یادِ رفتگاں

محترم حامد مقصود عاطف صاحب مربی سلسلہ

(ف۔ ر۔ عاطف)

آج آٹھ سال کے بعد لکھنے کی جسارت کررہی ہوں۔ وہ بھی اس شخص کے بارے میں جس نے مجھے لکھنے کی ہمّت دلائی۔ مَیں کوئی بڑی لکھاری نہیں ہوں۔ بس امی اور ساس صاحبہ کی وفات پر ان کے بارے میں اپنے جذبات کا اظہار کرنے کے لیے مجھے میرے شوہر محترم حامد مقصود عاطف صاحب نے پُرزورآمادہ کیا۔ بلکہ یوں کہوں تو بے جا نہ ہوگا کہ میں نے تو اپنے جذبات ٹوٹے پھوٹے بکھرے لفظوں میں حوالہ قرطاس کر دیے تھے۔ ان کو ترتیب دے کر انہوں نے ہی مضمون کی شکل میں نہ صرف ڈھالا بلکہ ان کی اشاعت بھی ممکن بنائی۔ اسی لیے جب ان کے بارے میں سوچا کہ کچھ لکھوں تو یہی سوچتے ہوئے اتنے سال گزر گئے کہ کیا لکھوں اور کیا نہ لکھوں۔ کون ترتیب دے گا میری منتشر سوچوں کو؟ اب کچھ طبیعت میں ٹھہراؤ آیا تو سوچا کہ یہ میرے ذمہ قرض ہے۔ اس کو ادا کرنا چاہیے۔ سو آج ان کے ساتھ گزرے ہوئے ماہ وسال آپ کے ساتھ شیئر کررہی ہوں۔

مربی صاحب ۱۹۶۹ء میں پیدا ہوئے۔ تعلیم الاسلام ہائی سکول سے میٹرک اچھے نمبروں سے پاس کیا۔ آپ نے ۱۹۹۱ء میں جامعہ احمدیہ سے شاہد کی ڈگری حاصل کی۔

خدماتِ دینیہ: جامعہ احمدیہ پاس کرنے کے بعد آپ کو پاکستان کی مختلف جماعتوں میں بطور مربی سلسلہ کام کرنے کی توفیق ملی جن میں بہاولپور ، پشاور ، اسلام آباد اور کوٹلی آزاد کشمیر شامل ہیں۔ آپ نے نمل یونیورسٹی اسلام آباد سے فرنچ میں ڈپلومہ حاصل کیا۔ جس کے چند ماہ بعد آپ کو افریقہ کے ملک آئیوری کوسٹ بھجوایا گیا۔ آپ نے ۱۹۹۷ء سے ۲۰۰۲ء تک آئیوری کوسٹ میں خدمات سر انجام دیں۔ جس کے بعد آپ کو برکینا فاسو بھجوایا گیا جہاں آپ نے ۲۰۱۶ء تک خدمات سرانجام دیں۔ اس دوران میں آپ کو گردوں کی بیماری کی وجہ سے علاج کی غرض سے واپس پاکستان بلا لیا گیا۔ طاہر ہارٹ انسٹیٹیوٹ ربوہ میں تقریباً ڈیڑھ سال آپ کے ڈائلسز ہوتے رہے۔ اس دوران آپ کو انفیکشن ہو گیا اور تقریباً دو ماہ انفیکشن سے مقابلہ کرنے کے بعد۲۲؍اکتوبر ۲۰۱۷ء کو آپ نے جان جانِ آفریں کے سپرد کر دی۔انا للّٰہ وانا الیہ راجعون

مربی صاحب کا وقف ایک خواب کا نتیجہ تھا۔ آپ نے خواب دیکھا کہ حضرت مرزا طاہراحمد خلیفۃ المسیح الرابعؒ کہیں خدّام سے مصافہ فرما رہے ہیں۔ تمام خدّام ایک لائن میں کھڑے ہیں۔ کہتے ہیں میں بھی اسی لائن میں کھڑا تھا۔ حضورؒ جب میرے قریب آئے تو میں نے مصافحہ کے لیے ہاتھ آگے بڑھائے تو حضورؒ نے ہاتھ پکڑکر فرمایا: ’’آپ یہاں کیوں کھڑے ہیں ادھر آئیں۔‘‘ یہ فرماتے ہوئے مجھے لائن سے نکال کر اپنے ساتھ کھڑا کیا۔ صبح اٹھتے ہی آپ نے یہ خواب اپنی والدہ کو سنایا اورساتھ ہی اپنی زندگی وقف کرنے کی خواہش کردی۔ جس پر والدہ بھی خوش ہوئیں اور یہ وقف آپ نے پوری اطاعت اوروفاداری سے تا دمِ وفات نبھایا۔

عمومی شخصیت: حامد مقصود عاطف صاحب مربی سلسلہ سے میری شادی ۱۹۹۵ء میں ہوئی۔ میں نے ان کو نہایت ہمدرد اور محبت کرنے والا ساتھی پایا۔ ہر سرد وگرم میں ساتھ رہنے والا، بلکہ یوں کہیں کہ ہرمشکل وقت میں ڈھال بن کر کھڑا ہو جانے والا۔ اور یہ ہمدردی اور محبت نہ صرف میرے ساتھ بلکہ میرے والدین، میرے بہن بھائیوں کے ساتھ بھی تھی۔ انتہائی عزت اوراحترام سے پیش آتے رہے کہ چند دنوں میں ہی فیملی کا حصہ لگنے لگے۔ انتہائی ہنس مکھ طبیعت تھی۔ جس محفل میں بیٹھتے وہاں ہنسی مذاق کے ایسے چٹکلے چھوڑتے کہ اداس سے اداس طبیعت بھی کشتِ زعفران ہو جاتی۔ بچوں کے ساتھ بچے بن جاتے، بڑوں کے ساتھ ان کے مقام کے مطابق بات کرتے اور اپنے ہم عمروں کے تو دوست بن جاتے۔ ان کی وفات کے بعد ایسے ایسے لوگوں نے تعزیت کی کہ میں ان کو جانتی تک نہ تھی۔ مگر وہ سب لوگ محترم حامد صاحب کی خوبیوں کے معترف تھے۔

عبادت گزاری: آپ نہایت منکسرالمزاج اورعبادت گزار تھے۔ اس بات پر بہت توجہ دیتے کہ جماعت کے افراد میں اللہ سے تعلق بنانے اوراس کو مضبوط کرنے کا رجحان پیدا ہو۔ اپنے بچوں کے لیے بھی کوشش کرتے کہ ہر نمازمیں شامل ہوں۔ چھوٹی چھوٹی جماعتی ذمہ داریاں بچوں پرڈالتے۔ اور پھر پوچھتے کہ کیا کیا؟ آپ خواب بہت کم دیکھتے۔ مگر سچے خواب آتے جن کی میں خود گواہ ہوں۔ اپنی والدہ کی وفات کے تین یا چار دن کے بعد ایک دن صبح اٹھ کر مجھے بتایا کہ میں نے خواب دیکھا ہے کہ میں امی سے ملنے پاکستان گیا ہوں۔ (ان دنوں ہم برکینا فاسو میں رہتے تھے) اورابا بھی موجود ہیں اورامی کہتی ہیں اکیلے آئے ہواور پھر مجھ سے مل کر بہت خوش ہوئیں۔ ٹھیک چار سال بعد مربی صاحب کی وفات ہوگئی۔

خلافت سے وفا کا تعلق: دینی محبت اورغیرت توتھی ہی، خلافت سے بھی انتہائی وفا کا تعلق تھا۔ ہرماہ حضورایدہ اللہ کی خدمت میں باقاعدگی سے دعا کا خط خود بھی لکھتے اورمجھ سے بھی لکھواتے۔ میں کئی دفعہ کہتی کہ حضورایدہ اللہ کو خط لکھنے میں جھجک محسوس ہوتی ہے کہ شروع کیسے کروں۔ پھر خود اپنے ہاتھ سے دو لائنیں لکھ کردے دیتے کہ اس طرح شروع کرو۔ اور پھراس طرح مجھے خط لکھنا آیا۔ زندگی میں دو بار اُن کوغصے میں دیکھا وہ بھی صرف اورصرف جماعت اورنظام جماعت کے دفاع میں۔ ایک دفعہ جماعتی کتب کا ایک کارٹن تھا جو ہم نے دھوپ لگوانے کے لیے باہر رکھا ہوا تھا۔ مجھے کہا کہ شام کو اندررکھوا دینا۔ لیکن میں سستی کرگئی اورنہ رکھوا سکی۔ رات کو اچانک بارش ہوگئی اورکتابیں بھیگ گئیں۔ بہت غصہ ہوئے اوربولے جماعت کا نقصان ہوا ہے۔ ہمیں اس بات کا دھیان رکھنا چاہیے تھا۔ یہ ہمارے پاس امانت ہے اوراس کی حفاظت کرنا ہمارا فرض ہے۔ پھر ایک ایک کتاب کو اندرکمروں میں پنکھے چلا کرخشک کیا۔ مگر بہت دنوں تک دکھی رہے کہ ہماری وجہ سے اتنا نقصان ہوا۔ دوسرا وہ موقع تھا جب اپنی کم فہمی اورلا ابالی پن میں مَیں نےجماعت کے نظام پر کوئی بات کہہ دی۔ جس پر بہت ناراض ہوئے اور کہا کہ ہمیں کوئی حق نہیں کہ ہم حضرت مسیح موعودؑ کی جماعت کا حصہ ہو کر ان کے نظام پر تنقید کریں۔ خبردار آئندہ کبھی ایسی بات نہ کرنا۔ ان کی ناراضگی دیکھ کر مجھے بہت افسوس ہوا کہ میں نے کم عقلی کی بات کی جو ان کو دکھی کرگئی۔ اسی طرح تربیت کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتے چاہے کچھ بھی ہو۔ غلط بات برداشت نہیں کرتے تھے۔ جب بھی حضورانور ایدہ اللہ سے ملاقات کا وقت ہوتا خود بھی زیرِلب دعائیں دہراتے اور مجھے اور بچوں کو بھی کہتے کہ دعائیں کریں کہ خلیفۃالمسیح ایدہ اللہ کے سامنے کوئی ایسی بات نہ ہو جائے جو اُن کو ناپسند ہو۔

بحیثیت والد: نہایت شفیق والد تھے۔ بچوں کے ساتھ دوستانہ ماحول رکھتے۔ ساتھ ساتھ ان کی تربیت کی ہر وقت فکر رہتی۔ جب ہم افریقہ میں تھے تو بہت خواہش تھی کہ بیٹے کو قرآن حفظ کروانا ہے۔ مگر وہاں انتظام نہیں تھا۔ جب بیماری کے بعد پاکستان آگئے تو سب سے پہلے بچوں کی تعلیم کا مسئلہ تھا کیونکہ افریقہ میں فرنچ زبان تھی جبکہ پاکستان میں اردواورانگلش تھی۔ گھر پراستاد کا انتظام کیا جو بچوں کو یہ دونوں زبانیں پڑھاتے تھے۔ پھر اسکولوں میں داخل کیا۔ جب بیٹے نے پانچویں کا امتحان پاس کیا تو اس کو مدرسۃالحفظ میں داخل کروایا۔ بہت خوش تھے کہ اللہ نے یہ خواہش پوری کردی۔ آج اللہ کے فضل سے بیٹا واصف احمد عاطف حافظِ قرآن ہے۔

بہترین دوست اور راہنما: شادی کے تقریباً ایک سال بعد ان کی آئیوری کوسٹ، ویسٹ افریقہ پوسٹنگ ہوگئی۔ اس وقت موبائل فون نہیں تھے۔ رابطے کے لیے کئی کئی گھنٹے پی سی او پرانتظارکرنا پڑتا تھا۔ پھر خطوط وغیرہ بھی مہینوں بعد ملتے تھے۔ بیٹی کی پیدائش کی خبر بھی آپ کو ایک ماہ کے بعد ملی۔ اکثر جب خطوط میں تاخیرہوجاتی یا فون پررابطہ نہ ہوتا تو مجھے پریشانی ہوتی۔ جب بھی فون کرتے یا خط لکھتے تو یہی کہتے کہ ہم سے پہلے جو لوگ افریقہ گئے ان کی مثالیں سامنے رکھا کرو اور صبر و رضا کی راہوں پر چلو۔ خود بھی صبرورضا کے پیکر تھے۔ کبھی بھی اپنی تکلیف یا مشکل نہ بتاتے بلکہ ہمیشہ صبر سے کام لیتے۔ حتیٰ کہ آخری بیماری کے ایّام بھی نہایت صبراوراللہ کی رضا میں راضی رہ کر گزارے۔ اور جب اس کا بلاوا آیا تو انتہائی خاموشی سے سر تسلیم خم کیا اورجان جانِ آفریں کے سپرد کردی۔ انا للّٰہ وانا الیہ راجعون

مزید پڑھیں: مکرم منور احمدقیصر صاحب شہید آف سلطان پورہ لاہور

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button