متفرق مضامین

جلسہ سالانہ جرمنی میں خدمات انجام دینے والے چند مرحومین کا ذکرِ خیر

(محمد انیس دیال گڑھی۔جرمنی)

۱۹۸۵ء میں پہلی بار جلسہ سالانہ جرمنی میں شامل ہونے کا موقع ملا۔ یہ پہلا جلسہ تھا جو ناصر باغ گروس گیراؤ میں منعقد ہوا۔ یہ ابتدائی جلسے غربت اور سادگی کا نمونہ تھے۔ سارے انتظامات خود ہی کرنے ہوتے تھے، مارکی بھی خود ہی لگائی جاتی تھی، جلسہ گاہ بھی خود ہی تیار کی جاتی تھی۔ ضیافت اور نظا فت کے انتظامات بھی خود ہی کیے جاتے۔ پارکنگ کا انتظام ناصرباغ کے ہمسائے کے کھیتوں میں کیا جاتا۔ کھلے ماحول میں جلسہ کرنے کا پہلا تجربہ تھا اور بجٹ بھی محدود تھا۔ بار بار مارکیٹوں کے چکر لگانے پڑتے اور اگر پھر بھی مطلوبہ چیز نہ ملتی تو پنجابی میں ’’جگاڑ‘‘ لگانا پڑتا جو جلسہ کی برکت سے ہمیشہ کامیاب رہتا۔ دیوانے کام میں دن رات ایک کر دیتے اور جلسہ کو کامیاب بنانے میں جان لڑا دیتے اور جلسے کے شروع ہونے سے قبل بقول غالب ہر رنگ میں بہار کا اثبات ہو جاتا۔ ان مخلص خدمت گاروں کی بدولت آج جلسے کے انتظامات کا ڈھانچہ مضبوط بنیادوں پر کھڑا ہے۔ جب بھی جلسہ آتا ہے تو ان کی یادوں کے اجالے ساتھ لاتا ہے۔ جلسہ کے قمقموں کے ساتھ ان کی یادوں کے چراغ روشن ہو جاتے ہیں اور دل کی خلش ان کی محفل میں لے جاتی ہے۔ جلسے کی خوشی کے ساتھ ساتھ ان کی فرقت غمزدہ کر جاتی ہے اور بسا اوقات یہ غم آنکھوں سے بھی چھلک جاتا ہے۔ ان سے وابستہ واقعات یاد آنے لگتے ہیں اور یوں جلسے کے دوران وہ ہمارے درمیان بلکہ ہمارے پہلو میں ہی بیٹھے ہوتے ہیں۔

آپ کے بعد ہر گھڑی ہم نے

آپ کے ساتھ ہی گزاری ہے

ان خدمت گزاروں میں میرے بڑے اور بزرگ بھی تھے اور بعض میرے ہم نفس، میرے ہمنوا بلکہ میرے ہم عمر اور ہم سفر بھی تھے اور ہم اکٹھے جرمنی آئے تھے۔ ان میں سے کچھ ہمیں چھوڑ کر خدا کے حضور حاضر ہو گئے۔

؎ جو قافلہ میرا ہمسفر تھا، مثالِ گردِ سفر گیا وہ

وہ تو خاک ہو گئے مگر ان کی خدمات ایک تناور، سرسبز اور سدا بہار درخت کی طرح آج بھی بہار دے رہی ہیں۔ ان مخلصین کا حق ہے کہ ان کے ذکر اور خدمات کو زندہ رکھا جائے۔ اس مضمون میں جلسہ سالانہ جرمنی پر خدمات بجا لانے والے چند مرحومین کا ذکر کرنا مقصود ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی خدمات کو قبول فرمائے اور اجرِ عظیم سے نوازے۔ آمین

سب سے پہلے جو بزرگ شخصیت مجھے یاد آ رہی ہے وہ مکرم ہدایت اللہ ہیوبش صاحب مرحوم کی پُر کشش اور دلکش شخصیت ہے۔ مشرقی لباس کے ساتھ پگڑی ان کے سر پر بہت سجتی تھی اور جلسہ پر عموماً یہی لباس پہنتے تھے۔ محترم نیشنل امیر صاحب، مکرم ہدایت اللہ ہیوبش صاحب اور مکرم منصور احمدعمر صاحب چاند کے ہالے کی طرح عموماً حضرت خلیفۃ المسیح کے ساتھ ساتھ ہوتے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ کی تبلیغی مجالس میں زیادہ تر ہدایت اللہ ہیوبش صاحب کو جرمن ترجمہ کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔ جلسے کے دنوں میں کھانا ہمارے ساتھ ہی کھاتے، اگر کوئی بلا کر لے جاتا تو بیرونِ جرمنی سے آئے ہوئے مہمانوں کے ساتھ کھا لیتے ورنہ خود ادھر نہیں جاتے تھے اور پھر سستانے کے لیے جلسہ گاہ کے ایک کونے میں زمین پر لیٹ جاتے اور تھوڑا آرام کرنے کے بعد پھر تازہ دم ہو کر کام میں مصروف ہو جاتے۔ ان کا ذکر تو بہت لمبا ہے اور اخبار احمدیہ جرمنی کے مارچ ۲۰۲۰ء کے شمارے میں ’’سفرِ ہدایت ‘‘ کے عنوان سے شائع ہو چکا ہے۔ ان کے لیے یہی سعادت بہت ہے کہ تین خلفاء کے منظورِ نظر رہے اور بے شمار برکتیں سمیٹیں۔ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس نے ان کی وفات پر خطبہ جمعہ میں خاص طور پر ذکر فرمایا۔

مولانا منصور احمدعمر صاحب بھی یاد آرہے ہیں جو اس وقت مبلغ انچارج تھے اور اس ناتے سے تمام انتظامات کی نگرانی رکھتے تھے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ کے سفر اور تبلیغی میٹنگز کے انعقاد اور تیاری میں ان کا بڑا حصہ ہوتا تھا۔ اس کے علاوہ جلسے کے پروگرام، تقاریر اور مقررین کا انتخاب اور تیاری بھی ان کے فرائض میں شامل تھا۔ ان کے بعد مولانا مسعود احمد جہلمی صاحب مرحوم اور مولانا عطاء اللہ کلیم صاحب مرحوم بھی جلسے کے انتظامات اور معاملات میں ہر ممکن خدمت اور معاونت کرتے رہےجس کا ذکر علیحدہ مضمون میں آئے گا۔

مکرم مبشر احمد باجوہ صاحب مرحوم بھی جلسے کے انتظامات سے منسلک تھے اور کام میں معاونت کرتے۔ بعد میں MTA جرمنی کی ذمہ داری سنبھالی اور اتنا عمدہ کام کیا کہ حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ نے ذکرِ خیر فرمایا اور پنجابی میں ایک نظم بھی لکھی۔

شاوا، سوہنے یار مبشر، واہ واہ بَلّے بَلّے

اس نظم کا آخری شعر جو ابدی سچائی کا حامل ہے، یوں تھا کہ

کُوڑے چار دِناں دے میلے،اِکّو گل ای سچ اے

لَآ اِلٰہ اِلّا اللّٰہ، تے، اَللّٰہُمَّ صَلِّ

آج یہ شعر ان تمام مرحومین پر صادق آ رہا ہے۔

اب میں مکرم منور احمد صاحب مرحوم کا ذکر کرنا چاہوں گا جو چند ہفتے قبل ہم کو حزین بنا کر اس دنیا ئے فانی سے رخصت ہوئے۔ ان سے میرا پرانا اور خاص تعلق تھا ’’ اور یہ چوٹ بھی نئی ہے ابھی‘‘۔ جلسہ سالانہ جرمنی کے انتظامات اور تیاری میں ایک چھریرا، پُھرتیلا نوجوان جو تیز رفتاری سے جلسہ گاہ کے ایک کونے سے دوسرے کونے کی طرف لپکتا پلٹتا، جس کے ایک ہاتھ میں ڈائری ہوتی، کسی کو نہیں بھول سکتا۔ کم از کم ان لوگوں کو تو ہر گز نہیں بھول سکتا جو پچھلی کئی دہائیوں سے جلسہ گاہ کی ٹیم کے ساتھ منسلک تھے یا ہیں۔ یہ بے پناہ محنتی شخصیّت مکرم منور احمد صاحب کی شخصیت ہے جن کو آج مرحوم لکھتے ہوئے عجیب محسوس ہو رہا ہے۔

منور صاحب کو مَیں نے پہلی بار کب اور کہاں دیکھا یہ تو مجھے یاد نہیں لیکن جب بھی دیکھا کام میں مصروف دیکھا اور ہمیشہ پُھرتی اور جلدی میں ہی دیکھا۔ ہم اُن پر ہنسا کرتے تھے اور مذاق بھی اڑاتے، جُملے بھی کَستے تھے مگر مجال ہے جو اس شخص کی چُستی، رفتار، اخلاص یا خد مت کے جذبے میں کچھ کمی آئی ہو۔ بعد میں ہمارے افسر بھی بنے (نائب افسر جلسہ گاہ)۔ افسر ہونا یا افسری دکھانا تو الگ رہا، ہم لوگ ان سے کام لیا کرتے تھے اور منور صاحب ہمیشہ وہ کام یا خدمت، افسر ہونے کے باوجود بشاشت سے انجام دیتے۔ تب ہم ہنستے تھے اور آج روتے ہیں اور بچشمِ نم ان کو یاد کرتے ہیں۔ مَیں اور سلیم، منورصاحب کو اپنی طرف آتا دیکھتے تو فوراً ان کے لیے کوئی کام سوچنا شروع کر دیتے۔

ہم کہا کرتے تھے کہ پیشتر اس کے کہ منور صاحب ہمیں ٹینشن دیں ہم ان کو ٹینشن دیں گے۔لہٰذا منور صاحب کے آتے ہی کوئی مسئلہ پیش کر دیتے۔ مثلاً منور، صاحب ! سٹیج کے لیے جو قالین آیا تھا وہ نظر نہیں آ رہا اور منور صاحب فکر اور پریشانی کے عالم میں قالین ڈھونڈنے نکل کھڑے ہوتے جو ہم نے خود ہی چھپایا ہوتا تھا۔ غرض اس قسم کی چہل،شوخیاں اور شرارتیں ان کے ساتھ کرتے رہتے جو آج سوہانِ روح بن کر دل و جان پر چرکے لگا رہی ہیں کہ ہم نے ایسے مخلص، بے لوث اور انتھک محنت کرنے والے وجود کو کیوں ستایا۔ آفریں ہے اس شخص پر کہ ہماری شرارتوں پر ڈانٹنے ڈپٹنے کی بجائے ایک پیاری اور دلآویز مسکراہٹ سے نوازتے۔ وہ ہمارے افسر تھے، چاہتے تو فوراً ڈیوٹی سے فارغ کر سکتے تھے لیکن پیار و محبت والی یہ چھیڑ چھاڑ آخر تک چلتی رہی اور وہ اسے مسکرا کر آخر وقت تک برداشت کرتے رہے۔ کبھی ناراض نہیں ہوئے بلکہ اگلے سال پھر ہماری ڈیوٹی ہوتی جس سے ہمیں حیرت ہوتی۔ ایک بار کہنے لگے تمہیں پتا ہے میں تم لوگوں سے ناراض کیوں نہیں ہوتا ؟ پھر خود ہی کہنے لگے مجھے علم ہے کہ تم لوگوں نے اپنا کام بر وقت مکمل کر لینا ہے مگر میری عادت ہے کہ وقت سے بہت پہلے کام مکمل دیکھنا چاہتا ہوں جبکہ ہماری ٹیم کا موقف یہ تھا کہ جمعرات کی شام کو معائنہ ہے تو جمعرات کی صبح یا دوپہر تک سٹیج تیار ملے گا لیکن منور صاحب کی عادت اور خواہش تھی کہ ساری تیاری وقت سے بہت پہلے مکمل ہو جانی چاہیے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ سفر آخرت میں بھی جلدی کی۔ اللہ تعالیٰ اس مخلص، با وفا خادمِ دین کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔ آمین

وہ دوستی تو خیر اب نصیبِ دشمناں ہوئی

وہ چھوٹی چھوٹی رنجشوں کا لُطف بھی چلا گیا

مکرم ملک سلطان احمد صاحب مرحوم بہت لمبا عرصہ مرمتوں اور دیکھ بھال (Maintenance) کی ذمہ داری نبھاتے رہے۔ جب بھی دیکھا اُنہیں کام کرتے ہی دیکھا۔ کبھی زمین پر بیٹھے ویلڈنگ کر رہے ہیں تو کبھی ٹونٹیاں ٹھیک کررہے ہیں، کبھی اِس پائپ کو ٹھیک کر رہے ہیں تو کبھی اُس کو، کبھی ضیافت کے چولہوں کے نٹ بولٹ کَستے نظر آتے تو کبھی نکاسیٔ آب سے برسرِ پیکار نظر آتے۔ لنگر کے چولہے انہوں نے خود تیار کرکے منظور کروائے تھے اور فِٹنگ کا سارا کام بھی ہاتھ سے کیا۔ پُرانی ویلڈنگ مشین خود ڈھونڈ کر لائے اور اس کو ٹھیک کرکے اس سے بھرپور کام لیا ۔ ہوا بھرنے والا کمپریسر بھی کہیں سے لے آئے اور پھر صرف ۱۰؍جرمن مارک میں سیکنڈہینڈ ریفریجریٹرز بھی مہیّا کیے۔ تیس سال سے زائد عرصہ بھرپور خدمات انجام دیں جن سے جماعت کو بےشمار اخراجات میں بچت ہوئی۔ اللہ تعالیٰ ان کو ان خدمات کا کئی گنا اجر عطا فرمائے۔ آمین

مکرم چودھری ناصر احمد صاحب مرحوم ضیافت کے ناظم ہوا کرتے تھے۔ کھانا پکانے کے ساتھ ساتھ خریداری بھی کرتے۔ اچانک کوئی چیز کم پڑ جاتی تو فوراً نکل کھڑے ہوتے اور کہیں نہ کہیں سے حاصل کر کے ہی واپس لوٹتے۔ ان کی ساری ٹیم ہی انتہائی محنتی اور جفا کش تھی۔ جن میں عبدالعظیم خان صاحب مرحوم بھی شامل تھے جو بعد میں لندن منتقل ہو گئے اور ضیافت کے شعبہ میں خوب خدمت کی توفیق پائی۔ عظیم خان صاحب کی وفات پر حضرت خلیفۃ ا لمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے جنازہ پڑھایا اور حضرت مسیح موعودؑ کی بابرکت انگوٹھی ان کے ماتھے سے مَس کی اور خطبہ جمعہ میں ذکر بھی فرمایا۔ ذالک فضل اللّٰہ یوتیہ من یشاء

لاؤڈ سپیکر شعبہ میں ایک خوش شکل، خوبرو نوجوان تھا۔ جتنا خوش شکل تھا اس سے بڑھ کر خوش مزاج تھا۔ اس کا نام چودھری فضل احمد تھا اور اس نے الیکٹرونکس میں ڈپلومہ کیا تھا۔ ۱۹۹۳ء میں ناصر باغ کے جلسہ میں پہلی بار لاؤڈسپیکر کا سارا انتظام اس نے اپنی ٹیم کے ساتھ کیا تھا۔ اس سے قبل ایک کمپنی کی خدمات حاصل کی جاتی تھیں۔ مکرم حفیظ صاحب اور مکرم بشارت صاحب نے ان کے ساتھ بھر پور کام کیا اور یہ دونوں اب بھی اس شعبہ میں خدمت کی توفیق پا رہے ہیں۔ چودھری فضل احمد کی آواز میں ترنم بھی تھا، خدا نے لحنِ داؤدی عطا کیا تھا۔ خود ہی نظم پڑھ کر لاؤڈ سپیکرٹیسٹ کرتا تھا۔ مجھے یاد ہے ہم اس سے نظم کی فرمائش بھی کیا کرتے تھے۔ عین جوانی کے عالم میں داعی اجل کو لبیک کہا۔

جو خدا کو ہوئے پیارے مرے پیارے ہیں وہی

مکرم نعیم احمد شرما صاحب مرحوم بھی شعبہ لاؤڈ سپیکر سے منسلک رہے اور اچھا کام کیا ۔ ایک نہایت مخلص جرمن مکرم ناصر لُٹسِین صاحب مرحوم کو بجلی کے شعبہ میں کام کرتے دیکھا۔ ۱۹۸۶ء کے جلسہ پر مکرم ناصر لُٹسِین صاحب زمین پر بیٹھے کام کر رہے تھے کہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ اچانک تشریف لے آئے اور خوشنودی کا اظہار فرمایا کہ جرمن احمدی مسلمانوں میں بھی خدمت کا وہی جذبہ نظر آتا ہے جو ایک مخلص احمدی کے کردار کا حصّہ ہے۔ ( اخبار احمدیہ جرمنی اپریل ۲۰۲۱ء)

دو بھائیوں مکرم زاہد افضال صاحب اور مکرم خالد افضال صاحب اور ان کے بھتیجے مکرم نیّر اقبال صاحب کی گراں قدر خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ مکرم زاہد اقبال صاحب مرحوم کے پاس ہر مشکل کا حل تھا۔ ’’جگاڑ‘‘ لگانے کے ماہر یہاں تک کہ جان بھی داؤ پر لگا دیتے۔ مکرم زبیر خلیل صاحب ( سابق افسر جلسہ سالانہ )نے ان کی وفات پر اخبار احمدیہ جرمنی کے اپریل ۲۰۲۵ء کے شمارے میں ان کی یاد میں جو مضمون سپردِ قلم کیا وہ ہمیشہ ان کو خراجِ تحسین پیش کرتا رہے گا۔ اس میں سے صرف ایک واقعہ پیش خدمت ہے۔ آپ لکھتے ہیں: مئی مارکیٹ من ہائم میں جلسہ سالانہ کے دوران ایک دفعہ گیس کا سلنڈر آگ لگنے سے بھڑک اٹھا، قریب تھاکہ یہ آگ پھیل جاتی اور بڑے حادثہ کا باعث بن جاتی۔ عبد الرحمان مبشر صاحب افسر جلسہ سالانہ فوراً موقع پر پہنچے تو دیکھا کہ موقع پر موجود سب افراد گھبراہٹ کا شکار ہیں۔ اس انتہائی نازک اور خطرناک موقع پر بھی اچانک مرحوم (زاہد افضال صاحب ) اپنے بھائی خالد کے ساتھ آگے بڑھےاور اپنی جان کی پروا کیے بغیر آگ میں کود گئے۔ اور جلتے ہوئے گیس سلنڈروں کو ہٹا کر ایک بڑے حادثے کو ٹال دیا۔ بعد میں جب ان سے بات ہوئی تویہ جواب سن کر حیرت ہوئی۔ کہنے لگے زندگی موت تو اللہ کے اختیا ر میں ہوتی ہے۔ اگر اس موقع پر ایسا نہ کیا جاتا تو جماعت کا بڑا نقصان ہو سکتا تھا۔ ( اخبا ر احمدیہ جرمنی اپریل ۲۰۲۵ء) یہ سارا مضمون ان کے دیوانگی بھرے مگر ایمان افروز کارناموں سے مزین ہے اور پڑھنے کے لائق ہے۔ ان کی تمام خدمات کا ایک مضمون میں احاطہ نہیں ہو سکتا۔

دفتر جلسہ سالانہ میں ہمہ وقت کام کرنے والے مکرم ذکاءاللہ صاحب کسی کو نہیں بھول سکتے۔ نماز مغرب و عشاء کی ادائیگی کے بعد روزانہ جلسہ کی میٹنگ ہوتی تھی جو ۱۲؍بجے تک اور بسا اوقات اس سے بھی لمبی چلتی۔ میٹنگ کے بعد سب سونے کے لیے اپنی اپنی رہائش گاہ پر چلے جاتے مگر ذکا ء اللہ صاحب دفتر آ کر کام میں مصروف ہو جاتے۔ حیرت اس وقت ہوتی کہ صبح جب ہم آتے تو وہ سب سے پہلے دفتر میں موجود ہوتے۔ یہ شخص صرف کام کرنا جانتا تھا۔ لمبا عرصہ جلسہ سالانہ میں تن دہی سے خدمت انجام دی پھر شعبہ مال سے منسلک رہے اور تا دمِ آخر خدمت کرتے رہے۔ مکرم بشیر احمد خالد صاحب مرحوم خاموشی سے خدمت کرنے والے بزرگ تھے۔ مالی ذمہ داری تھی بہت سی نقد رقم ان کے پاس موجود ہوتی کسی کو ایڈوانس دے رہے ہیں تو کسی سے رسیدیں لے کر اندراج کر رہے ہیں۔ کسی کی فارم پُر کرنے میں مدد کر رہے ہیں، ان کی پوری کوشش ہوتی کہ سب کی مدد بھی کریں اور کار کنا ن کو جلد فارغ بھی کر دیں تا وہ اپنا کام مکمل کر سکیں ۔ کارکنان کی سہولت کی خاطر حساب کتاب کے عمل کو بہت آسان بنایا لیکن مالی معاملات بھی درست رکھتے۔ نہایت خاموش طبع، کم گو اور زیرِ لب ذکرِ الٰہی میں مصروف شخصیت تھی۔ اللہ ان کےدرجات بلند فرمائے۔

بہت سے دیگر بزرگ بھی جلسہ کی ڈیوٹی کے حوالے سے یاد آ رہے ہیں۔ مکرم شکور اسلم صاحب، مکرم منظور شاد صاحب، مکرم مبشر سیال صاحب مرحوم،مکرم سردار عبد القادر صاحب مرحوم اور سیّد اعجاز شاہ صاحب۔ جلسہ گاہ تیاری پروگرام کی ٹیم میں ایک اور مسکین اور درویش صفت انسان بھی تھا۔ مکرم میاں لطیف احمد تھیم مرحوم ۔ یہ شخص بے شمار خوبیوں کا مالک تھا مگر اتنا خاموش اور کم گو کہ عام انسان اس کے اندر کے عالم،شاعر،ادیب اورپھر مالیات کے ماہر کو پہچان نہ پاتا، بات بات پر ایسا برمحل شعر سناتے اور اس کثرت سے سناتے کہ گمان ہوتا تھا کہ اس کے دماغ میں کوئی خاص کمپیوٹر لگا ہے جس پر صرف لاکھوں اشعار ہی مرتسم نہیں بلکہ شعر یوں برجستہ اور بر محل زبان پر آتا ہے جو ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔

کہ لب پر شعر بن کر نعرۂ مستانہ آتا ہے

بہت کم لوگوں کو اس بات کا علم ہے کہ ان کو کلامِ الٰہی کا بڑا حصّہ بھی حفظ تھا۔ یہ سب کچھ اسی کی برکت کا کرشمہ تھا۔

شعبہ امور عامہ میں ایک پوری ٹیم ہمہ وقت ڈیوٹی پر ہوتی تھی اور جلسہ کی پوری نگرانی کرتی تھی۔ ان میں سے بھی بہت سے خدا کو پیارے ہو گئے۔ ان میں سرِ فہرست مکرم محمد داؤد صاحب کا نام آتا ہے۔ تہجد گزار، دعا گو بزرگ تھے۔ عرش نشینوں میں سے ایک، مگر زمین پر آہستگی اور عاجزی سے چلنے والے۔ ان کے مدد گاروں میں مکرم نسیم احمد طاہر صاحب مرحوم بھی تھے اور مکرم ناصر باجوہ صاحب مرحوم اور عبدالسبحان طارق صاحب مرحوم بھی۔

مکرم شوکت محمود چیمہ صاحب، مکرم عبد القیوم کھوکھر صاحب مرحوم، بابا برکات صاحب مرحوم اور چودھری اقبال صاحب مرحوم بھی کسی نہ کسی رنگ میں خدمت میں مصروف ہوتے تھے۔ شعبہ تربیت میں مکرم مشتاق احمد ظہیر صاحب مرحوم کو ہمیشہ فعال دیکھا۔ گروس گیراؤ کے بزرگ مکرم خلیل احمد باجوہ صاحب مرحوم لمبا عرصہ رابطہ مستورات کی ڈیوٹی عمدگی اور مستعدی سے کرتے رہے۔ غرض ایسے بے شمار مخلص وجود تھے جو دیوانہ وار اور مستانہ وار خدمتِ دین اور خدمتِ خلق میں مصروف رہے۔ دن دیکھا نہ رات ایک ہی دُھن تھی کہ حضرت مسیحِ موعودؑ کا جاری کردہ جلسہ کامیاب ہو، اور اب تک خدا کے فضل سے ہر جلسہ پہلے سے بڑھ کر کامیابی اور کامرانی سے ہمکنار ہوا اور ہوتا چلا جائے گا، ان شاء اللہ۔ نہ اس شمع کی لو کم ہو گی نہ پروانوں کی دیوانگی۔ حضرت مسیح موعود ؑسے خدا کا وعدہ ہے کہ ’’ میں تیرے خالص اور دلی محبوں کا گروہ بھی بڑھاؤں گا اور اُن کے نفوس و اموال میں برکت دوں گا ‘‘۔ اب تک ہم اس خدائی وعدے کو پوری شان سے پورا ہوتے دیکھتے چلے آئے اور یہ وعدہ آئندہ بھی پوری شان سے پورا ہو گا۔ ان شاء اللہ۔ فکر صرف یہ ہے کہ کیا ہم بھی ان بزرگوں کی یادوں کو زندہ رکھتے ہوئے اس خدائی وعدہ اور انعام کو حاصل کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں یا نہیں ؟ لیکن جب میں آج کے بچوں اور نوجوانوں کو اسی جوش و جذبہ سے کام کرتے دیکھتا ہوں تو میرا ایمان اس عظیم الشان پیش گوئی پر اور بھی پُختہ ہو جاتا ہے۔ اور دل خدا کی حمد سے بھر جاتا ہے۔

تیرے اے میرے مربی کیا عجائب کام ہیں

گرچہ بھاگیں، جبر سے دیتا ہے قسمت کے ثمار

مزید پڑھیں: محبّتِ الٰہی

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button