نماز جنازہ حاضر و غائب

نمازِ جنازہ حاضر و غائب

مکرم منیر احمد جاوید صاحب پرائیویٹ سیکرٹری حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز تحریر کرتے ہیں کہ حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ۱۲؍اگست ۲۰۲۶ء بروز بدھ بارہ بجے بعد دوپہر اسلام آباد (ٹلفورڈ) میں اپنے دفتر سے باہر تشریف لاکر مکرمہ زبیدہ ناہید احمد خان صاحبہ اہلیہ مکرم ڈاکٹر بشیر احمد خان صاحب مرحوم (لندن،یوکے) کی نماز جنازہ حاضر اور چار مرحومین کی نمازِ جنازہ غائب پڑھائی۔

نماز جنازہ حاضر

مکرمہ زبیدہ ناہید احمد خان صاحبہ اہلیہ مکرم ڈاکٹر بشیر احمد خان صاحب مرحوم (لندن،یوکے)

۹؍اگست ۲۰۲۶ء کو ۸۲ سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ حضرت قاضی محمد یوسف صاحب رضی اللہ عنہ صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیٹی تھیں۔ مرحومہ تہجد گزار، قرآن کریم کی تلاوت میں باقاعدہ، نماز و روزہ کی پابند اور غریبوں کا خیال رکھنے والی ایک نیک خاتون تھیں۔ خلافت سے گہری عقیدت کا تعلق تھا۔ مرحومہ نے گھانا میں اپنے شوہر کا ساتھ نبھاتے ہوئے لجنہ کی بہترین راہنمائی کی۔ پاکستان واپسی پر اسلام آباد میں کئی سال بطور صدر لجنہ اخلاص کے ساتھ خدمات سرانجام دیں۔مرحومہ موصیہ تھیں۔ پسماندگان میں ایک بیٹا، چھ بیٹیاں اور کثیر تعداد میں نواسے نواسیاں اور پوتے پوتیاں شامل ہیں۔ آپ کے ایک داماد مکرم عادل منصور صاحب کو MTAمیں خدمت کی توفیق مل رہی ہے۔

نماز جنازہ غائب

۱۔مکرم راجہ عبدالوہاب صاحب ابن مکرم راجہ عبدالمجید صاحب (دارالرحمت شرقی حلقہ بشیر ربوہ)

۹؍جولائی ۲۰۲۶ء کو ۸۷ سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ کے خاندان میں احمدیت آپ کے تایا مکرم راجہ غلام حیدر صاحب کے ذریعہ آئی۔جنہوں نے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کی تھی۔مرحوم عابد، زاہد، تہجد گذار، بڑے دعاگو، کثرت سے صدقہ و خیرات کرنے والے، چندوں میں باقاعدہ نیک اور مخلص انسان تھے۔ خلافت کے ساتھ گہری فدائیت کا تعلق تھا۔ اپنی اولاد در اولاد کے اندر بھی ہر وقت خلافت سے محبت وفا داری کا جذبہ پیدا کرنے کی کوشش کرتے رہتے تھے۔حضورانور کا خطبہ جمعہ باقاعدگی سے سنتے تھے۔ چالیس سال سعودی عرب میں رہے۔ خلیفہ وقت کی طرف سے جب بھی کوئی مالی تحریک ہوتی تو بےچین ہو جاتے کہ سب سے پہلے چندے کی رسید ان کے نام کی کٹے۔ ایم ٹی اے کے ابتدائی دور میں اپنے محلہ کی مسجد میں اکیلے سارا خرچ اٹھا کر ڈش لگوائی تاکہ اہل محلہ خلیفہ وقت کے خطبات اورخطابات براہ راست سن سکیں۔ خاندان میں سب لوگوں سے رابطہ رکھتے تھے۔ مرحوم موصی تھے۔ آپ نے دوشادیاں کیں۔پہلی بیوی وفات پاچکی ہیں۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ ایک بیٹا اور چھ بیٹیاں شامل ہیں۔

۲۔مکرم محمد اسلام صاحب ابن مکرم شاہ محمد صاحب (بستی احمدیہ خان پور،رحیم یار خان)

۲۰؍جنوری ۲۰۲۶ء کو ۸۳ سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ کے خاندان میں احمدیت آپ کے پڑدادا حضرت محمد عبد اللہ سیکھوانی صاحب رضی اللہ عنہ صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ آئی۔ آپ نظارت تعلیم کے تحت جماعت کے پرائمری سکول میں تقریباً ۳۸ سال تک سکول ٹیچر رہے۔مرحوم نے بہت بڑی تعداد میں نہ صرف احمدی بلکہ غیر احمدی بچوں کو قرآن کریم پڑھایا۔ اسی وجہ سے غیر احمدی ان کی بڑی عزت کرتے اور مولویوں کے کہنے کے باوجود مخالفت نہ کرتے تھے۔مرحوم لمبے عرصے تک مقامی مسجد کے امام الصلوٰۃ اور لوکل جماعت کے صدر رہے۔الفضل سے خاص لگاؤ تھا اور باقاعدگی سے اس کا مطالعہ کرتے تھے۔مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ چھ بیٹے شامل ہیں۔ آپ مکرم محمد ذیشان صاحب (نیشنل قائد تبلیغ مجلس انصاراللہ ہالینڈ) کے والد تھے۔

۳۔مکرم عبد السمیع صاحب ابن مکرم ڈاکٹر عبد الرشید صاحب (ڈھاکہ بنگلہ دیش)

۵؍جولائی ۲۰۲۶ء کو ۷۰سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحوم نے مجلس خدام الاحمدیہ میں قائد اور نائب نیشنل صدر اور جماعت میں ایڈیشنل سیکرٹری مال اور مجلس انصار اللہ کی عاملہ کے رکن کے طور پر خدمت کی توفیق پائی۔ آپ صوم و صلوٰۃ کے پابند، بڑے ہمدرد، مخلص اور غریب پرور انسان تھے۔ صدقہ و خیرات اور ضرورت مندوں کی مدد کے لیے ہمیشہ پیش پیش رہتے۔ اپنے قریبیوں اور ملنے والوں سے بڑی شفقت سے پیش آتے تھے۔ قرآنِ کریم کی روزانہ ترجمہ کے ساتھ تلاوت اور روحانی خزائن کا باقاعدگی سے مطالعہ کرنا آپ کا معمول تھا۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ ایک بیٹا اور دو بیٹیاں شامل ہیں۔

۴۔مکرمہ امۃ الحَسِین خان صاحبہ اہلیہ مکرم محمد بنیامین خان صاحب مرحوم (آف سٹن۔یوکے)

۱۲؍جولائی۲۰۲۶ء کو ۸۱سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحومہ ہندوستان میں ایک سنی مسلمان گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ ۱۹۸۴ء میں بیعت کرکے جماعت میں شمولیت اختیار کی۔ بیعت سےقبل آپ نے حضرت خلیفۃالمسیح الرابع رحمہ اللہ کے متعلق ایک رؤیا دیکھی جو آپ کے لیے کامل اطمینان اور یقین کا باعث بنی۔ مرحومہ صوم وصلوٰۃ کی پابند، تہجد گزار، ایک باہمت،مخلص اور باوفا خاتون تھیں۔ رمضان کے روزوں کے علاوہ نفلی روزے بھی باقاعدگی کے ساتھ رکھا کرتی تھیں۔ آپ نے پوری زندگی اپنے خاندان کے لیے بے مثال قربانیاں دیں اور ہمیشہ دوسروں کی ضروریات کو اپنی ذات پر مقدم رکھا۔ آپ نے نرسنگ کی تربیت حاصل کی ہوئی تھی۔ پچیس سال سے زائد عرصہ تک بڑی خوش اسلوبی سے مریضوں کی خدمت کرتی رہیں۔ پسماندگان میں ایک بیٹی، دو بیٹے اور نو پوتے پوتیاں اور نواسے نواسیاں شامل ہیں۔آپ مکرم مبشر خان صاحب (آف آلڈرشاٹ نارتھ) کی والدہ تھیں۔آپ کے ایک پوتے مکرم حُمَیْد محمود خان صاحب نے اس سال جامعہ احمدیہ یوکے سےشاہد کا امتحان پاس کیا ہے۔

اللہ تعالیٰ تمام مرحومین سے مغفرت کا سلوک فرمائے اور انہیں اپنے پیاروں کے قرب میں جگہ دے۔ اللہ تعالیٰ ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ان کی خوبیوں کو زندہ رکھنے کی توفیق دے۔آمین

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button