متفرق مضامین

گدھا گھوڑے سے زیادہ ذہین ہوتا ہے!

اردو زبان میں الّو اور گدھا سست، کم عقل انسان کے لیے یا بطور گالی بھی استعمال ہوتے ہیں۔ اردو لشکری زبان ہے لیکن معلوم ہوتا ہے کہ اردو زبان میں استعمال ہونے والا طنزًا استعمال جلد رواج پا جاتا ہے۔ اس کے مثال حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے جملوں اور الفاظ سے واضح ہوسکتی ہے۔ اسی طرح سیانے کو الو اور سخت جان کو گدھا کہا جاتا ہوگا پھر طنزاً استعمال سے یہ دونوں الفاظ منفی معنوں میں استعمال ہونے لگے۔ انگریزی میں تو آپ کہہ سکتے ہیں کہ as wise as an owl لیکن اردو میں نہیں ۔ اردو زبان میں ایسے کئی الفاظ ہیں جو عربی میں اچھے معنے رکھتے ہیں اور اردو میں برے۔

گدھا ان جانوروں میں سے ہے جنہیں انسان نے ہزاروں سال سے سفر، کھیتی باڑی اور سامان ڈھونے کے لیے استعمال کیا ہے۔ اگرچہ عام طور پر گدھے کو کم عقل یا ضدی جانور سمجھا جاتا ہے، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ جدید تحقیقات اور قدیم روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ گدھا ایک ذہین، محتاط اور غیر معمولی یادداشت رکھنے والا جانور ہے۔ یہی خصوصیات اسے مشکل راستوں میں منزل تک پہنچنے کے قابل بناتی تھیں۔

قدیم زمانے میں نہ پکی سڑکیں تھیں، نہ نقشے اور نہ ہی جی پی ایس جیسے جدید آلات۔ لوگ صحرا، پہاڑوں اور جنگلات میں سفر کرتے وقت جانوروں اور قدرتی نشانیوں پر انحصار کرتے تھے۔ ان حالات میں گدھے ایک قابل اعتماد ساتھی کے طور پر استعمال ہوتے تھے۔ تاجر، کسان اور مسافر لمبے سفر کے لیے گدھوں پر بھروسہ کرتے تھے کیونکہ وہ راستوں کو اچھی طرح یاد رکھتے تھے اور آسانی سے گم نہیں ہوتے تھے۔

گدھوں کی سب سے نمایاں خوبی ان کی مضبوط یادداشت ہے۔ ماہرین کے مطابق گدھے کئی سالوں تک راستوں، پانی کے مقامات اور مخصوص جگہوں کو یاد رکھ سکتے ہیں۔ اگر کوئی گدھا ایک راستے پر چند مرتبہ سفر کر لے تو وہ بعد میں بھی اس راستے کو پہچان لیتا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ قدیم قافلوں میں گدھوں کو خاص اہمیت حاصل تھی۔

گدھے اپنے تیز حواس کی مدد سے بھی راستہ تلاش کرتے ہیں۔ ان کی قوت سماعت بہت مضبوط ہوتی ہے۔ ان کے لمبے کان دور سے آنے والی آوازوں کو سن سکتے ہیں، جبکہ ان کی سونگھنے کی صلاحیت پانی، سبزہ اور مانوس جگہوں کو پہچاننے میں مدد دیتی ہے۔ ان کی بینائی بھی انہیں راستے کی نشانیوں کو یاد رکھنے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔

گھوڑوں کے برعکس گدھے جلدی گھبراتے نہیں ہیں۔ اگر انہیں کوئی خطرہ محسوس ہو تو وہ بدکنے کے بجائے رک جاتے ہیں اور حالات کا جائزہ لیتے ہیں۔ بہت سے لوگ اس رویے کو ضد سمجھتے ہیں، لیکن درحقیقت یہ ان کی ذہانت اور خود کو محفوظ رکھنے کی صلاحیت ہے۔ اگر کوئی راستہ خطرناک ہو یا زمین غیر محفوظ ہو تو گدھا وہاں چلنے سے انکار کر دیتا ہے۔ یہی احتیاط انہیں پہاڑی اور دشوار گزار علاقوں میں مفید بناتی تھی۔

قدیم مصر، میسوپوٹیمیا اور عرب کے علاقوں میں گدھوں کو تجارتی قافلوں کا اہم حصہ سمجھا جاتا تھا۔ یہ جانور خوراک، پانی، کپڑا، مصالحے اور دیگر سامان دور دراز علاقوں تک پہنچاتے تھے۔ بعض اوقات قافلے کئی ہفتوں تک صحرا میں سفر کرتے تھے۔ ایسے حالات میں گدھے نہ صرف سامان اٹھاتے تھے بلکہ پانی کے مقامات اور آرام گاہوں کو یاد رکھ کر مسافروں کی مدد بھی کرتے تھے۔

گدھے قدرتی نشانیوں سے بھی راستہ پہچانتے ہیں۔ وہ پہاڑوں، درختوں، دریاؤں اور چٹانوں کو یاد رکھتے ہیں۔ دیہاتوں میں وہ گھروں، راستوں اور انسانوں کے روزمرہ معمولات سے بھی واقف ہو جاتے ہیں۔ بعض اوقات گدھے اپنے مالک کے گھر کا راستہ خود ہی تلاش کر لیتے ہیں، چاہے وہ کئی میل دور ہی کیوں نہ ہوں۔ اب بھی اکثر دیہات میں گدھے پر سامان لاد کر ہانک دیا جاتا ہے اور وہ از خود گھر پہنچ جاتا ہے۔

گدھوں کی ایک اور اہم خصوصیت ان کا صبر ہے۔ انگریزی میں کہتے ہیں کہ Patience is the virtue of the donkeys۔ یعنی صبر گدھے کی عادت ہے۔ وہ اپنی طاقت کو غیر ضروری طور پر ضائع نہیں کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ طویل اور مشکل سفر برداشت کر لیتے ہیں۔ صحرا جیسے سخت ماحول میں ان کی یہی عادت ان کی بقا کا سبب بنی۔ قدیم انسانوں نے ان کی اسی صلاحیت کی وجہ سے انہیں اپنے سفر اور تجارت کا اہم ذریعہ بنایا۔

آج بھی دنیا کے بہت سے دیہی علاقوں میں گدھے استعمال کیے جاتے ہیں۔ جدید سائنس نے ثابت کیا ہے کہ گدھے نہ صرف مضبوط بلکہ ذہین جانور بھی ہیں۔ ان کی یادداشت، محتاط طبیعت اور قدرتی حواس انہیں دوسرے بہت سے جانوروں سے ممتاز بناتے ہیں۔ ملاحظہ ہو براٹینیکا: https://www.britannica.com/science/Are-Donkeys-Intelligent

گدھے قدیم زمانے میں اپنی مضبوط یادداشت، تیز حواس، صبر اور محتاط سوچ کی بدولت راستہ تلاش کرتے تھے۔ یہی خصوصیات انہیں انسانی تاریخ کے سب سے قابل اعتماد جانوروں میں شامل کرتی ہیں۔ اگرچہ انہیں اکثر کم عقل سمجھا جاتا ہے، لیکن حقیقت میں گدھے اپنی فطری ذہانت اور دور اندیشی کی وجہ سے انسان کے بہترین ساتھیوں میں شمار ہوتے ہیں۔

(ابو الفارس محمود)

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: ہم نے بائیک چلائی

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button