ملفوظات حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور فارسی ادب(قسط نمبر ۲۲۱)
’’یہ خوب یاد رکھو کہ جو شخص خد اتعالیٰ کے لیے ہو جاوے خد اتعالیٰ اس کا ہو جاتاہے اور خدا تعالیٰ کسی کے دھوکے میں نہیں آتا۔ اگر کوئی یہ چاہے کہ ریاکاری اور فریب سے خدا تعالیٰ کو ٹھگ لوں گا تو یہ حماقت اور نادانی ہے۔ وہ خود ہی دھوکہ کھارہا ہے۔ دنیا کی زیب،دنیا کی محبت ساری خطاکاریوں کی جڑ ہے۔ اس میں اندھا ہو کر انسان انسانیت سے نکل جاتا ہے اور نہیں سمجھتا کہ میں کیا کر رہا ہوں اور مجھے کیا کرنا چاہیے تھا۔جس حالت میں عقلمند انسان کسی کے دھوکا میں نہیں آسکتا تو اﷲ تعالیٰ کیونکر کسی کے دھوکہ میں آسکتا ہے۔ مگر ایسے افعال بد کی جڑ دنیا کی محبت ہے اور سب سے بڑا گناہ جس نے اس وقت مسلمانوں کو تباہ حال کر رکھا ہے اور جس میں وہ مبتلا ہیں وہ یہی دنیا کی محبت ہے۔سوتے جاگتے،اُٹھتےبیٹھتے، چلتے پھرتے ہر وقت لوگ اسی غم و ہم میں پھنسے ہوئے ہیں۔اور اُس وقت کا لحاظ اور خیال بھی نہیں کہ جب قبر میں رکھے جاویں گے۔ایسے لوگ اگر اﷲ تعالیٰ سے ڈرتے اور دین کے لیے ذرا بھی ہم و غم رکھتے تو بہت کچھ فائدہ اٹھالیتے۔سعدیؒ کہتا ہے
؎ گر وزیر از خدا بترسیدے‘‘
(ملفوظات جلد ہشتم صفحہ ۳۵۵-۳۵۶ مطبوعہ ۱۹۸۴ء)
تفصیل: اس حصہ ملفوظات میں آمدہ فارسی مصرع شیخ سعدی کا ہے جو کہ گلستان سعدی کے پہلے باب میں موجودحکایت نمبر۳۰کے آخر پر موجود ایک قطعہ کے شعر کا پہلا مصرع ہے۔حکایت مع شعر کچھ یوں ہے۔
حکایت: ایک وزیر حضرت ذوالنون مصری رحمۃاللہ علیہ (ایک ولی اللہ کا لقب جو مصر کے رہنے والے تھے۔ثوبان آپ کانام اور ابوالفیض کنیت تھی۔ آپ کے لقب کے متعلق یہ قصہ مشہورہے کہ آپ ایک کشتی میں سوار تھے اور وہاں ایک قیمتی موتی گم ہوگیا۔لوگوں کو آپ پر شبہ ہوا تو آپ نے مچھلیوں کو حکم دیا اور لاتعداد مچھلیاں ویسے ہی موتی لے کر دریا سے نکل آئیں۔ کتب سیر میں یہ قصہ بہ تفصیل مرقوم ہے)کے پاس گیا اور دعا چاہی کہ دن رات بادشاہ کی خدمت میں لگا رہتاہوں۔ اور اس کی خیر کا امیدوار ہوں اور اس کےغصہ سے ڈرتارہتاہوں۔حضرت ذوالنون رو پڑے اورفرمایااگر میں خدائے غالب اور بزرگ سے ایسا ڈرتا جیسا کہ تو بادشاہ سے ڈرتاہے تو میرا شما ر صدیقوں میں ہوتا۔ قطعہ
گَرْ نَبُوْدِے اُمّیدِ رَاحَتْ ورَنْج
پَائے دَرْوِیْش بَرْ فَلَکْ بُوْدِےْ
ترجمہ: اگر راحت ورنج کی امید نہ ہوتی تو فقیر کا قدم آسمان پر ہوتا۔
گَرْ وَزِیْر اَزْ خُدَا بِتَرْسِیْدِےْ
ہَمْچُنَاں کَزْ مَلِکْ مَلَکْ بُوْدِےْ
ترجمہ: اگر وزیر خدا سے ایسا ڈرتا جیسا کہ بادشاہ سے،تو فرشتہ ہوتا۔
لغوی بحث: گَرْ(اگر،حرف شرط) وَزِیْر(وزیر) اَزْ(سے) خُدَا(خدا) بِتَرْسِیْدِےْ (ڈرے؍ڈرتا، بائے زینت یا تاکید،ترسیدن (ڈرنا) مصدر سے، فارسی قدیم، ماضی استمراری سوم شخص مفرد)
مزید پڑھیں: عالمی امن کا قیام انصاف کےقیام کے بغیر ممکن نہیں




