حفاظت مرکز قادیان اور اراضی سندھ کی کچھ یادیں(قسط دوم۔آخری)
(از قلم محترم چودھری عبد السلام صاحب، واقف زندگی)
محترم چودھری محمد ظفراللہ خاں صاحبؓ نے ایک ایسا نمونہ پیش کیا ہے کہ کوئی آدمی خواہ کتنے بڑے دنیوی عہدہ پر ہو اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ نظامِ جماعت کی طرف سے دی گئی ہدایات کا اسی طرح پابند رہے جس کا کوئی عام آدمی پابند ہے
اراضی سندھ پر دوبارہ ڈیوٹی
جلسہ سالانہ ربوہ ۱۹۵۰ء میں شرکت کے بعد میں حضرت امیرالمومنین مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی المصلح الموعودؓ سے الوداعی ملاقات کرکے یکم جنوری ۱۹۵۱ء بذریعہ ٹرین اپنی ڈیوٹی پر سندھ روانہ ہوگیا۔ اگلے روز براستہ حیدرآباد اپنے سینٹر محمد آباد سٹیٹ پہنچا۔ وہاں سے محترم سید عبدالرزاق شاہ صاحب نے میری ڈیوٹی ۱۲ واٹر کورس، روشن نگر لگادی۔ میں نے وہاں پہنچ کر محترم منشی نور محمد صاحب جو کہ ’حقے والا منشی‘ مشہور تھے، سے روشن نگر کی اراضی کا چارج لیا۔ ان دنوں روشن نگر میں زیادہ تر مزارع بلوچ قوم کے گرگیز قبیلے کے لوگ تھے۔ ان میں سے کچھ احباب احمدی بھی ہوچکے تھے۔ اور وہ بڑے مخلص احمدی بن گئے تھے۔ محترم دریا خاں صاحب وہاں مجلس خدام الاحمدیہ کے قائد تھے اور گرگیز قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے۔ اور ان کے والد غیر از جماعت مولوی اور امام مسجد تھے۔ اور جماعت کے سخت مخالف تھے۔ اور جماعت احمدیہ کی طرف سے محترم مولوی غلام حیدر صاحب تربیت کے لیے مقررہوئے۔ اس وقت روشن نگر کی جماعت نے کچی مٹی سے مسجد کی دیواریں تو بنالی تھیں۔ مگر اس پر چھت نہ ڈال سکے۔ اور مسجد کی دیواروں کو کلر بھی لگ چکا تھا۔ روشن نگر پہنچ کر چارج لینے کے بعد پہلا کام یہ کیا کہ تمام احمدی احباب کو اکٹھا کیا اور انہیں توجہ دلائی کہ اس طرح احمدیہ مسجد کو نامکمل چھوڑ دینا کسی بھی لحاظ سے درست نہیں ہے۔ اس لیے فوری طور پر مسجد کی تکمیل کی طرف توجہ دینی چاہیے۔ چنانچہ طے پایا کہ جماعت کا ہر احمدی جوڑا مسجد کے لیے دس روپے دے۔ جلد ہی رقم اکٹھی ہونے پر مسجد کی چھت ڈال دی گئی اور دیواروں کی بھی لپائی کروادی گئی۔ اس کے بعد دوسرا کام یہ کیا کہ احباب سے گزارش کی اب باجماعت نماز کے لیے تمام احباب مسجد میں آیا کریں۔ چنانچہ حتّی المقدور تمام احمدی دوستوں نے مسجد میں آنا شروع کردیا۔ اس پر میں نے محترم مولوی غلام حیدرصاحب سے درخواست کی کہ مسجد میں احباب کو نماز سادہ سکھانے کے لیے سبق دیں۔ نماز سادہ جب یاد کرلیں تو پھر ترجمہ بھی سکھا دیں۔ اس کے ساتھ ساتھ تمام احمدی بچوں اور بچیوں کو قاعدہ یسرناالقرآن اور قرآن کریم پڑھادیا کریں۔ چنانچہ محترم مولوی صاحب کی توجہ اور تعاون سے احمدی احباب اور بچے بچیوں نے نماز سادہ، باترجمہ اور قرآن کریم سیکھنا شروع کردیا اور تھوڑے ہی عرصہ میں اکثر کو نماز سادہ وباترجمہ یاد ہوگئی اور باقاعدہ قرآن کریم بھی پڑھنا شروع کردیا۔ اس طرح مقامی احباب نے ان سے خوب فائدہ اٹھایا اور اپنے علم میں بھی اضافہ کرلیا۔
ابھی میں روشن نگر میں ہی مقیم تھا کہ میری اہلیہ مکرمہ نذیراں بی بی صاحبہ میرے بیٹے عزیزم محمد سلیم خاں صاحب کے ساتھ روشن نگر پہنچ گئیں۔ اس سے قبل وہ قیام ِپاکستان کے بعد اپنے والد محترم رانا چراغ الدین صاحب کے پاس جو مٹھالک ضلع سرگودھا کے سکول میں ہیڈ ماسٹر تھے اور چک نمبر ۳۰شمالی میں رہائش پذیر تھے، مقیم تھیں۔ روشن نگر پہنچنے کے کچھ عرصہ بعد ایک روز والدہ محمد سلیم خاں بیمار ہوگئی اور خونی پیچش شروع ہوگئی اور مرض کافی بڑھ گیا اس پر میں نے محترم ڈاکٹر احتشام الحق صاحب کو بلوایا اور انہوں نے دو گھنٹے میرے پاس قیام کیا اور مرض کی تشخیص کرکے دوائی دی۔ اور جاتے ہوئے مجھ سے کہہ گئے سلام صاحب جب بھی ضرورت پڑے مجھے بلوالیں۔ یہ مرض بہت ہی خطرنا ک ہے۔ اگلے روز جب مرض زیادہ بڑھا تو میں نے محترم رانا نعیم الدین صاحب کاٹھ گڑھی کو ڈاکٹر صاحب کو بلانے بھجوایا۔ اتفاقاً اس وقت ڈاکٹر صاحب گھر پر موجود نہ تھے بلکہ کسی اَور مریض کو دیکھنے کے لیے کہیں اَور چلے گئے تھے۔ چنانچہ محترم رانا نعیم الدین صاحب نے واپس آکر بتایا کہ ڈاکٹر صاحب نہیں مل سکے۔ اس پر والدہ محمد سلیم خاں نے کہا جب ڈاکٹر صاحبان کسی مریض سے مایوس اور نااُمید ہوجائیں تو وہ عموماً دوبارہ اسے دیکھنے کے لیے نہیں آتے۔ اب چونکہ ڈاکٹر صاحب نہیں آئے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ میری صحت سے مایوس ہوگئے ہیں اس لیے نہیں آئے۔ اس پر میں نے نہایت اطمینان سے انہیں تسلی دلائی کہ فکر کی کوئی ضرورت نہیں وہ گھر پر نہیں تھے۔ اس لیے وہ نہیں آسکے۔ تاہم کاغذ اور قلم لاؤ میں لکھ دیتا ہوں کہ تم اس مرض سے نہیں مرو گی۔ مجھے خداتعالیٰ پر بے انتہا یقین ہے۔ اور میری دعا میں بھی تڑپ ہے۔ اسی دوران میرے دل میں ڈالا گیا کہ اسے مرغی کا انڈہ ابال کر اس کی زردی اور اس کے برابر اسپغول شربت کے ساتھ کھلایا جائے۔ چنانچہ میں نے انڈہ ابال کر سفیدی محمد سلیم خاں کو کھلادی اورزردی +اسپغول شربت کے ساتھ اس کی والدہ کو دیا جس سے ۵۰فیصدی فائدہ ہوا۔ شام کو یہی خوراک دوبارہ دی تو صبح تک خداتعالیٰ کے فضل سے بالکل تندرست ہوگئی۔
ان دنوں سندھ میں جب فصل تیار ہوجاتی تو چوری چکاری بہت بڑھ جاتی تھی۔ جماعتی اراضی پر بھی بسااوقات ایسی صورت پیدا ہوکر نقصان ہوجاتا تھا۔ جب میں روشن نگر میں مقیم تھا تو ایک احمدی مزارع محترم محمود احمد صاحب سندھی نے ڈیرہ پر آکر مجھے جگایا اور بتایا کہ دو آدمی جماعتی اراضی سے کپاس چوری کرکے لے جارہے ہیں۔ اس پر میں نے فوراً محترم رانا نعیم الدین صاحب کو جگایا اور چند اور دوستوں کو بھی جگا کر ان چوروں کے پیچھے دوڑ لگادی۔ اس رات چونکہ محترم محمود احمد صاحب سندھی فصل کو پانی لگارہا تھا اس لیے اس نے چوروں کو دیکھ کر ہمیں اطلاع کردی اس سے ہمیں اندازہ ہوگیا کہ ان کا رُخ کس گاؤں کی طرف ہے۔ جب میں نے اور میرے ساتھیوں نے چوروں کا پیچھاکیا تو ان کے گاؤں کی طرف دوڑ لگا کر انہیں گاؤں کے باہر ہی روک لینے کی کوشش کی۔ چوروں کو ہمارے آنے کا علم ہوگیاتھا۔ انہوں نے فوراً کپاس کی گٹھیاں وہیں پھینکیں اور اپنے گاؤں کی طرف بھاگے۔ ان میں سے ایک چور تو ہاتھ سے نکل گیا تاہم دوسرے چور کو میں نے اپنے ساتھیوں کے آنے سے پہلے دوڑتے ہوئے مارکر گِرالیا۔ سندھی عموماً اپنے پاس کلہاڑی ضرور رکھتے ہیں۔ اس لیے میں نے اس خیال سے کہ کہیں وہ کلہاڑی استعمال نہ کرلے میں نے اسے گراتے ہی کبڈی کے جاپھی کی طرح قینچی مار کر زمین پر اچھی طرح جکڑ لیا اور اس کی کلہاڑی دور پھینک دی۔ اس نے اپنی ٹانگیں چھڑانے کے لیے بہت کوشش کی مگر میں نے اسے قینچی چھڑانے نہ دی۔ اتنے میں دوسرے چور کے پیچھے جانے والے میرے ساتھی واپس آئے تو انہوں نے اس چور کے دونوں ہاتھ پیچھے کی طرف باندھے اور اسے لے کر ہم اپنی گوٹھ واپس آگئے۔ اتنی دیر میں دوسرے چور نے اپنے گاؤں جاکر اس کے پکڑے جانے کی اطلاع کردی۔ اس پر تھوڑی دیر کے بعد اس کے گاؤں کے لوگ اکھٹے ہوکر آئے اور کہا کہ چور کو خود مارنا چاہتے ہیں۔ اس لیےہمارے سپرد کردیں۔ اس پر میں گاؤں والوں کے ذریعہ وہ کپاس اٹھوا کر اپنی گوٹھ لایا۔ اتنی دیر میں محترم مینیجر صاحب اور محترم مشتاق احمد صاحب بھی وہاں پہنچ گئے۔ انہوں نے آتے ہی سب سے کہا کہ اس کا فیصلہ صبح کریں گے۔ اس پر وہ سندھی جو گاؤں سے چور کو لینے آئےتھے۔ انہوں نے کہا یہ چور ہمیں دے دیں۔ صبح فیصلے کے وقت ہم لے آئیں گے۔ مگر میں نے انہیں کہا ہم چور واپس نہیں کریں گے۔ صبح فیصلے کے وقت پیش کریں گے۔ مجھے وہاں کے لوگوں نے بتایا تھا کہ سندھی عموماً دوسرے پر مقدمہ بنانے میں ماہر ہوتے ہیں۔ اس وقت یہ بات میرے ذہن میں تھی۔ اسی لیے میں نے چور واپس کرنے سے انکار کردیا۔ اس خیال سے کہ کہیں واپس لے جاکر صبح تک کوئی وقوعہ بنا کر ہم پر کوئی پرچہ نہ دے دیں۔ بہر حال چور واپس نہیں کیا گیا۔ اس چور کے دونوں ہاتھ کمر کے پیچھے اور دونوں ٹانگیں ایک رسی کے ساتھ ایک چارپائی پر باندھ دیں او ردوسری چارپائی پر میں لیٹ گیا۔ اس رات نہ تو چور کو نیند آئی اور نہ ہی میں سویا۔ چور کو خدشہ تھا کہ اب رات کو یہ مجھے مارے گا۔ کیونکہ سندھی لوگ پنجابیوں کی مار سے بہت ڈرتے تھے۔ میں نے رات کو دو دفعہ اسے پیشاب کروایا۔ اور صبح نماز کے بعد آٹا گوندھا اور دیسی گھی کے پراٹھے پکائے۔ خود بھی کھائے اور اسے بھی کھلائے۔ کیونکہ مجھے اپنے پیارے آقا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کا وہ ارشاد یاد آیا کہ جو خود کھاؤ وہی قیدی کو بھی کھلاؤ۔ اگلی صبح پنچائیت میں چور کے گاؤں کے لوگ بھی اور احمدی احباب بھی جمع ہوچکے تھے۔ گفتگو کے بعد یہ طے پایا کہ چور دو صدروپے جرمانہ ادا کرے تو اسے رہا کردیا جائے۔ چنانچہ اس گاؤں کے لوگوں نے وہ رقم مل کر ادا کردی تو اسے چھوڑ دیا گیا۔ اور انہیں پابند کیا گیا کہ اگر آئندہ چوری ہوئی تو اس کے بعد ذمہ دار آپ گاؤں والے ہوں گے۔ اس کے بعد پھر کبھی وہاں کپاس کی چوری نہیں ہوئی۔
احمدیوں کی حفاظت
اس زمانہ میں سندھ کی اراضی پر غیر معمولی طور پر سانپ تھے۔ وقتاً فوقتاً سانپ کے کاٹنے کے واقعات بھی ہوتے رہتے تھے۔ جس سال میں روشن نگر آیا تو کپاس کی چنائی کے بعد جگہ جگہ لکڑیوں کے ڈھیر لگ جاتے ہیں۔ ان ڈھیروں کی نیچے سانپ ڈیرے ڈال لیتے ہیں۔ اس موسم میں مختلف اوقات میں تین احمدیوں اور تین ہی غیر ازجماعت افراد کو سانپ نے ڈس لیا۔ تینوں غیر از جماعت افراد باوجود علاج معالجہ کے زہر کا اثر ہونے کی وجہ سے جان کی بازی ہار گئے۔ اورتینوں احمدی علاج معالجہ کے بعد ٹھیک ہوگئے۔ اور یہ احمدی سانپ کے زہر کے اثر سے محفوظ رہے۔ الحمدللہ
نور نگر میں جماعتی فصلوں کا نقصان
جب میرا تبادلہ روشن نگر سے نور نگر ہوا تو وہاں ایک آدمی مٹھو اور اس کا بھائی جو کہ ہالے پوتہ قوم سے تھے۔ اور اسی طرح خان اور قاسم بھی تھے جماعتی اراضی پر فصلوں کا نقصان کرتے رہتے تھے۔ لوگوں سے مجھے ان کی حرکتوں کا علم ہوا تو ایک دن میں ان کے پاس چلا گیا اور انہیں بتایا کہ اَب نور نگر اراضی پر میری ڈیوٹی ہے۔ اس سے پہلے جیسا بھی وقت تھا وہ گزر گیا۔ مجھے بتاؤ میرے ساتھ کیسے چلو گے۔ وہ کہنے لگے ہم تو آپ کے تابعدارہیں۔ اس کے باوجود وہ فصلوں کو نقصان پہنچانے سے باز نہ آئے۔ ایک دن ان کے مویشی چرتے ہوئے جماعتی اراضی پر آکر فصلوں کا نقصان کرنے لگے۔ وہاں مزارع نے پکڑ کر باندھ لیے۔ مٹھو جس کا پہلے ذکر کیا گیا ہے وہ آیا اور زور زور سے بولنے لگا اور مویشی چھڑانے کے لیے بار بار اصرار کررہا تھا۔ اسی دوران میں بھی اراضی کا چکر لگا کر ڈیرہ پر واپس آیا۔ اس کو وہاں دیکھ کر پوچھا مٹھو کیا بات ہے۔ اس نے کہا کہ آپ کے آدمی نے ہمارے جانورپکڑ لیے ہیں وہ واپس کردو۔ اور ساتھ ہی برا بھلا کہنا شروع کردیا۔ اس پر میں نے اسے کہا کہ میں نے سنا ہے کہ تم اپنے جانور زبردستی چھین کر لے جاتے ہو۔ آج جانور چھین کر دکھا۔ وہ غصہ میں بہت شور مچاتا رہا۔ پھر اس نے دیکھا کہ اس طریقہ سے کامیابی نہیں ہوئی تو اس نے منت سماجت شروع کردی۔ اس پر میں نے تنبیہ کے بعد اس کے مویشی واپس کردیے۔ اور اس کی زمینوں کے پاس ایک نئی گوٹھ آباد کرنے کی سکیم بنائی۔ تاکہ جماعت کا نقصان نہ ہو۔ اس واقعہ کے بعد الحمدللہ وہ اور اس کے ساتھی اپنی زمین ٹھیکہ پر دے کر از خود ہی وہاں سے کسی اور جگہ شفٹ ہوگئے۔ اور اس طرح جماعتی اراضی پر فصلوں کے نقصان کا سلسلہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے بغیر کسی لڑائی جھگڑا کے ختم ہوگیا۔
نظام سے دوری کا نتیجہ
نور نگر میں غیر از جماعت لوگ تو فصلوں کو نقصان پہنچانے سے رک گئے تاہم بعض احمدی مزارع اس سلسلہ میں لاپرواہی کرتے تھے۔ جس کے نتیجے میں کوئی نہ کوئی نقصان ہوتا رہتا تھا۔ ایک روز ایک خاندان کو اس سے منع کیا تو وہ کام چھوڑ کر اور ناراض ہوکر وہاں سے میرواہ کی طرف شفٹ ہوگئے۔ اور وہاں زمین ٹھیکہ پر لے لی۔ ان میں سے ایک دوست نے بعد میں بتایا کہ ہم جب نور نگر سے ناراض ہوکر گئے تو اکثر نے نماز پڑھنی چھوڑ دی۔ کچھ عرصہ کے بعد خیال آیا کہ ہم تو پیدائشی احمدی ہیں اور نمازیں چھوڑ چکے ہیں۔ اور نماز جمعہ بھی نہیں پڑھتے۔ اس کے بعد ہم سب اکٹھے ہوئے اور آپس میں اپنے حالات پر غور کرکے فیصلہ کیا کہ اب نہا دھو کر صاف کپڑے پہن کر نماز جمعہ پڑھیں۔ چنانچہ تھوڑی دیر میں وہ سب نماز جمعہ کے لیے اکٹھے ہوئے اور ایک دوست نے پہلے اذان دی مزید باقی رہ جانے والے سب کے سب آجانے پر دوسری اذان دی اور خطبہ جمعہ دیا اور جمعہ کی نماز باجماعت ادا کی تو سب کو سکون ملا۔ اسی شام ان کے ہاں ایک مہمان آیا تو اس سے پوچھا کہ آج کون سا دن ہے۔ تو اس نے بتایا کہ آج تو منگل ہے۔ اس پر سب شرمندہ ہوئے کہ ہم نظام سے الگ ہوکر اپنی اس حالت کو پہنچ گئے کہ گویا منگل کے روز نماز جمعہ ادا کی۔ اس کے بعد سب نے مشورہ کیا کہ اب ہم دوبارہ نور نگر چلے جائیں وہاں کم از کم جماعت سے رابطہ تو رہے گا۔ وہ سب واپس نور نگر آئے تو انہیں دوبارہ مزارع رکھ لیا۔ پھر وہ دوست بڑےتعاون کے ساتھ کاشتکاری کرنےلگے۔
قربانی کے نتیجے میں احمدیت مل گئی
ایک غیر از جماعت دوست مکرم محمد صادق صاحب جو کہ ہوشیار پور کے مہاجر تھے اور بہت شریف النفس تھے، وہ ان دنوں جماعت کی اراضی پر مزارع تھے اور ان کے والد مولوی اور غیر از جماعت امام تھے۔ اور جماعت کی سخت مخالفت کرتے تھے۔ جب گندم کی فصل پک کر تیار ہوگئی تو گندم کی کٹائی شروع ہوگئی۔ فصل ملنے پر احمدی مزارع نے اپنے چندہ کے عوض گندم کی فصل دینی شروع کی تومکرم محمد صادق صاحب کے دل میں قربانی کا مادہ پیدا ہوا۔ تو انہوں نے کہا کہ میں احمدی تو نہیں ہوں تاہم میں اپنی گندم میں سے کچھ حصہ چندہ میں دینا چاہتا ہوں کیا مجھے اس کی اجازت ہے۔ میں نے اسے کہا خداکی راہ میں قربانی کرنی ہوتی ہے آپ بھی دےسکتے ہیں۔ اس نے اپنی مرضی سے کچھ گندم چندہ میں دے دی۔ اس کے بعد جب حضرت مصلح موعودؓ دورہ پر سندھ آئے تو محترم محمد صادق صاحب نماز جمعہ پڑھنے کے لیے ناصر آباد سٹیٹ گئے اور حضورؓ کے پیچھے نماز پڑھ کر وہیں بیعت کرکے واپس آئے اور بعد میں ان کے چھوٹے بھائی غلام رسول صاحب کو بھی جماعت کی اراضی پرملازم رکھ لیا گیا۔ کچھ عرصہ کے بعد احمدی احباب کی تبلیغ کے نتیجہ میں وہ بھی احمدی ہوگئے۔
قرض سےنجات مل گئی
آغازمیں اراضی سندھ پرصرف دو فصلیں کپاس اور گندم کاشت کی جاتی تھیں۔ بعد میں گنا اور سرخ مرچ کی کاشت بھی شروع کروادی گئی جس کے نتیجے میں کافی فائدہ ہوا۔ انہی دنوں ایک احمدی دوست مکرم سید چراغ شاہ صاحب جو کہ چک نمبر ۹۹شمالی ضلع سرگودھا کے رہنے والےتھے۔ انہوں نے اراضی سندھ پر آنے سے قبل ضلع بہاولپور میں زرعی اراضی الاٹ کروائی مگر وہ اسے آباد نہ کرسکے اور نہ ہی وہ قسطیں ادا کرسکے۔ مجبوراً وہ زمین چھوڑ کر جماعتی اراضی پر آکر نور نگر میں مزارع بن گئے۔ ان کو تقریباً بارہ سال ہوگئے تھے۔ قرض ان کا پیچھا نہیں چھوڑ رہا تھا۔ بارہ سال کے بعداللہ تعالیٰ نے ان پر اپنا فضل فرمایا ان کی فصل غیر معمولی طور پر اچھی ہوئی۔ جس کی وجہ سے انہوں نے اپنا سارا قرض ادا کردیا اور ۷۰؍روپے بچ گئے۔ میں نے انہیں مشورہ دیا کہ آپ کا بیٹا اصغر فارغ ہے اسے پانچ بھیڑیں لے دیں وہ بھی مصروف ہوجائے گا۔ انہیں میری یہ بات پسند آگئی تو کچھ عرصہ کے بعد وہ پانچ بھیڑیں ایک بڑے ریوڑکی شکل اختیا رکرگئیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کو خوب برکت دی۔ ایک دن شاہ صاحب کہنے لگے کہ اب تو ہمیں جب گوشت کی ضرورت ہوتی ہے تو ایک جانور ذبح کرلیتے ہیں۔
جلسہ سالانہ ۱۹۵۱ء میں شرکت
۱۷؍اکتوبر ۱۹۵۱ء کو راولپنڈی میں وزیر اعظم پاکستان محترم لیاقت علی خان صاحب کے قتل کے بعد ملک میں حالات خراب ہونے کے بعد محسوس کیا کہ جلسہ سالانہ ربوہ کے موقعہ پر حفاظت کے لیے غیر معمولی انتظامات ہونے چاہئیں۔ اس کے لیے جلسہ سالانہ کے موقعہ پر حفاظت کےلیے والنٹیئر خدام کے لیے تحریک کی گئی۔ اتفاقاً مجھے بھی جلسہ سالانہ ربوہ ۱۹۵۱ء میں شرکت کاموقعہ ملا۔ جب میں ربوہ حاضر ہوا تو محترم صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب نے مجھے دیکھ کر بلایا اور کہا اچھا ہوا کہ تم آگئے۔ یہاں حفاظت کےلیے خدام کی ضرورت ہے اب آپ مکرم چودھری عبدالمالک صاحب کے ساتھ مل کر پچاس پچاس خدام کی دو پلاٹون بنالو اور حفاظت کی ذمہ داری سنبھالو۔ ایک تو قصرِ خلافت کی حفاظت کرنی ہے اور دوسرے حضورؓ کو جلسہ سالانہ پر لانے اور لے جانے اور اسی طرح نمازوں کے اوقات میں مسجد مبارک میں ڈیوٹی دینا ہوگی۔ جلسہ سالانہ ربوہ ۱۹۵۱ء کے موقعہ پر محترم صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب خدمتِ خلق کے ناظم تھے اور محترم کیپٹن بابا شیر ولی صاحب آف وریا مال ضلع جہلم نائب ناظم خدمتِ خلق تھے۔ اور جلسہ سالانہ کے دوران جملہ حفاظتی ڈیوٹی ان دونوں افسروں کے ماتحت تھی۔ اس لیے ہر دو نے قصرِ خلافت اور حضورؓکی حفاظت کے لیے مذکورہ بالا دو پلاٹون بنالیں اورحفاظت ِمرکز کی ڈیوٹی دیگر خدام سرانجام دینے لگے۔ دوپلاٹون کے خدام کو ہدایت تھی کہ قصرِ خلافت میں صرف وہی دوست داخل ہوسکیں گے جن کی اجازت ناظم صاحب خدمتِ خلق صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب دیں گے۔ چنانچہ نماز مغرب سے کچھ قبل محترم چودھری محمد ظفراللہ خاں صاحبؓ تشریف لائے۔ وہاں ڈیوٹی پر مقرر خدام نے انہیں روکا تو ان کے حفاظتی گارڈ کے سربراہ نے خدام سے بحث شروع کردی کہ یہ وزیر خارجہ پاکستان ہیں ان کو ملاقات کے لیے جانے دیں۔ اور ان کی حفاظت کے لیے ہم بھی ساتھ جائیں گے۔ اتنی دیر میں مَیں بھی راؤنڈ کرتا ہوا وہاں پہنچ گیا۔ میں نے سرکاری حفاظتی عملہ کو کہا کہ آپ سامنے ہسپتال کے برآمدہ میں چلے جائیں۔ اور اب ان کی حفاظت کی ذمہ داری ہم سنبھال لیں گے۔ اس پر ان کا سربراہ کہنے لگا یہ نہیں ہوسکتا ہم ہر حال میں محترم چودھری صاحب کے ساتھ رہیں گے۔ اس پر میں محترم چودھری ظفراللہ خاں صاحب کے پاس حاضر ہوا اور ان سے عرض کی چودھری صاحب ہمیں محترم صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب کی طرف سیکیورٹی کے حوالے سے جو ہدایات دی گئی ہیں اس کے مطابق پہلے آپ کو ملاقات کےلیے اجازت لینا ہوگی اور اس کے لیے کچھ انتظار کی زحمت اٹھانا ہوگی۔ اس پر محترم چودھری صاحب نے فرمایا ٹھیک ہے۔ اور انہوں نے کار سے اتر کر اپنے حفاظتی عملہ کو ہدایت کی کہ یہ جس طرح کہہ رہے ہیں اس کی پابندی کریں۔ ان کا عملہ نور ہسپتال کے برآمدہ میں چلا گیا۔ اور محترم چودھری صاحب دروازہ کے پاس انتظار کرنے لگے۔ ایک دوست نے چودھری صاحب سے بیٹھنے کی درخواست کی تو آپ نے فرمایا کہ یہاں ٹھہر کر انتظار کرتا ہوں۔ نیز انہوں نے کہا محترم صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب سے میری طرف سے عرض کردیں کہ میں حضورؓ سے ملاقات کے لیے حاضر ہوا ہوں۔ چنانچہ میں نے جاکر محترم میاں صاحب سے چودھری صاحب کی آمد کا ذکر کرکے اجازت کے لیے کہا۔ اس پر محترم میاں صاحب نے کہا کہ محترم چودھری صاحب کوملاقات کےلیے لے آئیں۔ اجازت ملنے پر میں نے آکر چودھری صاحب سے عرض کیا ملاقات کےلیےتشریف لے آئیں۔ تحفہ کے طور پر وہ ساتھ پھلوں کی ایک ٹوکری بھی لائے۔ انہیں حضورؓ کی خدمت میں لے جایا گیا۔ اور پھلوں کی ٹوکری بھی ساتھ پیش کردی۔ جب محترم چودھری صاحب ملاقات کرکے واپس آئے تو ڈیوٹی پر موجود سب خدام کا شکریہ ادا کیااور باہر نکل کر اپنے حفاظتی عملہ کو بلایا اور جس جگہ آپ کا قیام تھا وہاں تشریف لے گئے۔ اس واقعہ میں سب دوستوں کے لیے محترم چودھری محمد ظفراللہ خاں صاحبؓ نے ایک ایسا نمونہ پیش کیا ہے کہ کوئی آدمی خواہ کتنے بڑے دنیوی عہدہ پر ہو اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ نظامِ جماعت کی طرف سے دی گئی ہدایات کا اسی طرح پابند رہے جس طرہ کوئی عام آدمی پابند ہے۔
جلسہ سالانہ ربوہ ۱۹۵۱ء سے واپس جاکر نور نگر میں مَیں نے ایک کچا تالاب بنوایا اور اس کے ارد گرد باڑھ لگواکر اس میں مچھلی ڈلوادی اور ان کو پالنے کا مناسب انتظام کروایا تا کہ کسی قسم کا کوئی نقصان نہ ہوا اور ان سے جماعت کو بھی فائدہ پہنچے۔
حضورؓ کی دعوت
جب جماعت کے سہ سالہ انتخابات ہوئے تو جماعت احمدیہ نور نگر نے مجھے صدر جماعت کی خدمت سونپی۔ اور مرکز سے باقاعدہ منظوری آنے پر مَیں نے چارج سنبھال لیا۔ اور تمام نور نگر کے احباب کو چندہ تحریک جدید میں شامل کروایا۔ جب حضرت مصلح موعودؓ سندھ کے دورہ پر تشریف لائے تو میں نے بطور صدر جماعت نور نگر حضورؓ کی خدمت میں ناصر آباد سٹیٹ حاضر ہوکر دعوت کے لیے عرض کیا۔ اس پر حضورؓ نے فرمایا: ’’جب میں محمد آباد دورہ پر آؤں تو پھر یاد کروانا۔‘‘ اب دعوت نہ تو منظور تھی اور نہ ہی نامنظور۔ واپس جاکر میں نے نور نگر کے احباب سے اپنی حضورؓ سے ملاقات کا ذکر کیا اور کہا کہ میں نے حضورؓ سے دعوت کے لیے عرض کیا تھا۔ ابھی حضورؓ نے جواب نہیں دیا۔ آپ سب کا اس بارے میں کیا مشورہ ہے۔ سب نے اتفاقِ رائے سے کہا اس سے زیادہ ہماری خوش قسمتی کیا ہوسکتی ہے کہ حضورؓ ہماری دعوت قبول فرمالیں۔ قبول ہونے کی صورت میں ہم سب حسبِ توفیق اس میں حصہ لیں گے۔ دوسری طرف نور نگر جماعت کی ظاہری حالت یہ تھی کہ حضورؓ اور آپ کے ساتھیوں کو بٹھانے کے لیے ہمارے پاس اپنی صفیں بھی نہ تھیں۔ اور وہ بھی قریبی جماعت محمد آباد سے لانی تھیں۔ جب حضورؓ محمد آباد دورہ پر پہنچ گئے تو میں پھر حضورؓ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ملاقات کرکے دوبارہ دعوت کے لیے عرض کیا۔ جسے حضورؓ نے از راہِ شفقت قبول فرمالیا۔ اس پر میں محمد آباد میں مقیم دکاندار محترم سیٹھ عزیز احمد صاحب کے پاس گیا ( وہ کسی زمانہ میں حضرت مسیح موعودؑ کےداماد حضرت نواب محمد علی خان صاحب مالیر کوٹلہ کے پاس باورچی رہ چکے تھے انہی دنوں میں میرے ماموں حضرت منشی امیر محمد خاں صاحب اہرانوی حضرت نواب صاحب کے منیم(منشی) رہ چکے تھے)۔ ان سے دعوت کے لیے چاول چینی اور دیگر مصالحہ جات خرید ے او ران سے حضورؓ کی دعوت کا ذکر کیا۔ کیونکہ ان دنوں مجھے حضورؓ کے کھانے کے بارے میں کوئی علم نہ تھا۔ محترم سیٹھ عزیز احمد صاحب نے اس موقعہ پر نہایت خوشی سے کھانا پکانے پر آمادگی کا اظہارکیا۔ کیونکہ حضورؓ کےلیے کھانا تیار کرنا بھی ایک بہت بڑا اعزاز تھا۔ دوسرے دن حضورؓ کا مجھے پیغام ملا کہ میں نے اس روز ناشتہ بھی نور نگر میں ہی آکر کرنا ہے۔ جماعت احمدیہ نور نگر کےلیے یہ دوہرا خوشی کا پیغام تھا۔ اب حضورؓ کی مزید کرم فرمائی دیکھیں کہ آنے سے ایک دن پہلے شام سے قبل مجھے پیغام بھجوایا کہ اب میں نے میٹنگ بھی وہیں نورنگر میں کرنی ہے۔ اس کا بھی انتظام کرلیں۔ اس مزید خوشی سے احباب جماعت نور نگر بہت خوش ہوئے کہ حضورؓ زیادہ سے زیادہ وقت ہماری جماعت نور نگر میں گزاریں گے۔
اگلی صبح نماز کے تھوڑی دیر بعد ہی جب کہ ابھی مقامی احمدی نورنگر جماعت پورے طور پر تیار بھی نہیں ہوئے تھے اور ابھی ناشتہ بھی تیار نہیں ہوا تھا کہ آدمی نے آکر بتایا کہ حضورؓ نور نگر کے لیے وہاں سے روانہ ہوچکے ہیں۔ سب احمدی دوست جلدی جلدی گوٹھ سے باہر حضورؓ کے استقبال کےلیے جمع ہونےشروع ہوگئے۔ ابھی بمشکل اٹھارہ بیس دوست ہی پہنچے تھے کہ حضورؓ تشریف لے آئے۔ حضورؓ نے آتے ہی لائن میں کھڑے تمام احباب سے مصافحہ کیا۔ اس دوران محترم چودھری صلاح الدین صاحب مینیجر سخت گھبرائے کہ ابھی تو ناشتہ بھی تیار نہیں ہوا اور حضورؓ تشریف لے آئے ہیں۔ چونکہ گرمی کا موسم تھا میں نے آگے بڑھ کر حضورؓ سے مصافحہ کیا اور عرض کیا موسم گرم ہے حضورؓ پہلے ناشتہ کرنا پسند فرمائیں گے یا فصل دیکھنا۔ اس پر حضورؓ نے فرمایا کہ میں پہلے فصل دیکھوں گا اور واپس آکر ناشتہ کروں گا۔ اس پر مَیں نے مینیجر صاحب سے کہا آپ حضورؓ کے ساتھ چلے جائیں ہم دیگر انتظامات کرتے ہیں۔ اس دورہ میں حضورؓ کے ساتھ محترم وکیل الزراعت تحریک جدید، مینیجر صاحبان اور لوکل ایجنٹ صاحب تھے۔ چنانچہ حضورؓ نور نگر اراضی کی فصلوں کا معائنہ کرنے کے لیے تشریف لے گئے اور ہم ناشتہ کی تیاری میں مصروف ہوگئے۔ تھوڑی ہی دیر میں حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحب ( المعروف چھوٹی آپا صاحبہ) اور حضرت مہر آپا صاحب( ہر دوحضورؓ کی حرم) محترم ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب کے ساتھ جیپ میں تشریف لائیں۔ ان کے ٹھہرنے کا انتظام مکرم مینیجر صاحب کے گھر میں کیا گیا تھا۔ وہاں تشریف لے گئیں اور محترم ڈاکٹر صاحب بھی وہیں ٹھہر گئے۔ اس وقت نورنگر میں بطور مہمان خانہ ایک کمرہ بنایا ہوا تھا۔ اس کے آگے ایک برآمدہ تھا۔ برآمدہ کے ساتھ بانس گاڑ کر اوپر کانے ڈال کر ایک چھپر سا سایہ کے لیے بنایا ہوا تھا۔ اسی جگہ حضورؓ کے بیٹھنے کا انتظام تھا۔ اس کے ساتھ ہی ایک کیکر کا مزید سایہ ساتھ شامل ہوگیا۔ اس جگہ نیچے بچھانے کے لیے صفیں قریبی جماعت محمد آباد سے منگوالیں۔ اور اوپر گدے رضائیاں ڈال کر ان پر سفید چادریں بچھوادیں اور ہموار اور صاف جگہ پر صفیں ڈال کر کافی جگہ کا انتظام کرلیا۔ اس سے قبل مجھے دو مرتبہ حضورؓ کے ساتھ کھانے کا موقعہ مل چکا تھا۔ پہلی بار معراجکے ضلع سیالکوٹ میں جب ہم سیالکوٹ جموں بارڈر پر حفاظت کی ذمہ داری اداکررہے تھے۔ اور دوسری مرتبہ باغسر آزاد کشمیر میں جب حضورؓ فرقان بٹالین کے معائنہ کے لیےتشریف لے گئے تھے۔ اس وقت ہم کشمیر بارڈر پر وطنِ عزیز کی حفاظت کی ڈیوٹی ادا کررہےتھے۔ دونوں جگہوں پر حضورؓ نے احباب جماعت کے ساتھ دریوں او رصفوں پر بیٹھ کر کھانا کھایاتھا۔
جب حضورؓ نور نگر کی فصلوں کا معائنہ مکمل کرکےواپس نور نگر آئے۔ حضورؓ کے ٹھہرنے کا انتظام اسی مہمانوں کے کمرہ میں کیا گیا۔ وہیں ناشتہ کا انتظام تھا۔ ایک ہی چادر پر حضورؓ کے ساتھ محترم ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب (یہ حضورؓ کے طبی مشیر اور معالج خصوصی تھے) اور محترم سید عبدالرزاق شاہ صاحب ناشتہ کے لیے بیٹھے۔ پاس ہی مینیجر صاحبان اور انتظامیہ کے دیگر دوستوں نے بیٹھ کر ناشتہ کیا۔ پروگرام کے مطابق ناشتہ کے معاً بعد حضورؓ نے دریافت فرمایا کہ میٹنگ کےلیے کونسی جگہ ہے۔ اتنے میں سورج نے بھی اپنا رنگ دکھایا جس کی وجہ سے گرمی بھی تیز ہوگئی۔ اس وقت تک مجھے حضورؓ کے مزاج سے کچھ زیادہ واقفیت نہ تھی۔ حضورؓ نے کچھ ناراضگی کا اظہار فرمایا۔ اللہ تعالیٰ کی بھی عجیب شان ہے۔ ایک طرف تو ہمیں حضورؓ کی دعوت کی اتنی زیادہ خوشی تھی جس کا اظہار کرنا مشکل ہورہا تھا۔ مگر تھوڑی ہی دیر کے لیے حضورؓ کی ناراضگی برداشت سے باہر ہوگئی۔ ساتھ ہی مسجد تھی۔ میں مسجد گیا اور چند سیکنڈ دعا کی کہ اے اللہ! ہم نے تو اپنی پوری کوشش کرکے یہ انتظام کیا ہے۔ اس کے بعد بھی خلیفہ وقت کی ناراضگی برداشت سے باہر ہے کوئی مدد فرما۔ باہر نکلا تو خداتعالیٰ نے میری دعا سن لی۔ دیکھا کہ مجلس کا رنگ ہی بدل چکا تھا۔
میں چاہتا تھا کہ حضورؓ سے عرض کروں کہ حضورؓ مسجد میں ہی میٹنگ کرلیتے ہیں۔ حضورؓ نے مجھے دیکھتے ہی فرمایا یہ سایہ والی جگہ ٹھیک ہے۔ یہیں پر میٹنگ ہوگی۔ اس کے بعد حضورؓ احباب سے مسکرا کر باتیں کرنے لگے۔ یہ دیکھ کر میری جان میں جان آئی۔ اس میٹنگ میں محترم وکیل الزراعت صاحب، مینیجر صاحبان، لوکل ایجنٹ صاحبان، اکاؤنٹنٹ صاحبان شامل ہوئے۔ یہ میٹنگ ڈیڑھ بجے تک جاری رہی۔ میں نے حضورؓ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا۔ حضورؓ کھانا تیار ہے اس پر آپ نے فرمایا کہ یہیں کھانا لے آئیں۔ چند خدام کی پہلے ہی کھانا کھلانے پر ڈیوٹی لگائی ہوئی تھی۔ ان کے علاوہ گاؤں کے تمام احمدی احباب اور غیر ازجماعت مزارعین اور بعض دیگر مہمانوں کے علاوہ حضورؓ کے ساتھ آنے والے اور میٹنگ میں شریک تمام افراد نے حضورؓ کے پاس بیٹھ کر کھانا کھایا۔ کھانا کھانے کے بعد حضورؓ نے دعا کروائی اس کے بعد خاکسارنے حضورؓ سے درخواست کی کہ احباب حضورؓ سے مصافحہ کرنا چاہتے ہیں۔ حضورؓ نے فرمایا کہ ٹھیک ہے یہیں کرلیتے ہیں۔ تما م حاضر احباب نے حضورؓ کے ساتھ مصافحہ کیا۔ آخر پر عرض کی کہ حضورؓ نماز کا وقت ہوچکا ہے۔ فرمایا: اذان دلوادیں۔ ایک دوست نے اذان دی اس کے بعد حضورؓ نے نماز ظہر وعصر جمع کرکے نور نگر کی کچی مسجد میں پڑھائی۔ دیگر احباب نے نماز اسی کھانا کھانے والی جگہ پر سایہ میں ادا کی۔ اس کے بعد حضورؓ نے کچھ آرام فرمایا اور شام کو حضورؓ محمد آباد تشریف لے گئے۔ نورنگر جماعت نے وہی صفیں فوراً اکٹھی کرکے محمد آباد مسجد میں بھجوادیں کیونکہ اب حضورؓ نے نماز مغرب وعشاء محمد آباد میں پڑھانی تھی۔ حضرت مصلح موعود کی یہ پہلی اور آخری دعوت تھی۔ جو جماعت احمدیہ نور نگر کی طرف سے کی گئی۔
ایک قرآنی حکم کی پابندی اور نقصان سے بچ گئے
ایک دفعہ زمینوں کا چکر لگانے گیا ہوا تھا تو واپس آکر معلوم ہوا کہ کسی چور نے ایک احمدی مزارع کی بھینس چوری کرلی ہے۔ اس دوست نے مجھے اس واردات کی تفصیل بتائی۔ اس لیے میں نے مختلف لوگوں کو جلدی جلدی اردگرد کے تمام علاقہ کو گھیرنے کے لیے بھجوادیا۔ تاکہ وہ بھینس اس علاقہ سے کہیں دور نہ نکل سکے۔ اسی تلاش میں دن کے بارہ بج گئے۔ اتفاقاً اس روز جمعۃ المبارک تھا۔ وہاں کے سابق پریذیڈنٹ محترم چودھری سلطان احمد صاحب گوندل نے کہا کہ نماز جمعہ کے بارے میں قرآن کریم میں حکم ہے کہ جب جمعہ کا وقت ہوجائے تو سب کام چھوڑ کر جمع ہوجاؤ اور نماز کی ادائیگی کے بعد زمین میں پھیل جاؤ اور اس کے فضل تلاش کرو۔ اس لیے جہاں کُھرا ہے اسے وہیں چھوڑ دیا جائے اور نماز جمعہ ادا کی جائے۔ اور نماز کے بعد مزید تلاش کا کام جاری رکھا جائے۔ اس قرآنی حکم کی پابندی کی برکت سے شام کو وہ بھینس مل گئی او راسی روز اس بھینس نے ایک بچہ بھی دیا۔ اس طرح وہ احمدی دوست نقصان سے بچ گئے۔
تمہارے پچھلے گناہ معاف کردیےگئے
ایک دفعہ مجھے ملیریا بخار نے گھیر لیا۔ چند روز ملیریا ہوتا رہا۔ اسی دوران جمعہ کا دن آگیا۔ اس روز طبیعت کچھ بہتر محسوس ہوئی۔ میں نے بطور صدر خود ہی خطبہ دیا اور نمازجمعہ پڑھائی۔ نماز کے بعد جب گھر پہنچا تو بخار کا شدید حملہ ہوا۔ اور بخار کافی تیز ہوگیا۔ شدت مرض سے میں لیٹ گیا۔ اور خدا کے حضورؓ نہایت دردِ دل کے ساتھ دعا کرنی شروع کردی۔ دعا کرتے کرتے مجھے نیند آگئی۔ نماز عصر سے ذرا پہلے ایک بڑی زور دار آواز آئی عبدالسلام تمہارے پچھلے گناہ معاف کردیےہیں اور سارا جسم پسینہ سے شرابور ہوگیا۔ اٹھ کر دیکھا تو بخار اتر چکا تھا۔
مارچ ۱۹۵۴ء کے شروع میں مَیں نے ایک خواب دیکھا کہ میں کسی کام کے سلسلہ میں ٹاہلی ریلوے سٹیشن ضلع میرپور خاص گیا ہوں۔ جب وہاں سے واپس آنے لگا تو ٹرین کا وقت ہوچکا تھا۔ میں گاڑی کے لیے ٹھہر گیا۔ جب ٹرین ٹاہلی ریلوے سٹیشن پر رکی تو حضرت مصلح موعودؓ اس ٹرین سےنیچے اترے۔ اس وقت حضورؓ کے ساتھ کوئی دفتر کا عملہ اور نہ ہی حفاظتِ خاص والے ساتھ تھے۔ حضورؓ اکیلے ٹرین سے پلیٹ فارم پر آئے اور پیدل ہی محمد آباد سٹیٹ کی طرف روانہ ہوگئے۔ میں دوڑ کر حضورؓ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی حضورؓ کے باڈی گارڈ کہاں ہیں۔ حضورؓ نے فرمایا میرا کوئی باڈی گارڈ نہیں ہے۔ اس پر میں نے عرض کیا حضورؓ! مَیں آپ کا باڈی گارڈہوں۔ اس لیے میں آپ کے ساتھ جاؤں گا۔ میں نے چلتے چلتے حضورؓ سے پوچھا کہ حضورؓ نے کھانا تناول فرمالیا ہے؟ جواب ملا نہیں۔ اس پر میری آنکھ کھل گئی اور میں سخت پریشان ہوگیا اور خیال کیا کہ کوئی ابتلاء آنے والا ہے۔ اس کے دو یا تین دن کے بعد ۱۰؍مارچ ۱۹۵۴ء کو ایک بدبخت شخص نے مسجد مبارک ربوہ میں حضورؓ پر قاتلانہ حملہ کردیا۔ جس کے نتیجے میں حضورؓ کو شدید زخم آئے۔ اس سے قبل حضورؓ کے فیصلہ کے مطابق چند دن کے بعد حضورؓ سندھ کے دورہ پر تشریف لانے والے تھے۔ اس اطلاع کے ملنے پر کہ حضورؓ پر قاتلانہ حملہ ہوگیا ہے۔ میں سنتے ہی سکتے میں آ گیا۔ میرے ذہن پر وہ خواب والی گھبراہٹ طاری ہوگئی۔ اور میں سخت پریشان ہوگیا۔ میں نے فوراً محترم رانا نعیم الدین صاحب کاٹھگڑھی کو محمد آباد بھجوایا کہ وہ محترم سید عبدالرزاق شاہ صاحب سے مل کر تفصیلی حالات معلوم کرکے آئیں۔ جب وہ شاہ صاحب کے پاس پہنچے تو انہوں نے بتایا کہ ابھی صرف حضورؓ پر قاتلانہ حملہ کی خبر ملی ہے۔ میں تفصیل معلوم کرنے کے لیے ابھی میر پور خاص جارہا ہوں۔ وہاں سے ٹیلیفون کرکے تفصیل معلوم کرکے آپ کو اس کی اطلاع کردوں گا۔ چنانچہ میں نے نورنگر جماعت کے تمام احباب کو تحریک کی کہ کثرت کے ساتھ خداتعالیٰ کے حضور حضرت مصلح موعود ؓکی صحت کاملہ اور درازیٔ عمر کے لیے دعائیں کریں اور حسب توفیق صدقات بھی دیں۔ اس پر مقامی جماعت نور نگر نے دعاؤں کے ساتھ صدقات بھی دینے شروع کردیے۔ اس موقعہ پر میں نے اکیلے چار بکرے صدقہ دیے۔ جب محترم سید عبدالرزاق شاہ صاحب میرپور خاص سے تفصیلی خبر لے کر آئے تو تمام احباب جماعت کو اس سے آگاہ کیا گیا۔
اس کے بعد میری تبدیلی نور نگر سے ۱۲؍واٹر کورس شیرپور کردی گئی۔ وہاں ایک رات میں سخت پریشان ہوگیا۔ تمام شب دعا کرتا رہا مگر سکون نہ ملا۔ آخر کاغذ اور قلم لے کر حضورؓ کی خدمت میں دعا کا خط لکھا اور اس میں اس خواہش کا اظہار کیا کہ حملے کا سن کر ملاقات کے لیے دل چاہتا ہے کہ اپنی آنکھوں سے حضورؓ کو جاکر دیکھوں۔ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ جلد ملاقات کے سامان پیدا فرمائے۔ اور میری پریشانی دور فرمائے۔ نیز اللہ تعالیٰ حضورؓ کو صحت کاملہ اور کام کرنے والی لمبی زندگی عطا فرمائے اور جلد صحت یاب ہونے پر حسب پروگرام سندھ کے دورہ پر تشریف لائیں۔
اس خط کے لکھنے کے بعد میں نے دل میں ایک سکون محسوس کیا اور خط سرہانے رکھ لیا کہ صبح پوسٹ کردوں گا۔ اس کے بعد نیند آگئی۔ جب میں صبح اٹھا تو پُرسکون تھا۔ ناشتہ کے بعد وہ خط پوسٹ کردیا۔ خط لکھنے کے چھ دن بعد میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے محمد آباد سٹیٹ گیا۔ وہاں پر حضورؓ کے خط کا جواب مکرم پرائیویٹ سیکرٹری صاحب کے دستخط سے ملا۔ خط میں تحریر تھا کہ حضورؓ نے دعا کی ہے۔ مجھے یہ خط نماز جمعہ سے قبل مل گیا تھا۔ مجھے خداتعالیٰ پر کامل یقین تھا کہ میرے لیے حضورؓ کی دعا قبول ہوگئی ہے۔ مگر ظاہری سامان کوئی نظر نہیں آرہا تھا۔
نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد مکرم چودھری غلام احمد صاحب عطا جو کہ محمد آباد کی جماعت کے وائس پریذیڈنٹ تھے۔ انہوں نے یہ اعلان کیا کہ دوست نماز کے بعد ٹھہر جائیں۔ مجلس مشاورت کے لیے نمائندہ کا انتخاب کرنا ہے۔ خدا کی قدرت دیکھیں۔ نمائندہ مجلس مشاورت کے لیے تین نام پیش ہوئے پہلا نام مکرم سید عبدالرزاق شاہ صاحب کا دوسرا نام مکرم چودھری محمد حسین صاحب کا اور آخری نام میرا پیش ہوا۔ کثرت رائے سے میرا نام نمائندہ مجلس مشاورت کے لیے تجویز کیا گیا۔ حالانکہ پہلے دو احباب کو جماعت کے اکثر دوست بخوبی جانتے تھے۔ مجھے اس حلقہ میں آئے ابھی زیادہ دیر بھی نہیں ہوئی تھی۔ سندھ انتظامیہ کی طرف سے مجھے یہ ہدایت دی گئی کہ مجلس مشاورت کے بعد اپنی سالانہ رخصت بھی گزار آئیں۔ تا کہ جلسہ سالانہ پر کسی اور دوست کو موقعہ مل سکے۔ چنانچہ میں مجلس مشاور ت کے لیے ربوہ آیا تو حضرت مصلح موعودؓ سے ملاقات بھی ہوگئی اور خواہش بھی پوری ہوگئی۔ تاہم میں نے سالانہ رخصت سے استفادہ نہ کیا۔ ۱۹۵۴ء کی مجلس مشاورت چار دن جاری رہی۔ حضورؓ کی حفاظت کے لیے اڑھائی دن مختلف انتظامات کے لیے صلاح مشورے ہوتے رہے۔ اور متفرق حفاظتی پہلو بھی بحث میں سامنے آئے۔ مکرم چودھری عبداللہ خاں صاحب امیرجماعت احمدیہ کراچی نے ایک تجویز پیش کی کہ جماعت کی طرف سے حضورؓ کا علاج لندن سے کروایا جائے اور اس کے لیے جماعت کم از کم پچھتر ہزار روپے اکٹھے کرے۔ اور تمام حاضر نمائندے اپنی اپنی جماعت کی طرف سے وعدے اسی موقعہ پر لکھوادیں۔ میں نے بھی جماعت احمدیہ محمدآباد کی طر ف سے ۵۰۰؍روپے کا وعدہ لکھوادیا۔ مجلس مشاورت کی وجہ سے میں سات دن آن ڈیوٹی رہا۔ جب واپس محمدآباد پہنچا تو تمام مقامی جماعت کو اکٹھا کرکے مجلس مشاورت کی کارروائی سے سب کو آگاہ کیا۔ اور ان کو بتایا کہ میں نے وہاں مجلس مشاورت میں جماعت احمدیہ محمدآباد کی طرف سے ۵۰۰؍ روپے وعدہ بھی پیش کردیا تھا۔ اس لیے دوست وہ وعدہ پورا کرنے کے لیے جلد اپنی اپنی کوشش کریں۔ الحمدللہ جماعت نے بہت جلد اپنا وعدہ پورا کردیا۔
میری پہلی دعا تو حضورؓ سے ملاقات کی تھی جو اللہ تعالیٰ نے خود ہی انتظام کرکے کروادی۔ اب دوسری دعا اس رنگ میں قبول ہوگئی کہ حضورؓ صحت یاب ہوکر سندھ کا دورہ کریں۔ جولائی ۱۹۵۴ء میں حضورؓ نہ صرف سندھ کے دورہ پر تشریف لائے بلکہ نماز عید بھی ناصرآباد سندھ میں پڑھائی۔ اسی سال مجھے مجلس خدام الاحمدیہ محمدآباد میں بطور قائد مجلس خدمت کی توفیق بھی ملی۔ الحمدللہ
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: حفاظت مرکز قادیان اور اراضی سندھ کی کچھ یادیں(قسط اوّل)




