اس زمانہ کا جہاد یہی ہے کہ اعلاء کلمۂ اسلام میں کوشش کریں
بہت سے مولوی اور علماء کہلا کر منبروں پر چڑھ کر اپنے تئیں نائب الرسول اور وارث الانبیاء قرار دے کر وعظ کرتے پھرتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ تکبّر نہ کرو،بدکاریوں سے بچو۔ مگر جو اُن کے اپنے اعمال ہیں اور جو کرتوتیں وہ خود کرتے ہیں ان کا اندازہ اس سے کر لو کہ ان باتوں کا اثر تمہارے دلوں پر کہاں تک ہوتا ہے؟
اگر اس قسم کے لوگ عملی طاقت بھی رکھتے اور کہنے سے پہلے خود کرتے تو قرآن شریف میں لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَالَاتَفْعَلُوْنَ (الصّف: ۳) کہنے کی کیا ضرورت پڑتی؟ یہ آیت ہی بتلاتی ہے کہ دنیا میں کہہ کر خود نہ کرنے والے بھی موجود تھے اور ہیں اور ہوں گے۔
تم میری بات سن رکھو اور خوب یاد کر لو کہ اگر انسان کی گفتگو سچے دل سے نہ ہو اور عملی طاقت اس میں نہ ہو تو وہ اثر پذیر نہیں ہوتی۔ اسی سے تو ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی صداقت ثابت ہوتی ہے۔ کیونکہ جو کامیابی اور تاثیر فی القلوب ان کے حصہ میں آئی اس کی کوئی نظیر بنی آدم کی تاریخ میں نہیں اور یہ سب اس لئے ہوا کہ آپ کے قول اور فعل میں پوری مطابقت تھی۔
(ملفوظات جلداول صفحہ ۶۷-۶۸۔ ایڈیشن ۱۹۸۵ء مطبوعہ انگلستان)
سو اس زمانہ میں جہاد روحانی صورت سے رنگ پکڑ گیا ہے اور اس زمانہ کا جہاد یہی ہے کہ اعلاء کلمۂ اسلام میں کوشش کریں۔ مخالفوں کے الزامات کا جواب دیں ۔ دین متین اسلام کی خوبیاں دنیا میں پھیلاویں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی دنیا پر ظاہر کریں ۔ یہی جہاد ہے جب تک خدا تعالیٰ کوئی دوسری صورت دنیا میں ظاہر کرے۔
(مکتوب بنام حضرت میر ناصر نواب صاحب، مکتوبات احمد جلد سوم صفحہ ۹، ایڈیشن ۲۰۲۲ء)
مزید پڑھیں: اپنی بیویوں سے رِفق اور نرمی کے ساتھ پیش آویں



