بنیادی مسائل کے جوابات

بنیادی مسائل کے جوابات(قسط نمبر ۱۲۴)

(مرسلہ: احسان احمد۔مربی سلسلہ دفتر پی ایس، اسلام آباد)

٭… ایک دوست نے لفظ’’ربوہ‘‘ کے حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل اور حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہما کے بیان فرمودہ الگ الگ معانی درج کر کے اس بارے میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں راہنمائی کی درخواست کی۔

٭… کیا دعا کا اثر ماحولیاتی قوتوں پر بھی ہوتا ہے،اور دعا کے نتیجہ میں ایسا ارتعاش پیدا ہوتا ہے جو بظاہر انسانی آنکھ سے اوجھل ہو لیکن قبولیت دعا پر منتج ہوتا ہو؟

٭… محترم ناظم صاحب دارالافتاء کی ایک رپورٹ بابت بیوہ کا دعا کے لیے قبرستان جانا کے بارہ میں راہنمائی۔

٭… ۱۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تحفہ قیصریہ میں ذکر فرمایا ہے کہ آنحضرتﷺنے نوشیروان کو عزت دی۔ غیر احمدیوں کا کہنا ہے کہ یہ بات درست نہیں۔ میں نے بھی تحقیق کی ہے مگر اس کے متعلق کوئی حوالہ نہیں ملا۔ راہنمائی کی درخواست ہے۔۲۔ اسی طرح کہا جاتا ہے کہ خلفائے راشدین اور صحابہ کرامؓ کے مختلف درجے ہیں۔ کیا یہ بات درست ہے؟ اور اگر درست ہے تو کیا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اصحاب اور خلافت احمدیہ میں بھی اسی طرح ہے کہ بعض بعض دوسروں سے افضل ہیں؟

سوال: یوکے سے ایک دوست نے لفظ’’ربوہ‘‘ کے حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل اور حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہما کے بیان فرمودہ الگ الگ معانی درج کر کے اس بارے میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں راہنمائی کی درخواست کی۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ ۹؍جون ۲۰۲۴ء میں اس بارے میں درج ذیل راہنمائی عطا فرمائی۔ حضور انور نے فرمایا:

جواب: لغات میں لفظ ’’ربوہ‘‘ کے دونوں ہی معانی بیان ہوئے ہیں۔ یعنی اونچی جگہ کو بھی ربوہ کہا جاتا ہے اور ایسی چیز کے لیے بھی ربوہ کا لفظ بولا جاتا ہے، جس میں بڑھنے کا مفہوم پایا جائے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس لفظ کے معانی اونچے ٹیلہ اور بلند پہاڑ کے کیے ہیں۔ (اعجاز احمدی ضمیمہ نزول المسیح، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحہ ۱۲۸،۱۲۷۔ حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۲۴۳) اس لیے جماعتی لٹریچر اور تراجم میں عموماً اس لفظ کے معانی اونچی جگہ کے ہی کیے گئے ہیں۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ کے تعلق میں قرآن کریم نے جہاں اس لفظ کو بیان فرمایا ہے تو اس سیاق و سباق میں بھی بلند اور اونچی جگہ کے معانی ہی یہاں زیادہ موزوں معلوم ہوتے ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے ابن مریم اور اس کی ماں کو ایک نشان بنایا اور ہم نے ان دونوں کو ایک اونچی جگہ پر پناہ دی جو ٹھہرنے کے قابل اور بہتے ہوئے پانیوں والی تھی۔اب اس سیاق میں اس لفظ کے معانی بڑھنے والی جگہ کریں گے تو اس کا کیا مفہوم ہو گا؟ سوائے اس کے کہ اس کی ساتھ یہ تشریح کی جائے کہ ایسی زمین جس میں جب بیج لگایا جائے تو وہ جلد جلد بڑھتا ہے اوراپناپھل لاتا ہے۔ کیونکہ قرآن کریم نے اس لفظ کو ان معنوں میں بھی بیان فرمایا ہے۔ جیسا کہ فرمایا: وَتَرَی الۡاَرۡضَ ہَامِدَۃً فَاِذَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَیۡہَا الۡمَآءَ اہۡتَزَّتۡ وَرَبَتۡ وَاَنۡۢبَتَتۡ مِنۡ کُلِّ زَوۡجٍۭ بَہِیۡجٍ ۔ (الحج :۶) یعنی تو زمین کو دیکھتا ہے کہ وہ (کبھی کبھی) اپنی سب طاقت کھو بیٹھتی ہے۔ پھر جب ہم اس کے اوپر پانی نازل کرتے ہیں تو وہ جوش میں آجاتی ہے اور بڑھنے لگتی ہے اور ہر قسم کی خوبصورت کھیتیاں اُگانے لگتی ہے۔ پس اس لفظ کے دونوں معانی ہی درست ہیں،جنہیں عبارت کے سیاق و سباق کے مطابق اختیار کیا جاتا ہے۔

سوال: یوکے سے ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے استفسار کیا کہ کیا دعا کا اثر ماحولیاتی قوتوں پر بھی ہوتا ہے،اور دعا کے نتیجہ میں ایسا ارتعاش پیدا ہوتا ہے جو بظاہر انسانی آنکھ سے اوجھل ہو لیکن قبولیت دعا پر منتج ہوتا ہو؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ ۱۹؍جون ۲۰۲۴ء میں اس بارے میں درج ذیل ہدایات عطا فرمائیں۔ حضور انور نے فرمایا:

جواب: یقیناً دعا کا اثر ماحولیات پر ہوتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نےبھی اپنی تحریرات اور ملفوظات میں قبولیت دعا کی تاثیرات اور اس کے اثر کے مضمون کو مختلف پیرایوں میں بیان فرمایا ہے۔ دعا کی فلاسفی بیان کرتے ہوئے ایک جگہ آپؑ تحریر فرماتے ہیں: ’’دُعا وہ اکسیر ہے جو ایک مشتِ خاک کو کیمیا کر دیتی ہے اور وہ ایک پانی ہے جو اندرونی غلاظتوں کو دھو دیتا ہے۔ اس دعا کے ساتھ روح پگھلتی ہے اور پانی کی طرح بہہ کر آستانہ حضرتِ اَحدیت پر گرتی ہے۔ وہ خدا کے حضور کھڑی بھی ہوتی ہے اور رکوع بھی کرتی ہے اور سجدہ بھی کرتی ہے اور اسی کی ظل وہ نماز ہے جو اسلام نے سکھائی ہے۔(لیکچر سیالکوٹ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۲۲۴،۲۲۳)

ایک اور جگہ آپؑ فرماتے ہیں: اعجاز کی بعض اقسام کی حقیقت بھی دراصل استجابتِ دعا ہی ہے اور جس قدر ہزاروں معجزات انبیاء سے ظہور میں آئے ہیں یا جو کچھ کہ اولیائے کرام ان دنوں تک عجائب کرامات دکھلاتے رہے اس کا اصل اور منبع یہی دعا ہے اور اکثردعاؤں کے اثر سے ہی طرح طرح کے خوارق قدرت قادر کا تماشا دکھلا رہے ہیں وہ جو عرب کے بیابانی ملک میں ایک عجیب ماجرا گزرا کہ لاکھوں مُردے تھوڑے دنوں میں زندہ ہوگئے اور پشتوں کے بگڑے ہوئے الٰہی رنگ پکڑ گئے۔ اور آنکھوں کے اندھے بینا ہوئے۔ اور گونگوں کی زبان پر الٰہی معارف جاری ہوئے۔ اور دنیا میں یکدفعہ ایک ایسا انقلاب پیدا ہوا کہ نہ پہلے اس سے کسی آنکھ نے دیکھا۔ اور نہ کسی کان نے سنا۔ کچھ جانتے ہو وہ کیا تھا؟ وہ ایک فانی فی اللہ کی اندھیری راتوں کی دعائیں ہی تھیں جنہوں نے دنیا میں شور مچا دیا۔ اور وہ عجائب باتیں دکھلائیں کہ جو اُس اُمّی بیکس سے محالات کی طرح نظر آتی تھیں۔(برکات الدعا، روحانی خزائن جلد ۶ صفحہ ۱۱،۱۰)

پھر فرمایا: ایک بچہ جب بھوک سے بیتاب ہو کر دودھ کیلئے چلاتا اور چیختا ہے تو ماں کے پستان میں دودھ جوش مار کر آ جاتا ہے۔ بچہ دعا کا نام بھی نہیں جانتا لیکن اُس کی چیخیں دودھ کو کیونکر کھینچ لاتی ہیں؟ اس کا ہر ایک کو تجربہ ہےبعض اوقات دیکھا گیا ہے کہ مائیں دودھ کو محسوس بھی نہیں کرتیں مگر بچہ کی چلاہٹ ہے کہ دودھ کو کھینچے لاتی ہے۔ تو کیا ہماری چیخیں جب اللہ تعالیٰ کے حضور ہوں تو وہ کچھ بھی نہیں کھینچ کر لا سکتیں؟ آتا ہے اور سب کچھ آتا ہے مگر آنکھوں کے اندھے جو فاضل اور فلاسفر بنے بیٹھے ہیں وہ دیکھ نہیں سکتے۔ بچہ کو جو مناسبت ماں سے ہے اس تعلق اور رشتہ کو انسان اپنے ذہن میں رکھ کر اگر دعا کی فلاسفی پر غور کرے تو وہ بہت آسان اور سہل معلوم ہوتی ہے۔ (ملفوظات جلد اوّل صفحہ ۱۱۱، ایڈیشن ۲۰۲۲ء)

مزید فرمایا: میں سچ کہتا ہوں کہ اگر اللہ تعالیٰ کے حضور ہماری چلّاہٹ ایسی ہی اضطراری ہو تو وہ اُس کے فضل اور رحمت کو جوش دلاتی ہے اوراس کو کھینچ لاتی ہے اور میں اپنے تجربہ کی بناء پر کہتا ہوں کہ خدا کے فضل اور رحمت کو جو قبولیت دعا کی صورت میں آتا ہے میں نے اپنی طرف کھینچتے ہوئے محسوس کیا ہے بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ دیکھا ہے۔ ہاں آج کل کے زمانہ کے تاریک دماغ فلاسفر اس کو محسوس نہ کر سکیں یا نہ دیکھ سکیں تو یہ صداقت دنیا سے اٹھ نہیں سکتی اور خصوصاً ایسی حالت میں جبکہ میں قبولیت دعا کا نمونہ دکھانے کیلئے ہر وقت طیار ہوں۔(ملفوظات جلد اول صفحہ ۱۸۴،۱۸۳۔ایڈیشن ۲۰۲۲ء)

پھر ہم یہ تجربہ بھی کر چکے ہیں کہ بادلوں کا نام و نشان نہیں ہوتا اور خدا کا ایک بندہ اپنے رب کے حضور دعا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے نتیجہ میں بارش برسا کر جل تھل کر دیتا ہے۔

پس یہ تمام چیزیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دعا ایک زبردست طاقت ہے جو اپنا اثر رکھتی ہے، جس سے حالات بدل جاتے اور ماحول انسان کے موافق ہو جاتا ہے۔

سوال: محترم ناظم صاحب دارالافتاء کی ایک رپورٹ بابت بیوہ کا دعا کے لیے قبرستان جانا کے بارہ میں راہنمائی فرماتے ہوئے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ ۱۹؍جون ۲۰۲۴ء میں اس مسئلہ کی وضاحت کرتے ہوئے درج ذیل ہدایت فرمائی۔ حضور انور نے فرمایا:

جواب: عمومی طور پر تو یہ فتویٰ بالکل ٹھیک ہے کہ اگر قبرستان اسی شہر میں ہو تو وہاں بیوہ دعا کے لیے چلی جائے لیکن دعا کے بعد سیدھی گھر واپس آئے۔اِدھر اُدھر کہیں اسے جانے کی اجازت نہیں۔

لیکن اس کے ساتھ یہ بات بھی پیش نظر رکھنے والی ہے کہ بعض ایسے جذباتی معاملات ہوتے ہیں کہ ان میں انتظامیہ کو حالات کا جائزہ لے کر ان حالات کے مطابق فیصلہ کر لینا چاہیے۔ زیر نظر مسئلہ بھی اسی قسم کا ہے کہ ایک بیٹی یا بہن(جو اپنے خاوند کی وفات کے بعد عدت گزار رہی ہو) اپنے والد یا بھائی یا اپنے کسی پیارے کا صرف چہرہ دیکھنے کے لیے کسی دوسرے شہر میں بھی چلی جائے تو اس میں بظاہر کوئی حرج کی بات نہیں،لیکن ایسی صورت میں بھی یہ احتیاط ضروری ہے کہ بیوہ کسی سوشل سرگرمی میں شامل ہوئے بغیر سیدھی چہرہ دیکھنے کے لیے جائے اور اس کے بعد فوراً واپس گھر آ جائے۔

سوال: جرمنی سے ایک دوست نے حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں استفسارات بھجوائے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تحفہ قیصریہ میں ذکر فرمایا ہے کہ آنحضرتﷺنے نوشیروان کو عزت دی۔ غیر احمدیوں کا کہنا ہے کہ یہ بات درست نہیں۔ میں نے بھی تحقیق کی ہے مگر اس کے متعلق کوئی حوالہ نہیں ملا۔ راہنمائی کی درخواست ہے۔۲۔ اسی طرح کہا جاتا ہے کہ خلفائے راشدین اور صحابہ کرامؓ کے مختلف درجے ہیں۔ کیا یہ بات درست ہے؟ اور اگر درست ہے تو کیا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اصحاب اور خلافت احمدیہ میں بھی اسی طرح ہے کہ بعض بعض دوسروں سے افضل ہیں؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ ۲۱؍جون ۲۰۲۴ء میں ان سوالوں کے درج ذیل جواب عطا فرمائے۔ حضورانور نے فرمایا:

جواب:آنحضورﷺ کے ایرانی بادشاہ نوشیروان کے بارہ میں تعریفی کلمات پر مبنی روایات کی اسناد پر علماء حدیث نے تنقید کی ہے اور ان روایات کوقابل قبول قرار نہیں دیا۔ لیکن یہ روایات نہ قرآن کریم کے خلاف ہیں اور نہ ہی یہ روایات آنحضور ﷺ کی سنت سے متضاد ہیں اور نہ تاریخی لحاظ سے ان میں کوئی نقص یا سقم پایا جاتا ہے۔ اس لیے کوئی وجہ نہیں کہ ہم ان روایات کو قابل اعتبار نہ سمجھیں، خصوصاً جبکہ خدا تعالیٰ کے ایک فرستادہ جسے اللہ تعالیٰ نے آنحضور ﷺ کی پیشگوئیوں کے عین مطابق آپ کے روحانی فرزند اور غلام صادق کے طور پر آپ ﷺ کی امت کی ہدایت اور آپ کی تعلیمات کی تجدید کے لیے مبعوث فرمایا، نے ان روایات کا ذکر کر کے انہیں قبول فرمایا ہے۔ علاوہ ازیں بعض پرانے علماء اور مؤرخین نے بھی ان روایات کو درست قرار دیتے ہوئے اپنی کتب میں ان کا ذکر کیا ہے۔ چنانچہ اٹھارویں صدی کے ایک مصری عالم امام رفاعہ رافع الطھطاوی اپنی کتاب میں، حضرت امام غزالی ؒ کے حوالہ سے لکھتے ہیں: حضور ﷺ کی ولادت ایک عادل بادشاہ کسریٰ نوشیروان کے زمانہ میں ہوئی۔ کسریٰ ہر اس بادشاہ کا لقب ہوتا تھا جو ایران پر بادشاہت کرتا تھا۔ ایک موضوع حدیث میں ہے کہ’’ میں ایک عادل بادشاہ کسریٰ نوشیروان کے زمانہ میں پیدا ہوا۔‘‘ اس حدیث کا موضوع ہونا کسریٰ کے عادل ہونے کی نفی نہیں کرتا۔ چنانچہ حضرت امام غزالی رحمہ اللہ نے کتاب’’اَلسَّیْرُ وَالسُّلُوْکُ اِلٰی مَلِکِ الْمُلُوْکِ‘‘ میں ذکر کیا ہے کہ قادر مطلق نے اپنے نبی کو اس خوش قسمت وقت اور زمانہ میں بھیجا جو بہترین بادشاہ کا زمانہ تھا، اور اس زمانہ کا بادشاہ کسرىٰ نوشیروان تھا، جو اپنے عدل اور بادشاہت میں تمام بادشاہوں سے فوقیت رکھتا تھا۔ اور یہی حقیقت ہے۔ (نهايۃ الايجاز في سيرۃ ساكن الحجاز الباب الاوّل فی مولدہ الشریف، صفحه ۴۴، الطبعۃ لاولیٰ ۱۴۱۹ھ۔الناشر دارالذخائر، القاھرہ۔)

یہاں میں یہ وضاحت بھی کر دوں کہ مذکورہ بالا حوالہ میں کتاب کے مصنف کو حضرت امام غزالی کی کتاب کا نام لکھنے میں سہو ہوا ہے۔ اصل میں حضرت امام غزالی کی کتاب’’اَلتِّبْرُ الْمَسْبُوْک فِیْ نَصِیْحَۃِ الْمُلُوْک‘‘ ہے اور اس کتاب میں حضرت امام غزالی ؒ لکھتے ہیں: خالق کائنات سبحانہ و تعالیٰ نے ہمارے نبی کریم محمد ﷺ کو آخری نبی بنا کر بھیجا۔ یہاں تک کہ آپ کی برکت سے دارالکفر دارالایمان میں بدل گیا۔اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو نہایت نیک بخت وقت اور زمانہ میں مبعوث فرمایا اور دنیا کو آپ کی شریعت سے آباد کیا اور آپ کی نبوت کے ساتھ دیگر انبیاء کی نبوت پر مہر ثبت فرمائی۔

اس زمانہ میں کسریٰ نوشیروان بادشاہ تھا۔ اور یہ وہ بادشاہ ہے جو اپنے عدل، اپنے انصاف، اپنی تدبیر اور اپنی حکمت و دانائی کی وجہ سے ایران کے باقی تمام بادشاہوں پر فوقیت رکھتا ہے۔ اور یہ سب کچھ آنحضورﷺ کی برکت کی وجہ سے تھا، کیونکہ آپ ﷺ اس کے زمانہ میں پیدا ہوئے اور آپ اس کے وقت میں پائے گئے۔ اور نوشیروان حضورﷺ کی پیدائش کے بعد دو سال تک زندہ رہا۔ اور حضور ﷺ اس کے زمانہ پر فخر کیا کرتے تھے۔ چنانچہ آپ نے فرمایا کہ میں ایک عادل بادشاہ کسریٰ نوشیروان کے زمانہ میں پیدا ہوا۔ (اَلتِّبْرُ الْمَسْبُوْک فِیْ نَصِیْحَۃِ الْمُلُوْک،الباب الاوّل فی ذکر العدل و السیاسۃ و ذکر الملوک و سیرھم۔ صفحہ۵۱ مطبوعہ مکتبہ الکلیات الازھریہ، مصر)

اسی طرح مؤرخ اسلام علامہ اکبر شاہ خان نجیب آبادی لکھتے ہیں: آنحضرت ﷺ کی ولادت کے وقت ایران کا شہنشاہ نوشیروان عادل ساسانی تھا۔ آپ کی بعثت کے وقت ایران پر نوشیروان عادل کا پوتا خسرو پرویز متمکن تھا۔(تاریخ اسلام جلداوّل صفحہ ۲۰۰۔ مطبوعہ ۲۰۱۱ءعبداللہ اکیڈمی اردو بازار لاہور)

ایک شیعہ عالم علامہ سید الحائری کہتے ہیں: میں کہتا ہوں کہ ہر شیعہ کو اس احسان کے عوض میں (جو آزادی مذہبی کی صورت میں انہیں حاصل ہے) صمیم قلب سے برٹش حکومت کا رہین احسان اور شکر گزار رہنا چاہیے۔ اور اس کیلئے شرع بھی اُن کو مانع نہیں ہے۔ کیونکہ پیغمبر اسلام علیہ و آلہٖ السلام نے نوشیروان عادل کے عہد سلطنت میں ہونے کا ذکر مدح و فخر کے رنگ میں بیان فرمایا ہے۔(موعظہ تحریف قرآن بابت ماہ اپریل۱۹۲۳ صفحہ۶۸، مرتبہ سید محمد رضی الرضوی القمی۔شائع کردہ ینگ مین سوسائٹی خواجگان نارووالی لاہور)

۲۔ صحابہ کرام اور خلفاءعظام کے درجات کے بارہ میں آپ کے سوال کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہےکہ اے مومنو! فتح سے پہلے جس نے خدا کی راہ میں خرچ کیا اور اس کی راہ میں جنگ کی وہ اس کے برابر نہیں ہو سکتا جس نے فتح کے بعد خرچ کیا اور فتح کے بعد جنگ کی۔ فتح سے پہلے خرچ کرنے والے اور جنگ کرنے والے درجہ میں بہت زیادہ ہیں اور اللہ نے دونوں قسم کے لوگوں سے نیکی کا وعدہ کیا ہے۔ اور اللہ تمہارے اعمال سے خوب اچھی طرح واقف ہے۔(الحدید :۱۱)

پس ہر مومن کا اس کی نیکیوں کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کے ہاں ایک درجہ ہے۔ اس لیے جسے اللہ بڑا قرار دے اور بڑا بنائے وہی بڑا ہے، کسی انسان کو یہ اختیار نہیں کہ وہ لوگوں میں درجہ بندی کرے۔ اسی لیے صحابہ رسول ﷺ، خلفائے کرام کے علاوہ عام صحابہ میں کسی قسم کی درجہ بندی نہیں کیا کرتے تھے۔ چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں: ہم نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں کسی کو حضرت ابوبکرؓکے برابر نہیں سمجھتے تھے۔پھر حضرت عمرؓ کے برابر، پھر حضرت عثمان ؓ کے برابر۔ پھر نبی کریم ﷺ کے باقی صحابہ کو چھوڑ دیتے تھے۔ ان میں سے کسی کو ایک دوسرے سے افضل نہیں سمجھتے تھے۔ (صحیح بخاری کتاب المناقب بَاب مَنَاقِبِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ۔ شرح بخاری جلد۷ صفحہ ۱۸۹)

حضرت علی ؓ کے صاحبزادے محمد بن حنفیہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ کے بعدلوگوں میں سب سے بہتر کون ہے ؟ تو انہوںنے کہا کہ ابوبکرؓ، میں نے کہا پھر کون؟ توانہوں نے کہا عمرؓ۔ اور میں ڈرا کہ کہيں یہ نہ کہہ دیں کہ عثمانؓ، میں نے کہا پھرآپ ؟ توانہوں نے کہا میں تومسلمانوں میں سے ایک عام سا شخص ہوں۔ (صحیح بخاری کتاب المناقب بَاب قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا۔ شرح بخاری جلد ۷ صفحہ۱۶۲)

پس جس طرح خلفائے راشدین کے لیے اللہ تعالیٰ نے ظاہری مقام اور مرتبہ بنایا، ہم بھی اسی کے مطابق ان کے مقام اور فضیلت کو مانتے ہیں۔ اور باقی سب صحابہ برابر ہیں سوائے جس کسی کو اللہ تعالیٰ نے خود اس کی کسی فضیلت کی بناء پر افضل قرار دیا وہی افضل ہے۔ اسی طرح خلفائے احمدیت میں بھی اللہ تعالیٰ نے بعض کو بعض پر فضیلت عطاء فرمائی ہے۔ چنانچہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: پھر صرف خلافت کا سوال نہیں بلکہ ایسی خلافت کا سوال ہے جو موعود خلافت ہے۔ الہام اور وحی سے قائم ہونے والی خلافت کا سوال ہے۔ایک خلافت تو یہ ہوتی ہے کہ خدا تعالیٰ لوگوں سے خلیفہ منتخب کراتا ہے اور پھر اسے قبول کر لیتا ہے مگر یہ ویسی خلافت نہیں۔ یعنی میں اس لئے خلیفہ نہیں کہ حضرت خلیفہ اوّل کی وفات کے دوسرے دن جماعت احمدیہ کے لوگوں نے جمع ہو کر میری خلافت پر اتفاق کیابلکہ اس لئے بھی خلیفہ ہوں کہ خلیفہ اوّل کی خلافت سے بھی پہلے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے خدا تعالیٰ کے الہام سے فرمایا تھا کہ میں خلیفہ ہوں گا۔ پس میں خلیفہ نہیں بلکہ موعود خلیفہ ہوں۔ میں مأمور نہیں مگر میری آواز خداتعالیٰ کی آواز ہے کہ خداتعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ذریعہ اس کی خبر دی تھی۔ گویا اس خلافت کا مقام ماموریت اور خلافت کے درمیان کا مقام ہے اور یہ موقع ایسا نہیں ہے کہ جماعت احمدیہ اسے رائیگاں جانے دے اور پھر خداتعالیٰ کے حضور سُرخرو ہو جائے۔ جس طرح یہ بات درست ہے کہ نبی روز روز نہیں آتے اسی طرح یہ بھی درست ہے کہ موعود خلیفے بھی روز روز نہیں آتے۔ ( رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۳۶ء، خطابات شوریٰ جلد دوم صفحہ ۱۸)

یہاں یہ بات بھی واضح ہو گئی کہ حضرت مصلح موعودؓ کے علاوہ جماعت احمدیہ میں آنے والے خلفاء، خلفاء حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہیں۔ اور وہ اس لحاظ سے برابر ہیں۔ ہاں اگر کسی کو کسی پر کوئی فضیلت ہے تو یہ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ بندوں کو اس کی خبر نہیں، نہ ہی کسی خلیفہ نے کہا ہے کہ میں پہلوں یا آنے والوں سے افضل ہوں۔ سب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مشن کو اپنے اپنے رنگ میں پورا کرنے والے ہیں۔

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: بنیادی مسائل کے جوابات(قسط نمبر ۱۲۳)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button