میری والدہ، محترمہ رشیدہ بیگم
(کاشف پرویز۔ جرمنی)
میری والدہ محترمہ رشیدہ بیگم، بشیر احمد صاحب کی اہلیہ تھیں۔ آپ میاں علم دین صاحب کی صاحبزادی اور حضرت مولوی سلطان علی صاحبؓ کی بھتیجی تھیں۔ ان کی پرورش ایک ایسے ماحول میں ہوئی جو ایمان اور دینداری سے معمور تھا۔
آپ ایک نہایت متقی اور باعمل خاتون تھیں۔آپ باقاعدگی سے پنجوقتہ نمازیں ادا کرتی تھیں اور قرآنِ کریم کی تلاوت کو اپنی روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بنائے ہوئے تھیں۔ خاص طور پر ان کی تہجد کی نماز کا اہتمام قابلِ ذکر ہے، جو وہ عموماً رات تقریباً دو بجے ادا کیا کرتی تھیں۔ نماز تہجد کے علاوہ وہ باقاعدگی سے بےشمار نوافل بھی ادا کرتی تھیں۔ یہ مستقل مزاجی نہ صرف ان کے مضبوط ایمان کی عکاس تھی بلکہ اس بات کا ثبوت بھی تھی کہ وہ عبادت کو ہر کام پر ترجیح دیتی تھیں۔
میری والدہ نے ساری زندگی مالی قربانیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ آپ نظام وصیت کی بابرکت تحریک میں شامل تھیں۔ والدہ نے برلن کی خدیجہ مسجد کے لیے اپنا زیور بھی عطیہ کیا اور پاکستان میں اپنا گھر بھی وقف کر دیا۔
دنیاوی چیزوں میں ان کی دلچسپی نہ ہونے کے برابر تھی۔ ان کی توجہ ہمیشہ ایمان اور روحانی ترقی پر مرکوز رہتی تھی۔ شاید ہی میں نے کبھی انہیں ٹیلی وژن کے سامنے بیٹھے دیکھا ہو۔
والدہ کو تبلیغ کا بھی شوق تھا۔ پاکستان میں انہوں نے ایک خاندان کی بیعت کروا کر جماعت احمدیہ میں شامل کیا۔
وہ نہ صرف ایک مثالی ماں تھیں بلکہ ایک محبت کرنے والی اہلیہ اور ایک باوقار پڑوسن بھی تھیں۔ جب وہ کسی اجنبی خاتون سے ملتیں تو اس طرح گلے لگتیں جیسے بچپن کی سہیلی ہو۔ والدہ بہت منکسر المزاج اور صلہ رحمی کرنے والی خاتون تھیں۔ لوگوں کے ساتھ پیار سے ملتیں اور ان لوگوں کو بھی ہمیشہ معاف کر دیتی تھیں جنہوں نے ان کے ساتھ ناانصافی کی ہو یا دشمنی رکھی ہو۔
ان کا صبر، امید، خدمتِ خلق اور امن پسندی ہم سب کے لیے ایک روشن مثال تھی۔
پاکستان سے جرمنی ہجرت کرنے کے بعد، جرمنی میں بھی ان کے پڑوسیوں کے ساتھ تعلقات مثالی تھے۔ احترام، شفقت اور حسنِ سلوک کے وہ اصول عملی طور پر اپناتی تھیں جو انہوں نے ہمیں سکھائے تھے۔ ان کی خوش اخلاقی اور مثبت شخصیت کو ہر کوئی قدر کی نگاہ سے دیکھتا تھا۔
اللہ تعالیٰ نے انہیں مکہ مکرمہ ، مدینہ منورہ اور قادیان کی زیارت کی سعادت عطا فرمائی۔ یہ سفر ان کے لیے نہایت روحانی اہمیت کے حامل تھے اور ان کے پختہ ایمان کو ظاہر کرتے ہیں۔
میری والدہ ۱۵؍جنوری ۲۰۲۶ء کو تقریباً ۸۰؍برس کی عمر میں انتقال کر گئیں۔ نمازِ جنازہ ۱۶؍جنوری ۲۰۲۶ء بروز جمعہ مسجد بیت السبوح میں ادا کی گئی۔ منگل ۲۰؍جنوری ۲۰۲۶ء کو انہیں زُوڈ فریڈہوف، فرینکفرٹ میں سپردِ خاک کیا گیا۔ مولانا محمد الیاس منیر صاحب نے قبر تیار ہونے پر دعا کروائی۔
اللہ تعالیٰ ہماری پیاری والدہ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ ان کی زندگی صبر، عبادت، ایمان اور محبتِ انسانیت کی عملی تصویر تھی۔ وہ ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہیں گی اور ہم ان کی یاد کو ہمیشہ عزت و احترام کے ساتھ زندہ رکھیں گے۔ مرحومہ کے پسماندگان میں دو بیٹے، دو بیٹیاں اور داماد اور بہوئیں اور ان کے بچے شامل ہیں۔
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: مسرّت کوثر سلیم صاحبہ



