نمازِ جنازہ حاضر و غائب
مکرم منیر احمد جاوید صاحب پرائیویٹ سیکرٹری حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز تحریر کرتے ہیں کہ حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ۲۲؍جولائی ۲۰۲۶ء بروز بدھ بارہ بجے بعد دوپہر اسلام آباد (ٹلفورڈ) میں اپنے دفتر سے باہر تشریف لاکر مکرم ناظم رسول بٹ صاحب (مچم۔یوکے) کی نماز جنازہ حاضر اور چھ مرحومین کی نمازِ جنازہ غائب پڑھائی۔
نماز جنازہ حاضر
مکرم ناظم رسول بٹ صاحب (مچم۔یوکے)
۱۹؍ جولائی ۲۰۲۶ء کو ۷۷ سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحوم نے ۱۹۶۶ء میں ۱۷ سال کی عمر میں احمدیت قبول کرنے کی توفیق پائی۔ خاندان میں اکیلے احمدی ہونے کی وجہ سے آپ کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جس کا آپ نے بہت صبر اور مستقل مزاجی سے مقابلہ کیا۔ آپ کو تبلیغ کا بہت شوق تھا اور چار بیعتیں کروانے کی بھی توفیق ملی۔ آپ نے کراچی میں اپنی مجلس کے زعیم انصاراللہ اور صدر حلقہ کے طور پر خدمت کی توفیق پائی۔ پاکستان سے یو کے شفٹ ہونے کے بعد بھی مرحوم جماعتی کاموں میں پیش پیش رہےاور تقریباً ۱۵ سال تک بطور صدر جماعت مچم خدمت بجالاتے رہے۔ مرحوم صوم وصلوٰۃ کے پابند، چندوں کی ادائیگی میں با قاعدہ، خاموشی کے ساتھ مستحق احباب کی مدد کرنے والے ایک مخلص اور باوفا انسان تھے۔ مرحوم موصی تھے۔پسماندگان میں دو بیٹے، دو بیٹیاں اور پوتے پوتیاں اور نواسے نواسیاں شامل ہیں۔
نماز جنازہ غائب
۱۔مکرم ماسٹر احمد علی صاحب ابن مکرم تاج دین صاحب (ربوہ)
۲۹؍جون ۲۰۲۶ء کو ۹۷ سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ کے خاندان میں احمدیت حضرت مولوی شیر علی صاحب رضی اللہ عنہ اور ان کے والد حضرت مولوی نظام دین صاحب رضی اللہ عنہ کے ذریعہ آئی۔ مرحوم نے ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں ادر حماں اور بھابھڑہ میں حاصل کی۔ میٹرک کے بعد ٹیچر ٹریننگ کورس مکمل کیا اور تقریباً دس سال تک مختلف سرکاری سکولوں میں بطور استاد پڑھاتے رہے۔ بعد ازاں سرکاری ملازمت ختم کر کے مرکز سلسلہ ربوہ میں تعلیم الاسلام ہائی سکول میں تدریس کا آغاز کیا۔ جہاں تقریباً پینتیس سال تک نہایت اخلاص سے ہزاروں طلباء کی تعلیم و تربیت کی۔ دوران ملازمت آپ نے اردو اور فارسی فاضل کا امتحان پاس کیا۔ ایک موقع پر آپ کو بطور ہیڈ ماسٹر کام کرنے کی پیشکش ہوئی مگر آپ نے مرکز میں رہ کر کام کرنے کو ترجیح دی۔ آپ کے بے شمار شاگرد پوری دنیا میں مختلف شعبہ ہائے زندگی میں نمایاں خدمتیں سر انجام دے رہے ہیں۔ آپ نے محلہ دارالعلوم میں اپنا گھر تعمیر کیا اور تمام عمر و ہیں سکونت اختیار کی۔آپ کے اندر جماعتی خدمات کا جذبہ ہمیشہ نمایاں رہا اورمحلہ کی سطح پر سیکرٹری امور عامہ کے طورپر خدمت کی توفیق پائی۔ ریٹائرمنٹ کے بعد وقف کرکے وقف جدید میں بھی خدمت بجالاتے رہے۔ آپ کو ربوہ میں منعقد ہونے والے مشہور کبڈی اورگھڑ دوڑ ٹورنامنٹس کی پنجابی زبان میں کمنٹری کرنے کا بھی موقع ملا۔ پنجابی زبان میں آپ کی نہایت شستہ اور پُر جوش کمنٹری بہت مشہور تھی۔ مرحوم صوم و صلوٰۃ کے پابند، بڑے ملنسار، خلافت کے شیدائی اور نافع الناس وجود تھے۔ خلافت رابعہ کے دور میں آپ کو اپنے ننھیالی گاؤں میں تبلیغی دوروں میں شامل ہوکر خاندان کے متعدد افراد کو احمدیت میں لانے کی توفیق ملی۔مرحوم موصی تھے۔پسماندگان میں ۵ بیٹوں کے علاوہ پوتے پوتیاں شامل ہیں۔آپ مکرم چودھری نصیر احمد صاحب …کے والد اور مکرم راتل ہارون چودھری صاحب … اور مکرم معاذ لبیب احمد صاحب (متعلم جامعہ احمدیہ کینیڈا) کے دادا تھے۔ آپ کے ایک بیٹے ڈاکٹر حفیظ الرحمٰن صاحب گذشتہ کئی سالوں سے امریکہ میں بطور انچارج سپینش ڈیسک خدمت کی توفیق پارہے ہیں۔جبکہ دوسرے بیٹے مکرم حافظ انیس الرحمٰن صاحب کینیڈا میں اپنے حلقہ کے صدر جماعت ہیں۔
۲۔مکرمہ ذکیہ بیگم صاحبہ اہلیہ مکرم ماسٹر احمد علی صاحب مرحوم (ربوہ )
۱۶؍جون ۲۰۲۶ء کو ۸۸سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ نے ربوہ آنے پر گورنمنٹ پرائمری سکول میں سروس شروع کی۔ سینکڑوں کی تعداد میں آپ کی شاگرد خواتین خدا کے فضل سے ربوہ کے مختلف محلوں اور دنیا بھر میں پھیلی ہوئی ہیں۔ آپ نے اپنی سروس کا عرصہ انتہائی دیانتداری اور محنت کے ساتھ گزارا۔ آپ کو خدا تعالیٰ نے غیر معمولی کھلا دل اور حوصلہ عطا کیا ہوا تھا۔ آپ کے خاندان کو سب سے پہلے اپنے گاؤں میں سے ہجرت کر کے ربوہ آنے کا موقع ملا تو رشتہ داروں کے علاوہ گاؤں کے احمدی اور غیراحمدی بچے بچیاں بھی آپ کے گھررہ کر تعلیم حاصل کرتے رہے۔ ان سب بچوں کو آپ نے اپنے بچوں کی طرح رکھا اور ان پر اپنے بچوں کی طرح خرچ بھی کرتی رہیں۔ محلہ کے اکثر بچے آپ سے قرآن کریم پڑھنے آیا کرتے تھے۔ مالی قربانی میں بھی دل کھول کر حصہ لیتیں اور کبھی کبھار ایک چندہ کئی کئی بار ادا کردیا کرتی تھیں۔ اگر کوئی گھر آکر مدد مانگتا تو فوراً اس کی مدد کیاکرتی تھیں۔ غیر از جماعت رشتہ داروں کے ساتھ ان کا سلوک مثالی ہوا کرتا تھا۔ ان میں سے کوئی جب کبھی گھر آتا تو عام مہمانوں سے زیادہ اس کی طرف توجہ کرتی تھیں۔ آپ کو خلافت کے ساتھ ایک مثالی عشق کا تعلق تھا۔ حضور انور کے خطبہ جمعہ کے لیے خاص اہتمام کرتیں۔ نئے کپڑے بدل کر خطبہ سے کافی پہلے TV کے آگے بیٹھ جاتیں اور درود شریف کا ورد شروع کر دیتی تھیں۔ آپ نہ صرف اپنے بچوں کو بلکہ پوتے پوتیوں کو بھی خلیفہ وقت کی خدمت میں باقاعدگی سے خط لکھنے کی تحریک کرتی رہتی تھیں۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔ پسماندگان میں ۵ بیٹوں کے علاوہ پوتے پوتیاں شامل ہیں۔ آپ مکرم چودھری نصیر احمد صاحب …کی والدہ تھیں۔ آپ کے ایک بیٹے ڈاکٹر حفیظ الرحمٰن صاحب گذشتہ کئی سالوں سے امریکہ میں بطور انچارج سپینش ڈیسک خدمت کی توفیق پارہے ہیں۔ جبکہ دوسرے بیٹے مکرم حافظ انیس الرحمٰن صاحب کینیڈا میں اپنے حلقہ کے صدر جماعت ہیں۔
۳۔مکرمہ نعیمہ بیگم صاحبہ اہلیہ مکرم چودھری محمد ادریس نصرالله خان صاحب مرحوم (لاہور)
۱۴؍ جون۲۰۲۶ء کو بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ مکرم چودھری عبدالحمید خان صاحب مرحوم (جنرل مینیجر واپڈا) کی منجھلی بیٹی اور حضرت چودھری عبدالله خان صاحب مرحوم (سابق امیر جماعت کراچی) اور مکرمہ آپا آمنہ بیگم صاحبہ (دختر حضرت چودھری فتح محمد سیال صاحب رضی اللہ عنہ) کی بہو تھیں۔ مرحومہ کا نکاح حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ نے مکرم ادریس نصر اللہ خان صاحب کے ساتھ ۱۹۶۷ء میں مسجد مبارک ربوہ میں پڑھایا۔ عاجزی، انکساری،حلم، قناعت، خوش اخلاقی اور صلح جوئی آپ کی فطرت کے نمایاں پہلو تھے۔ اپنوں کے علاوہ سُسرالی رشتہ داروں کے ساتھ بھی آپ کا تعلق مثالی تھا۔آپ نے شادی کے بعد یورپ کے بہت سے سفر کیے اور ہر ملک میں اپنے پردے اور برقعہ کا پورا خیال رکھا۔ بعض اوقات آپ کے برقعہ کو دیکھ کر آپ کے گرد ہجوم اکٹھا ہو جاتا مگر آپ میں کوئی complex نہیں تھا۔ آپ کی ایک اَور خاص خوبی خاوند کی اطاعت اور خدمت گزاری تھی۔ جماعت کے کاموں میں ہمیشہ آپ نے اپنے خاوند کا بھر پور ساتھ دیا۔ ایک مرتبہ جب حضرت خلیفۃالمسیح ا لثالث رحمہ اللہ لاہور میں چودھری حمید نصر اللہ صاحب مرحوم کی کوٹھی میں ٹھہرے ہوئے تھے تو حضرت منصورہ بیگم صاحبہ نے عورتوں میں یہ ذکر کیا کہ حضرت خلیفۃالمسیح الثالث رحمہ اللہ شیخوپورہ سے لاہور تک کے سارے رستہ میں چودھری عبد الحمید صاحب کی تینوں بیٹیوں کی تعریف کرتے آئے ہیں کہ وہ اپنے خاوندوں کی بہت اطاعت گزار اور خدمت گزار ہیں۔ مرحومہ نے لجنہ اماء اللہ لا ہور میں خدمت خلق اور سمعی و بصری کے شعبوں میں خدمت کی توفیق پائی۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے ایک مرتبہ آپ کے خدمت خلق کے کاموں کی بہت تعریف فرمائی۔مرحومہ موصیہ تھیں۔ پسماندگان میں دو بیٹے اور تین بیٹیاں شامل ہیں۔
۴۔مکرم محمد یوسف گوندل صاحب ابن مکرم محمد عبد اللہ پیرکوٹی صاحب (عزیز آباد کراچی)
۱۳؍مارچ ۲۰۲۶ء کو ۶۵سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحوم صوم و صلوٰۃ کے پابند، دعا گو، بڑے خوش مزاج، نیک اور مخلص انسان تھے۔ آپ نے بیماری کے دنوں کو بڑے صبر و ہمت سےگزارا۔ مرحوم کو اسیری کی بھی سعادت نصیب ہوئی۔ مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں والدہ اور اہلیہ کے علاوہ دو بیٹے اور چار بیٹیاں شامل ہیں۔ آپ کے سب بچے جماعت کے فعال ممبر ہیں۔آپ مکرم مبرور احمد صاحب …کے سسر تھے۔
۵۔مکرم عبد الرحمٰن اختر صاحب ابن مکرم محمد بخش صاحب (طاہر آباد جنوبی ربوہ)
۲۸؍مارچ ۲۰۲۶ء کو ۷۶سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحوم کا تعلق ٹھٹھہ جوئیہ ضلع سرگودھا سے تھا۔ مرحوم نے ۱۹۷۴ء سے ۱۹۸۲ء تک گیسٹ ہاؤس ’’سرائے محبت‘‘ صدر انجمن احمدیہ ربوہ میں بطور کارکن اور اس کے علاوہ محلہ میں سیکرٹری رشتہ ناطہ کے طوپر بھی خدمت کی توفیق پائی اور پھر کویت چلے گئے۔ مرحوم صوم وصلوٰۃ کے پابندایک نیک اور مخلص انسان تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ تین بیٹے اور تین بیٹیاں شامل ہیں۔
۶۔مکرمہ بشریٰ صاحبہ اہلیہ مکرم ماسٹر عطاء اللہ صاحب (دارالیمن شرقی صادق ربوہ)
۱۲؍اپریل ۲۰۲۶ء کو ۵۲سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحومہ کے نانا مکرم رمضان صاحب اور دادا مکرم رحیم بخش صاحب نے قادیان جاکر حضرت خلیفۃالمسیح الاول رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کی سعادت حاصل کی۔ آپ اپنی مجلس میں سیکرٹری خدمت خلق رہیں۔ نمازوں کی پابند، تہجد گزار، دعا گو اور صلہ رحمی کرنے والی ایک مخلص اور باوفا خاتون تھیں۔ بیماری کی حالت میں صبر وشکر کے ساتھ وقت گزارااورملاقات کے لیے آنے والوں سے بڑی خوش اخلاقی سے پیش آتی رہیں۔ پسماندگان میں میاں کے علاوہ دوبیٹے اور پانچ بیٹیاں شامل ہیں۔ آپ مکرم ملک ظفراللہ خان صاحب …کی والدہ تھیں۔
اللہ تعالیٰ تمام مرحومین سے مغفرت کا سلوک فرمائے اور انہیں اپنے پیاروں کے قرب میں جگہ دے۔ اللہ تعالیٰ ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ان کی خوبیوں کو زندہ رکھنے کی توفیق دے۔آمین
٭…٭…٭




