بنیادی مسائل کے جوابات

بنیادی مسائل کے جوابات(قسط نمبر ۱۲۳)

(مرسلہ: احسان احمد۔مربی سلسلہ دفتر پی ایس، اسلام آباد)

٭… ایک دوست نے حدیقۃ الصالحین میں درج درود شریف کے حوالے سے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں تحریر کیا کہ اس میں جو درود شریف درج ہے وہ اس سے مختلف ہے ، جو ہم نماز میں پڑھتے ہیں اور جسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پڑھنے کی ہدایت فرمائی ہے اور وہ بخاری میں ہے۔ اس بارہ میں راہنمائی کی درخواست ہے ؟

٭… اگر خاوند بیوی کو اس کے والدین سے ملنے سے منع کر دے کیونکہ خاوند کی اور بیوی کے گھر والوں کی آپس میں نہ بنتی ہو، اور بچے اپنے کزن وغیرہ سے ملنے کی درخواست کریں تو ایسی صورت میں بیوی کے لیے کیا حکم ہے، کیا وہ اپنے خاوند کی اجازت کے بغیر اپنے والدین وغیرہ سے نہیں مل سکتی؟

٭… السَّبِيلُ إِلَى الْبَيْتِ، الزَّادُ وَالرَّاحِلَةُ کا کیا مطلب ہے؟۲۔ کیا صحیح بخاری کی یہ حدیث درست ہے کہ جس قوم نے اپنے امور عورت کو سونپے وہ کبھی کامیاب نہیں ہو گی؟۳۔ کیا سفر میں غیر احمدی امام کے پیچھے نماز باجماعت پڑھی جا سکتی ہے؟۴۔ سٹاک ایکسچینج میں شرکت کی جاسکتی ہے؟ ۵۔ کیا باکسر محمد علی کلے حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایمان رکھتا تھا؟

٭… لجنہ کے اجتماعات کے موقع پر تلاوت قرآن کریم کا جو مقابلہ ہوتا ہے، کیا اس میں ایسی عورت جو اپنے مخصوص ایام میں ہو، حصہ لے سکتی ہے؟

٭…ایک خاتون نے حیض کے ایام میں علمی مقابلہ جات کے دوران تلاوت، حفظ قرآن، قرآنی دعاؤں، تقریر یا دینی معلومات میں موجود قرآنی آیات کے پڑھنے کے حوالے سے راہنمائی کی درخواست کی ہے۔

سوال: یوکے سے ایک دوست نے حدیقۃ الصالحین میں درج درود شریف کے حوالہ سے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں تحریر کیا کہ اس میں جو درود شریف درج ہے وہ اس سے مختلف ہے ، جو ہم نماز میں پڑھتے ہیں اور جسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پڑھنے کی ہدایت فرمائی ہے اور وہ بخاری میں ہے۔ اس بارے میں راہنمائی کی درخواست ہے۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ ۱۵؍مئی ۲۰۲۴ء میں اس بارے میں درج ذیل ہدایات فرمائیں۔ حضور نے فرمایا:

جواب:کتب احادیث بلکہ خود صحیح بخاری میں ہی اس معمول کے درود کے علاوہ جسے ہم نمازوں میں پڑھتے ہیں، کئی اور مختلف قسم کے درود بھی روایت ہوئے ہیں، جو حضورﷺنے اپنے مختلف صحابہ کو سکھائے۔ چنانچہ ایک روایت میں ہے کہ حضورﷺنے صحابہ سے فرمایا تم یہ کہو، اللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ كَمَا صَلَّيْتَ عَلٰى آلِ إِبْرَاهِيمَ وَبَارِكْ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهٖ وَذُرِّيَّتِهٖ كَمَا بَارَكْتَ عَلٰى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ۔(صحیح بخاری کتاب احادیث الانبیاء بَاب قَوْلِ اللّٰهِ تَعَالٰى وَاتَّخَذَ اللّٰهُ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلًا۔ شرح بخاری جلد ۶ صفحہ۲۵۲) ایک روایت میں ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا کہ تم کہو اللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَعَلٰى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلٰى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ اللّٰهُمَّ بَارِكْ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَعَلٰى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلٰى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ۔پھر ایک روایت میں ہے کہ آپؐ نے فرمایا کہ تم اس طرح کہو اللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ عَبْدِكَ وَرَسُولِكَ كَمَا صَلَّيْتَ عَلٰى آلِ إِبْرَاهِيمَ وَبَارِكْ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَعَلٰى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلٰى إِبْرَاهِيمَ۔ (بخاری کتاب التفسیر بَاب قَوْلِهِ إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا۔ شرح بخاری جلد۱۱ صفحہ۲۰۹،۲۰۸) ایک روایت میں ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا کہ تم یوں کہو اللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ عَبْدِكَ وَرَسُولِكَ كَمَا صَلَّيْتَ عَلٰى إِبْرَاهِيمَ وَبَارِكْ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَعَلٰى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلٰى إِبْرَاهِيمَ وَآلِ إِبْرَاهِيمَ۔ (بخاری کتاب الدعوات بَاب هَلْ يُصَلَّى عَلٰى غَيْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَوْلُ اللّٰهِ تَعَالٰى۔ شرح بخاری جلد ۱۵ صفحہ ۸۶)

اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی اس معمول کے درود کے علاوہ اپنے آقا و مولی حضرت اقدس محمد مصطفیٰﷺپر مختلف الفاظ میں درود پڑھا ہے۔ چنانچہ ایک جگہ آپ نے فرمایا اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَ عَلٰى آلِ سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ اَكْثَرَ مِمَّا صَلَّيْتَ عَلٰى أَحَدٍ مِّنْ أَنْبِيَائِكَ وَبَارِكْ وَسَلِّم۔ (ازالہ اوہام حصہ اوّل ، روحانی خزائن جلد۳ صفحہ ۲۲۶ حاشیہ)

ایک اور جگہ آپؑ فرماتے ہیں: اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى سَيِّدِنَا وَ نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ وَ آلِ سَيِّدِنَا وَنَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلٰى سَيِّدِنَا إِبْرَاهِيمَ وَاٰل سَيِّدِنَا إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ۔ اسی طرح فرمایا اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى سَيِّدِنَا وَ نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلٰى سَيِّدِنَا وَ نَبِيِّنَا إِبْرَاهِيمَ وَاٰل سَيِّدِنَا وَ نَبِيِّنَا إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ۔ (درّ مکنون المعروف بہ کلام احمد صفحہ ۱۱۳و ۱۱۴)

بعض صحابہ بشمول حضرت پیر سراج الحق صاحب نعمانیؓ، حضرت مولوی شیر علی صاحبؓ اور حضرت مولانا غلام رسول صاحب راجیکی صاحبؓ کی روایت کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مسجد مبارک قادیان کی مغربی دیوار پر مع بعض آیات قرآنی درود شریف کے درج ذیل الفاظ لکھوائے ہوئے تھے: اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ وَّ بَارِکْ وَ سَلِّمْ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ۔(رسالہ درود شریف مرتبہ حضرت مولوی محمد اسماعیل صاحب حلالپوریؓ صفحہ ۱۴۳)

حضور علیہ السلام نے اپنی بعض تصانیف میں درج ذیل الفاظ میں بھی درود درج فرمائے ہیں: اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی نَبِیِّکَ وَحَبِیْبِکَ سَیِّدِ الْاَنْبِیَآءِ وَاَفْضَلِ الرُّسُلِ وَخَیْرِالْمُرْسَلِیْنَ وَخَاتَمِ النَّبِیِّیْنَ مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِہِ وَاَصْحَابِہِ وَ بَارِکْ وَسَلِّمْ۔ (براہین احمدیہ حصہ سوم، روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۲۷۳،۲۷۲حاشیہ نمبر۱۱)

اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا وَ مَوْلٰنَا مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِہِ وَاَصْحَابِہِ اَجْمَعِیْنَ۔ (سرمہ چشم آریہ، روحانی خزائن جلد۲ صفحہ۳۰۰ حاشیہ)

اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِ مُحَمَّدٍ۔ (براہین احمدیہ حصہ چہارم، روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۶۰۷حاشیہ در حاشیہ نمبر۳)

اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ وَ بَارِکْ وَسَلِّمْ۔(کشتی نوح، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحہ ۸۵)

آپ کے اطمینان کے لیے درود کے یہ چند مختلف نمونے آپ کو بھجوا رہا ہوں، ورنہ احادیث میں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصنیفات ، ملفوظات اور مکتوبات میں ان کے علاوہ بھی بہت سے درود مختلف الفاظ میں موجود ہیں۔

سوال: یوکے سے ہی ایک خاتون نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں لکھا کہ اگر خاوند بیوی کو اس کے والدین سے ملنے سے منع کر دے کیونکہ خاوند کی اور بیوی کے گھر والوں کی آپس میں نہ بنتی ہو، اور بچے اپنے کزن وغیرہ سے ملنے کی درخواست کریں تو ایسی صورت میں بیوی کے لیے کیا حکم ہے، کیا وہ اپنے خاوند کی اجازت کے بغیر اپنے والدین وغیرہ سے نہیں مل سکتی؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ ۲۰؍مئی ۲۰۲۴ء میں اس سوال کا درج ذیل جواب عطا فرمایا۔ حضور نے فرمایا:

جواب: آنحضورﷺنے نکاح کے موقع پر جن آیات کی تلاوت کا حکم دیا ہے، ان میں رحمی رشتہ داروں کے معاملہ میں خاص طور پر تقویٰ اختیار کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس لیے صرف اس وجہ سے کہ خاوند کی بیوی کے والدین وغیرہ سے نہیں بنتی وہ اپنی بیوی کو اس کے والدین سے ملنے سے منع کردے، تقویٰ کے بالکل خلاف ہے۔

اسلام نے والدین کے حق میں بہت زیادہ تاکید فرمائی ہے کہ ان کے ساتھ احسان کا سلوک کیا جائے اور خدا تعالیٰ کے شکر کے ساتھ ساتھ والدین کا بھی شکر ادا کیا جائے۔ بلکہ یہاں تک فرمایا کہ اگر کسی کے والدین بچہ کو شرک کی تعلیم دیں تو صرف اس معاملہ میں ان کی اطاعت نہیں کرنی لیکن دنیوی معاملات میں پھر بھی ان کے ساتھ حسن سلوک ہی کرنے کا حکم ہے۔(لقمان :۱۵، ۱۶)

پھر آنحضورﷺنے بھی بڑی تاکید اور تکرار کے ساتھ رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرنے، ان سے تعلقات جوڑ کر رکھنے اور ان کے ساتھ احسان کا سلوک کرنے کا حکم دیا ہے اور اس مضمون سے احادیث بھری پڑی ہیں۔چنانچہ حضرت اسماءؓ نے حضورﷺسے دریافت کیا کہ میری والدہ جو مشرکہ ہیں، اپنے بیٹے کے ساتھ میری پاس آئی ہیں اور مجھ سے کچھ مدد چاہتی ہیں، کیا میں ان کے ساتھ صلہ رحمی کروں؟ اس پر حضورﷺنے فرمایا ہاں ہاں تم ضرور اپنی والدہ کے ساتھ صلہ رحمی کرو اور ان کی ضرورت پوری کرو۔ (بخاری کتاب الادب بَاب صِلَةِ الْمَرْأَةِ أُمَّهَا وَلَهَا زَوْجٌ۔ شرح بخاری جلد۱۴ صفحہ۳۶۸،۳۶۷)

پس جو خاوند اپنی بیوی کو اس کے والدین وغیرہ سے ملنے سے منع کرتا ہے، وہ ہر گز ٹھیک نہیں کرتا، بلکہ ظلم کا مرتکب ہو رہا ہے، جس کا گناہ اسی خاوند کے سر ہو گا۔کیونکہ وہ اسلام کے واضح احکامات کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ قرآن کریم نے جو عَاشِرُوۡھُنَّ بِالۡمَعۡرُوۡفِ (النساء:۲۰) یعنی بیویوں کے ساتھ نیک سلوک کے ساتھ زندگی بسر کرو کاحکم فرمایا ہے، اس میں بھی یہ بات شامل ہے کہ بیوی کے ہر چھوٹے بڑے حق کا خیال رکھا جائے، لیکن جو خاوند بیوی کو اس کے والدین اور بہن بھائیوں سے ملنے نہیں دے رہا ،اس کے اس عمل میں حسن معاشرت کہاں باقی رہ جاتی ہے۔

سوال: تیونس سے ایک خاتون نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں لکھا کہ السَّبِيلُ إِلَى الْبَيْتِ، الزَّادُ وَالرَّاحِلَةُ کا کیا مطلب ہے؟۲۔ کیا صحیح بخاری کی یہ حدیث درست ہے کہ جس قوم نے اپنے امور عورت کو سونپے وہ کبھی کامیاب نہیں ہو گی؟۳۔ کیا سفر میں غیر احمدی امام کے پیچھے نماز باجماعت پڑھی جا سکتی ہے؟۴۔ سٹاک ایکسچینج میں شرکت کی جاسکتی ہے؟ ۵۔ کیا باکسر محمد علی، حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایمان رکھتا تھا؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ ۲۵؍مئی ۲۰۲۴ء میں ان سوالات کے درج ذیل جواب عطا فرمائے۔ حضور نے فرمایا:

جواب: آپ کے پہلے سوال کہ السَّبِيلُ إِلَى الْبَيْتِ، الزَّادُ وَالرَّاحِلَةُ کا کیا مطلب ہے؟ کے جواب میں تحریر ہے کہ یہ حدیث رسولﷺکے الفاظ ہیں، جو سنن دار قطنی کتاب الحج میں روایت ہوئی ہے۔ ان الفاظ کے لفظی معانی تو یہ ہیں کہ بیت اللہ تک پہنچنے کی استطاعت سے مراد زادِ راہ اور سواری کا ہونا ہے۔ اور ان الفاظ میں حضور ﷺدراصل حج کی فرضیت کے اس مضمون کو بیان فرما رہے، جسے قرآن کریم نے اس طرح بیان فرمایا ہے کہ جو لوگ بیت اللہ تک جانے کی استطاعت رکھتے ہوں ، ان پر اس گھر کا حج فرض ہے۔ (آل عمران:۹۸)

حج کی فرضیت کے لیے آنحضورﷺکے اس ارشاد میں اگرچہ زاد راہ اور سواری کے الفاظ آئے ہیں، لیکن اس سے مراد ہر طرح کا زاد راہ اور راستہ کا ہر قسم کا امن مراد ہے۔ اسی طرح پیچھے جو متعلقین ہیں ان کے گزارہ کا بھی معقول انتظام شامل ہے۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: حج کا مانع صرف زاد راہ نہیں اور بہت سے امور ہیں جو عند اللہ حج نہ کرنے کے لیے عذر صحیح ہیں۔ چنانچہ ان میں سے صحت کی حالت میں کچھ نقصان ہونا ہے۔ اور نیز ان میں سے وہ صورت ہے کہ جب راہ میں یا خود مکہ میں امن کی صورت نہ ہو۔ (ایام الصلح، روحانی خزائن جلد۱۴صفحہ۴۱۵)

فرمایا: اللہ تعالیٰ نے بہت سے احکام دئیے ہیں۔ بعض اُن میں سے ایسے ہیں کہ اُن کی بجا آوری ہر ایک کو میسر نہیں ہے ،مثلًا حج، یہ اس آدمی پر فرض ہے جسے استطاعت ہو پھر راستہ میں امن ہو پیچھے جو متعلقین ہیں اُن کے گزارہ کا بھی معقول انتظام ہواوراسی قسم کی ضروری شرائط پوری ہوں تو حج کرسکتا ہے۔ (ملفوظات جلد دوم صفحہ ۴۲۲ ایڈیشن۲۰۲۲ء)

حضور علیہ السلام اپنے حج پر نہ جانے کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: یہ لوگ شرارت کے ساتھ ایسا اعتراض کرتے ہیں۔ آنحضرتﷺدس سال مدینہ میں رہے۔ صرف دو دن کا راستہ مدینہ اور مکہ میں تھا مگر آپ نے دس سال کوئی حج نہ کیا۔ حالانکہ آپ سواری وغیرہ کا انتظام کر سکتے تھے۔ لیکن حج کے واسطے صرف یہی شرط نہیں کہ انسان کے پاس کافی مال ہو بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ کسی قسم کے فتنہ کا خوف نہ ہو۔ وہاں تک پہنچنے اور امن کے ساتھ حج ادا کرنے کے وسائل موجود ہوں۔ جب وحشی طبع علماء اس جگہ ہم پر قتل کا فتویٰ لگا رہے ہیں اور گورنمنٹ کا بھی خوف نہیں کرتے تو وہاں یہ لوگ کیا نہ کریں گے۔(ملفوظات جلد نہم صفحہ ۲۱۲،۲۱۱ ایڈیشن ۲۰۲۲ء)

۲۔ عورت کے حکمران بننے کے متعلق آپ کے سوال کا جواب یہ ہےکہ صحیح بخاری کی روایت کہ نبی کریم ﷺ کو جب معلوم ہوا کہ اہل فارس نےکسریٰ کی لڑکی کو تخت کا وارث بنایا ہے تو آپﷺنے فرمایا کہ وہ قوم کبھی فلاح نہیں پا سکتی جس نے اپنا حکمران کسی عورت کو بنایا ہو۔ (بخاری کتاب المغازی بَابُ كِتَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى كِسْرَى وَقَيْصَرَ۔شرح بخاری جلد۹ صفحہ۳۲۲)کی مختلف تشریحات کی گئی ہیں۔ اور کہا گیاہے کہ اس ممانعت میں عام دنیوی حکومت مراد نہیں بلکہ روحانی امامت مراد ہے۔ (کیونکہ یہ لوگ اپنے بادشاہ کو اپنا روحانی پیشوا بھی مانتے تھے) چنانچہ احکام القرآن میں اس حدیث کی تشریح میں لکھا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ عورت خلیفہ نہیں بن سکتی، اور اس میں کسی کو اختلاف نہیں ہے۔ (احکام القرآن لابن العربی، سورۃ النمل آیت۲۳، المسئلۃ الثالثۃ، المرأۃ لا تکون خلیفۃ)لیکن بعض علماء کے نزدیک عورت کو دنیا کی سربراہی بلکہ وزارت کی ذمہ داری بھی نہیں دی جا سکتی۔ لیکن یہ موقف غلط ہے اور علمائے سلف میں سے بعض نے اس موقف کی مخالفت کی ہے۔

حضورﷺکا حضرت عائشہ ؓ کے بارے میں یہ فرمانا کہ آدھا دین عائشہ سے سیکھو۔ (النہایۃ لابن الاثیر حرف الحاء باب الحاء مع الميم ) نیز جنگ جمل میں حضرت عائشہؓ کا اپنے لشکر کی کمان کرنا اور بہت سے صحابہؓ کا آپؓ کے زیر کمان لشکر میں شامل ہونابتاتا ہے کہ بخاری کی مذکورہ بالا روایت کے ایسے معانی نہیں ہو سکتے، جو عورت کی دنیاوی سربراہی کی مطلقاً مناہی پر مبنی ہوں۔

پس میرے نزدیک اس حدیث کے درست معانی یہی ہیں کہ عورت اپنی بعض فطرتی کمیوں کی وجہ سے روحانی امامت کے فرائض تو انجام دینے کے اہل نہیں ہے، لیکن عورت دنیاوی حکومت کی سربراہ بن سکتی ہے۔ چنانچہ قرآن کریم نے ملکہ سبا اور اس کے حکومت کرنے کے طریق کی تعریف فرما کر عورت کی دنیاوی سربراہی کو درست قرار دیا ہے۔ نیز حضرت سلیمان علیہ السلام کے ذریعہ ملکہ سبا کو جب خدا تعالیٰ کی وحدانیت پر ایمان کی توفیق ملی تو اس کے بعد بھی وہ اپنے علاقہ میں دنیاوی سربراہ ہی رہیں، حضرت سلیمانؑ نے انہیں ہٹا کر کسی مرد کو اس علاقہ کا سربراہ نہیں بنایا، جو اس بات کی دلیل ہے کہ خدا تعالیٰ کے نبی کے نزدیک بھی عورت دنیاوی سربراہی پر فائز ہو سکتی ہے۔

حضورﷺکے اس ارشاد کے ایک معنی کسریٰ کی بادشاہت کی گرتی ہوئی ساخت کے تناظر میں یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ اسلام کے مقابلہ پر آنے کے بعد اس خاندان کے بڑے بڑے مرد بادشاہ بھی جب اپنی حکومت کو نہیں بچا سکے، تو جب یہ حکومت ایک عورت کے سپرد کر دی گئی ہے، وہ عورت اسے کس طرح بچا سکتی ہے۔ گویا حضور ﷺنے اس ارشاد میں خدا تعالیٰ سے خبر پا کر اس حکومت کے آئندہ ناکام و نامراد رہنے کی پیشگوئی فرمائی تھی۔

۳۔ غیر احمدی کے پیچھے نماز پڑھنے کے بارے میں آپ کے سوال کا جواب ہے کہ جماعت احمدیہ کا یہی مسلک ہےکہ سفر ہو یا حضر ہر دو صورتوں میں غیر احمدی امام کے پیچھے نماز ادا نہ کی جائے بلکہ اگر ممکن ہو تو احمدی احباب اپنی الگ جماعت کریں۔ لیکن اگر ایسا ممکن نہ ہو تو اپنی الگ انفرادی نماز پڑھ لیں۔

۴۔ سٹاکس ایکسچینج میں شرکت کی بابت آپ کے سوال کا جواب ہے کہ اس میں بظاہر کوئی حرج نہیں کیونکہ یہ بھی ایک طرح سے نفع و نقصان میں شراکت والا ایک کاروبار ہی ہے، اگرچہ اس میں بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ اس کاروبار میں دھوکہ دہی کا بہت زیادہ امکان ہوتا ہے۔ لیکن اگر دیانتداری کے ساتھ یہ کام ہو تو اگرچہ شیئرز کی قیمت اوپر نیچے ہوتی رہتی ہے مگر شیئرز اپنی جگہ بہرحال موجود رہتے اور یہ انسویسٹمنٹ قائم رہتی ہے۔ اوراگر آپ اس سے نکلنا چاہیں توآپ ان شیئرز کو فروخت بھی کر سکتے ہیں۔ سوائے اس کے کہ وہ کمپنی جس کے شیئرز خریدے گئے ہیں، Bankrupt ہو جائے تو ایسی صورت میں اس کے شیئرز کی قیمت بھی ختم ہو جاتی ہے۔

سٹاکس اور شیئرز کے اس کاروبار میں اگر یہ صورت ہو کہ ادھر شیئرز خریدے، ادھر فروخت کیے اور صبح شام شیئرز مارکیٹ کے انڈیکس بورڈ پر ہی نظر جمائے رکھی جائے تو یہ جوئے اور لاٹری سے ملتی جلتی صورت ہو گی جس کی ممانعت سے کسی کو انکار نہیں۔

باقی عصر حاضر کے مختلف مالی معاملات پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشاد کہ ’’اب اس ملک میں اکثر مسائل زیروزبر ہو گئے ہیں۔ کل تجارتوں میں ایک نہ ایک حصہ سود کا موجود ہے۔ اس لئے اس وقت نئے اجتہاد کی ضرورت ہے۔‘‘ (البدرنمبر ۴۱ و ۴۲، جلد ۳، مورخہ یکم و ۸نومبر۱۹۰۴ء صفحہ۸) کی روشنی میں ایک مرکزی کمیٹی ان مسائل پر غور کر رہی ہے۔فیصلہ ہونے پر افراد جماعت کو انشاء اللہ اس سے آگاہ کر دیا جائے گا۔

۵۔ محمد علی باکسر کے بارے میں آپ کے سوال کا جواب ہے کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متبعین میں سے نہیں تھا۔

سوال: صدر صاحبہ لجنہ اماء اللہ اٹلی نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے استفسار کیا کہ لجنہ کے اجتماعات کے موقع پر تلاوت قرآن کریم کا جو مقابلہ ہوتا ہے، کیا اس میں ایسی عورت جو اپنے مخصوص ایام میں ہو، حصہ لے سکتی ہے؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ ۹؍جون ۲۰۲۴ء میں اس مسئلہ کے بارے میں درج ذیل ہدایت عطا فرمائی۔ حضور انور نے فرمایا:

جواب: جیسا کہ اس مقابلہ کے عنوان سے ظاہر ہے کہ یہ مقابلہ تلاوت ہے، اور حائضہ کے لیے حیض کے ایام میں تلاوت قرآن کریم کرنا منع ہے، اس لیے ایسی عورت جو اپنے مخصوص ایام میں ہو، وہ اس حالت میں اس مقابلہ میں حصہ نہیں لے سکتی۔

اسی طرح گھانا کی ایک خاتون نے حیض کے ایام میں علمی مقابلہ جات کے دوران تلاوت، حفظ قرآن، قرآنی دعاؤں، تقریر یا دینی معلومات میں موجود قرآنی آیات کے پڑھنے کے حوالہ سے راہنمائی کی درخواست کی ہے۔جس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ ۸؍مئی ۲۰۲۵ء میں اس سوال کا درج ذیل جواب عطا فرمایا۔ حضورانور نے فرمایا:

جواب: میں اس سوال کے جواب میں کئی مرتبہ وضاحت کرچکا ہوں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حیض کی حالت عورتوں کے لیے ایک تکلیف دہ صورت ہے۔ (البقرۃ:۲۲۳) اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان ایام میں عورتوں پر رحم کرتے ہوئے انہیں عبادات سے رخصت عطا فرمائی ہے، جس میں تلاوت قرآن کریم بھی شامل ہے۔

پس حقیقی اطاعت یہی ہے کہ عورتیں ان ایام میں عبادات،جن میں تلاوت قرآن کریم بھی شامل ہے، سے اجتناب کریں۔

باقی جہاں تک علمی مقابلہ جات کے دوران قرآن کریم پڑھنے کی بات ہے تو ہر ایسا مقابلہ جس میں لمبی تلاوت کرنی پڑےمثلاً تلاوت قرآن کریم ،حفظ قرآن یا قرآنی دعاؤں کے مقابلہ جات، ان میں ایسی عورت یا بچی جس کے مخصوص ایام چل رہے ہوں حصہ نہیں لے سکتی۔ لیکن باقی مقابلہ جات جن میں قرآن کریم کا ایک آدھ لفظ یا ایک آدھ چھوٹا ٹکڑا پڑھنا پڑے تو ایسے مقابلہ جات میں حصہ لینے میں کوئی حرج کی بات نہیں۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں کہ ایسی حالت میں عورت زبانی دعائیں کر سکتی، یا دل میں ذکر و اذکار کر سکتی ہے۔ کسی کو حوالہ دکھانے کے لیے یا حوالہ تلاش کرنے کے لیے صاف ستھرے ہاتھوں کے ساتھ یا کسی صاف کپڑے میں قرآن کریم کو پکڑ بھی سکتی ہے اور بچوں کو قرآن کریم پڑھانے کے لیے قرآن کریم کاکوئی لفظ یا چھوٹا ٹکڑا پڑھ بھی سکتی ہے۔ لیکن ان چیزوں کے لیے بھی وہ لمبی تلاوت یا قرآن کریم کے بڑے حصہ کو نہیں پڑھ سکتی۔

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: بنیادی مسائل کے جوابات(قسط نمبر ۱۲۲)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button