیش ہو سکیں لیکن بہرحال کچھ پیش کروں گا۔ اسی طرح
مَیں خود بھی تمام کارکنان کا اور کارکنات کا شکریہ ادا کرتا ہوں انہوں نے بڑی بےلوث خدمت کی لیکن ساتھ ہی اِنہیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اُن کو بھی اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سب کارکنان کو توفیق دی کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کے مہمانوں کی خدمت کریں۔ لوگوں کے شکر گزاری کے اظہار سے آپ لوگوں کو مزید عاجز ہونا چاہیے۔ مزید اللہ تعالیٰ کے آگے جھکنا چاہیے اور اس کا شکر گزار ہونا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ اس کی بھی آپ کو توفیق دے۔
جیسا کہ مَیں نے کہا کہ مَیں تاثرات پیش کروں گا تو اس وقت جو پہلا تأثر میرے سامنے ہے وہ
گیمبیا
کے وزیر برائے مواصلات وڈیجیٹل معیشت لامین جابی صاحب کا ہے۔ یہ کہتے ہیں کہ جلسہ سالانہ کو دیکھ کر مَیں ایک گہری حقیقت پر ششدر رہ گیا۔ یہ ایک عظیم عالمی اجتماع ہے جو بے لوث خدمت اور خاموش، غیر متزلزل قربانی کی بنیاد پر قائم ہے۔ یہ جان کر دل گہرا متاثر ہوتا ہے کہ اتنے بڑے پیمانے کا یہ اجتماع قادیان میں صرف 75؍افراد سے شروع ہوا تھا اور آج انتظامی لحاظ سے ایک حیرت انگیز شاہکار کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ سیٹلائٹ کے ذریعے دنیا کے دو سو ممالک میں اجتماع دکھایا جاتا ہے اور مجھے یہ بات بھی حیران کرتی ہے کہ انتظامات کے لیے کسی پولیس کی ضرورت نہیں۔ کوئی مادی لالچ نہیں ہے۔ کارپوریٹ افسران، ڈاکٹرز، نوجوان اپنے دنیاوی عہدے ایک طرف رکھ کر رضاکارانہ طور پر فرش صاف کر رہے تھے، آگ پر کھانا پکا رہے تھے، ٹریفک کی راہنمائی کر رہے تھے اور جب نماز کے لیے اذان ہوئی تو مختلف قومیّتوں پر مشتمل یہ پُرجوش مجمع فوراً مکمل خاموشی اختیار کر گیا کہ سوئی گرنے کی آواز بھی سنائی دے۔ اس منظر نے مجھے اجتماعی نظم و ضبط اور روحانی وابستگی کا ایسا زندہ احساس دیا جو آج کی مادی دنیا میں عملاً ناپید ہے۔
پھر کہتے ہیں کہ عالمی بیعت میں شرکت جہاں ایک اشکبار انسانی زنجیر ہزاروں افراد کو ان کے امام سے جوڑ دیتی ہے اس نے اس منفرد تعلق کو میرے لیے ناقابل یقین بنا دیا۔ میرا دیرپا تاثر یہ ہے کہ جماعت کا عظیم عالمی اثر کسی مادی دولت یا سیاسی عزائم کا نتیجہ نہیں بلکہ کامل تقویٰ اور امن کے ایک سچے عملی پیغام سے وابستگی کا ثمرہ ہے۔
نائیجیریا
سے ایک سٹیٹ کے بادشاہ اَوْبَا کہینڈِے باڈِے وُوْلِے تقریباً آدھی سٹیٹ ان کے زیر انتظام ہے۔یہ کہتے ہیں :جب مَیں جلسہ سالانہ یو کے میں شرکت کے لیے روانہ ہوا تو مجھے ہرگز اندازہ نہیں تھا کہ مَیں ایک عظیم الشان منظّم اور روحانی اجتماع کا حصہ بننے جا رہا ہوں جو میری زندگی میں اتنا گہرا اثر چھوڑے گا۔ یہاں پہنچ کر مَیں نے نہ صرف غیر معمولی نظم و ضبط، اخوّت اور خدمتِ خلق کا عملی نمونہ دیکھا بلکہ دنیا کے مختلف ممالک اور قومیّتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو محبت، احترام اور بھائی چارے کے رشتے میں بندھا ہوا پایا اور ہماری بڑے پُرخلوص طریقے سے مہمان نوازی کی گئی جو ہمیشہ ہماری یادوں کا حصہ رہے گی۔ کہتے ہیں مجھے یہاں بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا لیکن سب سے یادگار لمحہ امام جماعت سے ملاقات تھی اور ان کے خطابات تھے جن کو سن کر مَیں نے بہت سبق حاصل کیا اور جماعتِ احمدیہ کی عالمی ترقیات کے بارے میں رپورٹ بھی سنی۔ یہ بھی بڑی حیران کن تھی۔ کہتے ہیں آپ کا نعرہ Love for all, Hatred for none صرف ایک نعرہ نہیں بلکہ جماعتِ احمدیہ کی عملی شناخت ہے۔ اگر دنیا اس جذبۂ محبت، رواداری اور احترامِ انسانیت کو اپنا لے تو بلاشبہ دنیا امن کا گہوارہ بن سکتی ہے۔ پھر یہ کہتے ہیں لائیو پروگرام جو دنیا کی مختلف زبانوں میں نشر ہو رہے تھے اس نے بھی مجھے بڑا حیران کیا۔
اسی طرح ان کی جو پرنسس تھیں، ان کی اہلیہ، انہوں نے بھی انہی جذبات کا اظہار کیا ہے۔اور کہتی ہیں مجھے سب سے زیادہ خوشگوار حیرت خواتین کے لیے کیے گئے مثالی انتظامات، ان کی عزّت، آزادی اور باوقار ماحول کو دیکھ کر ہوئی۔ ہزاروں خواتین کو نہایت منظّم انداز میں آتے جاتے اور مکمل وقار کے ساتھ جلسے میں شریک ہوتے دیکھ کر میرے اسلام کے بارے میں کئی تصوّرات بدل گئے۔ مَیں نے محسوس کیا کہ جماعتِ احمدیہ نے اسلامی تعلیمات کے مطابق خواتین کے احترام اور ان کے حقوق کو عملی صورت میں پیش کیا۔
سینیگال
سے ایک مہمان سابق گورنرز سینٹ لوئس عَلْیُون بَدْرَا سَامْب صاحب تھے۔ کہتے ہیں :جس چیز نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ اس کی بہترین تنظیم تھی۔ شرکاء کی بہت بڑی تعداد کے باوجود یہ واضح محسوس ہوتا تھا کہ جلسے کا انتظام انتہائی عمدگی سے کیا گیا تھا۔ آمد و رفت کا نظام بھی عمدہ تھا۔ رضاکار خوش اخلاق تھے۔ ہمہ وقت دستیاب تھے۔ اور کہتے ہیں مَیں نے ساری تقریروں کو توجہ سے سنا۔ اب غیر بھی تقریروں میں صرف بیٹھے نہیں رہتے بلکہ کہتے ہیں ہم نے توجہ سے سنا۔ مختلف زبانوں کا انتظام نہایت عمدہ تھا جس کی بدولت ہم تمام تقاریر اور پیغامات کو بخوبی سمجھ سکے۔ کہتے ہیں پورے جلسے کے دوران جو پیغام بار بار نمایاں ہوا وہ محبت، امن اور بھائی چارے کا پیغام تھا۔
اسی طرح رَادُوْ دُوْتَا (Radu Duta) صاحب۔ یہ ان کا نام ہے۔ اور
لکسمبرگ
میں وکیل ہیں،بیرسٹر ہیں۔اپنے بیٹے کے ساتھ پہلی دفعہ شامل ہوئے تھے۔ کہتے ہیں کہ جلسے کے تین دن میری تمام زندگی کے اہم ترین دن بن گئے ہیں۔ مَیں نے پہلی بار اتنا بڑا منظّم اور باوقار اسلامی اجتماع دیکھا ہے۔ اتنی بڑی تعداد کے باوجود پورا انتظام رضاکاروں کے ذریعے انتہائی احسن انداز سے چل رہا تھا۔ مجھے ایسا لگ رہا تھا جیسے مختلف ممالک سے آئے ہوئے لوگ ایک ہی خاندان کے افراد ہوں۔ ہر رضاکار مسکراتے ہوئے مہمانوں کی خدمت میں مصروف تھا۔ ڈیوٹی پر موجود کارکن ہر مہمان کے ساتھ اس محبت اور احترام سے، توجہ سے پیش آ رہے تھے جیسے وہ سب سے اہم اور معزز ہیں۔ پھر عالمی بیعت کا نظّارہ بھی مہمانوں کو بڑا متاثر کرتا ہے۔ کہتے ہیں۔ عالمی بیعت کا روح پرور نظّارہ میرے لیے ناقابل فراموش تھا۔ جب دنیا کے مختلف ممالک سے آئے ہوئے ہزاروں افراد کو ایک ہی امام کے ہاتھ پر بیعت کرتے اور نہایت عاجزی کے ساتھ خدا تعالیٰ کے حضور دعا کرتے دیکھا۔ ایک ایسا ایمان افروز اور روحانی تجربہ تھا جس نے میرے دل پر گہرا اثر چھوڑا ہے۔پھر یہ کہتے ہیں کہ امام جماعت سے بھی میری ملاقات ہوئی اور مجھے پہلے گھبراہٹ تھی لیکن ان سے مل کے میری گھبراہٹ دُور ہو گئی۔ اسی طرح میرے دل میں جو باتیں اور جذبات تھے جو مَیں آپ سے پوچھنا چاہتا تھا وہ باتیں میرے پوچھے بغیر ہی انہوں نے مجھ سے پوچھ بھی لیں اور بتا بھی دیں۔
پھر
ایک نو مبائع
اِیلَائِجہ گَیْبُوریل (Elijah Gabourel) صاحب ہیں۔کہتے ہیں :اسلام قبول کرنے سے قبل میرا تعلق عیسائیت سے تھا۔ ہمیں ہمیشہ سکھایا جاتا تھا کہ ایمان کا تعلق موسیقی سے ہے۔ یہ بھی آج کل دنیا میں بڑا رواج ہوگیا ہے کہ موسیقی ضروری ہے۔ لیکن مَیں کبھی بھی اس انداز سے حقیقی روحانی سکون اور قربِ الٰہی محسوس نہ کرسکا۔ مسلمان ہونے کے بعد بھی کہتے ہیں نمازیں میں پڑھتا تھا لیکن کبھی گریہ وزاری کی توفیق نہیں ملتی تھی۔ لیکن جب جلسہ سالانہ میں بیعت میں شامل ہونے کا موقع ملا تو مجھ پر ایسی روحانی کیفیت طاری ہوئی جسے میں الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا۔مسلسل اپنے گناہوں پر نادم ہو کر استغفار کرتا رہا۔ دعائیں مانگتا رہا اور میری آنکھوں سے بےاختیار آنسو جاری رہے۔ اور میرا خلافت سے ایک روحانی تعلق قائم ہو گیا۔اللہ تعالیٰ سے ایک روحانی تعلق قائم ہوگیا۔ اس کے بعد کہتے ہیں نماز ہوئی۔ نماز میں بھی یہ روحانی کیفیت مجھ پر طاری رہی اور اسی حالت میں مَیں جلسہ گاہ سے باہر چلا گیا اور یہ احساس نہیں رہا کہ مَیں اپنے جوتے پہننا بھول گیا ہوں۔ اسی حالت میں غسل خانے چلا گیا اور وہاں کھڑے ایک رضاکار نے میرے پاؤں کو دیکھا، پھر اپنی جوتی اتار کے مجھے دے دی اور کہا آپ یہ پہن لیں۔ آپ کو تکلیف ہو گی ننگے پیر اندر جاتے ہوئے۔ تو کہتے ہیں اس چھوٹے سے واقعہ نے میرے ایمان کو مزید مضبوط کر دیا کہ واقعی خدا تعالیٰ کی قائم کردہ یہ ایک الٰہی جماعت ہےجہاں ہر فرداپنے بھائی کی مدد کرنے کے لیے ہر وقت تیار رہتا ہے۔پس
احمدی رضاکار بھی، کارکنان بھی جو مہمانوں کا یہ خیال رکھتے ہیں اس سے بھی لوگوں کے ایمان مضبوط ہوتے ہیں۔
چیک ریپبلک
سے ایک پروفیسر یَارَوسَلَافْ فرانک (Jaroslav Franc) آئے ہوئے تھے۔ اور دوسرے پروفیسر مارک چائیکا (Marek Cejka) صاحب تھے۔کہتے ہیں :ہمیں جلسہ سالانہ اتنا پسند آیا کہ ہم اپنے جذبات کو بیان نہیں کر سکتے۔ واپس چیک ریپبلک جا کر ہم اپنے طلباء اور پروفیسرز کو یہی بتا سکتے ہیں کہ آپ لوگوں کو خود یہاں آ کر اس عظیم الشان محفل کا تجربہ کرنا ہوگا جو روحانیت سے معمور اور اعلیٰ ترین انتظامات سے مزین تھی۔ کہتے ہیں دنیا کے مختلف کونوں سے تعلق رکھنے والے لوگ محبت، امن اور بھائی چارے کے جذبے سے ایک جگہ جمع تھے۔ عبادت کے بعد لوگوں سے ملاقات کا تجربہ میرے لیے انتہائی خوشگوار تھا اور متاثر کن تھا۔ یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی کہ کس طرح ایک عقیدہ دنیا بھر کے لوگوں کو محبت، امن اور اتحاد کے رشتے میں جوڑ رہا ہے۔ کہتے ہیں
خلیفہ وقت کے خطاب کے بعد ہمیں اسلام اور تقویٰ کی حقیقی شناخت حاصل ہوئی۔ ہمیں اس موضوع کے بارے میں گہری سمجھ اور علم حاصل ہوا
اور اسی طرح کہتے ہیں ایم ٹی اے کے ذریعہ سے جو دنیا میں کوریج تھی وہ بھی حیران کن تھی۔
قازقستان
سے ساؤلے (Saule) صاحبہ جلسہ میں شامل ہوئیں۔ کہتی ہیں :ایک ایسا روح پرور اور یادگار اجتماع تھا جس نے میرے دل پر نہایت خوشگوار اور گہرے اثرات چھوڑے ہیں۔ کہتی ہیں: امام جماعت اور دیگر مقررین کی تقاریر میں ایمان، اعلیٰ اخلاق، امن، باہمی ہم آہنگی، خاندانی اقدار، نوجوانوں کی تربیت اور معاشرے کی خدمت جیسے اہم موضوعات پر روشنی ڈالی گئی۔ کہتی ہیں: سب سے زیادہ مجھے مختلف قوموں کے افراد کے درمیان بھائی چارے کی فضا نے متاثر کیا اور جو امن اور سلامتی کی باتیں کر رہے تھے۔
پھر
امریکہ
سے ڈاکٹر پروفیسر بریٹ شارف (Brett Scharffs) جو کہ لاء کے پروفیسر ہیں۔ یہ بھی آئے ہوئے تھے۔ کہتے ہیں:
مجھے دنیا بھر میں مختلف بین الاقوامی کانفرنسوں اور کنونشنز میں شرکت کا موقع ملا ہے لیکن جلسہ سالانہ یو کے کا تجربہ ان سب سے منفرد رہا ہے۔سو(100) سے زائد ممالک سے آئے ہوئے لوگ مختلف مذاہب، قومیّتوں اور شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے مہمانوں سے ملاقات ہوئی۔ ان سب کی ایک ہی رائے تھی کہ یہاں محبت، احترام، امن اور باہمی اخوّت کا جو ماحول دیکھنے کو ملا وہ واقعی غیر معمولی ہے۔
اسی طرح کہتے ہیں: ہیومینٹی فرسٹ اور مختلف علمی و تاریخی نمائشوں نے مجھے بہت متاثر کیا۔ یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ جماعت اپنے وسائل سے دنیا بھر میں ضرورت مندوں کی خدمت کر رہی ہے خواہ وہ کسی مذہب یا قوم سے تعلق رکھتے ہوں۔ اور پھر کہتے ہیں: پڑھے لکھے لوگ، اعلیٰ تعلیم یافتہ ڈاکٹرز، انجینئرز، وکلاء دیگر ماہرین نہایت عاجزی سے رضاکارانہ خدمت انجام دے رہے تھے جس نے مجھے بڑا متاثر کیا۔
برازیل
سے ٹیلی ویژن رپورٹر اَیْرِک پُورتِیلا (Eric Portella) صاحب کہتے ہیں: مَیں یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتا کہ مَیں اس تقریب کے عظیم الشان پیمانے اور وسعت کو دیکھ کر حیران رہ گیا ہوں۔ خاص طور پر لنگر خانے کا حجم اور وہ تمام جگہیں جہاں کھانا تیار کیا جاتا ہے۔ جدید، وسیع، منظّم اور انتہائی صاف ستھرا۔ ہر رضاکار کی محنت، نفاست اور لگن کو دیکھنے کا ایک نہایت خوبصورت تجربہ ہے جو میرے دل کو امن اور خوشی سے لبریزکر دیتا ہے۔
فلپائن
سے پروفیسر یوسف مورالیس (Yousuf Morales) اپنی اہلیہ کے ساتھ آئے تھے، وہ بھی پروفیسر ہیں۔ پروفیسر شریما مورالیس (Sherima Morales)۔ کہتے ہیں: انہوں نے عیسائیت سے اسلام قبول کیا ہے اور نیشنل کمیشن آف مسلم فلیپینوز کے چیئرمین بھی رہ چکے ہیں۔ ابھی احمدی نہیں ہیں۔ کہتے ہیں: اگرچہ باضابطہ حاضری تقریبا پچاس ہزار بتائی گئی لیکن جلسہ گاہ کی وسعت اور انتظامات کا پیمانہ دیکھ کر مجھے محسوس ہوا کہ یہ اجتماع اس سے کہیں بڑا ہے۔ خاص طور پر ان ہزاروں رضا کاروں کی کاوشوں پرحیرانی ہوئی جو اپنا وقت اور خدمت پیش کر کے ایک مکمل عارضی شہر بساتے ہیں جس میں دسیوں ہزار افراد کے لیے رہائش، کھانے، ٹرانسپورٹس، صفائی اور دیگر سہولیات میسّر ہیں۔ مالی لحاظ سے آسودہ ہونے کے باوجود رضاکار خدمت کرتے ہیں اور نہایت سادہ اور جسمانی مشقّت والی خدمت کرتے ہیں اور بڑی عاجزی سے کرتے ہیں اور یہی باتیں ہیں جو ایک پُرامن اور ہم آہنگ معاشرہ تعمیر کر سکتی ہیں۔ چھوٹے بچوں کو پانی پلاتے دیکھا۔ اسی طرح کہتے ہیں کہ چودہ پندرہ سال کے دو بچے تھے کھانے پہ ان کی ڈیوٹی تھی اور اتنی ذمہ داری سے وہ دوڑ کے تین سو آدمیوں کو کھانا کھلا رہے تھے کہ حیرت ہوتی تھی۔ کہتے ہیں یہاں آکے مجھے یہ بھی علم ہوا کہ سرمحمد ظفر اللہ خان صاحب احمدی تھے۔ اسی طرح ڈاکٹر عبدالسلام صاحب کے کارناموں سے مزید کاپتہ لگا۔ اسی طرح
امام جماعت کے خطابات نے مجھے بڑا متاثر کیا۔ مختصر وقت میں بہت سے موضوعات کا احاطہ انہوں نے کیا۔ اور ہر موضوع کو تفصیلی مگر سادہ اور قابلِ فہم انداز میں پیش کیا۔
ایلسلواڈور
سے ایک مہمان سَاؤُل اِدگاردُو (Saul Edgardo) جو کہ سینٹرل امریکن پارلیمنٹ میں ایلسلواڈور کے نمائندے ہیں، وہ بھی آئے ہوئے تھے۔ کہتے ہیں :یہ میرا پہلا جلسہ سالانہ یو کے تھا جس میں مجھے احمدیہ مسلم جماعت کو بہت قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ سب سے اہم بات جو میں نے سیکھی وہ یہ ہے کہ ہمیں روزمرّہ زندگی کیسے گزارنی چاہیے۔ اس کا مرکزی پیغام یہ تھا کہ جس طرح ایک شاخ درخت سے الگ ہو کر خشک ہو جاتی ہے کیونکہ وہ درخت ہی اسے زندگی دے رہا تھا اسی طرح اگر ہم بھی خدا تعالیٰ سے دور ہو جائیں تو یہ ہماری روحانی موت ہے۔ خلیفہ، امام جماعت نے جو یہ کہا کہ ہم خدا کو صرف اس وقت تلاش کرتے ہیں جب ہم کسی مشکل میں ہوتے ہیں، یہ بات بھی بالکل سچ ہے۔ اسی طرح انہوں نے میاں بیوی کے تعلق کے بارے میں جو نصائح کیں اگر ہم ان پر عمل کریں اور غضِّ بصر سے کام لیں تو شادی شدہ زندگی کے بہت سے مسائل سے بچ سکتے ہیں۔ پس
اگر غیر احمدی یہ پیغام سمجھ سکتے ہیں تو احمدیوں کو کتنا بڑھ کے اس پیغام کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
پھر کہتے ہیں مجھے غیر معمولی انتظامات نے متاثر کیا۔ امام جماعت سے ملاقات کے لیے بڑا تھوڑا وقت تھا اور میری خواہش تھی کہ زیادہ وقت ملتا لیکن اس مختصر وقت میں بھی انہوں نے ہر چیز کو دیکھا اور میرے سے باتیں کیں۔ اور کہتے ہیں
ملاقات کے بعد مجھے تو یقین ہو گیا ہے کہ خلیفہ وقت کو اپنی جماعت کے بارے میں بہت معلومات ہوتی ہیں کہ کہاں کہاں اور کس مقام پر کھڑی ہے اسے ان باتوں سے گہری دلچسپی تھی۔
بیلیز
سے ایک نومبائعہ موزیق میریانو (Mosique Mariano) صاحبہ کہتی ہیں :بہت ہی چھوٹے ملک سے ہمارا تعلق ہے۔ ہمارے شہر کی آبادی صرف پچاس ہزار ہے۔ صرف سَو آدمی بھی جمع ہو جائیں تو جھگڑے شروع ہوجاتے ہیں لیکن جلسے کے انتظام میں غیر معمولی امن تھا اور لوگ بہت اچھی طرح ایک دوسرے سے مل رہے تھے۔ کہتی ہیں میرے لیے اپنے جذبات کو الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔مَیں اپنے آپ کو ایک احمدی مسلمان کہنے میں اب خوشی محسوس کرتی ہوں۔کہتی ہیں میرے خاوند کو گذشتہ سال جلسہ سالانہ میں شرکت کی توفیق ملی تھی اور اس وقت خلیفہ وقت نے کہا تھا کہ اپنی اہلیہ کو بھی احمدیت کا پیغام پہنچاؤ اور اللہ کے فضل سے میں آج پورے یقین اور فخر کے ساتھ کہتی ہوں کہ مَیں احمدی مسلمان ہوں۔
بلغاریہ
سے سِوِیلِن پینکَوف (Svilen Penkov) جو کہ منسٹری آف لیبر اینڈ سوشل پالیسی کے سیکرٹری جنرل ہیں۔ کہتے ہیں کہ جرمنی کے مختلف شہروں میں منعقد ہونے والے جلسہ ہائے سالانہ میں کئی بار شرکت کر چکا ہوں لیکن برطانیہ کے جلسہ سالانہ کا تجربہ اپنی وسعت، تنظیم اور اعلیٰ معیار کے لحاظ سے منفرد اور بے مثال رہا۔ جس چیز نے مجھے متاثر کیا وہ جلسہ گاہ کی غیر معمولی وسعت اور وہاں قائم کیا گیا عارضی شہر تھا۔ تمام بنیادی سہولیات نہایت عمدگی سے فراہم کی گئی تھیں اور پچاس ہزار سے اوپر کی تعداد میں لوگ وہاں جمع تھے۔ جلسہ میں ہونے والی تقاریر بہت معلوماتی،علمی اور اعلیٰ معیار کی حامل تھیں۔ مقررین نے مذہبی اور سائنسی موضوعات کو نہایت عمدہ انداز میں پیش کیا جس سے حاضرین کے علم و معرفت میں اضافہ ہوا۔ مختلف نمائشوں نے مجھے بےحد متاثر کیا اور انہیں جدید تقاضوں کے مطابق انتہائی پیشہ وارانہ انداز میں ترتیب دیا گیا تھا۔ بچوں کے لیے بھی وہاں تربیتی پروگرام تھے اور نمائشیں تھیں۔ یہ چیزیں ایسی ہیں جو اگلی نسل کی تربیت کے لیے اچھی ہیں۔
سینیگال
سے اَحمدُوبَاہ صاحب تیجانیہ فرقہ سے تعلق رکھنے والے اپنے علاقے کے مذہبی راہنما ہیں۔ کہتے ہیں کہ اس جلسے کی شاندار تنظیم اور انتظام نے مجھے بے حد متاثر کیا ہے۔ جس انداز سے یہ جلسہ منعقد ہوا۔ سکیورٹی کے بہترین انتظامات، حاضرین کے اعلیٰ اخلاق، ان کی دانائی، خوش اخلاقی بالخصوص احمدیہ جماعت کے افراد کے بلند کردار نےمیرے دل پر گہرا اثر چھوڑا ہے۔ کہتے ہیں پہلے جماعت احمدیہ کے بارے میں صرف سنا کرتا تھا لیکن آج اپنی انکھوں سے ایک ایسی جماعت کو دیکھ کر بےحد خوشی ہوئی جو نہایت منظّم،نہایت مخلص اور اپنے خلیفہ کی ہدایات پر پوری طرح عمل کرنے والی ہے۔ کہتے ہیں یہ تو مجھے پہلے معلوم تھا کہ آپ لوگ انسانیت کی خدمت کے لیے بہت کچھ کرتے ہیں جیسے عطیات ہیں، پانی کے کنویں ہیں، مساجد ہیں، ہسپتال ہیں، امدادی سرگرمیاں ہیں، دیگر فلاحی منصوبے ہیں لیکن آج میں آپ کی انسانی اقدار، انسانی ترقی کے لیے کوششوں، دانائی، بنیادی تعلیم کے فروغ اور تعلیمی اداروں کو نمائشوں میں دیکھ کے مزید متاثر ہوا ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ میں آپ کو دل کی گہرائیوں سے خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ اورکہتے ہیں امام جماعت سے میری میٹنگ ہوئی اس سے بھی مجھے جماعت کو سمجھنے کا بہت موقع ملا۔
اسی طرح
سینیگال
سے مورمان کابا جاکاٹے صاحب ممبر پارلیمنٹ ہیں۔ کہتے ہیں :مَیں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ عوام کی خدمت، عزّتِ نفس، حوصلہ اور عزم آپ کی نمایاں خصوصیات ہیں۔
الفاظ سے بڑھ کر مَیں نے یہاں خدمت والا اسلام دیکھا۔ ایسے ہاتھ دیکھے جو دیتے ہیں، ایسے دل دیکھے جو معاف کرتے ہیں اور ایسے دروازے دیکھے جو ہمیشہ دوسروں کے لیے کھلے رہتے ہیں۔
کوسووو
سے پروفیسر ڈاکٹر حَلیل ابراہیمی (Halil Ibrahimi) صاحب ایک ممتاز ماہر تعلیم ہیں۔ موصوف محقق ہیں اور یونیورسٹی کے پروفیسر ہیں اور اپنی علمی کاوشوں اور تحقیقی سرگرمیوں کے باعث کوسووو میں نہایت عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ کہتے ہیں: ہر شعبے میں نظم و ضبط،تعاون اور ایثار کی جو عملی تصویر دیکھنے کو ملی وہ واقعی قابل رشک تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ ہر اس شخص کی طرف سے ملنے والی محبت، خلوص، احترام اور فراخدلانہ مہمان نوازی نے اس تجربے کو میرے لیے ناقابل فراموش بنا دیا۔ کہتے ہیں ان ایام کے دوران مختلف تقاریر سننے اور بالخصوص امام جماعت کی تقریر سننے کاموقع ملا۔ ملاقات بھی ہوئی ان سے۔ جس چیز نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ امن، بین المذاہب ہم آہنگی، انسانی مساوات، باہمی احترام اور معاشرے کے ہر فرد کو ساتھ لے کر چلنے کے تصوّر پر مسلسل اور غیر معمولی زور تھا۔ آج کے دَور میں جب دنیا کے کئی حصوں میں مذہبی غلط فہمیاں، انتہا پسندی اور عدم برداشت ایک سنجیدہ چیلنج بن چکے ہیں وہاں یہ پیغامات نہایت بروقت، امید افزا اور انسانیت کے لیے راہنمائی فراہم کرنے والے محسوس ہوتے ہیں۔
سپین
سے خوان انتونیو ریجیس (Juan Antonio Reyes) جو پیدروآباد کے میئر ہیں۔ کہتے ہیں :جلسہ سالانہ نے ہمیں یہ دیکھنے کا موقع فراہم کیا ہے کہ یہ اجتماع محض عقیدے کا جشن نہیں بلکہ مختلف ممالک، ثقافتوں اور حقائق سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے درمیان بقائے باہمی کا ایک غیر معمولی مظاہرہ ہے جو امن،احترام اور بھائی چارے کی مشترکہ اقدار کے تحت یکجا ہے۔ کہتے ہیں مختلف نمائشوں اور معلوماتی پروگرام کے ذریعے احمدیہ مسلم جماعت کی جانب سے مختلف شعبوں میں کی جانے والی خدمات کا بھی مجھے علم ہوا۔
آسٹریا
سے دو مہمان وکلاء کیرو لِن (Kerolin) صاحبہ اور ہانہ (Hanna) صاحبہ شامل ہوئیں۔ کہتی ہیں کہ جلسہ سالانہ میں شمولیت کو ہم اپنی خوش قسمتی قرار دیتے ہیں۔ انتظامات کو دیکھ کر حیران ہوئے۔ ہر طرف امن کی فضا تھی۔ کہتی ہیں مَیں نے جلسہ گاہ میں بھی اور باہر ہر طرف پھر کر جائزہ لیا۔ نہ کوئی لڑائی تھی۔ نہ کوئی شور تھا۔ اتنے پُرسکون اور پُرامن لوگ دنیا میں نہیں ہیں۔ ہر کوئی ایک دوسرے کی مدد کے لیے تیار تھا۔ بچوں کو پانی پلاتے دیکھ کر خوشی ہوئی۔ اور ہیومن رائٹس کی میٹنگ میں شامل ہوئی۔ کمیونٹی کا ساری دنیا میں امن پھیلانے کا خیال اور حقوق قائم کرنے کا خیال رکھنا، صرف احمدیوں کے لیے نہیں بلکہ ہر ایک مظلوم کے لیے آواز اٹھانا، یہ بڑی بات ہے جس سے میں بہت متاثر ہوئی۔ وہ تو اتنی زیادہ متاثر ہوئی ہیں کہ اپنے مبلغ سے وعدہ لے کر گئی ہیں کہ اگلے سال بھی یہاں لے کر آؤ۔
بولیویا
سے صحافی گائیڈر گین (Guider Guillen) جلسہ میں آئے تھے۔ کہتے ہیں کہ جماعت احمدیہ مسلمہ کے جلسہ سالانہ میں شمولیت اختیار کرنا میرے لیے ایک شاندار تجربہ تھا۔ اسی طرح مَیں تقریروں سے بہت متاثر ہوا۔ امام جماعت کی تقریر سے متاثر ہوا۔ اور کہتے ہیں کہ ایک ایسا جلسہ تھا جو ہمیشہ کے لیے ہماری زندگیوں میں نقش ہوجائے گا اور ہمیں اپنے ربّ کے قریب ہونے اور اس کی رحمت حاصل کرنے کا راستہ دکھائے گا۔ اللہ تعالیٰ کرے کہ اسلام کے پیغام کو بھی قبول کرنے والے بن جائیں۔ کہتے ہیں ذاتی طور پر یہ دیکھنے کا موقع ملا کہ سالہا سال سے غلط طور پر جو یہ پروپیگنڈا پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ مسلمان عورت مظلوم ہے اور دباؤ میں ہے وہ بالکل جھوٹ ہے اس کے برعکس اسلام میں عورت کو جو عزت، حفاظت اور اہمیت دی جاتی ہے اس سے میں بہت متاثر ہوا ہوں۔
کوسووو
سے اَوْنی جاشَری (Avni Jashari) صاحب جو بلدیہ لپجان کے چیف آف کیبینٹ ہیں، کہتے ہیں کہ امام جماعت کا خطاب سننے کا موقع ملا اور جلسے کے شروع ہونے سے پہلے جمعرات کی رات کو رضاکاروں کو نصیحت کی تھی کہ مہمانوں کی خدمت کو ایک عظیم ذمہ داری سمجھتے ہوئے محبت، عاجزی، خلوص اور بہترین اخلاق کے ساتھ انجام دیں۔ کہتے ہیں اس وقت مجھے یہ نصیحت اچھی لگی تھی لیکن مجھے اندازہ نہیں تھا کہ اگلے ہی دن اس کا عملی نمونہ اپنی آنکھوں سے دیکھوں گا۔ کہتے ہیں میری طبیعت اچانک خراب ہو گئی۔ چکر آنے شروع ہوگئے، طبیعت خراب ہو گئی، قے آنی شروع ہو گئی، فوراً فرسٹ ایڈ والوں نے مجھے دیکھا، چھ ڈاکٹر میرے ارد گرد اکٹھے ہو گئے۔ اس طرح محسوس ہوا کہ جس طرح اپنے گھر میں ہوں۔ تو اس لمحے
مجھے احساس ہوا کہ خلیفة المسیح کی ہدایات صرف الفاظ نہیں تھے بلکہ ہر رضاکار کی عملی زندگی کا حصہ ہیں۔
جاپان
سے ہیرَویُوکی اَیْوَا مَوْتَو (Hiroyuki Iwamoto) صاحب کہتے ہیں کہ ہمارے لیے بہت یادگار سفر تھا۔ ہم نے جلسہ کے ماحول کو محبت اور روحانیت سے بھرپور محسوس کیا۔ خدمت کرنے والے کارکنان کا جذبہ، پانی پلانے والے بچوں کی خدمت کا انداز اور خلافت کے ساتھ جماعت کا تعلق اور آپ کو دیکھنے کی تڑپ، یہ بہت زبردست تجربہ تھا۔
ایک اَور دوست
لبنان سے ہیں اور بیلجیم
کے رہائشی ہیں۔ کہتے ہیں میں چونکہ ڈپلومیٹک کور میں کام کرتا ہوں اور مَیں دنیا میں مختلف مقامات پر جہاں بڑی بڑی میٹنگز ہوتی ہیں جاتا ہوں چاہے وہ قطر ہو، برسلز ہو اور دوسری بڑی بڑی جگہوں پر ہوںلیکن مَیں نے کہیں بھی اس جلسے کی طرح بڑا اعلیٰ اور منظم پروگرام نہیں دیکھا کہ پچاس ہزار سے زائد افراد ہیں کوئی کسی کو دھکا نہیں مار رہا، کوئی برا بھلا نہیں کہہ رہا۔ ہر کوئی عزّت و احترام اور محبت سے مل رہا ہے اور اسلام کی جو اخوّت کی تعلیم ہے مَیں نے عملی طور پر یہاں دیکھی ہے۔ اسی طرح قرآن کی جوتعلیم ہے کہ لَآ اِكْرَاہَ فِي الدِّيْنِ (البقرہ:257)۔ وہ مجھے عملی طور پر یہاں جلسہ میں نظر آئی ہے کہ یہاں دوسرے مذاہب کے لوگ بھی آ رہے ہیں، یہاں رہ رہے ہیں، ان کا بھی ادب واحترام کیا جا رہا ہے اور خوشی سے آزاد گھوم رہے ہیں۔
ارجنٹائن
سے ’’سرجیوروبن‘‘ (Sergio Rubin) نے بھی یہاں شرکت کی۔ ملک کے سب سے اہم نیشنل اخبار کلیرین (Clarin) میں مذہبی امور کے چیف ایڈیٹر ہیں۔ کہتے ہیں :جب آنے سے قبل میں نے اپنے اخبار کو اس جلسہ میں شرکت کے بارے میں اطلاع دی تو میرے بہت سارے کولیگز (colleagues)نے اسلام کے خلاف جو عمومی تعصبات ہیں، ان کی بنا پر مشورہ دیا کہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کر لو۔ بہرحال جب مَیں نے جلسے کے ماحول کو براہ راست مشاہدہ کیا تو پتا چلا کہ اسلام کے ایک پُرامن مذہب ہونے کا بہترین ثبوت آپ کی جماعت خود ہے اور آپ کے جلسے کا یہ پُرامن ماحول ہے۔ اس قدر بڑے اور وسیع مجمعے کے باوجود ہر طرف امن اور سلامتی کی فضا تھی۔ کہتے ہیں جلسے کے آخری دن انہوں نے ٹی وی چینل ٹی این پر جلسےکی لائیو نشریات نشر کیں تاکہ ناظرین کو بھی یہ ماحول دکھایا جائے اور اس بات پر بھی زور دیا کہ اسلام ایک امن اور سلامتی کا مذہب ہے اور جماعت کوبحیثیت دلیل پیش کیا۔ خود کیتھولک ہیں۔ کہتے ہیں آپ کے خلیفہ کا جلسے کا افتتاحی خطاب مجھے پسند آیا جس میں انہوں نے تقویٰ کی بات کی جو ہر دین کی اصل ہے۔ اور کہتے ہیں بحیثیت عیسائی مجھے اس پہلو سے اپنے علم و عرفان میں بہت اضافہ کرنے کا موقع ملا۔
لتھوانیا
سے سَوْتِیلَانَا مارکے ویچینے (Mrs. Svetlana Markeviciene) صاحبہ کہتی ہیں کہ جلسہ سالانہ کے موقع پر مسلمانوں میں رہ کر ان کے طور طریقے قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ بہت کچھ نیا سیکھا۔ امام جماعت کا خواتین سے خطاب سن کر اسلام میں عورت کے مقام کے بارے میں میری بہت سی غلط فہمیاں دُور ہوئیں۔ یہ جان کر خوشی ہوئی کہ اسلام عورت کو عزّت، تحفظ اور اس کے بنیادی حقوق کی تعلیم دیتا ہے۔ خطاب نہایت متوازن، مدلّل اور دل کو چھو لینے والا تھا جس نے مجھے اسلام کے بارے میں مزید مثبت انداز میں سوچنے کا موقع فراہم کیا۔
سوئٹزرلینڈ
سے اقوام متحدہ کی ہیومن رائٹس کنسلٹنٹ جولیا پرتیسی (Giulia Pratesi) کہتی ہیں: میرے لیے ایک منفرد تجربہ تھا اور اجتماع میں شرکت کے ذریعے مجھے ایک ایسی مذہبی برادری کو قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملا جس کے بارے میں پہلے میری معلومات محدود تھیں۔ رضا کار اور شرکاء کی مہمان نوازی،خوش اخلاقی اور تعاون نے مجھے بہت متاثر کیا۔ ہر ایک نہایت خندہ پیشانی سے ملتا۔ سوالات کے جواب مجھے دیتے اور ہمیشہ اس بات کو تیار رہتے کہ ہمیں سوال کے جواب دیں جس کی وجہ سے مجھے جماعت احمدیہ مسلمہ کی تاریخ، روایات اور بنیادی اقدار کو بہتر انداز میں سمجھنےکاموقع ملا۔ مختلف نمائشوں کی بھی تعریف کی ہے انہوں نے کہ بہت دلچسپ نمائشیں تھیں جس میں تاریخ، انسانیت کی خدمت کے منصوبوں اور ہر شعبہ میں اس کی خدمات کو موثر انداز میں پیش کیا گیا تھا۔ خواتین کے کردار سے متعلق نمائش میرے لیے خاص طور پر معلومات افزا ثابت ہوئی کیونکہ اس نے اس موضوع کو جماعت کے اپنے نقطہ ٔنظر سے سمجھنے کا موقع فراہم کیا۔
ٹورین،اٹلی
سے پروفیسر فیدریکا سونا (Federica Sona) صاحبہ کہتی ہیں کہ جلسہ سالانہ میں انہیں دور اندیشی اور روحانیت کا ایک خوبصورت امتزاج نظر آیا۔ عقلی نقطہ نظر سے دیکھیں تو حیران کن بات یہ تھی کہ سارا انتظام کتنی خوش اسلوبی سے چل رہا تھا جیسے ہوا اپنے ساتھ لیے جا رہی ہو۔ چھوٹے سے چھوٹے رضاکار سے لے کر جو پانی پلانے کی ڈیوٹی پر تھا، بڑی عمر تک کے کارکنان سب میں نیک نیتی، مہمان نوازی، خوش اخلاقی اور مسکراہٹ مشترک تھی۔ جذباتی طور پر مَیں کہتی ہوں کہ ایک بڑے بین الاقوامی خاندان میں خوش آمدید کہا جا رہا ہو۔ اس طرح لگ رہا تھا کہ مہمان کو خوشی سے قبول کیا جاتا ہے اور توجہ اور محبت سے پیش آیا جاتا ہے۔ کہتی ہیں میری ملاقات کئی مردوں اور عورتوں اور بچوں سے ہوئی جنہوں نے ان کے ساتھ مسکراہٹ بانٹی، راستہ ڈھونڈنے میں مدد کی یا اپنی زندگی کے تجربات کبھی دردناک، کبھی خوشگوار اور کبھی روشن خیال بیان کیے۔ خاص طور پر روحانی اور باریک پہلوؤں کا ذکر کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ واضح خوابوں میں پیشگی اطلاعات جیسے واقعات جو بعض احباب نے ان سے شیئر کیے، اس سے وہ بہت متاثر ہوئی ہیں۔ کہتی ہیں کہ یہ جماعت ایک ایسا بڑا اور متحد خاندان ہے جو جغرافیائی حدود سے ماوراء ہے۔
جِیْنَاپ آئدن (Cenap Aydin) صاحب جو
رُوم
میں مذاہب کی سوشیالوجی کے اسکالر ہیں۔ کہتے ہیں سب سے پہلے جو چیز نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ اتنی زیادہ قومیّتیں،زبانیں اور ثقافتیں ایک ہی جگہ جمع ہیں۔ مختلف ممالک کے جھنڈوں کو جماعتی پرچم کے ساتھ لہرانے کی تقریب اس بین الاقوامی یگانگت کو نمایاں کرتی ہے۔یعنی ایک ایسی چھوٹی سی دنیا جہاں مختلف قومیں اپنی انفرادیت ختم کیے بغیر اکٹھی رہتی ہیں۔ کہتے ہیں بحیثیت مذہبی سوشیالوجی کے طالب علم یہ دیکھنے کا موقع ملا کہ ایک دینی جماعت کس طرح مقامی شناخت اور عالمی یگانگت کو ایک ساتھ لے کر چل سکتی ہے۔ اسی طرح مہمان نوازی کی انہوں نے بڑی تعریف کی۔ کارکنان کی بڑی تعریف کی۔
کینیڈا
کی سٹونی ناکوڈا (Stoney Nakoda) فرسٹ نیشن سے ہیں۔ نام ان کا ہے ریورنڈٹونی سنو (Rev. Tony Snow) صاحب۔ کہتے ہیں :اتنے بڑے وسیع اجتماع کو دیکھنا میرے لیے بہت دلچسپ تھا۔ یہاں بہترین انتظامات کیے گئے اور ہر شخص اپنی استطاعت کے مطابق کاموں کو چلانے کے لیے بھرپور کوشش کر رہا تھا۔ اور کہتے ہیں یہ کام آسان نہیں ہوتا لیکن جس جذبے سے یہ کام ہو رہا تھا اس سے میں بہت متاثر ہوا ہوں۔
ترکی
سے غیراز جماعت مہمان پروفیسر متین بوزان (Metin Bozan) صاحب جو دِجلہ یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں۔ شعبہ تاریخِ مذاہبِ اسلام کے صدر ہیں۔ اپنی زیر نگرانی جماعت کے بارے میں طلباء کو تھیسز بھی لکھوا چکے ہیں۔ کہتے ہیں کہ جلسے کے ہر انتظام اور ہر کام میں مکمل ڈسپلن نظر آیا اور یہ آگے کہتے ہیں کہ ہمارا تو یہ اصولی نظریہ ہے کہ جو شخص بھی اللہ، رسولؐ اور آخرت جیسی شرائط ایمان اور شرائط اسلام کو مانتا ہے ہم اسے مسلمان سمجھتے ہیں اور اس کی تکفیر کرنا جائز نہیں سمجھتے۔ لہٰذا ہماری نظر میں احمدی بھی مسلمان ہیں۔
کاش کہ پاکستانی علماء کو بھی یہ بات سمجھ آ جائے۔
پھر کہا کہ جماعت کی بین الاقوامی امن سلامتی کے لیے کاوشوں کو مَیں بہت سراہتاہوں۔ اسی طرح انہوں نے ہر موقع پر مردوں اور خواتین کے الگ الگ انتظام دیکھے اور یہ نتیجہ اخذ کیا کہ جماعت میں اسلامی پردہ کی تعلیم کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔
فرانس
سے تیری والے (ThierryValle) صاحب جو Coordination of Associations and Individuals for Freedom of Conscienceکے صدر ہیں، کہتے ہیں کہ بے عیب انتظامات تھے۔ پُرامن ماحول تھا۔ بڑا سکون تھا۔ امام جماعت کا اختتامی خطاب واقعی ایک عظیم مشعلِ راہ اور دلی طور پر متاثر کن تھا۔ اس نے ہمارے ان اعلیٰ معیاروں کی یاددہانی کرائی جو ہمیں اپنے لیے قائم کرنے چاہئیں اور اس پُرامن دنیا کا احساس دلایا جس کی تعمیر کے لیے ہم سب کوکوشاں رہنا چاہیے۔ پھر کہتے ہیں کہ میںبڑا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ یہاں آکے مجھے احساس ہوا کہ جماعت احمدیہ دنیا میں امن اور محبت اور بھائی چارے کا جو پیغام دیتی ہے اس کا عملی ثبوت اس شکل میں دیکھا کہ سَو ممالک سے زیادہ لوگ ایک گلدستے کی طرح جمع ہیں اور خوشبو مَیں نے خود محسوس کی۔
بیلجیم
سے ایک جنرلسٹ ہیں وہ کہتے ہیں :مَیں پہلے بھی شامل ہو چکا ہوں لیکن اس سال کہتے ہیں میں امام جماعت کے مستورات کے خطاب سے متاثر ہوا جس میں عورتوں کو encourageکیا گیا کہ نہ صرف وہ دینی علم حاصل کریں بلکہ دنیاوی علم بھی حاصل کریں اور دنیا کے ہر شعبے میں آگے بڑھیں۔ اسی طرح
جاپان
سے پروفیسر مینےساکی ہیروکو (Minesaki Hiroko) صاحبہ ہیں۔ انہوں نے جماعت احمدیہ پہ ایک تحقیقی کتاب بھی لکھی ہے جس کے لیے وہ ربوہ بھی گئیں، قادیان بھی گئیں اَور مختلف جگہوں پہ گئیں۔ بڑا گہرا علم ہے ان کا۔ کہتی ہیں کہ جلسے میں ایک جرمن نوجوان مجھے ملا۔ اس نے آج ہی بیعت کی تھی۔ مَیں نے اس سے پوچھا کہ تمہیں کس چیز نے بیعت کرنے کی طرف راغب کیا ہے؟ کہنے لگا کہ جلسہ کے ماحول نے، احمدیوں کے بھائی چارے اور باہمی محبت نے مجبور کیا ہے۔ اسی طرح ڈیوٹی والوں کی انہوں نے بڑی تعریف کی ہے۔
اسی طرح آرچی صاحب جو کہ انڈونیشین ہیں اور
یونان
میں اپنی یونانی نو مسلمہ غیر احمدی اہلیہ کے ساتھ رہتے ہیں۔ کہتے ہیں دعوت ملی تو مَیں نے یہ سوچا کہ ایک روحانی سفر ہے۔ مجھے اللہ تعالیٰ کے قریب لائے گا اس لیے میں یونان چھوڑ کے یہاں آ گیا اور خلیفہ وقت کی تقاریر نے مجھ پر گہرا اثر چھوڑا۔ لوگوں کی خدمات نے، خدمت جو کارکنان کر رہے تھے اس نے مجھ پرگہرا اثر چھوڑا۔
لٹویا
کے مہمان ہیں نَارْمُنْدَزْ (Normunds Boluzs)، پولیٹیکل سائنس میں انہوں نے ماسٹر کیا ہوا ہے۔ ان کا مقالہ تھا ’’پاکستان میں احمدیوں کے خلاف ظلم و زیادتی اور ناانصافیاں‘‘۔ یہ شامل ہوئے۔ کہتے ہیں: اسلام اور احمدیت کے بارے میں میرے جو سوالات تھے جلسے کے دوران مجھے میرے تمام سوالوں کا جواب مل گیا۔
پھر
یونان
کے وفد میں ایک مہمان خاتون تھیں۔ یہ کہتی ہیں خوبصورت تجربہ تھا۔ رضاکاروں میں سے ہر ایک مہمانوں کے ساتھ بہت دوستانہ اور مددگار تھا۔ نمائشیں بہت اچھی تھیں خاص طور پر ریویو آف ریلیجنز کی اسلام کی تاریخ کے بارے میں نمائش۔ مَیں کئی گھنٹے گزارنا چاہتی تھی۔ آثار قدیمہ کے بارے ساری تعریفیں کرنے کے بعد کہتی ہیں کہ ایک بات ایسی ہے جو مجھے پسند نہیں آئی اور وہ یہ کہ بعض خواتین اسلامک ڈریس کوڈ یعنی پردے کی اچھی طرح پیروی نہیں کر رہی تھیں اور بعض مرد بھی غَضّ بصر میں کمزوری دکھا رہے تھے۔ باوجودیکہ مَیں نے اس بارے میں خاص طور پر تلقین کی تھی۔ تو منفی تبصرے کو بھی ہمیں اپنی اصلاح کے لیے سوچنا چاہیے، سننا چاہیے۔
پس
جو بے احتیاطی کرتے رہے ہیں انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ غیر ہمیں بڑی گہری نظر سے دیکھتے ہیں اور ہمیں انہیں کوئی ایسا موقع نہیں دینا چاہیے جس سے اسلام کی حقیقی تصویر پرداغ آئے
بلکہ جلسے کی تقریروں کے دوران میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک اقتباس بھی پڑھا تھا کہ غیروں کو ایسا موقع نہ دو کہ جو ہم پر انگلی اٹھائیں۔
(ماخوذ از ملفوظات جلد3صفحہ143،ایڈیشن2022ء)
پولینڈ
سے ’’وہ پوویجک لمنتوویچ‘‘ (Wojciech Lamentowicz)، ان کے نام ذرامشکل ہوتے ہیں، بہرحال یہ انسانی حقوق کے پروفیسر ہیں اور یہ یونیورسٹی کے چانسلر بھی رہے ہیں۔ قانون پڑھاتے ہیں۔ کہتے ہیں:انتظامات دیکھ کر بہت متاثر ہوا اور امام جماعت سے جو میری ملاقات ہے اس کے تاثرات اور جذبات کو بیان کرنے کے لیے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔ ذاتی طور پر مجھے کہتے ہیں کہ ان سے باتیں کیں بڑا متاثر ہوا۔ کہتے ہیں جو کچھ مَیں نے یہاں سیکھا ہے اب وہ میں اپنے طلبہ تک پہنچاؤں گا تاکہ انہیں اسلامی تعلیمات کے حقیقی معنی معلوم ہوں۔
چند واقعات جومَیں نے لیے تھےان میں سے بھی یہ چند واقعات بیان کیے ہیں۔
پریس اینڈ میڈیا
کے بارہ میں ان دنوں میں جیسا کہ میں نے کہا پریس سیکشن کی طرف سے بھی اور یو کے کے پریس کی طرف سے بھی کافی کوریج ملی ہے اور برطانیہ کا جو مؤقر اخبار ہے ’’دی ٹائمز‘‘ اس نے اپنے پرنٹ اور آن لائن ایڈیشن میں خبر شائع کی تھی۔اور دوسرے پریس کی طرف سے بھی۔ میڈیا کوریج میں پرنٹ آرٹیکلز کی تعداد سولہ(16) ہے۔ قارئین کی تعداد ایک کروڑ ہے۔ ریڈیو پروگرام پینتیس (35)ہوئے۔ گذشتہ سال کی نسبت دس کا اضافہ ہے۔ ٹی وی پروگرام چھ ہوئے جن کو دیکھنے والوں کا اندازہ بہتّر لاکھ کا ہے۔ سوشل میڈیا پرپانچ لاکھ تیس ہزار views ہوئے اور یو کے سیکشن کی ایک رپورٹ میں یہ کروڑوں میں بھی ہے۔
پریس اینڈ میڈیا کے ذریعے سے مجموعی کوریج
پانچ کروڑاٹھائیس لاکھ افراد تک ہوئی ہے۔
اور کوئی بارہ مختلف اخباروں نے اور ٹیلی ویژن چینل نے کوَر کیا۔ اس میں مشہور نیشنل چینل اور اخبار تھے۔
صحافیوں کے تاثرات۔
ایک خاتون صحافی آخری روز بیعت دیکھنے کے بعد کہتی ہیں کہ میں بہت متاثر ہوں۔ جذبات سے میری آنکھیں بھر آئی ہیں۔یہ ایک ایسا نظارہ تھا جو مَیں نے دنیا میں کبھی نہیں دیکھا اور میرا نہیں خیال کہ دنیا میں کوئی اَور کبھی ایسا تجربہ اور ایسے تقریب منعقد کر سکتا ہے۔ یہ منظر سانسیں روک دینے والا تھا اور مَیں مکمل طور پر اس کے سحر میں ہوں۔ اس طرح کے تاثرات اَور بھی لوگوں کے ہیں۔
ایم۔ٹی۔اے افریقہ
کی طرف سے بھی بڑا کام ہو رہا ہے۔ بیس صحافی یہاں شامل ہوئے تھے۔ انہوں نے ایک سو ستاون رپورٹس بھجوائیں۔ چھ کروڑ تیس لاکھ سے زائد گھروں تک ان کی جلسے کی خبر پہنچی۔
جلسہ سالانہ کی افریقہ کے اٹھارہ سے زائد چینلز پر براہ راست خبر نشر ہوئی۔ خطابات نشر ہوئے اور نشریات کی رسائی کا اندازہ تین کروڑ پچاس لاکھ سے زائد افراد تک ہے۔
افریقہ میںغیر احمدی ناظرین کے تاثرات یہ تھے۔
سیرالیون
کے گاؤں ٹینٹا فور سے پادری جارج کہتے ہیں کہ پیشے کے اعتبار سے مَیں استاد ہوں اور سیرالیون کے گاؤں ٹینٹا فور میں رہتا ہوں۔ مَیں احمدی مسلمان نہیں ہوں۔ جلسہ سالانہ برطانیہ کے تینوں ایام کے دوران جس بات نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ احمدی مسلمانوں کی خلافت سے گہری محبت اور تمام بنی نوع انسان کے لیے ان کی طرف سے امن، محبت، وفاداری اور احترام کا اظہار تھا خواہ ان کا تعلق کسی بھی ملک یا خطے سےہو۔کہتے ہیں مجھے چرچ جانا تھا اتوار کو لیکن مَیں نے مسجد جا کے عالمی بیعت دیکھنے کا فیصلہ کیا اور وہاں جو کچھ مَیں نے دیکھا وہ میرے تصوّر سے یکسر مختلف تھا۔ اب میں سمجھ گیا ہوں کہ جماعت احمدیہ مسلمہ دنیا بھر میں اس قدر تیزی سے کیوں پھیل رہی ہے۔
اسی طرح اَور بہت سارے پادری ہیں، اَور پڑھے لکھے لوگ ہیں انہوں نے اپنے تاثرات بھیجے ہیں۔
اللہ تعالیٰ اس جلسے کے جہاں نیک اثرات تمام جماعت کے افراد پر قائم فرمائے وہاں لوگوں کی بھی راہنمائی فرمائے اور انہیں صحیح اسلام اور احمدیت کی طرف راغب کرے۔
٭…٭…٭



