متفرق مضامین

محبّتِ الٰہی

(ڈاکٹر ابرار احمد چغتائی، سڈنی آسٹریلیا)

الله کو پانے کا سب سے اہم ذریعہ اللہ تعالیٰ خود ہے اور اللہ تعالیٰ کی محبت کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ انسان کوشش اور جستجو کرے تب اسی کے فضل اور راہنمائی سے محبتِ الٰہی حاصل ہوتی ہے

اللہ تعالیٰ انسان کا خالق ہے اور اس وجہ سے اس کی محبت انسان کے خمیر میں ہے۔ انسان اس فطری محبت کا اقرار بھی اَلَسۡتُ بِرَبِّکُمۡ کے جواب میں قَالُوۡا بَلٰی (الاعراف: ١٧٣)کہہ کے کر چکا ہے۔ اس دنیا میں آ کر انسان اس محبت کو دوسرے لوگوں میں تلاش کرتا ہے۔ پہلے پچپن میں وہ اس محبت کو ماں باپ کی صورت میں دیکھتا ہے جو اس کی پرورش کرتے ہیں، پھر جوانی میں اسے یہ محبت دوست احباب کی صورت میں نظر آتی ہے جو اس کی تفریح کا ذریعہ ہوتے ہیں، پھر شادی کے بعد وہ یہ محبت اپنے بیوی بچوں میں تلاش کرتا ہے۔ لیکن آخرکار جب وہ اللہ تعالیٰ کے حسن اور احسانات پر غور کرتا ہے تو اسے حقیقی ایمان اور اللہ کی محبت حاصل ہوتی ہے ۔ پھر وہ اللہ سے شدید محبت کرنے لگتا ہے، جیسا کہ اللہ فرماتا ہے: وَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰہِ (البقرہ:١٦٦)یعنی وہ لوگ جو ایمان لائے اللہ کی محبت میں (ہر محبت سے) زیادہ شدید ہیں۔

محبت الٰہی کیا ہے؟

محبت الٰہی کا مضمون بہت وسیع ہے۔ اس کو سمجھنے کے لیے پہلے ہم دیکھتے ہیں کہ محبت سے کیا مراد ہے۔ محبت لفظ کا ماخذ ’’حُبّ‘‘ہے۔ ’’حُبّ‘‘ کے معنی پیار و محبت ہیں۔ حُبّ کو حِبّ بھی کہتے ہیں ۔ محبت کرنے والے کو مُحِبّ کہا جاتا ہے۔ جس سے محبت کی جائے، اسےمحبوب یا مُحَبّ کہتے ہیں۔ (لسان العرب) جب یہ محبت اللہ سے ہو تو اسے محبت الٰہی کہتے ہیں۔ یہ تو محبت الٰہی کے عام معنی ہیں۔ اس کے خاص معنی یہ ہیں کہ اللہ کی صفات کو اختیار کر لینا، اللہ کے لیے اپنے وجود کو ختم کر لینا، اور اللہ میں فنا ہو جانا۔

اللہ کی صفات کو اختیار کرنا اور اس کے رنگ میں رنگنے کی کوشش کرنا محبت کے لیے ضروری ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ’’محبت کوئی تصنع اور تکلف کا کام نہیں بلکہ انسانی قویٰ میں سے یہ بھی ایک قوت ہے۔ اور اس کی حقیقت یہ ہے کہ دل کا ایک چیز کو پسند کر کے اس کی طرف کھنچے جانا اور جیسا کہ ہریک چیز کے اصل خواص اس کے کمال کے وقت بدیہی طور پر محسوس ہوتے ہیں۔ یہی محبت کا حال ہے کہ اس کے جوہر بھی اس وقت کھلے کھلے ظاہر ہوتے ہیں کہ جب اتم اور اکمل درجہ پر پہنچ جائے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اُشْرِبُوْا فِی قُلُوْبِھِمُ الْعِجْلَ (البقرۃ: ٩٤) یعنی انہوں نے گو سالہ سے ایسی محبت کی کہ گویا ان کو گو سالہ شربت کی طرح پلا دیا گیا۔ درحقیقت جو شخص کسی سے کامل محبت کرتا ہے تو گویا اسے پی لیتا ہے یا کھا لیتا ہے اور اس کے اخلاق اور اس کے چال چلن کے ساتھ رنگین ہو جاتا ہے اور جس قدر زیادہ محبت ہوتی ہے اسی قدر انسان بالطبع اپنے محبوب کی صفات کی طرف کھینچا جاتا ہے یہاں تک کہ اسی کا روپ ہو جاتا ہے جس سے وہ محبت کرتا ہے۔‘‘ (نورالقرآن نمبر ٢۔ روحانی خزائن جلد ٩ صفحہ ٤٣٠) پھر آپؑ فرماتے ہیں کہ ’’محبت کی حقیقت بالالتزام اس بات کو چاہتی ہے کہ انسان سچے دل سے اپنے محبوب کے تمام شمائل اور اخلاق اور عبادات پسند کرے اور ان میں فنا ہونے کے لیے بدل و جان ساعی ہو، تا اپنے محبوب میں ہوکر وہ زندگی پاوے جو محبوب کو حاصل ہے۔ سچی محبت کرنے والا اپنے محبوب میں فنا ہو جاتا ہے۔‘‘ (نورالقرآن نمبر۲۔ روحانی خزائن جلد ٩ صفحہ ٤٣١)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة يوسف کی آیت قَطَّعۡنَ اَیۡدِیَہُنَّ کی پُر لطف تفسیر میں فرماتے ہیں: ’’محبت اور شہود عظمت تامہ کی کمالیت اسی حالت میں ثابت ہوگی کہ جب عاشق دلدادہ محض استیلاء عشق کی وجہ سے نہ کسی اور وجہ سے اپنے معدوم کے ماسوا کو معدوم سمجھے اور اپنے معشوق کے غیر کو کالعدم خیال کرے۔ …اور خود وہ محویت کا ہی اثر تھا جس سے زلیخا کی سہیلیوں نے اپنی انگلیاں کاٹ لیں۔ ‘‘( مکتوبات احمد جلد اول صفحه ۵۹۳، ۵۹۴)

جو لوگ اللہ کی راہ اختیار کر لیتے ہیں اور اس میں فنا ہوجاتے ہیں تو پھر ان چہروں سے عشق الٰہی ظاہر ہوتا ہے۔ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک الہامی مصرع ہے۔

’’عشقِ الٰہی وَسّے مُنْہ پر وَلیاں ایہہ نشانی‘‘

ایسی محبت کے لیے ضروری ہے کی محب میں اور اس کے محبوب میں کوئی دوری نہ ہو اور دونوں ایک وجود بن جائیں۔ اس ضمن میں مثنوی مولانا رومی میں ایک شخص کا واقعہ درج ہے جو اپنے دوست سے ملنے گیا۔ دوست نے اندر سے پوچھا: ’’کون ہے؟‘‘ اس نے جواب دیا: ’’میں ہوں‘‘ دوست نے کہا: ’’یہ ’میں‘ کون ہے؟‘‘ اور اسے واپس جانے کو کہا۔ وہ شخص واپس چلا گیا۔ کافی عرصے کے بعد وہ پھر واپس آیا۔ دوست نے دوبارہ پوچھا: ’’کون ہے؟‘‘ اس بار اس نے جواب دیا: ’’تم ہو‘‘ دوست نے کہا: ’’اب اندر آ جاؤ، کیونکہ اب تم میں ’مَیں‘‘ باقی نہیں رہا اور میں اور تم ایک ہو گئے ہیں۔‘‘ (مثنوی مولانا رومی – دفتر اول)

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت الٰہی

اللہ تعالیٰ سے سب سے زیادہ محبت رسول اللہ ﷺ نے کی۔ بچپن سے ہی آپ کو بتوں سے نفرت تھی ۔ جوانی کے زمانہ میں آپ ایک غار میں جا کر ایک خدا کی عبادت کیا کرتے تھے۔ آپؐ غار حرا میں کئی دن گزارتے۔ علیحدگی میں اپنے رب سے راز و نیاز کی باتیں کرتے، اس کی عبادت کرتے۔ یہ دیکھ کر آپؐ کے ہم قوم بھی کہنے لگ گئے کہ عَشِقَ مُحَمَّدٌ رَبَّهٗ یعنی محمدؐ تو اپنے رب کا عاشق ہو گیا ہے۔ اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ذات کے عاشقِ زار اور دیوانہ ہوئے او ر پھروہ پایا جو دنیا میں کبھی کسی کو نہیں ملا۔ آپؐ کو اللہ تعالیٰ سے اس قدر محبت تھی کہ عام لوگ بھی کہا کرتے تھے کہ عَشِقَ مُحَمَّدٌ عَلٰی رَبِّہٖ یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ربّ پر عاشق ہو گیا ‘‘۔ (ملفوظات جلد ششم صفحہ ۶ ایڈیشن ۲۰۲۲ء)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حلاوتِ ایمانی کے حصول کی سب سے پہلی شرط یہ بیان فرمائی کہ اللہ اوراس کے رسول سے محبت دوسری ہر چیز سے بڑھ کر ہو۔(صحیح بخاری کتاب الایمان باب حلاوۃ الایمان)

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے بھی شدید محبت کی اور اس کی مخلوق سے بھی۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰی۔ فَکَانَ قَابَ قَوۡسَیۡنِ اَوۡ اَدۡنٰی۔ (النجم: ٩ و ١٠) کی تفسیر میں فرماتے ہیں: ’’یعنی یہ رسول خدا کی طرف چڑھا اور جہاں تک امکان میں ہے خدا سے نزدیک ہوا اور قرب کے تمام کمالات کو طے کیا اور لا ہوتی مقام سے پورا حصہ لیا اور پھر ناسوت کی طرف کامل رجوع کیا یعنی عبودیت کے انتہائی نقطہ تک اپنے تئیں پہنچایا اور بشریت کے پاک لوازم یعنی بنی نوع کی ہمدردی اور محبت سے جو ناسوتی کمال کہلاتا ہے پورا حصہ لیا لہٰذا ایک طرف خدا کی محبت میں اور دوسری طرف بنی نوع کی محبت میں کمال تام تک پہنچا۔ پس چونکہ وہ کامل طورپر خدا سے قریب ہوا اور پھر کامل طور پر بنی نوع سے قریب ہوا اس لیے دونوں طرف کے مساوی قرب کی وجہ سے ایسا ہو گیا جیسا کہ دو قوسوں میں ایک خط ہوتا ہے لہٰذا وہ شرط جو شفاعت کے لیے ضروری ہے اس میں پائی گئی اور خدا نے اپنے کلام میں اس کے لیے گواہی دی کہ وہ اپنے بنی نوع میں اور اپنے خدا میں ایسے طور سے درمیان ہے جیسا کہ وتردو قوسوں کے درمیان ہوتا ہے۔ ‘‘(عصمت انبیاء، روحانی خزائن جلد١٨ صفحہ٦٦۴)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی محبت الٰہی

اپنے آقاؐ کی اتباع میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی اللہ تعالیٰ سے شدید محبت کی، جس کا اظہار آپؑ نے اپنی کتب اور منظوم کلام میں بارہا کیا۔ آپؑ فرماتے ہیں: ’’ہمارا بہشت ہمارا خدا ہے ہماری اعلیٰ لذّات ہمارے خدا میں ہیں کیونکہ ہم نے اس کو دیکھا اور ہر ایک خوبصورتی اس میں پائی۔ یہ دولت لینے کے لائق ہے اگرچہ جان دینے سے ملے اور یہ لعل خریدنے کے لائق ہے اگرچہ تمام وجود کھونے سے حاصل ہو۔ اے محرومو! اس چشمہ کی طرف دوڑوکہ وہ تمہیں سیراب کرے گا یہ زندگی کا چشمہ ہے جو تمہیں بچائے گا۔ میں کیا کروں اور کس طرح اس خوشخبری کو دلوں میں بٹھا دوں۔ کس دَفْ سے میں باز اروں میں منادی کروں کہ تمہارا یہ خدا ہے تا لوگ سُن لیں اور کس دوا سے میں علاج کروں تا سُننے کے لیے لوگوں کے کان کھلیں۔‘‘(کشتی نوح ۔روحانی خزائن جلد١٩صفحہ٢١،۲۲)

اپنے منظوم کلام میں آپؑ فرماتے ہیں:

چاند کو کل دیکھ کر میں سخت بے کَل ہو گیا

کیونکہ کچھ کچھ تھا نشاں اُس میں جمالِ یار کا

اُس بہارِ حُسن کا دل میں ہمارے جوش ہے

مت کرو کچھ ذکر ہم سے تُرک یا تاتار کا

ہے عجب جلوہ تری قدرت کا پیارے ہر طرف

جس طرف دیکھیں وہی رہ ہے ترے دیدار کا

(سرمہ چشم آریہ۔ روحانی خزائن جلد۲صفحہ۵۲)

آپؑ کا ایک فارسی شعر ہے:

در دو عالم مرا عزیز توئی

وآنچہ می خواہم از تو نیز توئی

دونوں جہاں میں مایۂ راحت تمہیں تو ہو

جو تم سے مانگتا ہوں وہ دولت تمہیں تو ہو

محبت الٰہی کے ذرائع

محبت الٰہی کو پانے کے کئی ذرائع قرآن و احادیث سے ثابت ہیں۔ ان میں سے چند کا اختصار سے ذکر کیا جاتا ہے۔

اللہ کو اللہ کے ذریعے پانا: ہم اللہ کو اس کے فضل کے بغیر پا ہی نہیں سکتے۔ وہ الۡغَفُوۡرُ الۡوَدُوۡدُ (البروج:١٥) ہے اور اپنے محبت کرنے والوں سے بہت محبت کرتا ہے۔ سو الله کو پانے کا سب سے اہم ذریعہ اللہ تعالیٰ خود ہے اور اللہ تعالیٰ کی محبت کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ انسان کوشش اور جستجو کرے تب اسی کے فضل اور راہنمائی سے محبتِ الٰہی حاصل ہوتی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَالَّذِیۡنَ جَاہَدُوۡا فِیۡنَا لَنَہۡدِیَنَّہُمۡ سُبُلَنَا (العنکبوت:٧٠)اور وہ لوگ جو ہمارے بارہ میں کوشش کرتے ہیں ہم ضرور انہیں اپنی راہوں کی طرف ہدایت دیں گے۔ حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے اپنے رب کی طرف سے بطور حدیث قدسی بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہےکہ جب بندہ ایک بالشت میرے قریب ہوتا ہے تو میں ایک ہاتھ اس کے قریب ہو جاتا ہوں۔ جب وہ ایک ہاتھ میرے قریب ہوتا ہے تو میں دو ہاتھ اس کے قریب ہو جاتا ہوں اور جب وہ میری طرف چل کر آتا ہے تو میں اس کی طرف دوڑتے ہوئے جاتا ہوں۔ (صحیح مسلم کتاب الذکر والدعا باب فضل الذکر)سو جب انسان اللہ سے محبت میں اس کے قریب ہونے کی کوشش کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کوشش کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے اسے محبت سے بھر دیتا ہے۔ ایسی محبت کرنے والا اپنے اعمال کو فرائض تک محدود نہیں رکھتا بلکہ محبت میں بڑھتے ہوئے نوافل بھی ادا کرتا ہے۔

اسی طرح حضرت ابو ہریرہ ؓ سے ایک روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے یہ حدیثِ قدسی بیان فرمائی کہ ’’میرا قرب حاصل کرنے کے لیے سب سے محبوب ذریعہ فرائض کی بجا آوری ہے۔ اور میرا بندہ ہمیشہ نوافل کے ذریعہ میراقرب حاصل کرتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگ جاتا ہوں۔ پس جب میں اس سے محبت کرتا ہوں تو میں اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے۔ اور اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے۔ اور اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس کے ساتھ وہ پکڑتا ہے۔ اور اس کے پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے۔ اور جب وہ مجھ سے مانگتا ہے تو میں اس کو دیتا ہوں۔ اور اگر وہ مجھ سے پناہ مانگتا ہے تومیں اس کو پناہ دیتا ہوں۔‘‘ (صحیح بخاری کتاب الرقاق باب التواضع)

سو اللہ کی محبت حاصل کرنے کے لیے کوشش ضروری ہے۔ محبوب کی محبت حاصل کرنے کے لیے مصائب برداشت کرنے پڑتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’اس میں کچھ شک نہیں کہ پہلے کچھ نہ کچھ دکھ اٹھانا پڑتا ہے کسی نے سچ کہا ہے ؎

عشق اوّل سرکش و خونی بود

تا گریزد ہر کہ بیرونی بود

عشق الٰہی بےشک اوّل سرکش و خونی ہوتا ہے تا کہ نا اہل دور ہو جاوے۔عاشقانِ خدا تکالیف میں ڈالے جاتے ہیں۔ قسم قسم کے مالی اور جسمانی مصائب اُٹھاتے ہیں اور ا س سے غرض یہ ہوتی ہے کہ ان کے دل پہچانے جاویں‘‘ (ملفوظات جلدششم، صفحہ۲۰۴-۲۰۵، ایڈیشن۲۰۲۲ء)

یہ ایسی محبت ہے جس میں محبوب کی خاطر تکالیف کو برداشت کرنا ہوتا ہے۔ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:

اے محبّت! عجب آثار نمایاں کردی

زخم و مرہم برہِ یار تو یکساں کردی

اے محبت تُو نے کیا اثر نمایاں کر دیا ہے۔ زخم و مرہم کو رہِ جاناں میں یکساں کر دیا ہے۔

حضرت شیخ سعدیؓ نے بھی اسی بارے میں کہا ہے ۔

گر نباید بدوست راہ بردن

شرطِ عشق ہست در طلب مُردن

کہ اگر دوست تک پہنچنا ممکن نہ ہو تو عشق کی بنیادی شرط اُس کی طلب میں، خواہش میں مرنا ہے۔ اُس کو پانے کے لیے، اُس کی طلب میں، خواہش میں مرنا یہ بنیادی شرط ہے۔

کو شش کے ساتھ ساتھ اللہ کے اس قرب اور اسکی محبت کو حاصل کرنے کا ایک اہم ذریعہ دعا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَاِذَا سَاَلَکَ عِبَادِیۡ عَنِّیۡ فَاِنِّیۡ قَرِیۡبٌ ؕ اُجِیۡبُ دَعۡوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ ۙ فَلۡیَسۡتَجِیۡبُوۡا لِیۡ وَلۡیُؤۡمِنُوۡا بِیۡ لَعَلَّہُمۡ یَرۡشُدُوۡنَ۔ (البقرہ:١٨٧) اور جب میرے بندے تجھ سے میرے متعلق سوال کریں تو یقیناً میں قریب ہوں۔ میں دعا کرنے والے کی دعا کا جواب دیتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے۔ پس چاہیے کہ وہ بھی میری بات پر لبّیککہیں اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ وہ ہدایت پائیں۔ سو اللہ سے ہی اس کا قرب اور اس کی محبت مانگنی چاہیے ۔

رسول اللہ ﷺ اللہ کی محبت کے لیے یہ دعا پڑھتےتھے: اللّٰهم إني أسألك حبك وحب من يحبك والعمل الذي يبلغني حبك۔ اللّٰهم اجعل حبك أحب إلي من نفسي وأهلي ومن الماء البارد۔اے اللہ! میں تجھ سے تیری محبت مانگتا ہوں، اور میں اس شخص کی بھی تجھ سے محبت مانگتا ہوں جو تجھ سے محبت کرتا ہے، اور ایسا عمل چاہتا ہوں جو مجھے تیری محبت تک پہنچا دے، اے اللہ! تو اپنی محبت کو مجھے میری جان اور میرے گھر والوں سے زیادہ محبوب بنا دے، اے اللہ! اپنی محبت کو ٹھنڈے پانی کی محبت سے بھی زیادہ کر دے۔ (سنن ترمذی كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم حدیث: ٣٤۹٠)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’جب اللہ تعالیٰ سے بالکل راضی ہو جاوے اور کوئی شکوہ شکایت نہ رہے اس وقت محبت ذاتی پیدا ہو جاتی ہے۔ اور جب تک اللہ تعالیٰ سے محبت ذاتی پیدا نہ ہو تو ایمان بڑے خطرے کی حالت میں ہے لیکن جب ذاتی محبت ہو جاتی ہے تو انسان شیطان کے حملوں سے امن میں آجاتا ہے۔ اس ذاتی محبت کو دعا سے حاصل کر نا چاہیے۔‘‘ (ملفوظات جلد۵ صفحہ ۳۷۴۔ ایڈیشن۲۰۲۲ء)

اپنے آقا کی پیروی میں آپؑ بھی محبت الٰہی کے حصول کی دعا کیا کرتے تھے۔ آپؑ کی ایک دعا ہے۔ ’’اے ربّ العالمین! تیرے احسانوں کامیں شکر نہیں کر سکتا۔ تو نہایت رحیم و کریم ہے اور تیرے بے نہایت مجھ پراحسان ہیں۔ میرے گناہ بخش تامیں ہلاک نہ ہو جاؤں۔ میرے دل میں اپنی خاص محبت ڈال تا مجھے زندگی حاصل ہو اور میری پردہ پوشی فرما اور مجھ سے ایسے عمل کرا جن سے تو راضی ہو جائے۔ میں تیرے وجہ کریم کے ساتھ اس بات سے پناہ مانگتاہوں کہ تیرا غضب مجھ پر وار د ہو۔ رحم فرما اور دنیا اور آخرت کی بلاؤں سے مجھے بچا کہ ہر ایک فضل وکرم تیرے ہی ہاتھ میں ہے۔ آمین ثم آمین۔‘‘(مکتوبات احمد جلددوم صفحہ۱۵۹)

حضور ﷺ کی پیروی: دنیاوی وسائل کےلحاظ سے محبت الٰہی کا سب سے اہم ذریعہ حضورﷺ کی پیروی ہے۔ اللہ تعالی قرآن شریف میں فرماتا ہے: قُلۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تُحِبُّوۡنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوۡنِیۡ یُحۡبِبۡکُمُ اللّٰہُ وَیَغۡفِرۡ لَکُمۡ ذُنُوۡبَکُمۡ ؕ وَاللّٰہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ۔ (آل عمران:٣٢)۔ تُو کہہ دے اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو اللہ تم سے محبت کرے گا، اور تمہارے گناہ بخش دے گا۔ اور اللہ بہت بخشنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔ حضرت اقد س مسیح موعودعلیہ السلام اس آیت کی تفسیر میں بیان فرماتے ہیں: ’’پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ایک کامل نمونہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے اور محبوب الٰہی بننے کا ہے۔اس لیے اللہ تعالیٰ نے صاف الفاظ میں فرما دیا کہ قُلۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تُحِبُّوۡنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوۡنِیۡ یُحۡبِبۡکُمُ اللّٰہُ وَیَغۡفِرۡ لَکُمۡ ذُنُوۡبَکُمۡ ؕ وَاللّٰہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ۔(آل عمران:۳۲)یعنی تم ان کو کہہ دو کہ اگر تم چاہتے ہو کہ محبوبِ الٰہی بن جاؤ اور تمہارے گنا ہ بخش دیئے جاویں،تو اس کی ایک ہی راہ ہے کہ میری اطاعت کرو۔‘‘ (ملفوظات جلد٢ صفحہ٦۶)

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے حضور ﷺ کی اس پیروی اور محبت الٰہی کے تعلق کو ایک شعر میں بہت خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔

نقشِ پا پر جو محمدؐ کے چلے گا ایک دن

پیروی سے اس کی محبوبِ خدا ہو جائے گا

حسن اور احسان کا مطالعہ: حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’خدا کا قانون قدرت اور ايسا ہي صحيفہ فطرت جس کا سلسلہ قديم سے اور انسان کي بنياد کے وقت سے چلا آتا ہے وہ ہميں يہ سکھاتا ہے کہ خدا کے ساتھ تعلق شديد پيدا ہونے کے لئے یہ ضروری ہے کہ اس کے احسان اور حسن سے تمتع اٹھایا ہو … احسان سے مراد خدا تعالیٰ کے وہ اخلاقی نمونے ہیں جو کسی انسان نے اپنی ذات کی نسبت بچشم خود دیکھے ہوں مثلاً بیکسی اور عاجزی اور کمزوری اور یتیمی کے وقت میں خدا اس کا متولی ہوا ہو اور حاجتوں اور ضرورتوں کے وقت میں خدا نے خود اس کی حاجت براری کی ہو اور سخت اور کمر شکن غموں کے وقت میں خدا نے خود اس کی مدد کی ہو اور خدا طلبی کے وقت میں بغیر توسط کسی مرشد اور ہادی کے خود خدا نے اُس کو رہنمائی کی ہو اور حسن سے مراد بھی وہی خدا کی صفات حسنہ ہیں جو احسان کے رنگ میں بھی ملاحظہ ہوتی ہیں۔ مثلاً خدا کی قدرت کاملہ اور وہ رفق اور وہ لطف اور وہ ربوبیت اور وہ رحم جو خدا میں پایا جاتا ہے اور وہ عام ربو بیت اُس کی جو مشاہدہ ہو رہی ہے اور وہ عام نعمتیں اس کی جو انسانوں کے آرام کے لئے بکثرت موجود ہیں اور وہ علم اس کا جس کو انسان نبیوں کے ذریعہ سے حاصل کرتا اور اس کے ذریعہ سے موت اور تباہی سے بچتا ہے اور اس کی یہ صفت کہ وہ بیقراروں درماندوں کی دعائیں قبول کرتا ہے اور اس کی یہ خوبی کہ جو لوگ اس کی طرف جھکتے ہیں وہ اُن سے زیادہ اُن کی طرف جھکتا ہے یہ تمام صفات خدا کی اس کے حسن میں داخل ہیں اور پھر وہی صفات ہیں کہ جب ایک شخص خاص طور پر ان سے فیضیاب بھی ہو جاتا ہے تو وہ اُس کی نسبت احسان بھی کہلاتی ہیں گودوسرے کی نسبت فقط حسن میں داخل ہیں۔‘‘(عصمت انبیاء، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۶۶۹)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک شعر ہے

بِن دیکھے کس طرح کسی مَہ رُخ پہ آئے دل

کیوں کر کوئی خیالی صنم سے لگائے دل

سو اللہ کے حسن واحسان کے مطالعہ سے انسان ایک طرح سے اللہ کو دیکھ لیتا ہے۔ پھر اسکی محبت بڑھ جاتی ہے۔

ایمان اور عمل صالح: اللہ تعالیٰ سے محبت کا ایک ذریعہ ایمان اور اعمال صالحہ بجا لانا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَیَجۡعَلُ لَہُمُ الرَّحۡمٰنُ وُدًّا۔ (مریم:۹۷)یقیناً وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک اعمال بجا لائے اُن کے لیے رحمان محبت پیدا کردے گا۔ اس لفظ ’’ود‘‘ میں ہر طرح کی محبت شامل ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی محبت مومنوں کے دلوں میں ڈالے گا۔ یا اللہ تعالیٰ مومنوں سے گہری محبت رکھے گا۔ یا اللہ تعالیٰ مومنوں کے دلوں میں لوگوں کے لیے محبت ڈال دے گا، یا اللہ تعالیٰ لوگوں کے دلوں میں مومنوں کے لیے محبت پیدا کرے گا۔

ویسا بننا جن سے اللہ محبت کرتا ہے: محبت الٰہی پانے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ ایسا بننے کی کوشش کی جائےجن سے اللہ محبت کرتا ہے۔ قرآن پاک کے مطالعہ سے پتا لگتا ہے کہ اللہ تعالیٰ التوّابین ( سچی توبہ کرنے والے) (البقرۃ: ٢٢٣)، متطھّرِین (ظاہری و باطنی صفائی کرنے والے) ( البقرۃ :٢٢٣)، متقین (تقوی اختیار کرنے والے) (آلِ عمران: ٧٧)، صابرین (صبر کرنے والے )(آلِ عمران: ١٤٧) ، محسنین ( احسان کرنے والے) (آلِ عمران: ١٤٩)،متوکّلین (توکل کرنے والے) (آلِ عمران: ١٦٠) اور مقسطین (انصاف کرنے والے) (مائدۃ:٤٣) سے محبت کرتا ہے۔ سو ہمیں بھی ایسا بننے کی کوشش کرنی چاہیے۔

ایسا نہ بننا جن سے اللہ محبت نہیں کرتا: محبت الٰہی پانے کا ایک ذریعہ یہ ہے کہ ایسا نہ بننا جن سے اللہ محبت نہیں کرتا، مثلاً مُخْتَالًا (متکبر) (النساء:٣٧): فَخُوْرًا (شیخی بگھارنے والا) (النساء:٤٧)، الْمُفْسِدِیْنَ (فساد کرنے والے) (المائدۃ: ٦٥)، الْمُعْتَدِیْنَ (حد سے گزرنے والے) (المائدۃ:٨٨)، الْمُسْرِفِیْنَ (اسراف کرنے والے) (الانعام:١٤٢)، خَوَّانٍ (خیانت کرنے والے) (حج: ٣٩)، کَفُوْرٍ (نا شکرے) (حج: ٤٩):، الْفَرِحِیْنَ (فخر کرنے والے) (القصص:٧٧) اور الظّٰلِمِیْنَ (ظلم کرنے والے) (الشوریٰ:١٤)۔

مخلوق سے محبت: پھر اللہ کی محبت پانے کا ایک طریقہ اس کی مخلوق سے محبت ہے۔ حضرت انس اور عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’مخلوق اللہ کی عیال ہے، اور مخلوق میں سے وہ شخص اللہ کو زیادہ محبوب ہے جو اس کی عیال سے اچھا سلوک کرتا ہے۔(مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: ٤٩٩٨) حضرت مسیح موعود علیہ السلام آیت اِنَّ اللّٰہَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلَ وَالْاِحْسَانِ وَأِیْتَاءِ ذِی الْقُرْبٰی (النحل: ٩١) کی تفسیر میں بیان کرتے ہیں کہ ’’یہ آیت حق اللہ اور حق العباد پر مشتمل ہے اور اس میں کمال بلاغت یہ ہے کہ دونوں پہلو پر اللہ تعالیٰ نے اس کو قائم کیا ہے۔ (نورالقرآن نمبر۲، روحانی خزائن جلد۹ صفحہ۴۳۶) اور اس کی مخلوق کے لیے ایسا درد ہونا چاہیے جس طرح ایک نہایت ہی مہربان والدہ اپنے ناتواں پیارے بچے کے لیے دل میں سچا جوش محبت رکھتی ہے۔ ‘‘(ملفوظات جلد۶صفحہ ۲۰۶۔ایڈیشن۲۰۲۲ء)

محبت الٰہی کے فوائد

محبت الٰہی کے بےشمار فوائد ہیں ۔چند درج ذیل ہیں۔

زمین اور آسمان میں ہر شے کی محبت: محبت الٰہی کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ زمین اور آسمان میں ہر چیز اس عاشق سے محبت کرنے لگتی ہے۔ یعنی کہ عاشق ترقی کرتے کرتے معشوق ہو جاتا ہے۔ جو اللہ کا ہو جاتا ہے۔ اللہ اس کا ہو جاتا ہے۔ من کان لِلّٰہ, کان اللّٰہ له۔ حضرت ابوہریرۃ ؓسے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’جب اللہ کسی بندے کو محبوب رکھتا ہے تو جبریلؑ کو فرماتا ہے کہ میں فلاں بندے کومحبوب جانتا ہوں تو بھی اس کو محبوب جان۔ پھر جبریلؑ آسمان والوں کو پکارتا ہے اور کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ فلاں انسان کو محبوب رکھتاہے پس تم بھی اس کو محبوب رکھو۔ تو آسمان والے اس کومحبوب جانتے ہیں پھر زمین میں بھی اس کی قبولیت اتار دی جاتی ہے۔‘‘ (صحیح بخاری کتاب بدء الخلق باب ذکر الملائکۃ)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’جب انسان سچے طور پر خدا تعالیٰ سے محبت کرتا ہے تو خدا بھی اُس سے محبت کرتا ہے۔ تب زمین پر اُس کے لیے ایک قبولیت پھیلائی جاتی ہے اور ہزاروں انسانوں کے دلوں میں ایک سچی محبت اُس کی ڈال دی جاتی ہے اور ایک قوّتِ جذب اُس کو عنایت ہوتی ہے اور ایک نور اُس کو دیا جاتا ہے جو ہمیشہ اُس کے ساتھ ہوتا ہے۔‘‘ (حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ٢٢ صفحہ ٦٥)

کلام الٰہی: جس سے اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے اس سے کلام بھی کرتا ہے۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں ’’جو جس سے پیار کرتا ہے تو اس سے کلام بغیر نہیں رہ سکتا۔ اس طرح خدا تعالی جس سے پیار کرتا ہے تو اس سے بلا مکالمہ نہیں رہتا۔‘‘ (ملفوظات جلد۵، صفحہ۷۱)

آپؑ اپنے منظوم کلام میں فرماتے ہیں:

وہ خدا اب بھی بناتا ہے جسے چاہے کلیم

اب بھی اُس سے بولتا ہے جس سے وہ کرتا ہے پیار

قبولیت دعا: جس سے الله محبت کرتا ہے اس کی دعائیں بھی سنتا ہے۔

گناہوں سے نجات اور اعمال صالحہ : گناہوں کو دور کرنا اور اعمال صالحہ بجا لانا بغیر خدا تعالیٰ کی محبت کے ممکن نہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ’’گناہ درحقیقت ایک ایسا زہر ہے جو اس وقت پیدا ہوتا ہے کہ جب انسان خدا کی اطاعت اور خدا کی پرجوش محبت اور محبانہ یاد الٰہی سے محروم اور بے نصیب ہو۔ اور جیسا کہ ایک درخت جب زمین سے اکھڑ جائے اور پانی چوسنے کے قابل نہ رہے تو وہ دن بدن خشک ہونے لگتا ہے اور اس کی تمام سرسبزی برباد ہو جاتی ہے۔ یہی حال اس انسان کا ہوتا ہے جس کا دل خدا کی محبت سے اکھڑا ہوا ہوتا ہے۔’’ (سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب۔ روحانی خزائن جلد ١٢ صفحہ ٣٢٨)

دائمی نجات: اصل میں انسان کی جنت بھی اللہ تعالیٰ کی محبت ہے۔ اس محبت کے ملنے کے بعد دائمی نجات حاصل ہوتی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:’’انسان جب خدا تعالیٰ کی محبت کی آگ میں پڑ کر اپنی تمام ہستی کو جلا دیتا ہے تو وہی محبت کی موت اس کو ایک نئی زندگی بخشتی ہے۔ کیا تم نہیں سمجھ سکتے کہ محبت بھی ایک آگ ہے اور گناہ بھی ایک آگ ہے۔ پس یہ آگ جو محبت الٰہی کی آگ ہے گناہ کی آگ کو معدوم کر دیتی ہے۔ یہی نجات کی جڑ ھ ہے۔‘‘ (قادیان کے آریہ اور ہم۔ روحانی خزائن جلد ٢٠ صفحہ ٤٤٨)

خاتمہ

سو ہمیں اللہ تعالیٰ سے محبت کو کوشش، دعا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی اور دیگر ذرائع سے بڑھانا چاہیے۔ اگر ہمیں اللہ کا پیار مل گیا تو دنیا میں ہی جنت مل جائے گی۔ ہمارے پیارے حضور ایدہ اللہ بھی ہمیں مسلسل اللہ تعالیٰ سے تعلق بڑھانے کی طرف توجہ دلا رہے ہیں۔ آپ اکثر ملاقاتوں میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ شعر پڑھتے ہیں۔

آگ ہے پر آگ سے وہ سب بچائے جائیں گے

جو کہ رکھتے ہیں خدائے ذوالعجائب سے پیار

سو ہمیں ہر طرح کی آگ سے بچنے کے لیے اللہ سے پیار کا ایک تعلق پیدا کرنا ہو گا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق دے۔ آمین۔

مزید پڑھیں: خدا نے ثابت کیا کہ میں ہوں!

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button